وجود

... loading ...

وجود

’’کرتوت‘‘ جان کر آئی جی خود بھی حیران، سخت احکامات دے دیے

هفته 04 فروری 2017 ’’کرتوت‘‘ جان کر آئی جی خود بھی حیران، سخت احکامات دے دیے

سندھ پولیس قیام پاکستان کے بعد سے ہی اپنی نوعیت کی منفرد تاریخ رکھتی ہے تبھی ایک موقع پر سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے یہ بات ببانگ دہل کہی تھی کہ حکومت چاہے تو کسی پر کسی بھی وقت بکری چوری یا چوڑیاں چوری کرنے کا مقدمہ دائر کرسکتی ہے چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ یہی سندھ پولیس تھی جس نے ذوالفقار بھٹو کے دور حکومت میں ماورائے عدالت قتل جیسی قاتل رسم اپنائی اور پاکستان کی تاریخ میں پہلا ماورائے عدالت سیاسی قتل عطاء اللہ مینگل کے بیٹے اسد مینگل کا کیا تھا جن کو گلشن اقبال کراچی سے پولیس نے اٹھاکر ضلع ٹھٹھہ کے علاقہ کھارو چھان اور گاڑھو کے درمیا ن سمندر میں گڑھا کھود کر دفن کردیا تھا اور یہی وہ پولیس تھی جس نے اسی ذوالفقار بھٹو ، ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو، بیٹی بینظیر بھٹو اور بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو کو گرفتار کیا اور آگے چل کر ذوالفقار بھٹو کے بیٹے کو اسی سندھ پولیس نے اپنے گھر کی دہلیز پر گولیاں برساکر قتل کردیا ۔ ذوالفقار بھٹو نے پولیس کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا ،مولانا جان محمد عباسی جیسے شریف انسانوں کو حوالات کی سیر کرائی اور پھر وہی پولیس بھٹو کے خاندان اور بھٹو کی پارٹی کیخلاف استعمال ہوئی ،اسی دور میں یہ نعرہ زبان زد عام ہوا جو حبیب جالب نے کہا تھاکہ ’’لاڑکانہ چلو یا تھانے چلو‘‘۔ضیاء الحق کے دور میں وہی پولیس پی پی کے کارکنوں کو ڈھونڈتی رہتی تھی ۔
پھر 90 ء میںجب جام صادق وزیراعلیٰ بنے تو ان کے مشیر داخلہ عرفان مروت تھے جنہوں نے سیاسی کارکنوں اور ارکان پارلیمنٹ کو تذلیل کا نشانہ بنایا ، حد تو یہ تھی کہ خواتین کارکنوں کو سی آئی اے سینٹر میں وحشیانہ تشدد کرکے ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کی گئی ۔پھر عبداللہ شاہ آئے تو ان کے دور میں بھی سیاسی مخالفین پر زمین تنگ کردی گئی، لاڑکانہ کے حاجی غلام حسین انڑ کو بکری چوری اور خواتین کی چوڑیاں چوری کرنے جیسے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا،پھر ان کو اس وقت سپریم کورٹ نے ضمانت دلائی جب ایک معروف انگریزی اخبار کے کالم نویس اردشیر کائوس جی نے حاجی غلام حسین انڑ کے حق میں کالم لکھا لیکن اس وقت تک حاجی غلام حسین انڑ اتنے بیمار ہوگئے تھے کہ رہائی کے چند ہفتوں بعد وہ انتقال کرگئے ۔آج اگر پی پی کہتی ہے کہ ان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ،ان پر جبر کئے گئے ، تو یہ بھی ایک تاریخ ہے کہ پی پی نے ذوالفقار بھٹو سے لیکر آصف زرداری تک اپنے مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناکر بدترین مثال قائم کی۔ ذوالفقار مرزا جب وزیر داخلہ تھے تو اس وقت کامران ٹیسوری کو کراچی سے اٹھا کر بدین لے گئے اور وہاں ان سے لین دین کرکے ڈرامہ رچایا گیا کہ وہ بدین کی عدالت سے واپسی پر فرار ہوگئے ہیں ۔آصف زرداری نے اپنے بچپن ونوجوانی کے محسن انجم شاہ کو پولیس کے ذریعے انتقام کا نشانہ بنایا، کبھی اویس مظفر ٹپی نے ، تو کبھی انور مجید نے اسی پولیس کو اپنے مقاصد اور مخالفین کے خلاف استعمال کیا ۔
پولیس استعمال تو ہورہی ہے لیکن پولیس نے اب کمانے کے نئے طریقے ایجاد کرلیے ہیں اور وہ طریقے انتہائی حیرت انگیز اور قابل افسوس ہیں ۔ہوا کچھ یوں ہے کہ پنجاب سے سندھ کے دو اضلاع کشمور اور گھوٹکی کے لیے جانوروں کی تجارت ہوتی ہے مگر گھوٹکی پولیس اور کشمور پولیس آنے جانیوالے جانوروں سے بھتہ لینا اپنا موروثی فرض سمجھتی ہے ۔ذرائع کے مطابق جب پنجاب پولیس نے دونوں اضلاع کے ایس ایس پیز سے رابطہ کیا تو ان کو یہ سن کر حیرانگی ہوئی کہ یہاں ایس ایس پیز کا کوئی کام نہیں ہے، پورا ضلع ایک سب انسپکٹرز چلاتے ہیں ،ان کو پرسنل اسٹاف افسر (پی ایس او)بنایا ہوا ہے ۔اورپی ایس او سیاہ وسفید کے مالک ہوتے ہیں ۔یہ بات سن کر پنجاب پولیس کے افسر سٹپٹا گئے اور انہوں نے براہ راست آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے شکایت کی کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر ضلع میں ایس ایس پی صرف برائے نام کام کرتا ہے ، اصل ضلع کا مالک تو ایک سب انسپکٹر ہوتا ہے جو پی ایس او کے طور پر کام کررہا ہے، آئی جی سندھ پولیس کے لیے یہ خبر واقعی اچھنبے سے کم نہ تھی ۔ انہوں نے اس شکایت کی تحقیقات کے لیے ایک اچھی شہرت کے حامل افسر آفتاب پٹھان کو مقرر کیا۔ آفتاب پٹھان نے جب چند اضلاع کا مشاہدہ کیا تو انگشت بہ دندان رہ گئے کہ اب ہر ضلع کا اصل مالک واقعی ایک سب انسپکٹر ہے جو جوئے سٹے کے اڈوں، جسم فروشی کے مراکز، مویشی منڈیوں پر قبضے کرانے اور قبضے چھڑانے سمیت ہر وہ کام جس سے پیسہ آتا ہے وہ پی ایس او بخوشی انجام دے رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ آفتاب پٹھان کشمور کے کچے کے علاقے میں ایک ہیڈکانسٹیبل کو بطور ایس ایچ او کام کرتے پاکر دنگ رہ گئے ، وہ حیران تھے کہ یہ پولیس کا محکمہ ہے یا کسی شہری اور دیہی جاگیردار کے ذاتی گارڈز ہیں؟ انہوں نے قدیم زمانے کی داستان کی طرح جب پوری صورتحال آئی جی سندھ پولیس کے سامنے رکھی تو آئی جی کو پہلے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا اور وہ تذبذب کی حالت میں آفتاب پٹھان پر سوالات کی بوچھاڑ کئے جارہے تھے اور پھر ایک لمحے کے لیے وہ رک گئے ،پانی کا ایک گلاس پیا، اور وائرلیس پر حکم دیا کہ صوبہ بھر کے 29 اضلاع کے ایس ایس پیز کو فوری طور پر پولیس ہیڈ آفس طلب کرلیا اور جب ان سے پوچھا کہ یہ کیا تماشہ ہے ، آپ لوگوں کو ایس ایس پی بناکر تمام اضلاع میں بھیجا جاتا ہے اور آپ وہاں جاکر سب انسپکٹرز کو پی ایس او بنادیتے ہیں جو آپ لوگوں کے لیے پیسے کی مشین بن کر رات دن غیر قانونی کام کرتا ہے ،ظلم وبربریت کی داستانیں رقم کرتا ہے، اور آپ لوگ صرف شام کو حساب لیتے ہیں اور پھر ضلاع سے لاتعلق رہ کر لمبی تان کر سوجاتے ہیں ،آپ لوگوں کو خوف خدا بھی نہیں ؟اب بہت ہوگیا، ابھی سے پی ایس او کا عہدہ ختم کرتا ہوں اور اب یہ سلسلہ یہیں دفن کیا جائے اور اگر اس کے بعد بھی پی ایس او کے بارے میں میں نے سنا تو پھر ایس ایس پی سے باز پرس کی جائے گی ۔آپ لوگوں کے پاس پورا اسٹاف موجود ہے جو قانونی عملہ ہے تو پھر غیر قانونی عملہ رکھ کر غیر قانونی کام کیوں کرتے ہیں؟ اگر دنیا سے طاقتور ہوگئے ہو تو مالک حقیقی سے تو زیادہ طاقتور نہیں ہو ،ان کو کیا حساب دو گے؟ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ باتیں سنتے وقت ایس ایس پیز کے چہرے اترے اور منہ لٹکے ہوئے تھے۔دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کے اندر موجود طاقتور مافیا آئی جی اور اعلیٰ حکام کے ان احکامات کو کس انداز میں لیتا ہے ؟آیا سندھ ایس ایس پیز اپنا قبلہ درست کرتے بھی ہیں یا اپنے اعلیٰ افسر کے احکامات کی دھجیاں اڑادی جائیں گی۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر