... loading ...

پی آئی اے ملازمین کے قتل کی تحقیقات میں رینجرز کی جانب سے جس شخص کو پراسرار قرار دے کر شک ظاہر کیا گیا تھا ، وہ شک مکمل غلط نکلا۔ 2 فروری کو پی آئی اے ملازمین پر فائرنگ کے معاملے میں رینجرز کی جانب سے مشکوک قرار دیا شخص منظر عام پر آگیا ہے۔ چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی سہیل بلوچ نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ پر واضح کیا کہ رینجرز کی فوٹیج میں ظاہر کردہ مشکوک شخص خودپی آئی اے کا ملازم میر واثق علی ہے۔ اور اُس کا تعلق پی آئی اے کے فائر ڈیپارٹمنٹ سے ہے۔ سہیل بلوچ کے مطابق میر واثق علی نے آنسو گیس سے بچنے کے لئے نقاب اوڑھ رکھا تھا۔ اور وہ یہ حقیقت اس لئے سامنے لارہے ہیں تاکہ اس واقعے میں ملوث اصل کرداروں کو سامنے لایا جا سکے۔
کراچی میں پی آئی اے ملازمین کےکراچی میں احتجاج کے دوران فائرنگ سے دوافراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ جس کے بعد ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ایک رینجرز اہلکار کے ہاتھوں میں پستول دیکھی جاسکتی تھی۔ تاہم رینجرز کا مذکورہ اہلکار ویڈیو فوٹیج میں فائرنگ کرتے ہوئے کہیں پر بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ مگر اس ویڈیو کو اس طرح پیش کیا گیا جس سے تاثر یہ ملا کہ فائرنگ کا واقعہ دراصل رینجرز کی بدولت پیش آیا۔ دوسری طرف اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے رینجرز نے ایک دوسری ویڈیو فوٹیج جاری کی جس میں ایک شخص نقاب اوڑھے ہوئے دکھائی دیتا تھا، مگر اس فوٹیج میں بھی کہیں پر بھی نقاب پوش کے ہاتھوں میں نہ تو کوئی ہتھیار نظر آتا ہے اور نہ ہی وہ کوئی ایسی سرگرمی میں ملوث نظر آتا ہے۔ مگر رینجرز کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج کا بھی تاثر یہی بنا کہ گویا نقاب پوش شخص ہی فائرنگ کا ذمہ دار ہے۔ اطلاعا ت کے مطابق ویڈیو فوٹیج کے جاری ہوتے ہی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ مذکورہ ویڈیو میں جو شخص مشکوک قرار دیا جارہا ہے ، وہ ہرگز مشکوک نہیں۔ چنانچہ اگلے روز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک نمائندہ وفد نے رینجرز حکام سے مل کر اس کی وضاحت کردی تھی۔ مگر مذکورہ ویڈیو کے ذریعے ذرائع ابلاغ پر مستقل شکوک کا اظہار کیا جاتا رہا۔ جس کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے یہ ضروری سمجھا کہ ویڈیو سے متعلق حقائق کو سامنے لانا ضروری ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے نقاب پوش پی آئی اے کے ملازم کو سامنے لانے کے بعد اب یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ رینجرز نے محض نقاب اوڑھے ہونے کی وجہ سے اس شخص کو مشکوک قرار کیوں دیا؟ اور بعض بنیادی حقائق کو سامنے کیوں نہیں رکھاکہ نقاب پوش شخص کے پاس کسی قسم کا ہتھیار موجود ہی نہیں تھا؟ پھر جائے وقوعہ پر سے گولیوں کے خول تو ملے تھے مگر ہتھیار نہیں ۔ اس لئے گولی چلانے والا شخص وہی ہو سکتا ہے جس کے پاس ہتھیار بعد میں بھی موجود رہا ہو۔ رینجرز نے اس ویڈیو میں مشکوک قرار دینے والے شخص کے حوالے سے ایک اور بنیادی بات بھی نظر انداز کی کہ جائے وقوعہ دراصل احتجاجی ملازمین کے لئے ایک احتجاج کی جگہ تھی ،جہاں آنسو گیس کے گولے پھینکے گیے تھے، اس لئے کسی بھی شخص کی جانب سے نقاب اوڑھا جانا عین منطقی تھا۔ ان سامنے کی حقیقتوں کے باوجود رینجرز کی جانب سے اُسی شخص کو مشکوک قراردینے کی کچھ ٹھوس وجوہات ہونی چاہئے تھیں، جو کہیں پر بھی نظر نہیں آئی۔
پی آئی اے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے اب رینجرز کے ظاہر کردہ مشکوک شخص کے سامنے آنے کے بعد رینجرز کی ساکھ کے لئے اب ملازمین کے جاں بحق ہونے کے معاملے کی تحقیق اب ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...