وجود

... loading ...

وجود

مسلمانوں سے نفرت ہالینڈ انتخابات بھی امریکا کی راہ پر گامزن

اتوار 11 دسمبر 2016 مسلمانوں سے نفرت ہالینڈ انتخابات بھی امریکا کی راہ پر گامزن


تہمینہ حیات
ہالینڈمیں ووٹرز جلد ہی نئی حکومت کا انتخاب کریں گے۔ انتخابی مہم میں مہاجرینکے مسئلے کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ توقع ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی ڈچ فریڈم پارٹی جو تارکین اور خاص طورپر مسلمانوں کی مخالف تصور کی جاتی ہے چوٹی کی 3 پارٹیوں میں شامل ہو گی۔یورپ کے دوسرے ملکوں کی طرح، یہاں بھی تارکین وطن خاص طور سے مسلمانوں کے خلاف مہم چلی ہوئی ہے۔ ڈچ فریڈم پارٹی کے لیڈر گریٹ وائلڈرز کہتے ہیں کہ ’’ہماری تجویز ہے کہ مسلمان ملکوں سے لوگوں کا داخلہ مکمل طور سے بند کر دیا جائے کیونکہ ہالینڈ میں جو اسلام موجود ہے وہ بہت کافی ہے۔ ہم یورپ اور نیدرلینڈز کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں اور اسی لیے ہم نے یہ تجویز دی ہے‘‘۔ صرف انتہائی دائیں بازو کی سیاسی پارٹیاں ہی نہیں بلکہ پورے مغربی یورپ میں سیاسی پارٹیوں نے اسی انداز فکر کو اپنا لیا ہے۔فرانس اور بیلجیم میں ایسا قانون بنایا جا رہا ہے جس کے تحت مسلمان عورتوں کو برقع پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سوئٹزر لینڈ میں مسجدوں میں نئے مینار تعمیر کرنا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔
صادق ہارڈویچی ایک ریسرچ گروپ فورم انسٹیٹیوٹ فار ملٹی کلچرل افیئرز کے چیئرمین ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان دشمن جذبات کی جڑیں حالیہ تاریخ میں پیوست ہیں ’’گلوبلائیزیشن کے اس دور میں تیزی سے آنے و الی تبدیلیوں نے پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آپ اس اقتصادی بحران کے اثرات ،جو امریکا میں مکانوں کے قرضوں سے شروع ہوا ،بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ آپ یہاں روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔ ہر کوئی اپنی بقا کے لیے کوئی نہ کوئی سہارا تلاش کر رہا ہے۔ یہ وہ غیر یقینی حالات اور وہ خوف ہے جسے مسٹر گریٹ وائلڈرز نے یورپ میں اسلام کے غلبے کا نام دیا ہے‘‘۔
2008میں وائلڈرز نے ایک فلم ریلیز کی جس میں مغرب کو اسلام کے غلبے کے خطرے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ اس فلم کا نام ہے ’’فتنہ ‘‘اوراس میں قرآن سے اقتباسات لے کر انہیں دہشت گردی کے مناظر کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔ اس فلم پر کئی ملکوں میں پابندی لگا دی گئی ہے۔ نیدرلینڈمیں وائلڈرزکے خلاف نفرت پھیلانے اورامتیازی سلوک کا پرچار کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں‘‘ ۔ذولی کے قصبے میں جہاں وائلڈرز حال ہی میں اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں گئے تھے وہاں حکام نے بے گھر افراد کے لیے، جن میں سے بیشتر مسلمان ہیں، فٹ بال میچ کا انتظام کیا ۔ وائس آف امریکا کے نمائندے نے اس موقع پر ایک بے گھر فرد سے مسلمانوں کے خلاف جذبات کی لہر کے بار ے میں دریافت کیا تو جواب ملا کہ ’’یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کیوں کہ یہ آزاد ملک ہے اور آپ یہاں اپنی پوری زندگی گزار سکتے ہیں۔ جہاں تک وائلڈرز کا تعلق ہے تو وہ ایک کھیل کھیل رہے ہیں۔ اس قسم کی چیز یہاں نیدرلینڈز میں چل نہیں سکتی‘‘۔وائلڈرز کی مقبولیت باقی رہی تو بھی ان کے بارے میں لوگوں کے جذبات ملے جلے رہیں گے۔ مثلاً ایک شہری نے اس طرح اظہارِ خیال کیا ’’وہ لوگوں کے اندیشوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ میرے خیال میں وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ خاصا احمقانہ ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہالینڈ میں بہت لوگ آ چکے ہیں۔ میری رائے بھی یہی ہے کہ جو لوگ آ چکے ہیں، وہ کافی ہیں‘‘۔اگرچہ بہت سے لوگ وائلڈرز کے خیالات کو انتہا پسندی کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں، لیکن ان کی پارٹی کو بہت سے ووٹروں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور یوں مسلمانوں کے خلاف احساسات بیلٹ باکس تک پہنچ رہے ہیں۔لیکن وائلڈرز کے اسلام دشمن جذبات کو گزشتہ دنوں خود ہالینڈ کی ایک عدالت کے فیصلے نے بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، عدالت نے اسلام مخالف تقریر کرنے پر ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ کو مجرم قرار دیا اگر چہ عدالت نے وائلڈرز کو کوئی سزا نہیں دی لیکن اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایک قانون ساز اور منتخب رکن پارلیمنٹ کو مجرم قرار دینابھی اس کیلئے ایک بڑی سزا ہے۔وائلڈرز کے خلاف مقدمے کے دوران شیئرپراسیکیوٹرز نے یہ موقف اختیار کیاتھا کہ وائلڈرز نے خصوصی طور پر مراکش کے باشندوں کو نشانہ بنا کر تقریر کی آزادی کی حدود عبور کی ہیں۔
نیدر لینڈز کی عدالت کے جج نے اسلام مخالف قانون ساز گریٹ وائلڈرز کو نفرت پر مبنی تقریر کرنے پر مجرم ٹہراتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ قانون ساز رکن پارلیمنٹ کی تقریر سیاسی چھاپ پر مبنی لفظوں کا گورکھ دھندہ اور اظہار کی آزادی کے لیے ایک بڑا نقصان تھی۔ججوں کے پینل کے سربراہ ہینڈرک اسٹین ہوئز نے جمعے کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت انہیں کوئی سزا نہیں دے گی کیونکہ انہیں مجرم ٹھہرانا ہی جمہوری طورپر منتخب ایک قانون ساز کے لیے کا فی سزا ہے۔پراسیکیوٹرز نے جج سے استدعا کی تھی کہ ملزم کو 5300 ڈالر جرمانہ کیا جائے تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت حاصل ہو اور وہ انتخابات جیتنے کیلئے اس طرح کی دلآزار تقریریں اورباتیں کرنے کی جرات نہ ہو۔
اپنے خلاف عدالت کے اس فیصلے پر ایک ٹویٹ میں وائلڈرز نے کہا ہے کہ تعصب اور مراکش کے باشندوں کے خلاف نفرت بھڑکانے کا مجرم قرار دینا غیر دانش مندانہ ہے اور یہ کہ جن 3 ججوں نے یہ فیصلہ لکھا ہے وہ ان کی انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی کی مقبولیت کو ناپسند کرتے ہیں۔انہوں نے خود پر عائد کیے جانے والے الزامات مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ وہ نیدرلینڈز کے ایک معاشرتی مسئلے کی نشاندہی کرکے ایک سیاسی رہنما کے طور پر اپنا فرض نبھا رہے تھے۔
وائلڈرز کو مجرم ٹہرائے جانے سے پہلے ججوں کے پینل کی سربراہی کرنے والے جج اسٹین ہوئز نے کہا کہ’’ آزادی اظہار کی سماعت نہیں کی جا رہی جیسا کہ وائلڈرز نے اپنے مقدمے کی سماعت کے دوران دعویٰ کیا ہے‘‘۔وائلڈرز سماعت کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھے۔ یہ سماعت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب قومی انتخابات میں تین مہینے باقی رہ گئے ہیں۔رائے عامہ کے جائزوں میں فریڈم پارٹی کو انتخابات کے حوالے سے معمولی برتری حاصل ہے اور اس مقدمے کی سماعت کے دوران اس کی مقبولیت بڑھی ہے۔وائلڈر کے خلاف اسی طرح نفرت آمیز تقریر کرنے کے خلاف ایک مقدمہ اس سے قبل 2011 میں دائر کیاگیاتھا لیکن اس مقدمے میں عدالت نے اسلام کے خلاف نفرت پر مبنی ایک تقریرکے الزام سے انہیں بری کر دیا تھا۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر