... loading ...

اگر چہ یہ معمول کی صورتِ حال ہے جسے ذرائع ابلاغ میں شریف خاندان کے خدمت گار غیر معمولی بنا کر پیش کرر ہے ہیں۔بینروں کے ذریعے مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا طریقہ اب کوئی نیا نہیں رہا۔ اور اس کے پیچھے کارفرما عناصر کی پشت پناہ قوتوں سے بھی پاکستان کے فعال طبقات بخوبی آگاہ ہیں۔ عام طور پر اِن بینرز کو پڑھ کر لوگ باگ ذومعنی مسکراہٹ کے سا تھ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔
پنجاب کی ایک سیاسی تنظیم “مووآن” نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصاویر والے بینرز ملک کے تیرہ شہروں کی شاہراہوں پر گزشتہ دنوں آویزاں کردیئےہیں، جن کی عبارتوں میں فوجی سربراہ سے کچھ معنی خیز مطالبات کیے جارہے ہیں۔مذکورہ تنظیم کی جانب سے جن شہروں میں جنرل راحیل شریف کی تصویر سے آراستہ بینرز آویزاں کیے گیے ہیں ، اُن میں لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، فیصل آباد، سرگودھا اور حیدرآباد شامل ہیں۔ مذکورہ بینرز پر جو عبارتیں تحریرکی گئی ہیں اُن میں سب سے زیادہ زیربحث عبارت میں یہ کہا گیا ہے کہ
“جانے کی باتیں ۔۔۔۔۔۔ہوئیں پرانی، خدا کے لیے! اب آجاؤ۔۔۔۔”
بینر پر لکھی اس عمومی عبارت کا ایک خاص مفہوم ہے۔ دراصل جنرل راحیل شریف کی طرف سے 25 جنوری کو اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اُن کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آئی ایس پی آر کے ٹوئٹر ہینڈل کو حرکت دیتے ہوئے یہ پیغام دیا تھا کہ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ مقررہ وقت پر ریٹائرڈ ہوجاؤں گامدت ملازمت میں توسیع پر یقین نہیں رکھتا، پاکستان کا مفاد سب سے اہم ہے پاکستانی فوج ایک عظیم ادارہ ہے جس کا ایک باقاعدہ نظام ہے اور اسی نظام کے تحت چلوں گا۔پاکستان کا قومی مفادسب سے اہم ہے اور اس کی ہر قیمت پر حفاظت کریں گے۔ دہشتگردی کے خاتمے کا سلسلہ بھرپور عزم کے ساتھ جاری رہے گا اور آئندہ آنے والا فوجی سربراہ اسی عزم کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھائے گا۔ ” آئی ایس پی آر کی جانب سے اس اعلان کے باوجود مووآن نامی اسی تنظیم کی جانب سے فوراً ہی یہ بینرز آویزاں کردیئے گیے تھے کہ
“جانے کی باتیں جانے دو۔”
ظاہر ہے کہ اب منظر عام پر آنے والے تازہ بینرز کی یہ عبارت اسی پس منظر کو اُجاگر کرتی ہے ، جس میں یہ تحریر جگمگا رہی ہے کہ “جانے کی باتیں ۔۔ ہوئیں پرانی” ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ” مووآن ” نامی تنظیم کے ماہ جنوری میں آویزاں کیے گیے بینرز پر مسلم لیگ نون کا دستر خوانی قبیلہ کہاں سویاہوا تھا؟ تب اُنہیں آئین کی دفعہ 6 کے اطلاق کا خیال کہیں سے بھی کیوں نہیں آیا؟اب اچانک یہ پورا قبیلہ حرکت میں کیوں آگیا ہے اور کیوں اس امر پر زور دے رہا ہے کہ یہ مارشل لاء لگانے کی دعوت ہے اور اس پر آئین کی دفعہ چھ کا فوری اطلاق کیا جانا چاہیئے۔یوں لگتا ہے کہ شاہ سے بڑھ کر شاہ کے ان وفاداروں نے ایک مرتبہ پھر نوازشریف کو اُن خاص حالات کی طرف دھکیلنا شروع کردیا ہے جس کے آگے گلی بند ملتی ہے۔جرنیلوں میں موجود ترک خون کو وزیراعظم نوازشریف کی ہٹ دھرمی کی نفسیات کے ذریعے جوش دینے کا یہ بندوبست ایک خاص طرح کا ماحول پیدا کررہا ہے۔ اگر چہ دستر خوانی قبیلہ تو اپنی پرانی نفسیات کے تحت “نمک حلالی” کا تاثر دے رہا ہے۔ مگر عملاً یہ سیاست کو جنگ زدہ بنانے کی تحریک بنتا جارہا ہے۔
یہ بات اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت رواں سال نومبر میں ختم ہورہی ہے۔ اور ملک میں سیاست دانوں کی طرف سے اُنہی ایک باوقار اور کامیاب جنرل کے علاوہ ایسے الفاظ سے یاد کیا جارہا ہے جو اس سے پہلے کسی جرنیل کے حصے میں نہیں آئے۔ مگر کون نہیں جانتا کہ یہ ساری باتیں دراصل جنرل راحیل شریف کو رخصت کرنے کی سیاسی تدبیریں ہیں ۔ عملاً جنرل راحیل شریف نے اب تک جو محاذ بھی کھولے ہیں ، اُن کا اگر دیانت داری سے تجزیہ کیا جائے تو کوئی ایک بھی محاذ مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوا۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ اپنے وقت پررخصت ہوجاتے ہیں تو وہ اپنے پیش رو کوایک نامکمل ایجنڈا دے کر رخصت ہوں گے۔ جس کی تکمیل کے امکانات کا تعین نئے فوجی سربراہ کی اپنی افتادِطبع اور رجحانات پر منحصر ہوگا۔ اس تناظر میں جب سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو جنرل راحیل شریف کو ایک عظیم جرنیل کے طور پر یاد کرتے ہوئے اُنہیں چاپلوسوں سے خبردار رہنے کی بات کرتے ہیں ۔ تو وہ بھی عملاً چاپلوسی کے ذریعے ہی اُنہیں رخصتی کا راستہ دکھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس ضمن میں اُنہیں بینرز کی عبارتوں سے روکنے والے اور اُنہیں عظیم جرنیل کہہ کر رخصت کرنے والے دراصل دونوں ہی چاپلوسی کی راہ پر اپنے اپنے مقاصد کے تحت گامزن ہیں۔ کچھ یہی ماجرا مسلم لیگ نون کے رہین منت تجزیہ کاروں اور اینکرز کا بھی ہیں ۔ جو غیر معمولی طور پرایک ایجنڈے کے ساتھ ایک ہی دن مختلف پروگرامات کے ذریعے میدان میں کودے ہیں، اور کچھ مخصوص ٹیلی ویژن کے پروگرامات سے اس ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں جو رائیونڈ کی راج دھانی کو مضبوط کرنے سے عبارت ہے۔
مسلم لیگ نون کے دستر خوان پر کبھی نہ ختم ہونے والی بھوک کے ساتھ ازلی بھکاریوں کی نفسیات کے ساتھ براجمان ان تجزیہ کاروں کو ابھی یہ اندازا ہی نہیں ہوسکا ہے کہ وہ اس ایجنڈے کے ذریعے جنرل راحیل شریف کی رخصتی کے ارادے کو زیادہ متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جو زیادہ خطرناک ردِ عمل کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ چاپلوسی سے کسی جرنیل کو اقتدار پر قبضے کی تحریک دینا اور کسی طاقت ور کو رخصت کرانے کے لیے غصے کا ماحول پیدا کرنے میں زیادہ خطرناک موقع دراصل موخر الذکر گروپ دیتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو مسلم لیگ نون کا دستر خوانی قبیلہ زیادہ یکسوئی سے وہ کام کررہا ہے جو دراصل “مووآن” نامی تنظیم کے بینرز کا مقصد ہے۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...