وجود

... loading ...

وجود

بلوچستان میں 100دنوں میں تیسری بڑی دہشت گردی ...سانحہ شاہ نورانی سیکورٹی اداروں کی ناکامی ؟؟؟

پیر 14 نومبر 2016 بلوچستان میں 100دنوں میں تیسری بڑی دہشت گردی ...سانحہ شاہ نورانی سیکورٹی اداروں کی ناکامی  ؟؟؟

7کلوگرام سے زائد دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا جبکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کے لیے بال بیرنگز کا بھی استعمال کیا گیا
شاہ نورانی مزار پر خودکش حملہ کرنے والا کم عمر اور افغانی لگتا تھا،5نومبر کو وفاق کی جانب سے الرٹ جاری کیا جا چکا تھاabبلوچستان میں رواں سال تیسرا بڑا سانحہ شاہ نورانی کا ہے، سو دنوں کے دوران تیسرے بڑے واقعے میں درجنوں افراد شہید ہوگئے۔ 8اگست کوسول اسپتال کوئٹہ میں خودکش حملہ ہوا جس میں 80 افراد شہید ہوئے۔ دھماکے سے قبل کوئٹہ کے نواحی علاقے نوجان روڈ پر فائرنگ سے وکیل رہنما بلال انور کاسی شہید ہوئے، درجنوں وکیل ایمرجنسی پہنچے تو وہاں خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا جس سے 80شہادتیں ہوئیں،80افراد میں سے 50وکیل تھے،ڈیڑھ سو افرادزخمی بھی ہوئے۔ابھی اس واقعے کے زخم مندمل نہیں ہوئے تھے کہ 24اور 25اکتوبر کی درمیانی رات ایک اور خوفناک حملہ کیا گیا، پولیس ٹریننگ سینٹر پررات تین دہشت گردوں نے اس وقت یلغار کی جب وہاں 700 کے قریب زیرتربیت پولیس اہلکار موجود تھے،اندھا دھند فائرنگ اور خودکش دھماکے میں 61ریکروٹ موقع پر شہید ہوئے، دو نے اسپتال پہنچ کردم توڑ دیا ،150اہلکار زخمی ہوئے۔ ہفتے کو ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ کے دور افتادہ علاقے میں شاہ نورانی کی درگاہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، دھماکا درگاہ میں دھمال کے لیے مخصوص کی گئی جگہ پرکیا گیا جہاں درجنوں زائرین موجود تھے۔واضح رہے صوبہ بلوچستان میں پڑوسی ملک بھارت کی در اندازی اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آچکے ہیں حال ہی میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے حاضر افسرکلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور انکشافات کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پربھی بھارتی جارحیت اور دہشت گردوں کی معاونت پر آواز اٹھائی تھی۔
بلوچستان کے ضلع خضدار میں واقع شاہ نورانی کے مزار پر دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق دھماکا خود کش تھا اور حملہ آور نے شام 5بج کر 50منٹ کے قریب اس جگہ خود کو دھماکے سے اڑایا جہاں دھمال ہورہا تھا۔7کلوگرام سے زائد دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا جبکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کے لیے بال بیرنگز کا بھی استعمال کیا گیا، مزار پر کوئی چاردیواری نہیں ہے۔شاہ نورانی مزار پر خودکش حملہ کرنے والا کم عمر اور افغانی لگتا تھا،تحقیقاتی حکام کے مطابق دھماکے میں ایک سے زائد کالعدم تنظیموں کا گٹھ جوڑ تھا۔بلاول شاہ نورانی کا مزار خضدار میں لیویز ایریا میں آتا ہے، جہاں مزار اور اس کے اطراف میں 12 لیویز اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔تحقیقاتی حکام کے مطابق شاہ نورانی کے مزار کے اطراف کوئی چار دیواری نہیں تھی اس لیے مزار پر میٹل ڈیٹیکٹر یا واک تھرو گیٹس بھی نہیں لگائے گئے تھے۔حکام کے مطابق اس طرح کے دھماکے کراچی میں عبداللہ شاہ غازی، داتا دربار لاہور اور پشاور کے رحمان بابا اور پنج پیری مزارات میں ہوچکے ہیں۔ سی پیک سلسلے میں تجارتی جہاز کی گوادر سے روانگی سے چند گھنٹے قبل بلوچستان کے علاقے حب میں درگاہ شاہ نورانی کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ واقعے میں افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی ایجنسی را ملوث ہیں، ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وفاق کی جانب سے افغانستان سے دہشت گرد بلوچستان بھیجے جانے کا الرٹ پانچ نومبر کو جاری کیا گیا تھا کہ دہشت گرد قلعہ عبداللہ کے راستے داخل ہوئے ہیں۔سی پیک منصوبہ پاکستان دشمن قوتوں کی آنکھ میں بری طرح کھٹک رہا ہے۔ اس لئے سی پیک کے تحت تجارتی سامان کی پہلی کھیپ کی روانگی سے ایک دن قبل دھماکا کیا گیا۔ پاکستان کی ترقی روکنے کے لئے دشمن ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ محکمہ داخلہ بلوچستان نے تمام اداروں کو خود کش حملہ آوروں کے داخلے کی اطلاع دی تھی۔ حساس اداروں کی اطلاع کے مطابق خود کش حملہ آور عوامی مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ درگاہ پر حملے میں را کے ملوث ہونے کے پہلو پر بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ہفتے کی شام بلوچستان میں شاہ نورانی کے مزار پر خودکش حملے میںخواتین اور بچوں سمیت 52افراد جاں بحق اور 100سے زائد زخمی ہوگئے،درجنوں خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں کراچی اور حب کے اسپتالوں میں مارے مارے پھرتے رہے ،دھماکے میں جاں بحق 6افراد کا تعلق کراچی کے ایک ہی خاندان سے تھا۔بلوچستان کے ضلع خضدار میں واقع شاہ نورانی کے مزار میں ہفتے کی شام زائرین پر قیامت ٹوٹ پڑی،غروب آفتاب کے وقت خودکش دھماکا کئی قیمتی جانوں کے چراغ گل کرگیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے مزار کے احاطے میں 600سے زائد افراد موجود تھے اور دھمال ڈالا جارہا تھا کہ اس دوران دھماکا ہوا اور پھر ہر طرف خون ہی خون پھیل گیا۔ڈی سی خضدار سہیل رحمان کا کہنا ہے حملہ آور نوجوان تھا، دھماکے کے لیے 8سے 10کلوگرام بارودی مواد اور بال بیرنگ استعمال کیے گئے۔دھماکے سے متعدد افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے ، زخمیوں اور لاشوں کو حب اور کراچی کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ۔ کئی زخمی فوری طبی امداد نہ ملنے سے اسپتال لے جاتے ہوئے چل بسے،دھماکے کی اطلاع ملتے ہی اسپتالوں میںایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔سول اسپتال حب میں مناسب طبی سہولتیں نہ ہونے کے باعث زیادہ تر زخمیوں کو کراچی منتقل کیا گیا۔پاک آرمی کی میڈیکل کور بھی جدید ایمبولینس کے ساتھ شاہ نورانی پہنچیں جبکہ پاک بحریہ، ایف سی ، رینجرز اور ایدھی کی امدادی ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف رہیں۔واقعے کے بعد مزار کے احاطے کو کلیئر کردیا گیا ہے، اتوارکی صبح 7بجے کے بعد سیکورٹی اداروں نے شاہ نورانی کا مزار زائرین کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے۔ سینئر ایم ایل او سول اسپتال قرار عباسی کا کہنا ہے کہ اب تک 36لاشیں سول اسپتال لائی جا چکی ہیں۔ 34جاں بحق افراد کی لاشوں کو شناخت کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے 42زخمیوں کو بھی سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ وزیر صحت سندھ سکندر میندرو نے سول اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔ انہوں نے اسپتال عملے کو زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔سول اسپتال حب میں 2لاشیں اور 13زخمی منتقل کئے گئے ۔ ایدھی فاونڈیشن کے فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ شاہ نورانی سے باقی لاشیں اور زخمی افراد کی منتقلی کے لئے ریسکیو کارراوئیاں جاری ہیں۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہناہے کہ سانحہ نورانی کے زخمیوں میں زیادہ تعدادکراچی کے لوگوں کی ہے۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کے سول اسپتال میں سانحہ نورانی کے زخمیوں کی عیادت کی اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہناتھا کہ اس سانحے کے بعد شاہ عبداللطیف بھٹائی کے عرس کے لیے سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔وزیراعلی سندھ کا کہناتھا کہ کمشنرکراچی کو احکامات جاری کیے ہیں کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے جلداز جلد معلومات اکھٹی کی جا ئیں۔انہوں نے کہا کہ محکموں میں اہم مسئلہ افرادی قوت کا ہے جس کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔وزیراعلی سندھ کا کہنا تھاسول اسپتال میں 42کے قریب زخمی آئے تھے ان میں سے16کو طبی امداد کے بعد فارغ کردیا ہے اور باقی 29افراد میںسے 4سے 5افراد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔مرادعلی شاہ کا کہناتھا کہ 34لاشوں میں سے 32کی شناخت ہوچکی ہے جو قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردی جائیں گی تاہم دو افراد کی شناخت نہیں ہوسکی۔داعش نے شاہ نورانی درگاہ خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ بین الاقوامی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق داعش کی خبر ایجنسی عماق کے مطابق جاری بیان میں داعش نے کہا ہے کہ شاہ نورانی درگاہ کو انہوں نے نشانہ بنایا۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر