... loading ...
سندھ پولیس قیام پاکستان کے بعد سے ہی اپنی نوعیت کی منفرد تاریخ رکھتی ہے تبھی ایک موقع پر سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے یہ بات ببانگ دہل کہی تھی کہ حکومت چاہے تو کسی پر کسی بھی وقت بکری چوری یا چوڑیاں چوری کرنے کا مقدمہ دائر کرسکتی ہے چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ یہی سندھ پولیس تھی جس نے ذوالفقار بھٹو کے دور حکومت میں ماورائے عدالت قتل جیسی قاتل رسم اپنائی اور پاکستان کی تاریخ میں پہلا ماورائے عدالت سیاسی قتل عطاء اللہ مینگل کے بیٹے اسد مینگل کا کیا تھا جن کو گلشن اقبال کراچی سے پولیس نے اٹھاکر ضلع ٹھٹھہ کے علاقہ کھارو چھان اور گاڑھو کے درمیا ن سمندر میں گڑھا کھود کر دفن کردیا تھا اور یہی وہ پولیس تھی جس نے اسی ذوالفقار بھٹو ، ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو، بیٹی بینظیر بھٹو اور بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو کو گرفتار کیا اور آگے چل کر ذوالفقار بھٹو کے بیٹے کو اسی سندھ پولیس نے اپنے گھر کی دہلیز پر گولیاں برساکر قتل کردیا ۔ ذوالفقار بھٹو نے پولیس کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا ،مولانا جان محمد عباسی جیسے شریف انسانوں کو حوالات کی سیر کرائی اور پھر وہی پولیس بھٹو کے خاندان اور بھٹو کی پارٹی کیخلاف استعمال ہوئی ،اسی دور میں یہ نعرہ زبان زد عام ہوا جو حبیب جالب نے کہا تھاکہ ’’لاڑکانہ چلو یا تھانے چلو‘‘۔ضیاء الحق کے دور میں وہی پولیس پی پی کے کارکنوں کو ڈھونڈتی رہتی تھی ۔
پھر 90 ء میںجب جام صادق وزیراعلیٰ بنے تو ان کے مشیر داخلہ عرفان مروت تھے جنہوں نے سیاسی کارکنوں اور ارکان پارلیمنٹ کو تذلیل کا نشانہ بنایا ، حد تو یہ تھی کہ خواتین کارکنوں کو سی آئی اے سینٹر میں وحشیانہ تشدد کرکے ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کی گئی ۔پھر عبداللہ شاہ آئے تو ان کے دور میں بھی سیاسی مخالفین پر زمین تنگ کردی گئی، لاڑکانہ کے حاجی غلام حسین انڑ کو بکری چوری اور خواتین کی چوڑیاں چوری کرنے جیسے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا،پھر ان کو اس وقت سپریم کورٹ نے ضمانت دلائی جب ایک معروف انگریزی اخبار کے کالم نویس اردشیر کائوس جی نے حاجی غلام حسین انڑ کے حق میں کالم لکھا لیکن اس وقت تک حاجی غلام حسین انڑ اتنے بیمار ہوگئے تھے کہ رہائی کے چند ہفتوں بعد وہ انتقال کرگئے ۔آج اگر پی پی کہتی ہے کہ ان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ،ان پر جبر کئے گئے ، تو یہ بھی ایک تاریخ ہے کہ پی پی نے ذوالفقار بھٹو سے لیکر آصف زرداری تک اپنے مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناکر بدترین مثال قائم کی۔ ذوالفقار مرزا جب وزیر داخلہ تھے تو اس وقت کامران ٹیسوری کو کراچی سے اٹھا کر بدین لے گئے اور وہاں ان سے لین دین کرکے ڈرامہ رچایا گیا کہ وہ بدین کی عدالت سے واپسی پر فرار ہوگئے ہیں ۔آصف زرداری نے اپنے بچپن ونوجوانی کے محسن انجم شاہ کو پولیس کے ذریعے انتقام کا نشانہ بنایا، کبھی اویس مظفر ٹپی نے ، تو کبھی انور مجید نے اسی پولیس کو اپنے مقاصد اور مخالفین کے خلاف استعمال کیا ۔
پولیس استعمال تو ہورہی ہے لیکن پولیس نے اب کمانے کے نئے طریقے ایجاد کرلیے ہیں اور وہ طریقے انتہائی حیرت انگیز اور قابل افسوس ہیں ۔ہوا کچھ یوں ہے کہ پنجاب سے سندھ کے دو اضلاع کشمور اور گھوٹکی کے لیے جانوروں کی تجارت ہوتی ہے مگر گھوٹکی پولیس اور کشمور پولیس آنے جانیوالے جانوروں سے بھتہ لینا اپنا موروثی فرض سمجھتی ہے ۔ذرائع کے مطابق جب پنجاب پولیس نے دونوں اضلاع کے ایس ایس پیز سے رابطہ کیا تو ان کو یہ سن کر حیرانگی ہوئی کہ یہاں ایس ایس پیز کا کوئی کام نہیں ہے، پورا ضلع ایک سب انسپکٹرز چلاتے ہیں ،ان کو پرسنل اسٹاف افسر (پی ایس او)بنایا ہوا ہے ۔اورپی ایس او سیاہ وسفید کے مالک ہوتے ہیں ۔یہ بات سن کر پنجاب پولیس کے افسر سٹپٹا گئے اور انہوں نے براہ راست آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے شکایت کی کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر ضلع میں ایس ایس پی صرف برائے نام کام کرتا ہے ، اصل ضلع کا مالک تو ایک سب انسپکٹر ہوتا ہے جو پی ایس او کے طور پر کام کررہا ہے، آئی جی سندھ پولیس کے لیے یہ خبر واقعی اچھنبے سے کم نہ تھی ۔ انہوں نے اس شکایت کی تحقیقات کے لیے ایک اچھی شہرت کے حامل افسر آفتاب پٹھان کو مقرر کیا۔ آفتاب پٹھان نے جب چند اضلاع کا مشاہدہ کیا تو انگشت بہ دندان رہ گئے کہ اب ہر ضلع کا اصل مالک واقعی ایک سب انسپکٹر ہے جو جوئے سٹے کے اڈوں، جسم فروشی کے مراکز، مویشی منڈیوں پر قبضے کرانے اور قبضے چھڑانے سمیت ہر وہ کام جس سے پیسہ آتا ہے وہ پی ایس او بخوشی انجام دے رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ آفتاب پٹھان کشمور کے کچے کے علاقے میں ایک ہیڈکانسٹیبل کو بطور ایس ایچ او کام کرتے پاکر دنگ رہ گئے ، وہ حیران تھے کہ یہ پولیس کا محکمہ ہے یا کسی شہری اور دیہی جاگیردار کے ذاتی گارڈز ہیں؟ انہوں نے قدیم زمانے کی داستان کی طرح جب پوری صورتحال آئی جی سندھ پولیس کے سامنے رکھی تو آئی جی کو پہلے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا اور وہ تذبذب کی حالت میں آفتاب پٹھان پر سوالات کی بوچھاڑ کئے جارہے تھے اور پھر ایک لمحے کے لیے وہ رک گئے ،پانی کا ایک گلاس پیا، اور وائرلیس پر حکم دیا کہ صوبہ بھر کے 29 اضلاع کے ایس ایس پیز کو فوری طور پر پولیس ہیڈ آفس طلب کرلیا اور جب ان سے پوچھا کہ یہ کیا تماشہ ہے ، آپ لوگوں کو ایس ایس پی بناکر تمام اضلاع میں بھیجا جاتا ہے اور آپ وہاں جاکر سب انسپکٹرز کو پی ایس او بنادیتے ہیں جو آپ لوگوں کے لیے پیسے کی مشین بن کر رات دن غیر قانونی کام کرتا ہے ،ظلم وبربریت کی داستانیں رقم کرتا ہے، اور آپ لوگ صرف شام کو حساب لیتے ہیں اور پھر ضلاع سے لاتعلق رہ کر لمبی تان کر سوجاتے ہیں ،آپ لوگوں کو خوف خدا بھی نہیں ؟اب بہت ہوگیا، ابھی سے پی ایس او کا عہدہ ختم کرتا ہوں اور اب یہ سلسلہ یہیں دفن کیا جائے اور اگر اس کے بعد بھی پی ایس او کے بارے میں میں نے سنا تو پھر ایس ایس پی سے باز پرس کی جائے گی ۔آپ لوگوں کے پاس پورا اسٹاف موجود ہے جو قانونی عملہ ہے تو پھر غیر قانونی عملہ رکھ کر غیر قانونی کام کیوں کرتے ہیں؟ اگر دنیا سے طاقتور ہوگئے ہو تو مالک حقیقی سے تو زیادہ طاقتور نہیں ہو ،ان کو کیا حساب دو گے؟ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ باتیں سنتے وقت ایس ایس پیز کے چہرے اترے اور منہ لٹکے ہوئے تھے۔دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کے اندر موجود طاقتور مافیا آئی جی اور اعلیٰ حکام کے ان احکامات کو کس انداز میں لیتا ہے ؟آیا سندھ ایس ایس پیز اپنا قبلہ درست کرتے بھی ہیں یا اپنے اعلیٰ افسر کے احکامات کی دھجیاں اڑادی جائیں گی۔
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...
سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...
واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...