... loading ...
حکومت سندھ نے انتہائی عامیانہ انداز سے دینی مدارس کے وقار سے کھیلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جرات کو دستیاب شواہد کے مطابق حکومت سندھ نے ایپیکس کمیٹی میں ہونے والے فیصلے کے تحت دینی مدارس کا سروے تو کرالیا ہے مگر یہ سروے انتہائی متنازع ثابت ہورہا ہے۔ حکومت سندھ یہ وضاحت نہیں کرپارہی کہ دینی مدارس کو مشکوک قرار دینے کے لیے اُس کے پاس کون سا پیمانہ تھا۔ حکومت سندھ نے کن عوامل کا جائزہ لیتے ہوئے 94 مدارس کو مشکوک قراردیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر حکومت سندھ نے جو فہرست مرتب کی ہے وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ہر قسم کے شکوک سے بالا سمجھے گئے۔ ان دینی مدارس میں بعض ادارے عالمی سطح پر مقبول ہیں۔ دارالعلوم کورنگی ایک انتہائی باو قار ادارے کے طور پر عالمی سطح پر معروف ہے۔ اسی طرح جامعۃ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن بھی دینی حلقوں میں اپنی ساکھ کے اعتبار سے انتہائی معتبر ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ فہرست میں شامل جامعہ فاروقیہ اس لحاظ سے ایک منفرد ادارہ ہے کہ اس کے مہتمم مولانا سلیم اللہ خان ،جو گزشتہ دنوں انتقال فرما گئے، مدارس کے قومی نظم یعنی وفاق المدارس سے کے سربراہ تھے۔ اور وہ اُن علمائے کرام کی فہرست میں ممتاز مقام رکھتے تھے جو عمر بھر دینی مدارس کو تعلیمی اداروں کے علاوہ ہر قسم کی سرگرمیوں سے پاک رکھنے کے زبردست داعی رہے۔ اُنہوں نے نوگیارہ کے بعد امریکی دباؤ میں دینی مدارس پر سختی کے پرویز مشرف کے دور میں اس کا مقابلہ انتہائی عالی حوصلگی سے کیا تھا۔ تب پرویز مشرف کے سخت گیر عہد میں ان مدارس کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تھا اور جنرل(ر) مشرف ایسے دین بیزار شخص بھی یہ کہنے
پر مجبور ہو گئے تھے کہ غیر ریاستی سطح کا ایسا زبردست انتظام دنیا میں کہیں پر بھی نہیں پایا جاتا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دینی مدارس عالمی سطح پر دہشت گردی کے مراکز کے طور پر ایک پروپیگنڈے کا شکار تھے۔ مگر اُس عرصے میں دینی مدارس کے خلاف ہونے والی تمام تحقیقات میں کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکا تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر دینی مدارس کو مشکوک قراردینے کی ایک مہم نے نئے سرے سے سر اُٹھایا ہے۔ جس میں حکومت سندھ پیش پیش ہے۔
حکومت سندھ کی پیش کردہ فہرست اس حوالے سے نہایت مضحکہ خیز ہے کہ اس فہرست کو وفاقی وزیر داخلہ نے دیکھتے ہی مسترد کردیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سندھ حکومت کے پاس ایسے کون سے انوکھے ذرائع یا منفرد معلومات ہیں جو وفاقی حکو مت کے پا س نہیں۔ حکومت سندھ نے مشکوک مدارس کی فہرست کس طرح تیار کی ہے اُس کا انداز اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اُنہوں نے بعض مدارس کے نام بھی درست معلوم کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی چہ جائیکہ وہ اُن مدارس کی سرگرمیوں کا کوئی ریکارڈ دیکھتے یا مشکوک
سرگرمیوں کے کوئی ثبوت جمع کرتے۔
حکومت سندھ کو درست طور پر کسی بھی مدرسے کو مشکوک قرار دینے کے لیے کچھ حقائق بھی جمع کرنا چاہئے تھے مگر ایک مشکوک مدارس کی فہرست کو پیش کرکے حکومت سندھ اس پر بضد ہے کہ اِسے درست تسلیم کرلیا جائے۔ جرأت کو باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت سندھ ان مدارس کو مشکوک قراردینے کے بعد اب اگلے مرحلے میں اس کے لیے کوشاں ہو چکی ہے کہ ان پر پابندی لگادی جائے۔ یہ بات سننے میں ہی بہت عجیب لگتی ہے کہ جن 94 مدارس کو مشکوک قرار دے کر اُس کی پابندی کا مطالبہ وفاقی حکومت سے کیا جارہا ہے اُس میں دارالعلوم کورنگی کراچی کے علاوہ جامعہ فاروقیہ اور جامعہ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے نام بھی شامل ہیں۔ اس ضمن میں سیکریٹری داخلہ سندھ شکیل احمد منگیجو نے ایک تحریری درخواست بھی وفاقی حکومت کو بھیجی ہے۔
یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستانی معاشرہ جو پہلے سے ہی تقسیم در تقسیم کا شکار ہے وہاں مزید طرح طرح کی تقسیم کے دائرے پید ا کیے جارہے ہیں۔ بدقسمی کی بات یہ بھی ہے کہ ایپکس کمیٹی میں جہاں مدارس کی یہ فہرست پیش کی گئی وہاں قانون نا فذ کرنے
والے ادارے بھی اس کا درست جائزہ لینے میں ناکام رہے۔ حکومت سندھ یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ان مدارس کے کالعدم جماعتوں سے رابطوں کی تصدیق حساس ادارے ، پولیس اور رینجرز نے کی ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ان رابطوں کی تصدیق تو حکومت سندھ کے پاس ہے مگر ان رابطوں پر اب تک کالعدم جماعتوں کے خلاف کارروائی کا کوئی نام ونشان تک موجود نہیں۔ پھر رابطوں کی تصدیق کی تصدیق کا بھی کوئی نظام موجود نہیں۔جرات کو ملنے والی معلومات کے مطابق اس پورے عمل پر دینی مدارس میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے اور دینی مدارس کے رہنما اس پر اپنا لائحہ عمل تیار کرنے میں مصروف ہیں۔
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...