وجود

... loading ...

وجود

ڈیرہ اسماعیل خان . کیا پی ٹی آئی کا زور ٹوٹ رہا ہے ؟

بدھ 26 اکتوبر 2016 ڈیرہ اسماعیل خان . کیا پی ٹی آئی کا زور ٹوٹ رہا ہے ؟

سرکٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی ورکرز کنونشن ہلڑ بازی اور ہنگامہ آرائی کاشکار‘ مقامی سطح پر معاملہ فہم سنجیدہ قیادت کی کمی
آئی ایس ایف ٹائیگرز کااحتجاج،اکرام اللہ گنڈا پور اور داور کنڈی کی عدم شرکت قیادت پر بے اعتمادی کا مظہر ہے
pti-2پی ٹی آئی ڈیرہ اسماعیل خان کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن نما جلسہ عام نے پی ٹی آئی کا ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم رہا سہا بھرم بھی توڑ دیا ہے۔سرکٹ ہاؤس میں منعقدہ پی ٹی آئی کا ورکرز کنونشن ہلڑ بازی اور ہنگامہ آرائی اور بدنظمی کا عملی نمونہ تھا۔سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات بھی ورکرز اور قائدین میں دوری کا سبب بنے۔ سرکٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی کی قیادت نے ورکرز کنونشن کے جوانتظامات کیے تھے اس میں بھی بڑے پیمانے پر نہ صرف جھول بلکہ خامیاں تھیں۔ا سٹیج کی بناوٹ اور سیکورٹی کے انتظامات نے اس اہم جلسہ کی خوبصورتی اور اہمیت کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ بدنظمی اور کارکنوں کی ہنگامہ آرائی سے عام شہریوں نے براتاثر لیا ہے اور یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ مذکورہ جماعت میں مقامی سطح پر کوئی ایسی سنجیدہ قیادت نہیں ہے جو معاملات کو سلجھانے کیلیے کردار ادا کرسکے جبکہ پارٹی کے سینئر اور سنجیدہ اراکین کو ا سٹیج سے دور عام لوگوں میں پایا گیا۔ عمران خان کی ڈیرہ اسماعیل خان آمدکا مقصد 2نومبر کو اسلام آباد میں ہونیوالے میچ میں تماشائیوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانا ہے۔ عمران خان کے ڈیرہ اسماعیل خان اور ملک کے دیگر حصوں میں ہونیوالے جلسے اس بات کے گواہ ہیں کہ عوام کی ایک بڑی تعداد پی ٹی آئی کے جلسوں میں شرکت کرکے ان کی پالیسیوں کی حمایت کرتی نظر آتی ہے۔
یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ مقامی قیادت نے جلسہ گاہ کے مقام اور اس ضمن میں کیے جانیوالے انتظامات کو مناسب انداز میں ترتیب نہیں دیا ۔ اگر یہ جلسہ سرکٹ ہاؤس کے سبزہ زار تک محدود رکھا جاتا تو بھر پور انداز میں عوامی شمولیت کو ظاہر کیا جا سکتا تھا اور پیچھے پڑ ی خالی کرسیاں نہ منتظمین کا منہ چڑاتی نظر آتیں اور نہ ہی ’سرکاری ٹی وی کو پروگرام میں نقب لگانے کا موقع ملتا۔سرکٹ ہاؤس کے وسیع و عریض حصے میں جلسہ کرنا تھا تو اس کیلیے کافی عرق ریزی کی ضرورت تھی لیکن منتظمین نے ایسی کوئی کوشش کی نہیں۔ یہ تو بھلا ہو جنوبی اضلاع ٹانک ‘ لکی مروت‘ بنوں ‘ کرک اور جنوبی وزیرستان کے لوگوں کا کہ انہوں نے شرکت کر کے پی ٹی آئی کے جلسہ کا بھرم رکھ لیا وگرنہ قیادت نے تو اس کو ناکام بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، جلسے میں مقامی لوگوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی ۔ دوسری جانب رہی سہی کسر احتجاج میں آنیوالے آئی ایس ایف کے کارکنوں نے نکال دی۔ جنہوں نے جی پی اوموڑ پر اپنی الگ دکان سجا کر کپتان کے جلسہ کوناکام بنانے میں اہم کردار اداکیا۔ ورکرز کنونشن کو اگر علی امین شوکہا جائے تو بے جانہیں ہوگا کیونکہ اس موقع پر ضلع ناظم عزیز اللہ علی زئی ‘ ایم پی اے سمیع اللہ علی زئی اورایم پی اے احتشام جاوید ایسے تھے جیسے باراتی ’’مہمان‘‘ ہوں، ان تمام احباب کا جلسے میں کسی قسم کا کوئی کنٹری بیوشن دیکھنے میں نہیں آرہا تھا ماسوائے ان کی اپنی موجودگی کے۔ جبکہ اکرام اللہ خان گنڈہ پور صوبائی وزیر زراعت اور این اے 25کے ایم این اے داور کنڈی کی غیر موجودگی کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے یہ دونوں اس جلسے میں شریک ہوئے اور نہ ہی ان کے حامی ۔اورجو ایم پی اے ،ضلع ناظم شریک تھے ان کے حامی اور ووٹرز تو تھے ہی نہیں البتہ ان کے دائیں بائیں پھرنے والے اسٹیج پر ضرور موجود رہے ۔ دوسری جانب قبائلی نوجوانوں نے اس جلسے میں بھرپورشرکت کر کے اس پارٹی پر اپنی حاکمیت ثابت کرنے کی پوری پوری کوشش کی تاہم ڈیرہ شہر میں منعقد ہونیوالے سیاسی جلسوں کی طرح اس جلسے میں بھی مقامی لوگوں نے اپنی روایتی بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا ۔ علی امین گنڈا پور سمیت پی ٹی آئی کے تمام کارکنان خود کو عمران خان تصور کرتے ہیں لیکن یہ بات ہرکوئی جانتا ہے کہ عمران خان ایک طلسماتی شخصیت کے حامل ہیں اور پی ٹی آئی کی اہمیت انہی کی ذات سے وابستہ ہے ۔علی امین سمیت ان کے تمام حامیوں و مخالفین کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ عمران خان کے علاوہ پارٹی میں کوئی دوسرا عمران خان نہیں ہے ،احتجاج کرنے والے کامرانی ہوں یا عمران خان کا استقبال کرنے والے علی امین گنڈا پور، انہیں سولوفلائٹ سے قبل یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ ان کا دم خم صرف پی ٹی آئی کی بدولت ہے ۔
ا سٹیج کی ترتیب اتنی بھونڈی تھی کہ ٹی وی چینل عمران کی آمد سے لیکر ان کی اسٹیج پر موجود گی کو کور کرنے سے قاصر رہے اور تقریر سے قبل جتنی دیر وہ اسٹیج پر موجود رہے ٹی وی چینلزکے کیمروں سے اوجھل رہے ۔عمران خان سے احتجاج کرنے والے کارکنوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ وہ کسی کی پروا کیے بغیر کام کرنے کے عادی ہیں اور صرف چند لوگ ان کے حلقہ نیابت میں ہیں جن میں سے ایک علی امین خان گنڈا پور ہیں، موجودہ صورتحال میں علی امین کیخلاف احتجاج نقار خانے میں طوطی کی آواز کی مانندہے۔عرفان کامرانی جن کی ساری اہمیت پی ٹی آئی کی مرہون منت ہے وہ کسی طور بھی علی امین کی راہ کھوٹی نہیں کر سکتے ۔ان کے گھر میں ان سمیت ضلع و تحصیل کونسل کے چار اراکین ہیں جن میں2پی ٹی آئی کے اور2کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے ہے ۔عمران خان ایک ایسے موڑ پر جہاں ان کی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے وہاں پر وہ علی امین ایسے مخلص ساتھی کے خلاف کسی سخت اقدام سے گریز کریں گے۔ دوسری جانب اسرار گنڈا پور گروپ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی 3سال گزرنے کے باوجود قاتلوں کی گرفتاری نہ ہونے پر بھی احتجاج بھی کیا، یہ دونوں احتجاج پی ٹی آئی کے اندر ونی اختلاف کی کہانی بیان کر رہے تھے ۔یہ بات کسی حد تک طے ہے کہ آئندہ الیکشن میں صوبائی نشستوں پر موجود ایم پی ایز نئی صف بندی میں مصروف ہیں اور بالخصوص سمیع اللہ علیزئی اپنی نشست کو بچانے کے لیے گزشتہ الیکشن کی طرح کسی کو بھی دھوکا دے کر اور کسی کی بھی حمایت حاصل کر نے کیلیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اس وقت صوبے میں درون خانہ اورظاہراً مختلف محاذوں پر پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی صوبائی حکومت کے ساتھ ناراضگی موجود ہے اور اسی طرح پارٹی کے اندر بھی اختلافات سر اٹھا رہے ہیں جو صوبے میں پارٹی کے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ ورکرز کنونشن میں عوام کی عدم دلچسپی یا کم لوگوں کی شرکت نے پارٹی قیادت کے لیے یہ پیغام چھوڑا ہے کہ اگر پارٹی کے اندر ہونیوالے اختلافات کا خاتمہ نہیں کیا جاتا یا محروم اور پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کا ازالہ نہیں جاتا تویہ خلیج مزید وسیع ہوتی ہوئی پارٹی پوزیشن پر اثر انداز ہو گی، جس کا خمیازہ بہر صورت پارٹی کو آئندہ الیکشن میں بھگتنا ہو گا ۔ڈیرہ اسماعیل خا ن میں مولانا صاحبان کی شان بے نیازی کے باوجود ان کے مخالفین کی جوتیوں میں بٹتی دال مولانا کی سیاسی اہمیت و حیثیت کو مہمیز دے رہی ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر