وجود

... loading ...

وجود

بھارتی جاسوس کوسزائے موت دینے کافیصلہ

منگل 11 اپریل 2017 بھارتی جاسوس کوسزائے موت دینے کافیصلہ

یادیو گوادر میں چینی انجینئرز کے ہوٹل پر بم دھماکے، مہران بیس حملے میں ملوث رہا ، سی پیک اور گوادر پورٹ بڑے اہداف تھے بھارتی ایجنسیوں کے کئی خفیہ آپریشنزکلبھوشن کی گرفتاری سے بری طرح درہم برہم ہوگئے،آرمی چیف نے پھانسی کی توثیق کردی جلد سزا دی جائے ،اس اقدام سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ جو بھی پاکستان کیخلاف کام کرے گا اس کو یہی سزاملے گی،تجزیہ کارتقاضہ کررہا ہے اب وطن کا ہر گلی کوچہ
وطن دشمن جدھر دیکھو توسرتن سے جدا کردو

پاکستان میں 14سال کا تجربہ،بلا کا پُراعتماد۔۔
لاپروائی برتی اور پاکستانی عقابوں کی نظرمیں آگیا

بھارتی ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ کلبھوشن یادیو فون پر مراٹھی زبان بولنے کی وجہ سے پاکستان کے خفیہ ادارے کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔ممبئی مِرر کی رپورٹ میں سینئر بھارتی انٹیلی جنس افسران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کلبھوشن اپنے اہلخانہ سے ٹیلی فون پر مراٹھی زبان بولنے کے باعث پاکستانی ایجنسیوں کی نظروں میں آیا، کلبھوشن نے اپنے محافظوں کو الگ کردیا تھا اور اس کی عادت تھی کہ وہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ مراٹھی میں بات چیت کرتا تھا۔رپورٹ کے مطابق کلبھوشن یادیو پاکستان میں 14 سال سے کام کر رہا تھا، جس کی وجہ سے وہ کافی حد تک مطمئن ہو گیا تھا اور اسی پرسکونی نے اس کو ‘بے نقاب’ کردیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی کلبھوشن کی ایران میں مشکوک سرگرمیوں پر نظر تھی، وہ ایک مسلمان کاروباری شخص کا روپ اختیار کرکے کام کر رہا تھا اور اس کے پاسپورٹ پر اس کا نام حسین مبارک پٹیل تھا، لیکن وہ وضع قطع سے مسلمان نہیں لگتا تھا۔

’’تمہارا بندر ہمارے پاس‘‘

کلبھوشن نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اگر آپ بھارتی حکام کو میری گرفتاری کاپیغام دینا ہے تو انہیں خفیہ کوڈ’’ with us monkey Your‘‘(آپ کا بندر ہمارے پاس ہے) بتایا جائے تو وہ سمجھ جائیں گے کہ کون گرفتار ہوا ہے۔بھارتی جاسوس کا کوڈ نیم Monkeyتھا۔کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیاتھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ’’ریاستی دہشت گردی کا اس سے بڑا ثبوت کوئی نہیں ہوسکتا‘‘
ـــــــــــــــــــــــــ
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو موت کی سزا پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری کی کارروائیوں پر سنائی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کلبھوشن یادیو کا ٹرائل کیا اور سزا سنائی۔بعد ازاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی مجرم کی سزائے موت کی توثیق کی۔خیال رہے کہ 3 مارچ 2016 کو حساس اداروں نے بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے بھارتی جاسوس اور نیوی کے حاضر سروس افسرکمانڈر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا۔
اگرچہ بھارت نے یہ تسلیم کیا تھا کہ کلبھوشن اس کا شہری ہے اور وہ بھارتی بحریہ کا سابق افسر ہے تاہم بھارت کی طرف سے اس الزام کو مسترد کیا جاتا رہا کہ کلبھوشن کا تعلق ‘را’ سے ہے۔
پاکستان میں فوجی عدالت سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے پر بھارت نے شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے کلبھوشن کی سزا پر باقاعدہ شدید احتجاج کیاجس پر پاکستانی ہائی کمشنر نے بھارتی وزارت خارجہ کے حکام کو صاف صاف بتادیا کہ یہ سزا کلبھوشن کے اس اعترافی بیان کی روشنی میں سنائی گئی ہے جو اس نے مجسٹریٹ کے سامنے دیاتھا ، پاکستانی ہائی کمشنر نے بھارتی وزارت خارجہ کے حکام کو یہ بھی بتایا کہ کلبھوشن کو مقدمے کے دوران ماہر وکیل کی خدمات فراہم کی گئی تھیں اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے گئے تھے۔انھوں نے بھارتی وزار ت خارجہ کے حکام پر یہ بھی واضح کیا کہ ہمارے ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی سرپرستی کرنے اور جاسوسی کانیٹ ورک چلانے پر انھیں شرم آنی چاہئے تھی اور را کے ایجنٹ اقبالی مجرم کو سزائے موت پر ان کو احتجاج کاکوئی حق نہیں پہنچتا۔
یاد رہے کہ ایک سال قبل 3مارچ کو پاک فوج نے بلوچستان سے گرفتار بھارتی جاسوس سے پوچھ گچھ کے بعد جو ویڈیو جاری کی تھی، اس میں کلبھوشن یادیو نے ‘را’ سے تعلق کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے۔کلبھوشن یادیو کی ویڈیو وفاقی سابق وزیراطلاعات پرویز رشید وسابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کی اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دکھائی گئی۔ویڈیو میں کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا کہ اسے 2013 میں خفیہ ایجنسی ‘را’ میں شامل کیا گیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے۔کلبھوشن کے مطابق 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ‘را’ کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے بندرگاہ چاہ بہار کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔
وڈیو میں کلبھوشن نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا۔کلبھوشن یادیو کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کی متعدد کارروائیوں کے پیچھے ‘را’ کا ہاتھ ہے۔اس موقع پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو سے پاکستان اور بلوچستان کے نقشے برآمد ہوئے ہیں اور وہ ‘را’ کے چیف اور جوائنٹ سیکریٹری اے کے گپتا سے براہ راست رابطے میں تھا۔
عاصم باجوہ نے کہا کہ کلبھوشن نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اگر آپ بھارتی حکام کو میری گرفتاری کا بتانا چاہتے ہیں تو انہیں خفیہ کوڈ’’ with us monkey Your‘‘(آپ کا بندر ہمارے پاس ہے) بتائیں تو وہ سمجھ جائیں گے کہ کون گرفتار ہوا ہے۔کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیاتھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ’’ریاستی دہشت گردی کا اس سے بڑا ثبوت کوئی نہیں ہوسکتا‘‘۔کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد کلبھوشن یادیو کی ویڈیو وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کی اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دکھائی گئی۔
پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو گوادر میں چینی انجینئرز کے ہوٹل پر بم دھماکے، مہران بیس حملے میں ملوث رہا جب کہ پاک چین اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ اس کے بڑے اہداف تھے۔ ملزم نے کراچی میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا بھی اعتراف کیاتھا، جبکہ اس نے کراچی میں ہونے والی دہشت گردی اور تخریب کاری کی متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔
ایک سوال کے جواب میں پاک فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ ایرانی صدر کے سامنے بھی بھارتی دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ ایران کے صدر نے را کی مداخلت کا مسئلہ تحمل سے سنا تھا۔
انھوں نے مزید بتایاتھاکہ اس حوالے سے ایرانی خفیہ ایجنسی کے ساتھ اطلاعات کا تبادلہ بھی کیا گیا تھا۔ایک اور سوال پر پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ کلبھوشن دہشت گردی کا نیٹ ورک بنانے، انھیں فنڈنگ اور اسلحہ مہیا کرنے میں ملوث رہا تاہم اس سے مزید تفتیش جاری ہے اور جلد تمام معلومات منظرعام پر لائی جائیں گی۔بھارتی میڈیا میں آنے والی خبروں کے حوالے سے پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ کلبھوشن یادیو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔
بلوچستان سے ہندوستانی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے حاضر سروس ایجنٹ کی گرفتاری کے ایک دن بعد پاک فوج کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے بیان میں کہا تھا کہ لندن اور جنیوا میں موجود کچھ عناصر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں.۔
کوئٹہ میں یوم شہداکی تقریب سے خطاب کے دوران لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے گرفتار ہونے والے ہندوستانی جاسوس کے بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے روابط تھے اور وہ صوبے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھا.۔لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے بتایا تھا کہ ہمارا دشمن بلوچستان کی ترقی نہیں چاہتا اور یہاں لوگ دشمن کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں.۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو خطرہ ہے، کوئی لندن اور کوئی جنیوا میں بیٹھ کر استعمال ہو رہا ہے، لہذا عوام بیرونی سازشوں کو سمجھیں۔اس موقع پرلیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے بھٹکے ہوئے لوگوں کے لیے یہ پیغام دیا کہ وہ سدھر جائیں۔کمانڈر سدرن کمانڈ نے مزید کہا کہ ہمیں شہداکی قربانیوں پر فخر ہے، عوام بیرونی سازشوں کو سمجھیں، کیوں کہ یہ وقت آپس میں لڑنے کا نہیں۔
یاد رہے کہ ‘را’ کے جاسوس کی گرفتاری پر ہندوستانی ہائی کمشنر گوتم بامبا والے کو دفتر خارجہ طلب کیا گیاتھا، جہاںاس وقت کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے انہیں بلوچستان سے حاضر سروس بھارتی سیکورٹی افسر کی گرفتاری سے متعلق آگاہ کیا۔سیکرٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر گوتم بامبا والے کو بتایا تھا کہ بھارتی جاسوس کی گرفتاری سے ثابت ہوگیا ہے کہ بھارت، بلوچستان اور کراچی میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہے، جبکہ اس قسم کے بھارتی حکومت کے اقدامات دوطرفہ تعلقات پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا تھاکہ بھارت، پاکستان میں جاسوسی کی سرگرمیاں بند کرے۔
بھارتی جاسوس کی گرفتاری کا اصل مقام تو ظاہر نہیں کیا گیاتھا تاہم سیکورٹی اداروں کے مطابق چاہ بہار سے بلوچستان داخلے کے وقت گرفتاری کے بعد تفتیش کے لیے اسلام آباد منتقل کردیا گیا تھا۔
کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد ایک بھارتی اخبار نے انکشاف کیاتھا کہ بھارتی ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ کلبھوشن یادیو فون پر مراٹھی زبان بولنے کی وجہ سے پاکستان کے خفیہ ادارے کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔ممبئی مِرر کی رپورٹ میں سینئر بھارتی انٹیلی جنس افسران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کلبھوشن اپنے اہلخانہ سے ٹیلی فون پر مراٹھی زبان بولنے کے باعث پاکستانی ایجنسیوں کی نظروں میں آیا، کلبھوشن نے اپنے محافظوں کو الگ کردیا تھا اور اس کی عادت تھی کہ وہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ مراٹھی میں بات چیت کرتا تھا۔رپورٹ کے مطابق کلبھوشن یادیو پاکستان میں 14 سال سے کام کر رہا تھا، جس کی وجہ سے وہ کافی حد تک مطمئن ہو گیا تھا اور اسی پرسکونی نے اس کو ‘بے نقاب’ کردیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی کلبھوشن کی ایران میں مشکوک سرگرمیوں پر نظر تھی، وہ ایک مسلمان کاروباری شخص کا روپ اختیار کرکے کام کر رہا تھا اور اس کے پاسپورٹ پر اس کا نام حسین مبارک پٹیل تھا، لیکن وہ وضع قطع سے مسلمان نہیں لگتا تھا۔
کلبھوشن یادیو کے حوالے سے اخبار مزید لکھتا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنٹ آخری بار4 ماہ قبل ممبئی آیا تھا ، اس کے اہلخانہ کا فروری کے بعد سے کلبھوشن سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ‘را’ ایجنٹ کو بیک اپ فراہم کرنے والے 2 مقامی رابطہ کار بھی ایک ماہ سے لاپتہ ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان رابطہ کاروں کو بھی پاکستانی خفیہ ادارہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) گرفتار کر چکا ہے یا وہ فرار ہو گئے ۔بھارتی ایجنسیوں کے پاکستان میں شروع کئے گئے خفیہ آپریشنزکلبھوشن کی گرفتاری سے بری طرح درہم برہم ہو گئے ہیں۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بھارتی جاسوس کو سنائے جانے والے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے بالکل درست فیصلہ قرار دیا ہے۔یاد رہے کہ کلبھوشن یادیوکی گرفتاری پر پاکستانی حکام نے اسے بلوچستان میں جاری شورش میں بھارتی مداخلت کا ثبوت قرار دیاتھااوربلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے عالمی میڈیا سے گفتگو میں بھی یہی موقف اختیار کیاتھا کہ را کے افسر کی گرفتاری سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ بلوچستان میں حالات بیرونی مداخلت بالخصوص را کی وجہ سے خراب ہیں، را کے ایجنٹ کے علیحدگی پسندوں سے روابط تھے۔انھوں نے اس بات پر بھی زور دیاتھا کہ ’’میں روز اول سے کہہ رہا ہوں کہ بلوچستان میں را کام کر رہی ہے تو سب لوگ مجھ سے ثبوت مانگتے تھے۔اب اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ ان کا ایک افسر بلوچستان میں بیٹھ کر کام کر رہا ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے خلاف سنایا جانے والا یہ فیصلہ مثبت ہے‘۔
سرفراز بگٹی کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے تجزیہ نگاروں نے بھی اسے بالکل درست اور بروقت فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘بھارتی جاسوس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا اس لیے اسے سزا جلدی دینی چاہیے تھی’۔تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ‘کلبھوشن یادیو نے اپنے نیٹ ورک سمیت تمام تفصیلات بھی دی تھیں لہذااس کیس میں ثبوت ملنے کی دشواری بھی نہیں’۔تجزیہ کاروں کے مطابق ‘بھارتی جاسوس کو سزا دے کر پاکستان کی جانب سے دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ایسا کام جو بھی کرے گا اس کو یہی سزاملے گی’۔تجزیہ کاروں کاخیال ہے کہ اس فیصلے سے آپریشن ردالفساد پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے۔
اب جبکہ فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں اس کی مجرمانہ سرگرمیوں کے ثابت ہوجانے اور اس حوالے سے مجسٹریٹ کے سامنے خود اس کے اعترافی بیانات کی روشنی میں سزائے موت سنادی ہے، ضروری ہے کہ اس کی اس سزا پر فوری عملدرآمد کیا جائے تاکہ پاکستان میں رہ کر پاکستان کی سلامتی کے خلاف کام کرنے والوں کو واضح پیغام جائے اور انھیں یہ اندازہ ہوجائے کہ وہ جن سرگرمیوں
میں ملوث ہیں ان کا نتیجہ تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر