... loading ...

احتساب بیورو کو جو قومی احتساب (نیب) میں تبدیل کیاگیا تو اس وقت ان کے سربراہ فوج کے حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل بنے تھے، آگے چل کر فوج نے نیب سے خود کو الگ کردیا اب جو ریٹائرڈ فوجی افسران نیب میں کام کررہے ہیں ان کے خلاف بھی سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس میں درجنوں مقدمات زیر سماعت ہیں اور کئی ریٹائرڈ افسران کا مستقبل بھی مخدوش نظر آرہا ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات کے بعد جب تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ میں صوبائی حکومت بنی تو اس کے بعد وہاں نیب کے مقابلہ میں صوبائی احتساب کمیشن بنادیاگیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تحریک انصاف کے رہنمائوں ضیاء اللہ آفریدی اور دیگر کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی۔
اس وقت کے خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری ارباب شاہ رخ نے ایک خط چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وفاقی حکومت کو لکھ دیا جس میں احتساب کمیشن کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی تفصیلات بتائی گئی تھیں۔ احتساب کمیشن کے صوبائی سربراہ جنرل (ر) حامد علی خان نے جب حقیقی معنوں میں احتساب شروع کیا تو عمران خان بھی دبائو میں آگئے اور پھر صوبائی حکومت نے احتساب کمیشن کو روکنے کی کوشش کی۔ نتیجہ میں جنرل حامد علی خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس طرح اب وہاں احتساب کا عمل روک دیاگیا ہے۔ جب احتساب کمیشن خیبرپختونخوا میں قائم ہوا تو اس وقت پی پی کی مرکزی قیادت کو بھی خیال آیا کہ کیوں نہ ایسا ہی احتساب کمیشن سندھ میں بنایا جائے پھر محکمہ اینٹی کرپشن سندھ نے فوری طور پر خیبرپختونخوا حکومت سے رابطہ کیا اور ان سے صوبائی احتساب کمیشن کی تفصیلات حاصل کیں اور حکومت سندھ نے خوشی میں اعلان شروع کردیے کہ اب نیب سے چھٹکارا ملے گا اور حکومت سندھ اپنا احتساب کمیشن بنائے گی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے تیاریاں تیز ہوگئیں کہ اب نیا کمیشن بن جانے کی کاغذی کارروائی بھی کردی گئی۔ اس وقت ڈاکٹر عاصم حسین گرفتار ہوچکے تھے۔ پی پی کی قیادت اس خوش فہمی کا شکار تھی کہ اب احتساب کمیشن بنے گا تو ڈاکٹر عاصم حسین کی طرح جتنے بھی سیاسی رہنما اور سرکاری افسران نیب میں مقدمات بھگت رہے ہیں، ان کو فوری طور پر ریلیف ملے گا لیکن جیسے ہی خیبرپختونخوا میں صوبائی وزیر ضیاء اللہ آفریدی گرفتار ہوئے، ان کے خلاف ثبوت بھی سامنے آئے تو حکومت سندھ کے پسینے چھوٹ گئے کیونکہ سوال پیدا ہورہا تھا کہ اگر صوبائی احتساب کمیشن بن جاتا ہے تو اس کا سربراہ بھی جنرل (ر) حامد علی خان کی طرح سرپھرا نکلا تو پھر کیا ہوگا؟ ایک طرف نیب تو دوسری طرف صوبائی احتساب کمیشن ہو اور دونوں اگر حکومت سندھ سے ٹکراگئے توپھر دُہرا عذاب برداشت کرنا پڑے گا ۔پی پی کو اس وقت ہی ایک ثبوت سامنے ملا تھا جب آصف زرداری کے یار غارجسٹس (ر) آغا رفیق کو اس وجہ سے سندھ پبلک سروس کمیشن کا چیئرمین لگایا تاکہ ان کو جو بھی فہرست دی جائے گی وہ اس کے مطابق بھرتیاں کریں۔ اس سے پی پی کے حامی افسران کی بڑی تعداد بطور افسر بھرتی ہوجائے گی۔ ایم پی ایز‘ ایم این ایز کے قریبی رشتہ دار‘ اے ایس آئی ‘ اسسٹنٹ کمشنر‘ مختار کار‘ سیکشن افسر‘ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسران بھرتی ہوجائیں گے لیکن جسٹس (ر) آغا رفیق نے حکومت سندھ اور پی پی کی قیادت کی امیدوں پر پانی پھیردیا اور میرٹ پر اے ایس آئیز کی بھرتیاں کرکے دھماکا کردیا۔ پی پی کی قیادت اور حکومت سندھ سکتے میں آگئے کیونکہ انہوں نے تو ہر امیدوار سے ’’مخفی معاملات ‘‘طے کر رکھے تھے۔ اس تجربہ نے پی پی کو بہلاکر رکھ دیا اور فوری طور پر یوٹرن لے لیاگیا اور فیصلہ کیاگیا کہ احتساب کمیشن کا معاملہ یہیں ختم کردیا جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑجائیں، ایک نیب ہی کافی ہے اوپر سے صوبائی احتساب کمیشن کی بھی نئی مصیبت کھڑی ہوجائے۔ حکومت سندھ نے نئے احتساب کمیشن کیلئے محکمہ قانون کے ساتھ مل کر ایک بل بھی تیارکرنا شروع کیا تھا اس بل کو بھی داخل دفتر کرلیاگیا اور اب فیصلہ کیاگیا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کو فعال بنایا جائے اور اس کو مالی اور انتظامی اختیارات دیے جائیں۔ اس کو اسی تناظر میں سرگرم کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین کی نیب سے فی الحال جان نہیں چھوٹ رہی۔ شرجیل میمن کو نیب نے خود کو آزاد کرانے کے لیے پہلے تیاریاں کیں لیکن بعد میں جب ڈاکٹر عاصم کا کیس دیکھا تو اس کی بھی واپسی کی منصوبہ بندی ختم ہوگئی اور اب وہ سندھ ہائی کورٹ میں نئی درخواستیں دائر کررہے ہیں کہ وہ جب وطن واپس آئیں تو نیب کو پابند بنایا جائے کہ ان کو ایئرپورٹ سے گرفتار نہ کرے جس پر جب نیب سے رائے لی گئی تو نیب نے سندھ ہائی کورٹ کو بتادیا کہ شرجیل میمن کے خلاف ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ ان کو تو ہر حالت میں گرفتار کیا جائے گا۔ حکومت سندھ کے گلے میں ایسی ہڈی پھنس گئی ہے جس کو اگل سکتی ہے نہ ہی نگل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی نیب کو قبول کیا جارہا ہے۔ صوبائی احتساب کمیشن کے قیام سے حکومت سندھ نے توبہ کرلی ہے کہ کہیں کل کلاں صوبائی احتساب کمیشن ایک نیا پنڈورا باکس نہ کھو ل بیٹھے۔
عقیل احمد راجپوت
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...