... loading ...

امریکی افواج کی میرین کور کے ایک زیر تربیت مسلمان اہلکار کی موت کے بعد اب 20 افراد کے خلاف مجرمانہ اور انتظامی سطح کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، جن میں ناقابل یقین انکشافات ہو رہے ہیں۔
تحقیق کار مارچ میں ایک 20 سالہ مسلمان تربیتی اہلکار راحیل صدیقی کی موت کے اسباب جان رہے ہیں جو جزیرہ پیرس، جنوبی کیرولینا میں واقع ایک مشہور بھرتی مرکز میں پرسرار انداز میں مارے گئے تھے۔ راحیل تیسری منزل سے نیچے گرنے کے بعد ہلاک ہوئے تھے اور میرینز نے اس واقعے کو خودکشی قرار دیا تھا لیکن امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں اس پورے واقعے کے اسباب کھوج نکالے ہیں اور بتایا ہےکہ فوجی تربیت کار نے راحیل کے منہ پر تھپڑ مارے تھے۔ جس کے بعد دلبرداشتہ راحیل تیسری منزل سے کود گئے۔ نامعلوم میرین عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار لکھتا ہے کہ فوجی تربیت کار نے پاکستانی نژاد راحیل کو “دہشت گرد” بھی کہا تھا۔
میرین کور کے مطابق تحقیق کاروں نے بھرتی ہونے والے اہلکاروں کی تربیت کے لیے وضع شدہ پالیسیوں اور طریقہ ہائے کار سے انحراف پایا ہے۔ جاری کردہ بیان کے مطابق “راحیل صدیقی کی موت کے بعد مختلف سطح پر تحقیقات کی گئی ہیں اور مختلف تربیت کاروں کو معطل بھی کیا گیا ہے۔ اس وقت 30 بھرتی مراکز کے 20 تربیت کار ایسے ہیں جن کے خلاف تحقیقات یا انتظامی کارروائیاں چل رہی ہیں، یا شروع ہونے والی ہیں۔”
میرین کور کے کمانڈنٹ جنرل رابرٹ نیلر نے کہا ہے کہ “میں ان تحقیقات اور اس کے بعد اٹھائے جانے والے ابتدائی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ ہم راحیل صدیقی کی افسوسناک موت پر غمزدہ ہیں اور مستقبل میں دوبارہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔”
اس معاملے کی سماعت آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے لیکن ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ راحیل صدیقی کی موت کا ذمہ دار بننے والا ماضی میں بھی ایک مسلمان اہلکار کے ساتھ بدسلوکی میں ملوث رہا ہے۔ راحیل کی جزیرہ پیرس آمد سے چند ماہ قبل اس تربیت کار نے بغیر کسی غلطی کے ایک مسلمان اہلکار کو ہراساں کیا تھا اور نیند سے جگاتے ہوئے اسے پہلے ڈنڈ پلینے کو کہا۔ پھر سزائیں دینے کے بعد نہانے اور اسی بہتے ہوئے پانی میں منہ کے بل زمین پر لٹینے کو کہا تاکہ اس کے چہرہ اسی پانی میں جائے۔ پھر اسے کپڑے خشک کرنے والی مشین کے اندر بند کردیا اور یہ کہہ کر مشین چلا دی کہ یہ لڑکا 11 ستمبر 2001ء کے حملوں میں ملوث تھا۔ پھر کہا کہ “تم یہاں آئے کیوں ہو؟ جب بھی پہلا موقع ملا تم ہمیں مار گے، تم دہشت گرد ہو نا؟ منصوبہ کیا ہے تمہارا؟ کیا تم دہشت گرد ہو؟” اس واقعے کے بعد تربیت کار کو معطل کردیا گیا تھا لیکن فیصلہ کن تحقیقات نہ ہونے کی وجہ سے وہ بدستور ڈیوٹی پر موجود رہا اور پھر 18 مارچ کو راحیل صدیقی کا واقعہ پیش آیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ تربیت کار اور راحیل صدیقی کے درمیان تکرار ہوئي تھی۔ راحیل گلے کی تکلیف کی وجہ سے طبی امداد چاہ رہے تھے اور تربیت کار نے نہ صرف انکار کیا بلکہ بیرک میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک دوڑ لگانے کی سزا بھی دی۔ راحیل روتے ہوئے فرش پر گر گئے اور بے سدھ پڑے رہے۔ جس پر تربیت کار نے ان کے منہ پر تین تھپڑ لگائے۔ جس پر راحیل کچھ ہوش میں آئے۔ پھر حکم کے مطابق دوڑے اور باہر کی سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے تیسری منزل سے نیچے کود گئے۔ چند گھنٹوں بعد ان کی موت کا اعلان کردیا گیا اور اسے خودکشی قرار دیا گیا۔
اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...
پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...
موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...
عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...
ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...
آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...
بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...
نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...
پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...
55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...
ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...
سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...