وجود

... loading ...

وجود

لانڈھی میں ٹرینوں کا تصادم.. ریلوے خودکار سگنل نظام پر سوالیہ نشان

جمعه 04 نومبر 2016 لانڈھی میں ٹرینوں کا تصادم..  ریلوے خودکار سگنل نظام پر سوالیہ نشان

جاں بحق ہونے والوں میں 5سالہ 2 جڑواں بچیاں سکینہ اور زاراسمیت ایک ہی گھر کے 4افراد بھی شامل ہیں،حادثے میں 11بچے بھی زخمی ہوئے
وزیر ریلوے سعد رفیق نے 10روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دے دیا ،تحقیقات trainsفیڈرل انسپکٹر آف ریلوے کرے گا
کراچی میں لانڈھی کے علاقے قذافی ٹاؤن کے قریب فرید ایکسپریس اور زکریا ایکسپریس آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے باعث 21افرادجاں بحق جبکہ50افراد زخمی ہوگئے، زخمی اور جاں بحق ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے جبکہ زخمیوں اور لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جناح اسپتال انتظامیہ نے خون کے عطیات کی اپیل کی جبکہ زخمیوں کو لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بھی ہسپتال منتقل کیا۔بعد ازاں رینجرز ، پولیس اور پاک فوج کے جوانوں نے بھی امدادی کاموں میں حصہ لیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں ٹرینیں پنجاب سے کراچی آرہی تھیں جبکہ زکریا ایکسپریس نے فرید ایکسپریس کو پیچھے سے ٹکر ماری، حادثے کے نتیجے میں ٹرین کی تین بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں اور ملبہ پٹری کے اطراف بکھرگیا ۔حادثے میں زکریا ایکسپرس کا انجن متاثر ہوا جبکہ فرید ایکسپریس کی 4سے 5بوگیاں شدید متاثر ہوئیں، بوگیوں کو ہٹانے کے لیے کرینوں کی مدد لی گئی اور بوگیوں کو کاٹ کر زخمیوں کو نکالا گیا۔ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ 45زخمیوں کو جناح اسپتال لایا گیا ، جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔جناح اسپتال کے ایم ایل او کے مطابق جناح اسپتال میں 18افراد کی لاشیں لائی گئیں۔عینی شاہدین کے مطابق سانحے کے بعد کافی دیر تک حکومت کی جانب سے کوئی مشینری نہیں بھیجی گئی جبکہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو نکالا گیا۔
زخمیوں کا کہنا ہے کہ حادثہ پیچھے سے آنے والی ٹرین کی زور دار ٹکر کے سبب پیش آیا جس میں بیشتر لوگ سامان اور ملبے میں دبنے سے زخمی ہوئے۔ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر کلیم کے مطابق تاحال 13 لاشیں لواحقین کے حوالے کردیں گئیں ، 2 خواتین کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی۔جاں بحق ہونے والوں میں ایک ہی گھر کے 4افراد شامل ہیں جس میں 5سالہ 2 جڑواں بچیاں سکینہ اور زارا بھی شامل ہیں، دونوں بہنوں کے والدین بھی حادثے میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔بوگی کے ملبے سے ایک بچی کی لاش نکالی گئی ۔حادثے کے زخمیوں میں 11بچے بھی شامل ہیں۔
ایک ریسکیو اہلکار کاکہنا تھا کہ لوگ اپنے گھروں سے اوزار لائے، وقت پر حکومتی نمائندے ایکشن میں آجاتے تو قیمتی جانوں کا ضیاع کم ہوتا۔ریسکیو آپریشن مکمل ہونے تک کراچی سے اندرون ملک جانے والی ٹرینوں کو آمدورفت روک دی گئی ۔ڈی سی او ریلوے ناصر عزیز کا کہنا ہے کہ پہلی ترجیح ریسکیو آپریشن اور ٹریک کی بحالی ہے، حادثے کی وجوہات کا تعین بعد میں کیا جائے گا، کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے ۔پہلی اطلاع پر ہی عملہجائے وقوعہ پر پہنچ گیا تھا ،حادثہ کی وجہ سے متعلق جلد تحقیقات کی جائے گی۔
وزیر اعلی سندھ نے لانڈھی ٹرین حادثے میں جانی نقصان پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے جناح اسپتال کی انتظامیہ کو زخمیوں کا مکمل خیال رکھنے کی ہدایت کردی ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملتان کے بعد لانڈھی کا ٹرین حادثہ بھی سگنل نظرانداز کرنے پرہوا۔ دونوں واقعات میں ایک جیسی غلطی سامنے آگئی ہے جس کے بعد ریلوے خود کار سگنل نظام پر سوالیہ نشان کھڑاہوگیاہے جس نے کنٹرول روم اور ڈرائیور کا رابطہ منقطع کردیا۔خود کارنظام سے قبل ڈرائیور ٹرین رکنے پرکنٹرول روم کو آگاہ کرتاتھاجسکے سبب پیچھے آنیوالی ٹرینوں سے بھی کنٹرول روم سے رابطہ کیاجاتاتھالیکن سگنلزآٹومیٹک ہوئے تو یہ رابطہ بھی ختم ہوگیااورڈرائیورکی ذرا سی لاپروائی خوفناک حادثات کا سبب بننے لگی۔خود کارنظام کے تحت سگنل خراب بھی ہوتو سرخ بتی جل اٹھتی ہے لیکن اس صورت میں بھی زیادہ ذمہ داری ڈرائیور پرہی عائد ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق خودکارسگنل نظام کیساتھ ریلوے انجن میں جدیدڈیوائس کی تنصیب بھی ضروری ہے جو رکاوٹ کی صورت میں انجن کو بند کردیتی ہے- واضح رہے کہ رواں سال ستمبر میں ملتان میں بچھ ریلوے اسٹیشن پر مسافر ٹرین مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی، حادثے میں 5 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے، حادثے کا شکار ٹرین پشاور سے کراچی آرہی تھی۔
ذرائع کے مطابق لانڈھی ٹرین حادثے کی تحقیقات فیڈرل انسپکٹر آف ریلوے کرے گا۔حادثے کی ابتدائی رپورٹ ریلوے ہیڈ کوارٹرز کو موصول ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حادثہ زکریا ایکسپریس کے ڈرائیور کی غلطی سے پیش آیاجس نے سگنل کو نظر انداز کیا۔حادثے کے مقام پر عام طور پر ٹرینیں کھڑی نہیں ہوتیں۔
وزیر اعظم نواز شریف اور صدر ممنون حسین نے ٹرین حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے 10 روز میں سانحے کی تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے جاں بحق افراد کے ورثا کے لیے 15لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے ساڑھے 3لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔خواجہ سعد رفیق حادثے کے باوجود کراچی آنے کے بجائے پاناما کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ چلے گئے۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حادثہ انسانی غفلت کے باعث پیش آیا۔ پیچھے سے آنے والی ٹرین کے ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور نے سنگلز کو نظر انداز کیا جس کے باعث ہولناک حادثہ ہوگیا۔انہوں نے بتایا کہ ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور تاحال لا پتا ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ کمشنر کراچی اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ جب تک آپریشن مکمل نہیں ہوتا میں یہی موجود ہوں، امدادی کارروائی میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جناح اسپتال کراچی میں ٹرین حادثے کے زخمیوں کی عیادت کرتے ہوئے کہا کہ میں سندھ حکومت سے کہوں گا کہ وہ جاں بحق افرادکے لواحقین کو پلاٹ دیں اور زخمیوں کی مالی مدد کریں۔ زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے وزیر ریلوے سعد رفیق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مینڈیٹ کا مطلب یہ نہیں کہ عوام کو جواب نہ دیا جائے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم دہشت گردی اور حادثات پر سیاست نہیں کرتے۔انہوں نے زخمیوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹاف اور ڈاکٹرز زخمیوں کا بہترین علاج کر رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ پیپلز پارٹی 8 سال حکومت میں رہی، اس سے قبل میری والدہ دو بار حکومت میں آئیں، اس سے پہلے میرے نانا بھی وزیر اعظم رہے، ہم نے جو کام کیے وہ سب کے سامنے ہیں لیکن مجھے اعتراف ہے کہ ابھی بھی بہت سے کام باقی ہیں۔


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر