وجود

... loading ...

وجود

مصطفی کمال اور ڈاکٹر عشرت العباد کے ایک دوسرے پر حملے 

منگل 18 اکتوبر 2016 مصطفی کمال اور ڈاکٹر عشرت العباد کے ایک دوسرے پر حملے 

مصطفی کمال نے عشرت العباد کو رشوت العباد اور ڈاکٹر عشرت العباد نے مصطفی کمال کو بائی پولر کا مریض قرار دے دیا

عشرت العباد اور مصطفیٰ کمال کی ایک تصویر ۔ ۔ جب دونوں ہم نوالہ و ہم پیالہ ہوتے تھے

عشرت العباد اور مصطفیٰ کمال کی ایک تصویر ۔ ۔ جب دونوں ہم نوالہ و ہم پیالہ ہوتے تھے

پاک سرزمین  پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو رشوت العباد قرار دیتے ہوئے اُن کے خلاف ایک محاذ کھول دیا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے اُنہیں  صوبے میں تمام خرابیوں کی جڑ قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان سے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے اور انہیں فی الفور گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مصطفیٰ کمال نے  گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ہمارا سرپرست اعلیٰ بننے کی کوشش کی لیکن ہماری جانب سے انکار کے بعد انہوں نے ہمیں سزا دینی شروع کی، ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہماری سیکیورٹی ہٹائی جا رہی ہے اور مختلف طریقوں سے تنگ کیا جا رہا ہے۔ جو اراکین اسمبلی اور لوگ ہمارے پاس آ رہے تھے، عشرت العباد نے انہیں ہمارے پاس آنے سے روکا اور تاجروں کو کہا گیا کہ یہ تو تین مہینے میں ختم ہو جائیں گے۔

مصطفیٰ کمال  نے اپنے خلاف ان کارروائیوں کے لیے ایک حیرت انگیز مثال دیتے ہوئے کہا کہ گورنر سندھ نے لوگوں کو خبردار کیا کہ مصطفیٰ کمال اور ان کی ٹیم پر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے اور جس دن اسٹیبلشمنٹ  کا ہاتھ ہٹے گا تو ان کا حشر بھی بول چینل جیسا ہو گا۔مصطفیٰ کمال نے خبر دار کیا کہ عشرت العباد ایم کیو ایم سے اب بھی رابطے میں ہیں اور الطاف حسین پر سے مقدمات ختم ہونے پر عشرت العباد نے انہیں فون کر کے مبارکباد پیش کی تھی ۔انہوں نے گورنر سندھ کو ‘رشوت العباد’ کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ 14 سالہ گورنری کے دور میں کراچی شہر تباہ ہو گیا اور شہر میں کوئی ایسا شخص نہیں جس نے عشرت العباد کو رشوت نہ دی ہو کیونکہ ان کی ترجیح پیسہ کمانا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب عشرت العباد گورنر بنے تو اس وقت ان کی لندن میں صرف ایک جائیداد تھی جو بینک کے پاس گروی تھی لیکن آج ان کی درجنوں جائیدادیں تو لندن میں ہیں جو انہوں نے اپنے تمام رشتے داروں اور اسٹاف کے نام پر لے رکھی ہیں۔ مصطفیٰ کمال کے مطابق   ڈاکٹر عشرت العباد نے صرف لندن ہی نہیں بلکہ ابوظہبی، کراچی اور کینیڈا میں جہاں جہاں ان کے رشتے دار رہائش پزیر ہیں، ہر کسی کے نام پر جائیدادیں بنا رکھی ہیں اور وہ ڈالروں میں ارب پتی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے اجلاسوں میں سب سے زیادہ شرکت عشرت العباد نے کی، کوئی ایسی میٹنگ یا اجلاس نہیں جس میں وہ شریک نہ ہوئے ہوں چاہے وہ الطاف حسین کا اقبال جرم ہو یا طلاق کا معاملہ، الطاف حسین کے کالے کرتوتوں کے بارے میں ہم سب لوگوں سے زیادہ اگر کسی کو پتہ ہے تو وہ عشرت العباد ہیں۔انہوں نے کہا کہ عشرت العباد مجرم ہے، انھوں نے تیرہ  سالوں میں اس ملک کو نقصان پہنچایا۔ الطاف حسین کو تقویت بخشنے اور آکسیجن فراہم کرنے والی قوت اور اس شہر میں تمام تر خرابیوں کے ذمے دار عشرت العباد ہیں، لہذا انہیں فوراً گرفتار کیا جائے۔

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کی اس سخت گفتگو سے قبل اُن کی جماعت کے ایک رہنما اشفاق منگی کے گھر نامعلوم مسلح افراد فائرنگ کرکے فرار ہوگئےتھے۔ اشفاق منگی کے موقف کے مطابق  سفید گاڑی میں سوار چار ملزمان آئے اور انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی لیکن ان کی جانب سے بھرپور مزاحمت پر ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد مصطفیٰ کمال نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے پاک سرزمین پارٹی کے رہنما اشفاق منگی کے گھر پر فائرنگ کا الزام الطاف حسین پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی بزدل آدمی ہیں اور ان سے توقع بھی کیا رکھی جا سکتی ہے۔مگر اس کے بعد مصطفیٰ کمال نے اپنی توپوں کا رخ گورنر سندھ کی جانب موڑ لیا۔

پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے گورنر سندھ کے خلاف یہ اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا۔ جس پر گورنر سندھ نے جوابی ردِ عمل میں مصطفیٰ کمال کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اُنہیں من گھڑت اور بے بنیاد قراردیا۔ اور مصطفیٰ کمال کو بائی پولر کا مریض قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصطفیٰ کمال انتہائی ذہنی دباؤ اور تناؤکے شکار نظر آتے ہیں اور الزامات کے برعکس عشرت العباد کا کردار سب کے سامنے ہے.


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر