وجود

... loading ...

وجود

رہائی کے بعد پھر گرفتاری :معروف حریت رہنما مسرت عالم بٹ کو زیر حراست شہید کرنے کا خدشہ

جمعه 01 جنوری 2016 رہائی کے بعد پھر گرفتاری :معروف حریت رہنما مسرت عالم بٹ کو زیر حراست شہید کرنے کا خدشہ

MA

عدالت عالیہ کی طرف سے رہائی کے احکامات پانے کے فوراً بعد پولیس نے ایک مرتبہ پھر سینئر حریت لیڈر اورمسلم لیگ چیئر مین مسرت عالم بٹ کودوبارہ گرفتار کرلیا ہے۔ انہیں منگل کی شام کو کورٹ بلوال جیل جموں کے احاطے سے ہی دوبارہ گرفتارکرلیاگیا جہاں وہ مقید تھے۔یاد رہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران یہ دوسرا موقع ہے جب عدالت کی طرف سے ان پر عائد پبلک سیفٹی ایکٹ کالعدم قرار دئے جانے کے تناظر میں انہیں رہائی کے بعد پھر سے حراست میں لیا گیا۔مسرت عالم کو2010کے ایجی ٹیشن کے دوران کلیدی رول ادا کرنے کے الزام میں چار ماہ کی روپوشی کے بعد پولیس کے ا سپیشل آپریشن گروپ نے گرفتارکرلیا تھا۔

مسرت عالم1971ء کو زیندار محلہ سری نگر میں پیدا ہوئے۔سری نگر کے معروف علمی ادارے ٹینڈلل بسکو سکول سے بارہویں جماعت کا امتحان پاس کرکے ایس پی کالج سرینگر سے سائنس مضامین میں گریجویشن کیا۔ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے مسرت عالم نے 1987میں مسلم متحدہ محاذ کے قیام کے دوران اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور اس دوران میں عوامی ریلیوں میں بھرپور شرکت کی۔1987انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہونے کے بعد وہ 1990 میں عسکری تحریک کا بھی حصہ بنے۔مسرت عالم گزشتہ 25برسوں کے دوران تقریباََ 14 سال تک پابند سلاسل رہے۔ان کی سربراہی میں حریت پسندتنظیم جموں و کشمیر مسلم لیگ ،سید علی گیلانی کی قیادت والی آل پارٹیز حریت کا نفرنس کا حصہ ہے ۔وہ جموں و کشمیر کے جوانوں میں کا فی مقبول ہیں،سید علی گیلانی کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں ۔ 2007ء میں سید علی گیلانی نے تحریک حریت کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی اور جموں و کشمیر مسلم کا فرنس کے غلام نبی سمجھی کے ساتھ ساتھ مسرت عالم کو بھی اپنا جا نشین قرار دیا۔

سید علی گیلانی نے مسرت عالم بٹ پر 31ویں بار پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کرنے کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات بھارت کے جمہوری دعوے کے لیے باعث شرم اور قابل مذمت ہے کہ بھارتی حکمران ایک شخص کےخلاف برسرِ پیکار ہیں۔

مسرت عالم کی عدالت عالیہ سے رہائی اور ریاستی سرکار کی طرف سے پھر گرفتاری کے خلا ف مذمت کا سلسلہ جاری ہے ۔سید علی گیلانی نے مسرت عالم بٹ پر 31ویں بار پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کرنے کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات بھارت کے جمہوری دعوے کے لیے باعث شرم اور قابل مذمت ہے کہ بھارتی حکمران ایک شخص کے خلاف برسرِ پیکار ہیں اور ان کو مسلسل سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے،سید علی گیلانی نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ انہیں زیر حرست شہید بھی کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کو انسانی حقوق کے عالمی اداروں خاص کر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک ’’غیر قانونی قانون‘‘ قرار دیا ہے اور اس کے اطلاق کو انسانی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیا ہے، البتہ جموں کشمیر میں اس کا مسلسل اور بے دریغ اطلاق آج بھی جاری ہے اور صرف 2015 کے سال میں 82شہریوں کو اس کالے قانون کے تحت پابند سلاسل بنایا گیا ہے۔ حریت چیئرمین نے انسانی حقوق کے لیے سرگرم مقامی اور عالمی اداروں سے پرزور اپیل کی کہ وہ مسرت عالم بٹ کو بار بار پی ایس اے کے تحت نظربند رکھنے کی غیر قانونی کارروائی کا سنجیدہ نوٹس لیں اور ان کے تحفظ اور فوری رہائی کے لیے اپنے اثرورسوخ کو استعمال میں لائیں۔ جموں و کشمیر فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے مسرت عالم بٹ کی مسلسل گرفتاری پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقامی عدالتوں سے رہائی کے احکامات کے باوجود ان پر بار بار پی ایس اے کا اطلاق اس بات کا غماز ہے کہ ریاست میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ قانون کی عملداری سے ناواقف حکام کی خواہشات ہی کا چلن اور رواج ہے۔ انہوں نے عدالت کی جانب سے مسرت عالم پر عائد سیفٹی ایکٹ کالعدم کرنے کے باوجود ،ان کی دوبارہ گرفتاری کو لاقانونیت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے انصاف پسند حلقوں کو اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ کس طرح جموں کشمیر کے حدود میں قانون و انصاف کو روندتے ہوئے افراد کی آزادی پر قدغن لگائی جارہی ہیں۔ہم ان کی مسلسل نظر بندی کے سلسلے میں قانونی ماہرین سے صلاح مشورہ کرکے آئندہ کی کارروائی کے بارے میں اقدامات اٹھائیں گے۔جماعت اسلامی نے کے ترجمان زاہد علی نے مسرت عالم کی غیر قانونی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خیالات کے اظہار کی آزادی، بنیادی جمہوری اقدار اور اصولوں میں شامل ہے جس کے بغیر جمہوریت کا تصور ہی محال ہے مگر ہمارے اس بدقسمت خطے میں مقہور اور مجبور عوام کو اپنی رائے کے اظہار کی بھی اجازت نہیں ہے اور ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنا ایک بڑا جرم مانا جاتا ہے۔ یہاں کے عوام 1947سے ہی ظلم و جبر اور سرکاری بربریت کے شکار ہیں اور اُن کے بنیادی حقوق کو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ پامال کیا جاتا ہے۔ سچ بات کہنے والے کے لیے ایسے سیاہ قوانین وضع کیے گئے ہیں کہ سالہاسال تک اُس کو پس زنداں رکھنے کا جواز پیدا کیا گیا ہے۔ مسرت عالم پر اکیتیسواں حکمِ نظر بندی عائد کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ عدالتی احکامات کو ردی کاغذ سمجھ کر ٹوکری کی نذرکیا جاتا ہے۔حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کو نسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے اپنے بیان میں کہا کہ معروف حریت رہنما ،مسرت عالم بٹ کی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتاری ،کوئی انہونی بات نہیں تاہم اس سے حکمرانوں ،اور بھارتی عدلیہ کی اوقات سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ جموں و کشمیر میں اصل حکمرانی فوج اور انٹیلی جنس کے ہاتھوں میں ہے ،با قی سب فسانہ ہے ۔جہاد کونسل کے سربراہ نے واضح کیا کہ مسرت عالم پر اب تک 30مرتبہ سیفٹی ایکٹ لگ چکا ہے ،لیکن ان کے عزم و حوصلے میں نہ تب کمی آئی نہ اب آئیگی ۔گرفتاریاں ،شہادتیں اس تحریک کو کا میابی سے ہمکنار کرنے کا ذریعہ ہیں ،ان شا ء اﷲ یہ تحریک ضرور منزل پر پہنچے گی۔دختران ملت جموں و کشمیرنے معروف مزاحمتی قائد مسرت عالم بٹ کی مسلسل حراست کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ اور اسکی فورسز نے خود اپنی عدلیہ کا مذاق بنایا ہے۔ بھارتی ایجنسیاں جموں کشمیر کی مزاحمتی قیادت کو ہراساں کرکے انکی آواز کو دبانے کی سازشیں کر رہی ہیں۔ دختران ملت کی ترجمان نے کہاکہ باوجود اسکے کہ عدالت نے مسلم لیگ کے چیرمین مسرت عالم بٹ کو پھر سے رہا کردیا ہے انہیں مسلسل حراست میں رکھا گیا ہے اور ان پر ایک بار پھر فرضی الزامات کے تحت کالے قوانین نافذ کئے جارہے ہیں۔دختران ملت کی ترجمان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ انہیں مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری لا قانونیت کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیئے۔ جموں کشمیر مسلم لیگ کے چیئرمین خان سوپوری نے مسلم لیگ کے محبوس چیئرمین مسرت عالم بٹ کی جیل احاطے میں دوبارہ گرفتا ری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کی مانگ کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے حربوں سے بھارت جموں و کشمیر کی مبنی برحق جد وجہد کو کمزور نہیں کر سکتا ہے بلکہ اس سے تحریک آزادی کو مزید تقویت ملے گی ۔


متعلقہ خبریں


مزاحمت اب بھرپور ہوگی ،سہیل آفریدی کا جمعہ کو احتجاج کا اعلان، وفاق کو سخت وارننگ وجود - جمعرات 21 مئی 2026

اپنے تمام ایم پی ایز کو ہر شہر میں احتجاج کی ہدایت کرتا ہوں، ہمارا رویہ آنے والے منگل کو مزید سخت ہوگا، پورا پاکستان دیکھے گا پی ٹی آئی ایک مٹھی ہو کر میدان میں نکل رہی ہے،وزیراعلیٰ پولیس نے اسلام آباد میں منتخب نمائندوں کو روکنے کیلئے فائرنگ کی،وقت نے ثابت کر دیا سائفر معامل...

مزاحمت اب بھرپور ہوگی ،سہیل آفریدی کا جمعہ کو احتجاج کا اعلان، وفاق کو سخت وارننگ

عمران خان کے مقدمات عید بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی وجود - جمعرات 21 مئی 2026

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے متعلقہ افسران کو بلا کر ہدایات دے دیں مجھے یقین دلایا ہے کہ مقدمات عید کے بعد لگ جائیں گے، سلمان اکرم راجا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عمران خان کے مقدمات عید کے بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلم...

عمران خان کے مقدمات عید بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی

انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف وجود - جمعرات 21 مئی 2026

نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای اوز، پارٹی بوائز، سیاستدان، بیوروکریٹ شامل ہیں شوبز کی بیشتر شخصیات کے نام، نمبرز اور گھر کے پتے حاصل کرلیے گئے ہیں ،ذرائع قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں۔نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای ا...

انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

وزیراعظم کی ایم کیو ایم کوبجٹ میں ترقیاتی پیکیج پر غور کی یقین دہانی وجود - جمعرات 21 مئی 2026

متحدہ قومی موومنٹ قیادت کی شہباز شریف سے ملاقات ،کسی بھی آئینی ترمیم پر بات نہیں ہوئی،ذرائع آئندہ بجٹ میں ٹیکس ریلیف پر بات کی،کراچی پیکیج اور کے فور پر گفتگو کی، اندرونی کہانی سامنے آگئیں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ...

وزیراعظم کی ایم کیو ایم کوبجٹ میں ترقیاتی پیکیج پر غور کی یقین دہانی

پاکستان کی ترقی کو دہشت گردی سے نہیں روکاجاسکتا، فیلڈ مارشل وجود - بدھ 20 مئی 2026

پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی پیشرفت روکنے کی کوششیں ناکام ہوں گی، عوام کی ثابت قدم حمایت سے مسلح افواج دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں بلوچستان میں امن و استحکام اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کیلئے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور پیشہ و...

پاکستان کی ترقی کو دہشت گردی سے نہیں روکاجاسکتا، فیلڈ مارشل

انمول پنکی کو عدالت میں پروٹوکول دینے والے افسران پر شکنجہ سخت وجود - بدھ 20 مئی 2026

انکوائری کے دوران عدالت میںپیشی کے وقت پنکی کو موبائل فون دینے کا انکشاف سیکیورٹی میں کئی خامیاں سامنے آئیں ، ملزمہ کو غیر معمولی سہولتیں فراہم کی گئیں،رپورٹ کوکین گینگ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پہلی پیشی کے دوران غیر معمولی پروٹوکول دیئے جانے کے معاملے پر کراچی پ...

انمول پنکی کو عدالت میں پروٹوکول دینے والے افسران پر شکنجہ سخت

ہماری خودمختاری کے نگہبان اپنے محافظوں پر فخر، وزیراعظم وجود - بدھ 20 مئی 2026

نظم و ضبط، قیادت اور پیشہ ورانہ تربیت کی درخشاں روایات کا امین ہے،شہباز شریف ایران، امریکا جنگ نے خطے کو غیریقینی صورتحال، معاشی چیلنجز سے دوچار کر دیا،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے محافظوں پر فخر ہے، جو ہماری خودمختاری کے نگہبان ہیں۔کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئ...

ہماری خودمختاری کے نگہبان اپنے محافظوں پر فخر، وزیراعظم

شمالی وزیرستان میں آپریشن، 22 دہشت گرد مارے گئے وجود - بدھ 20 مئی 2026

سکیورٹی فورسز کا خورج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ضلع شیوا میں کامیاب کارروائی انڈین ا سپانسرڈشرپسندوں سے فائرنگ کا تبادلہ، اسلحہ ، گولہ بارود برآمد،آئی ایس پی آر سکیورٹی فورسز کے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 22 خوارج جہنم واصل ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئ...

شمالی وزیرستان میں آپریشن، 22 دہشت گرد مارے گئے

ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے وجود - منگل 19 مئی 2026

امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...

ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ وجود - منگل 19 مئی 2026

عالمی حالات کو جواز بناکر مہنگائی، عام آدمی 2 وقت کی روٹی سے محروم ہوگیا، سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،22 مئی کو ملکگیرمہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک شروعہوگی حکمران امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے،مسلح گروہ فوجی...

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ

انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا وجود - منگل 19 مئی 2026

تفتیشی افسر پر تشدد، دھمکیوں اور زبردستی مخصوص افراد کے نام لینے کیلئے دبائو ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے میڈیا نمائندوں کے کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی ،صحافیوں کو دھکیل کر ملزمہ کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش منشیات اور قتل کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے...

انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا،100 سے زائد رضاکار گرفتار وجود - منگل 19 مئی 2026

فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل، غزہ کو امداد پہنچانے کا ایک پرامن مشن ہے اسرائیلی فورسز نے گرفتارکرلیا،وطن واپس لانا پاکستان کی ذمے داری ہے،سعدایدھی غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی مشن میں شامل پاکستان کے سماجی کارکن سعد ایدھی سمیت متعدد بین الاقوامی کارکنوں کو اسرائ...

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا،100 سے زائد رضاکار گرفتار

مضامین
خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں! وجود جمعرات 21 مئی 2026
خاموش لوگ اندر ہی اند مر جاتے ہیں!

اِسے دانش کہیں یاحماقت ؟ وجود جمعرات 21 مئی 2026
اِسے دانش کہیں یاحماقت ؟

کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار وجود جمعرات 21 مئی 2026
کشمیری رہنماجھوٹے مقدمات میں گرفتار

ایک زندگی اورچاہیے !! وجود جمعرات 21 مئی 2026
ایک زندگی اورچاہیے !!

پاکستان میں آلودگی کے مسائل اور ہماری ذمہ داری وجود بدھ 20 مئی 2026
پاکستان میں آلودگی کے مسائل اور ہماری ذمہ داری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر