... loading ...

مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران میں کمالیہ سے تعلق رکھنے والے منتخب رکن اسمبلی چودھری اسدالرحمان کی وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ نوک جھونک تمام ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث بن چکی ہے۔ اور اِسے مسلم لیگ نون کے اندر پائے جانے والے قیادت کے رویئے کے خلاف ردِ عمل کی ایک حقیقی مثال کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ مسلم لیگ نون کے سربراہ اور وزیراعظم نوازشریف نے نہ صرف مسلم لیگ نون کو اپنے عرصہ اقتدار میں مکمل نظرانداز کیے رکھا بلکہ منتخب ارکان اسمبلی کوبھی توجہ کے قابل نہیں سمجھا۔ جس نے مسلم لیگ نون کے اندر شدید ردعمل پیدا کردیا ہے۔ جس کا وقتاً فوقتاً اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔ مسلم لیگ نون کی قیادت کو تازہ ترین ردِعمل کا سامنا تب کرنا پڑا جب وہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں موجود تھے۔ تقریباً ڈھائی برس بعد مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کے طلب کردہ اجلاس میں اُس وقت عجب وغریب صورتِ حال پیدا ہوگئی جب رکن قومی اسمبلی چوہدری اسد الرحمان اپنی نشست پر کھڑے ہوکر بلند آواز میں بولنا شروع کردیا، ان کا کہنا تھا کہ تین سال سے حلقے کے فنڈز جاری نہیں ہوئے ، وزراء اراکین پارلیمنٹ کو نہ تو انسان سمجھتے ہیں اور نہ ہی کوئی کام کرتے ہیں جب کہ بیورو کریسی بھی انتہائی کرپٹ ہے ، ایسی صورت حال میں ہم حلقے میں کیا منہ دکھائیں گے۔ اس صورت حال میں وزیراعظم نواز شریف نے چوہدری اسد الرحمان کو تشریف رکھنے کی ہدایت کی جس پر اسد الرحمان نے کہا کہ میں کوئی اسکول بوائے نہیں ہوں جو آپ مجھے بیٹھنے کا کہہ رہے ہیں۔اس پر چودھری اسدا لرحمان کو مزید سخت الفاظ میں وزیراعظم نوازشریف نے تشریف رکھنے کو کہا تو اُنہیں ساتھ بیٹھے ہوئے ارکان نے زبردستی بٹھا دیا۔
مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کے اکثر ارکان کو تب شدید حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب وزیراعظم نوازشریف نے اُنہیں ڈھائی برس کے بعد بلائے جانے والے اجلاس میں بھی سننا گوارا نہیں کیا۔ چودھری اسدالرحمان نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے ذرائع ابلاغ سے کہا کہ وزیرا عظم نوازشریف نے دو ڈھائی سو منتخب ارکان اسمبلی اور سینیٹرز کو گفتگو کے لیے 25 منٹ کا وقت دیا۔ اور اُس میں بھی صرف اُنہیں ہی بات کرنے دی گئی جس کے نام نوازشریف نے خود لیے۔ اُنہوں نے پارلیمانی اجلاس کی روداد سناتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم نے اجلاس میں گھنٹہ سواگھنٹہ خود بات کی یا اُن کی ٹیم کے اُن لوگوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے پریزنٹیشن دی جنہیں وہ جانتے تک نہیں۔ وزیراعظم نے ابتدا میں اپنی بیماری کا ذکر کیا اور کہا کہ مجھے اس کے بعد انفیکشن ہو گیا تھا۔ جو اب اسی فیصد ٹھیک ہو چکا ہے اور باقی بیس فیصد آپ سے مل کر ٹھیک ہو گیا۔ چودھری اسد الرحمان نے اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف کو کہا کہ اگر آپ ہم سے ملتے رہیں تو انفیکشن ہی نہ ہو۔ وزیرا عظم کی جانب سے اُن کی ٹیم کے کسی فرد نے جب حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے جب یہ کہا کہ اُنہوں نے تمام ایم این ایز کو ایک پرفورما دیا تھا تاکہ اُن کے حلقے کے مسائل جانے جاسکیں۔ ابھی اُنہوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ چودھری اسدالرحمان نے کھڑے ہو کر اُن سے پوچھا کہ آپ نے کتنے اراکین کو پرفورما دیئے تھے۔ کیونکہ اُنہیں تو ابھی تک کوئی پرفورما نہیں ملا۔ جس پر اُنہیں وزیراعظم نوازشریف نے بیٹھنے کو کہا۔ چودھری اسد الرحمان نے اس پر کہا کہ وہ کوئی اسکول بوائے نہیں جنہیں بیٹھنے کے لیے کہا جارہا ہے۔ چودھری اسد الرحمان کو وزیراعظم کے دوبارہ سخت لہجے میں بیٹھنے کے الفاظ پراُنہیں ساتھی ارکین نے زبردستی اُن کی نشست پر بٹھا تو دیا مگر اُس کے باوجود وہ بیٹھ کر بھی بڑبڑاتے رہے۔
وزیراعظم سے سخت لہجے میں بات کرنے والے چودھری اسدالرحمان سپریم کورٹ کے سابق جج خلیل الرحمان رمدے کے بھائی ہیں۔ اس سے قبل مئی 2016 میں اُن کی قومی اسمبلی کی رکنیت کو اسپیکر ایاز صادق نے اُس وقت معطل کردیا تھا جب اُنہوں نے ایڈیشنل سیکریٹری قومی اسمبلی شگفتہ جمانی کے ساتھ ناپسندیدہ رویہ اختیار کیا تھا۔

چودھری اسد الرحمٰن
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...