وجود

... loading ...

وجود

قصر سفید۔۔۔ اگلا مکین کون؟

اتوار 06 نومبر 2016 قصر سفید۔۔۔ اگلا مکین کون؟

امریکامیں انتخابات لیپ کے سال میں نومبر کے دوسرے منگل کو ہوتے ہیں ،پہلے صدر جارج واشنگٹن تھے
امریکاکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی خاتون امیدوار انتخابی ڈور کے اس آخری مرحلے میں شامل ہے
white-houseقصر سفید دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھنے والوں کا مسکن اس کا اگلا مکین کون ہو گا؟ اس کا فیصلہ 8 نومبر کو ہو گا۔اس وقت بظاہر ہیلری کلنٹن کی پوزیشن مضبوط ہے لیکن 1980 سے ہونے والے انتخابات کے ایگزٹ پول کے نتائج اور انتخابی نتائج عموماً مختلف ہوتے ہیں اور ہیلری کلنٹن کو ایگزٹ پول میں بھی بہت زیادہ واضح برتری حاصل نہیں ہے۔جس وقت تک انتخابات کے نتائج سامنے آئیں گے پاکستان میں 9 نومبر کا سورج غروب ہو رہا ہو گا۔ 9 نومبر بھی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ قصر سفید کے مکینوں کی طرح دنیا پر حکمرانی کی سوچ کے برخلاف اللہ کی زمین پر اللہ کے نازل کردہ نظام کا خواب دیکھنے والے ۔۔ڈاکٹر علامہ اقبال کا یوم پیدائش۔
امریکاکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی خاتون امیدوار انتخابی ڈور کے اس آخری مرحلے میں شامل ہے ۔2008 میں ہیلری کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ کے لیے مقابلے میں حصہ لیا تھا لیکن پارٹی کے ممبران کی اکثریت نے بارک ایچ اوباما کو اس منصب کے لیے نامزد کیا یوں ہیلری کلنٹن صدارتی امیدوار بننے میں کامیاب نہ ہو سکی تھیں اور بارک اوبامہ نے اپنے پہلے ٹرم میں ہیلری کلنٹن کو وزیر خارجہ بنا کر اور پورے 4 سال وزیر خارجہ رکھ کر پارٹی ممبران کو پیغام دے دیا تھا کہ آئندہ صدارتی امیدوار کے لیے ہیلری کلنٹن ہی موزوں امیدوار ہو ں گی۔
ہیلری کلنٹن ،بل کلنٹن کی اہلیہ کے طور پر خاتون اول رہ چکی ہے اب اگر وہ صدر منتخب ہو جاتی ہے تو کیا بل کلنٹن کو مرد اول کہا جائے گا؟
1776 کی جنگ کے بعد امریکامیں موجودہ دستور بنا اور صدارتی طرز حکومت طے ہوئی۔ پہلے صدر جارج واشنگٹن تھے جو 1789-97 تک برسراقتدار رہے۔ امریکامیں انتخابات لیپ کے سال میں نومبر کے دوسرے منگل کو ہوتے ہیں جو کہ 8 سے 14 نومبر کا درمیانی عرصہ ہو سکتا ہے۔ اور اقتدارواختیار کی منتقلی اگلے سال 20 جنوری کو عمل میں آتی ہے، یوں1788 میں پہلے انتخابات ہوئے اور 1789 کی 20 جنوری کو جارج واشنگٹن نے اقتدار سنبھالا اور 2 ٹرم(8 سال) کا عرصہ مکمل کر کے رخصت ہوئے۔1790 میں کانگریس کی منظوری سے 1792 میں قصر سفید(وہائٹ ہاؤس) کی تعمیر کا آغاز ہوا جو کہ تقریباً 12 سال کے عرصہ میں مکمل ہوا۔ جان ایڈمس امریکاکے دوسرے صدر تھے جو 1996 کے انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ جارج واشنگٹن کے نائب تھامس جیفرسن اس مدت صدارت(1792-1801) میں ان کے بھی نائب صدر منتخب ہوئے۔1812-14 کی جنگ کے دوران قصر سفید کو برطانوی فوج نے آگ لگا کر خاک کر دیا تھا جس کی دوبارہ تعمیر کا آغاز جنگ کے خاتمے پر 1817 میں ہو ا اور 1829 میں مکمل ہوئی۔
امریکامیں صدارتی انتخاب جوڑی کا انتخاب ہوتا ہے۔ صدر اصل امیدوار ہوتا ہے اور جو بھی امیدوار کامیاب ہو اس کے ساتھ نامزد نائب صدر ازخود منتخب قرار پاتا ہے۔ جان ایڈمس کو ان کی پارٹی نے دوسری مدت کے لیے ٹکٹ جاری نہیں کیا بلکہ ان کے نائب تھامس جیفرسن پارٹی ٹکٹ کے حق دار قرار پائے اور انتخابات میں کامیاب ہو کر تیسرے امریکی صدر بننے۔ تھامس جیفرسن کے عہد صدارت میں قصر سفید کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی اور اس کو ایوان صدر کا مقام دے دیا گیا تھا ۔یوں تھامس جیفرسن اس عمارت کے پہلے مکین قرار پائے۔
قصر سفید میں کسی بھی صدر کی رہائش کا عرصہ 8 سال پر میحط ہوتا ہے۔ لیکن فرنیکلین ڈی روز ویلٹ (1933-45) 12 سال تک اس کے مکین رہے۔(1940 کے انتخابات دوسری جنگ عظیم کے باعث منعقد نہیں ہو سکے تھے)
اب ہم قصر سفیدکے بابت دلچسپ حقائق بیان کرتے ہیں۔
قصر سفید یوں تو دنیا پر حکومت کرنے کا خواب دیکھنے والوں کا مسکن ہے لیکن اس کے مکینوں کے حال بہت نرالے ہیں ، یہاں صدر جارج واشنگٹن جن کے نام واشنگٹن شہر کا نام ہے 2 مدت تک صدر رہے۔ جارج واشنگٹن واحد امریکی صدر ہیں جن کے مد مقابل کوئی نہ تھا یعنی بلا مقابلہ صدر منتخب ہوئے دوسرے بلا مقابلہ صدر جمیز مونرے ہیں جو کہ پہلی ٹرم میں تو انتخابی عمل کے ذریعہ قصر سفید میں پہنچے(1817-21) لیکن دوسری مدت(1821-25) کے لیے ان کے مد مقابل کوئی امیدوار بھی نہ تھا۔
بارک اوباما امریکاکے 44 ویں صدر ہیں۔ امریکی صدور میں سے 30 کا تعلق فوج سے رہا ہے۔24 صدر، صدارت کے منصب پر فائز ہونے سے قبل اس عرصے میں فوجی ملازمت میں رہے جس عرصہ میں جنگ جاری تھی جبکہ6 صدور نے منصب صدارت پر فائز ہونے سے قبل فوجی ملازمت تو کی لیکن ان کے عرصہ ملازمت کے دوران جنگ نہیں ہوئی ۔23 صدور نے یا تو جنگ کا آغاز کیا یا ان کے دور اقتدار میں جنگ جاری رہی اب تک کے 44 صدور میں سے صرف 14 ایسے ہیں جو صدارت پر فائز ہونے سے قبل کسی بھی طور پر فوج سے وابستہ نہیں رہے۔شاید ہی کوئی ایسا پیشہ ہو گا جس سے وابستہ فرد قصر صدارت میں نہ پہنچا ہو۔
اگر رونالڈ ریگن قبل از صدارت سرکس کے مسخرا ، فلمی اداکار، مرد ماڈل اوربرتن دھونے والے رہے۔ تو لنڈن بی جانسن نے صدارت سے قبل پھیری لگا کر(ہاکرکے طور پر) اشیاء فروخت کی ، جوتے پالش کیے، باغات میں پھل چنے، بعدازاں کانگریس ممبر منتخب ہوئے پھر سینیٹر اور پھر صدر بھی بن گئے۔رونالڈ ریگن صدارت سے قبل 13 مختلف پیشوں سے وابستہ رہے جبکہ لنڈن بی جانسن نے صدارت سے قبل روزی روٹی کمانے کے لیے 16 پیشے اختیار کیے۔رونالڈ ریگن امریکاکے واحد طلاق یافتہ صدر تھے۔
اگر ریاستی بنیادوں پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ صدور کا تعلق ریاست ورجینیاسے رہا ہے، اس ریاست سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔جن میں امریکاکے پہلے 10 صدور میں سے 6 کا تعلق اس ریاست سے تھا۔ ریاست او ہائیو سے تعلق رکھنے والے 7 افراد قصر سفید کے مکین بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ریاست نیویارک اور ریاست متسوبشی سے تعلق رکھنے والے 4-4 افراد اس قصر سفید کے مکین رہے۔ ریاست کیرولینا سے تعلق رکھنے والے 3 افراد امریکی صدر بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جس ریاست میں یہ عظیم الشان عمارت موجود ہے اس ریاست سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص اب تک اس محل کا مکین بننے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔
1789 سے 2012 تک امریکی صدارتی انتخابی معرکے کا اکھاڑا 57 بار سجایا گیا ہے۔جس میں 44 صدور منتخب ہوئے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ عرصہ فرینکلین ڈی روزویلٹ کا ہے جو 12 سال پر محیط ہے جب کہ سب سے کم عرصہ ویلم ہنری ہیری سن کا ہے جو صدر مارٹن وین برن کے نائب تھے۔
امریکاکے انتخابات کا عمل خاصہ پیچیدہ ہے۔ اس میں امیدوار زائد ووٹ لیکر ناکام اور کم ووٹ لیکر کامیاب ہو سکتا ہے۔ انتخابی طریقہ کار کے مطابق امید واروں کو ہر ریاست میں ووٹ ڈالے جاتے ہیں اور ان کی اس حیثیت میں گنتی بھی ہوتی ہے لیکن نتائج کا انحصار اس گنتی پر نہیں ہوتا دراصل عام (پاپولر) ووٹ اہم تو ہیں لیکن الیکٹورل ووٹ ناگریز ہیں۔ امریکی انتخابات میں صدارت کا فیصلہ دراصل الیکٹورل ووٹ کرتے ہیں، یہ الیکٹورل ووٹ ریاستوں میں آبادی کے تناسب سے تقسیم ہیں ۔ان کی کل تعداد 539 ہے اور کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ لینے والا امیدوار کامیاب قرار پاتا ہے۔ اس کو اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک ریاست (الف) جس کے ووٹر کی تعداد 20 لاکھ ہے اس کے الیکٹورل ووٹ کی تعداد 8 ہے اور دوسری ریاست (ب) جس کے ووٹرز کی تعداد 30 لاکھ ہے اور اس کے 12 الیکٹورل ووٹ ہیں۔ اب ریاست (الف) کے 20 لاکھ میں سے15 لاکھ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال اور امیدوار (A) نے ان میں12 لاکھ ووٹ لیکر واضح برتری حاصل کی اور مخالف امیدوار (B)کو صرف 3 لاکھ ووٹ حاصل ہوئے لیکن ریاست (ب) میں کل 30 لاکھ ووٹرز میں سے24 لاکھ نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اورامیدوار (B) یہاں سے ساڑھے 12 لاکھ ووٹ لینے اور امیدار (A) ساڑھے 11 لاکھ ووٹ لینے میں کامیاب رہا اس مجموعی طور پر امیدوار (A) نے دونوں ریاستوں میں ساڑھے23 لاکھ اور امیدوار (B) نے ساڑھے15 لاکھ ووٹ حاصل کیے ہیں یوں امیدوار (A) کو امیدوار(B) پر 8 لاکھ ووٹ کی واضح برتری حاصل ہے۔ لیکن الیکٹورل کالج میں امیدوار (B) امیدوار(A) سے 4 ووٹ آگے ہے امیدوار (A) کے الیکٹورل ووٹ کی تعداد 8 اور امیدوار (B) کے الیکٹورل ووٹ کی تعداد 12 ہے۔ ایسی ہی صورتحال2000 کے انتخابات میں سامنے آئی تھی جب الگور کو جارج بش پر پاپولر ووٹس کی واضح برتری حاصل تھی لیکن الگور نے بڑی برتری سے جارج ڈبلیو بش کو ان ریاستوں میں شکست دی تھی جہاں الیکٹورل ووٹ کی تعداد کم تھی اور جارج ڈبلیو بش کی خوش قسمتی یہ تھی کہ زیادہ الیکٹورل ووٹ کی تعداد والی ریاستوں میں وہ کم برتری کے باوجود کامیاب رہا تھا۔ اور معاملہ سپریم کورٹ تک گیا تھاجہاں الیکٹورل کالج ووٹ کو پاپولر ووٹ پر اہمیت دیتے ہوئے جارج ڈبلیو بش کو صدر قرار دیا گیا۔ امریکی انتخابات کا سب سے حیرت انگیز نتیجہ 1876 کے انتخابات میں سامنے آیا۔ جب امیدواراینڈریوجیکسن نے پاپولر اور الیکٹورل کالج دونوں طرح کے ووٹوں میں برتری حاصل کی لیکن صدارتی محل کاقبضہ راتھ فورڈ کو ملا۔
یوں تو جس صدر نے بھی ایک سے زائد ٹرم قصر سفید میں گزار ے ہیں اس نے دوران صدارت پارٹی تبدیل نہیں کی لیکن امریکاکے 23 اور 24 ویں صدر بنجمن ہیری سن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنا پہلا ٹرم ایک پارٹی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑ کر گزارا اور دوسرا ٹرم مخالف پارٹی کے ٹکٹ پر اس پارٹی کے امیدوار کو شکست دی۔ بنجمن ہیری سن پہلے ٹرم میں ڈیموکریٹ اور دوسری ٹرم میں ری پبلکین پارٹی کے امیدوار تھے۔
6 امریکی صدور ایسے ہیں جنہوں نے پہلے ٹرم میں جس امیدوار کو شکست دی دوسرے ٹرم کے انتخابات کے موقع پر اُسی امیدوار کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے۔جان کیونی نے 1824 کے انتخابات میں اینڈریو جیکسن کو اور 1828 میں اینڈریو جیکسن نے جان کیونی کو شکست دی ۔1836 کے انتخابات میں مارٹن وین برن نے ویلم ہنری ہریسن کو اور1840 میں ویلم ہنری ہریسن نے مارٹن وین برن کو 1888 میں بینجمن ہریسن نے گوروکیلوی لینڈ کو اور1892 میں گوروکیلوی لینڈ نے بینجمن ہریسن کو شکست سے دوچار کیا۔ امریکاکے پہلے صدر جارج واشگٹن اپنے معالج کی غلط تشخیص کے نتیجہ میں موت کا شکار ہوئے۔ ابراہام لنکن، جیمز گار فیلڈ،ویلیم میک کینلی اور جان ایف کینیڈی دوران صدارت قتل ہوئے، اینڈریو جیکسن، ہیری ٹرومین، جیرالڈ فورڈ اور رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ افریقی امریکن صدور میں تھامس جیفرسن،اینڈریو جیکسن، ابراہام لنکن،ورن ہارڈینگ اور ڈی ویٹ ائزن اوور شامل ہیں۔رچرڈ نکسن نے واٹر گیٹ اسکینڈل کے نتیجہ میں استعفیٰ دیا جبکہ اینڈ ریو جانسن اور بل کلنٹن کو احتساب کے نتیجہ میں صدارت سے محروم ہونا پڑا۔اس طرح قصر سفید نے طرح طرح کے سیاسی رنگ ڈھنگ دیکھے ہیں اب ہیلری کلنٹن یا ڈونلڈ ٹرمپ اس قصر کی شان کو کس طرح بڑھاتے یا مٹی میں ملاتے ہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر