... loading ...
تحریک انصاف نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیے جانے کی توقع کر رہی تھی، ایسا نہیں ہوا، مسلم لیگ ن کا دعویٰ تھا کہ وزیر اعظم کے خلاف الزامات مسترد کر دیے جائیں گے، وہ بھی نہ ہوا،فیصلہ بیک وقت فریقوں کی جیت بھی ہے اور ناکامی بھیپاناما کیس کے فیصلے پر ہر کوئی اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ دراصل تحقیقاتی عمل کے تسلسل کا عدالتی حکم ہے۔وزیر اعظم نواز شریف کے ناقدین یہ کہہ رہے تھے کہ آج کے اس فیصلے میں یا تو سپریم کورٹ نواز شریف کو ان کے عہدے سے برطرف کر دے گی اور یوں قانون کی جیت ہو گی یا پھر نواز شریف جیت جائیں گے۔
لیکن سپریم کورٹ نے اپنا جو فیصلہ سنایا ہے، وہ متفقہ نہیں تھا۔ پانچ رکنی بینچ میں سے دو جج اس حق میں تھے کہ نواز شریف کو سربراہ حکومت کے عہدے سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ تین ججوں کی رائے یہ تھی کہ پاناما کیس اور آف شور کمپنیوں کی مزید تفصیلی چھان بین کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یا جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔ میڈیا میں اس فیصلے کے فوری بعد نظر آنے والے رد عمل اور تجزیوں میں ماہرین اور تجزیہ نگار یہ کہہ رہے ہیں کہ آج کا عدالتی فیصلہ بیک وقت کئی فریقوں کی جیت بھی ہے اور ناکامی بھی۔پاکستان تحریک انصاف نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیے جانے کی توقع کر رہی تھی، ایسا نہیں ہوا۔ مسلم لیگ نون کا دعویٰ تھا کہ وزیر اعظم کے خلاف الزامات مسترد کر دیے جائیں گے، وہ بھی نہ ہوا۔سپریم کورٹ کے فیصلے پر ن لیگ کے حامیوں میں توخوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس فیصلے نے میاں نوازشریف کے لیے بہت ساری مشکلات کھڑی کردی ہیں۔
دوسری طرف قومی احتساب بیورو کا خیال تھا کہ اس نے کرپشن کی روک تھام اور اس کیس کے سلسلے میں اپنی طرف سے پوری کاوشیں کی ہیں، لیکن عدالتی فیصلے کے مطابق نیب نامی اس ادارے کا کردار بھی نامکمل تھا۔
عدالت نے ایک وسیع مشترکہ تفتیشی ٹیم کے قیام کا حکم دیا ہے جو یہ پتہ چلائے گی کہ اس کیس میں نواز شریف کے اہل خانہ کی ملکیتی رقوم خلیجی عرب ریاست قطر کیسے پہنچی تھیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس مشترکہ تفتیشی ٹیم کے سامنے اپنے بیان دینے کے لیے وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کو بھی پیش ہونا پڑے گا۔
چند قانونی ماہرین کے مطابق پاناما کیس میں عدالتی فیصلہ دراصل یہی ہے کہ یہ کیس اور اس کی چھان بین ابھی جاری رہے گی۔
اس بارے میںجرمن خبر رساں ادارے نے جب پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما احسن اقبال سے ان کا ردعمل دریافت کیا، تو انہوں نے کہا، “آج حق کی فتح ہوئی ہے اور جھوٹ کی شکست، پی ٹی آئی نے سراسر جھوٹ اور بدنیتی کی بنیاد پر یہ کیس بنایا تھا۔ اسی لیے فیصلہ ہمارے حق میں آیا، قوم خوش ہے کہ جھوٹے لوگ کیفر کردار تک پہنچے۔‘‘
وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف 2018 تک کے لیے وزیر اعظم ہیں اور اس کے بعد اگلے پانچ سال کے لیے بھی وہی چاروں صوبوں میں حکومت بنائیں گے اور ان کی طرف سے پاکستان کو آگے لے جانے کا سفر جاری رہے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے ایک رہنما اور قومی اسمبلی کے رکن مجاہد علی نے آج کے عدالتی فیصلے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، “ہم تو اس فیصلے کو خوش آئند سمجھتے ہیں کہ دو جج حضرات نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا اور باقی تین نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کمیٹی بنانے کی صورت میں کیا، دراصل یہی ہماری جیت ہے۔ تاہم توقعات کی جہاں تک بات ہے تو ہم نے سوچا تھا کہ نواز شریف کی بادشاہت کا دور آج ختم ہو جائے گا لیکن، چلیں، تھوڑا اور انتظار کر لیتے ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ فائنل فیصلہ ہمارے ہی حق میں آئے گا۔‘‘

ادھر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے عدالت کے اس فیصلے کے بعد بنی گالہ میں پریس کانفرنس میں نواز شریف سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد وہ اپنے عہدے پر فائز رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ وہ صادق اور امین نہیں ہیں، اس لیے نئی بنائی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی وزیر اعظم کے استعفے کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔
صحافی تجزیہ نگار اقبال خٹک نے جرمن ریڈیو کو بتایاکہ’’میڈیا نے اس فیصلے کو پہلے ہی سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔ وزیر اعظم کے بارے میں یہ مقدمہ تھا، تو نیوز ویلیو تو اس کی بنتی تھی، لیکن روزانہ کی بنیاد پر اس پر بیان بازی اور جو ٹاک شوز نشر کیے گئے، ان میں قانونی کی بجائے سیاسی پہلوؤں پر ہر طرح کی بات کی گئی، حالانکہ یہ ایک عدالتی معاملہ تھا نہ کہ سیاسی۔ تو میڈیا عوامی اور سیاسی پارٹیوں کی امیدوں کو اس حد تک آگے لے گیا تھا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ بس اب معاملہ آر یا پار ہونے کو ہے۔‘‘اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ تو زیادہ تر ایک اپیل فورم ہے، وہ مقدمہ چلانے کا فورم ہے ہی نہیں،’’یہی وجہ ہے کہ جب یہ فیصلہ آیا، تو ظاہر ہے کہ ایک پارٹی کو یہ لگا کہ اس کا سب کچھ کھو گیا ہے اور دوسری کو لگا کہ اس نے کوئی بہت بڑا معرکہ مار لیا ہے، حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ سب عوام میں ہیجان پھیلانے، ریاست کے بارے میں منفی رائے کے تسلسل اور عدلیہ کو بلاوجہ متنازع بنا دینے کا موجب بنا ہے۔‘‘

معروف تجزیہ نگار میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے بتایاکہ ’’نواز شریف نے مزید ساٹھ دن کے لیے سیاسی رسوائی خرید لی ہے۔ یہ ن لیگ کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے کہ کمیشن کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے علاوہ ایک اورمحترم جج نے میاں صاحب کی نا اہلی کے لیے لکھا ہے۔ نون لیگ والے اس بات پر خوش ہیں کہ بقیہ تین ججوں نے ایسا نہیں کیا۔ تو میرے خیال میں وہ ججز صرف حجت پوری کرنا چاہتے ہیں اور ان کو موقع نہیں دینا چاہتے کہ یہ سیاسی شہید بن جائیں۔ اب ان کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا اور یاد رہے کہ جے آئی ٹی ملزمان کے لیے بنتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی میں ملٹری انٹیلیجنس کی طرف سے ایک بریگیڈیئر لیول کا افسر جب کہ آئی ایس آئی کی طرف سے ایک میجر جنرل لیول کا افسر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں منی لانڈرنگ کے مسئلے کے حوالے سے بھی ماہر شامل کیے جاتے ہیں،’’اب میاں صاحب کو بہت سارے سوالوں کے جوابات دینے پڑیں گے۔ اگر منی ٹریل ان کے پاس ہوتا تو کیا یہ پہلے پیش نہیں کر دیتے۔ ان کے پاس کوئی منی ٹریل نہیں۔ تو عدالت نے ان کا منہ بند کرنے کے لیے یہ جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ رونا دھونا نہ کریں۔ میرے خیال میں اب یہ بات واضح ہے کہ ان ساٹھ دنوں میں میڈیا کا دباؤ بھی میاں صاحب پر پڑے گا اور سیاسی دباؤ بھی ان پر برقرار رہے گا۔ لہذا آنے والے دنوں میں انکی مشکلات میں اس فیصلے کی وجہ سے مزید مسائل ہوں گے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اس ٹیم میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے لوگ اور دوسرے ماہرین ہوں گے۔ حکومت کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ان افسران پر دباؤ ڈال سکے یا ان کو خرید سکے۔ یہ ٹیم ساری معلومات منگوا سکتی ہے اور ان کے بینک ریکارڈ بھی چیک کر سکتی ہے۔ میرے خیال میں میڈیا اور عوام اس ٹیم پر گہری نظر رکھیں گے۔‘‘
دوسری طرف تجزیہ نگار توصیف احمد خان نے کہا، ’’یہ جے آئی ٹی فوج کے دباؤ میں آسکتی ہے جس کا یقیناً نقصان میاں صاحب کو ہو سکتا ہے۔ اگر فوج نے ان کو سائڈ لائن کرنا چاہا تو اب اس فیصلے کے بعد ان کے لیے یہ آسان ہوجائے گا۔ تو میرے خیال میں تو یہ فیصلہ میاں صاحب کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘‘

تجزیہ نگار ڈخالد جاوید جان کے بقول، ’’اگر نواز شریف کو ہٹایا جاتا ہے تو اس سے ملک میں اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہو گی جو یقیناًسیاسی عمل کے لیے بہتر نہیں ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میاں صاحب نے کب جمہوری کلچر کو فروغ دیا۔ نوے کی دہائی میں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر پی پی پی کے لیے حالات مشکل بنا دیے تھے۔ ان کی سوچ بہت آمرانہ ہے کیونکہ ان کا تعلق بھی جنرل ضیاء کے سیاسی قبیلے سے ہی ہے۔ اب انہیں بھگتنا پڑے گا۔یہ ممکن ہے کہ میاں صاحب اسمبلی توڑ دیں یا پھر کچھ عرصے کے لیے مستعفی ہوجائیں۔ بہت کم امکان ہے کہ وہ اپنا دفاع کریں کیونکہ ان کے لیے یہ بہت ہی مشکل کام ہے کہ وہ چند افسران کے سامنے جوابات دیں، جس میں فوج کے لوگ بھی ہوں گے۔‘‘ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’بھٹو کے کیس میں کم از کم تین ججوں نے انہیں بے گناہ قرار دیا تھا۔ یہاں ججز ان کو بے گنا ہ قرار نہیں دے رہے بلکہ میاں صاحب کے لیے سارے دروازے بند کر رہے ہیں۔ اس ٹیم کی انکوائری کے بعد میاں صاحب کے لیے کچھ نہیں رہ جائے گا کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ ان کے پاس منی ٹریل اور لندن فلیٹ کی ملکیت کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ رہا سوال قطری خط کا تو وہ عدالت پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ تو آنے والے دنوں میں نون لیگ کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔‘‘
بھٹو کے کیس میں کم از کم تین ججوں نے انہیں بے گناہ قرار دیا تھا۔ یہاں ججز ان کو بے گنا ہ قرار نہیں دے رہے بلکہ میاں صاحب کے لیے سارے دروازے بند کر رہے ہیں۔ اس ٹیم کی انکوائری کے بعد میاں صاحب کے لیے کچھ نہیں رہ جائے گا کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ ان کے پاس منی ٹریل اور لندن فلیٹ کی ملکیت کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔
نواز شریف نے مزید ساٹھ دن کے لیے سیاسی رسوائی خرید لی ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ کے علاوہ ایک اورمحترم جج نے بھی میاں صاحب کی نا اہلی کے لیے لکھا ہے، لیگی خوش ہیں کہ بقیہ تین ججوں نے ایسا نہیں کیا۔ تو وہ ججز صرف حجت پوری کرنا چاہتے ہیں، اب ان کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا اور یاد رہے کہ جے آئی ٹی ملزمان کے لیے بنتی ہے۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...