وجود

... loading ...

وجود

شام تنازع، ایران پاکستان سے شیعہ جنگجو بھرتی کرنے لگا

هفته 12 دسمبر 2015 شام تنازع، ایران پاکستان سے شیعہ جنگجو بھرتی کرنے لگا

Pakistani-Shiites-fighers-in-Syria

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی ویب سائٹ شام میں مارے جانے والے جنگجوؤں کو سالوں سے خراج عقیدت پیش کرتی آ رہی ہے لیکن گزشتہ ماہ دمشق میں ایک مزار کی حفاظت کرتے ہوئے جان دینے والے دو افراد ان تمام “شہدا” سے مختلف تھے، وہ پاکستانی تھے۔

پاکستان کے معروف ترین ابلاغی گروپ جنگ کے انگریزی اخبار ‘دی نیوز’ کے مطابق یہ دونوں افراد شام میں برسر پیکار پاکستانی شیعہ جنگجوؤں کے یونٹ زینبیون کا حصہ تھے۔ یہ گروپ شام میں ایران کی بھرتی مہم کا تازہ ترین حصہ ہے اور رواں سال اس یونٹ کے “شہدا” کی تعداد میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ شام کے تنازع میں کہیں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

دی نیوز کے مطابق نومبر کے وسط میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں گروپ کے نام کے ساتھ 53 تصاویر جاری کی گئی تھیں، جو اس جنگ میں لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کی کتنی بڑی تعداد اس وقت شام میں موجود ہے جو اس عالمی تنازع میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ گو کہ اب تک مارے گئے کل افراد کی تعداد کا کوئی باضابطہ اعلان موجود نہيں لیکن مقامی ذرائع کہتے ہیں کہ شام میں لڑنے والے پاکستانی جنگجوؤں کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور ان کی اکثریت حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے مزار کی حفاظت پر مامور ہے، جو شامی دارالحکومت دمشق میں واقع ہے۔

بھرتی ہونے والے افراد کو ایک لاکھ 20 ہزار روپے کی ماہانہ تنخواہ اور ہر تین ماہ بعد 15 دن کی چھٹی کی پیشکش کی جاتی ہے

ایران کی جانب سے پاکستانی جنگجو بھرتی کرنا چار سال سے جاری شامی خانہ جنگی کا نیا پہلو ہے، جس نے اسلامی دنیا میں فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید بڑھا دیا ہے اور بیشتر علاقائی و عالمی طاقتوں کے ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کردیا ہے۔

یہ پاکستانی شیعہ شامی تنازع میں ایران کے حلیف صدر بشار الاسد کے دفاع میں مدد فراہم کر رہے ہیں، جنہیں نہ صرف ایران بلکہ روس اور حزب اللہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس کے برعکس حکومت مخالف سنی باغیوں کو ترکی اور عرب ریاستوں کی مدد حاصل ہے۔

زینبیون نامی ایک فیس بک پیج نے حال ہی میں چند تصاویر پیش کیں، جس میں نومبر کے اواخر میں ایران میں ہونے والی ایک نماز جنازہ دکھائی گئی ہے۔ اس میں ایران کے پاسداران انقلاب کے ساتھ ہی روایتی پاکستانی لباس شلوار قمیص میں ملبوس افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے محقق، واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے فیلو اور شام میں لڑنے والے شیعہ جنگجو گروپوں کے بارے میں وسیع معلومات رکھنے والے فلپ اسمتھ کہتے ہیں کہ زینبیون پاکستانی شیعہ گروہ ہے اور اسے پاسداران انقلاب چلا رہے ہیں۔

گو کہ پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت سنی عقیدہ رکھتی ہے لیکن شیعہ عقائد رکھنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے بلکہ یہ دنیا کی بڑی شیعہ برادریوں میں سے ایک ہے۔

zaynabion

مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ آف واشنگٹن اور پاک-ایران تعلقات پر کتاب کے مصنف ایلکس وتانکا کہتے ہیں کہ ان افراد کا انتخاب لوگوں کی ایک بڑی تعداد میں سے کیا گیا ہے۔ پاکستان کی شیعہ برادری میں ایسے افراد کی تعداد قابل ذکر ہے جو اپنی شیعہ شناخت کے لیے ہتھیار اٹھانے کے خواہشمند ہیں اور پاسداران انقلاب اسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

لبنان کے حزب اللہ جنگجو، عراق کی اکثریتی شیعہ برادری اور اس کے بعد افغانستان کے ہزارہ شیعہ جنگجوؤں کے بعد پاکستانی عنصر کی شمولیت شام میں جاری جنگ کا نیا پہلو ہے۔ اسمتھ کا اندازہ ہے کہ زینبیون کی تعداد ایک ہزار تک ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر آنے والی وڈیوز اور تصاویر سے ثابت ہوتا ہے کہ دمشق میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے مزار کے علاوہ پاکستانی جنگجو حلب کے گرد بھی متحرک ہیں۔

گروپ خود کو حزب اللہ پاکستانی بھی کہتا ہے اور انٹرنیٹ پر اب تک جو مواد پیش کیا گیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شام میں لڑنے والے چند پاکستانی شیعہ میدان میں اترنے سے پہلے ہی ایران منتقل ہو چکے تھے۔ ان میں سے کئی کا تعلق پاکستانی کے قبائلی علاقے پارہ چنار سے ہے جو شیعہ اکثریتی ہے۔ اسمتھ کا کہنا ہے کہ زینبیون نے پہلے فاطمیون نامی افغان جنگجوؤں کے ساتھ مل کر لڑائی کا آغاز کیا تھا لیکن بعد میں اپنی الگ اور واضح شناخت بنائی۔

جس طرح ایران نے افغان جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کے لیے انہیں ایرانی شہریت اور معقول ماہانہ آمدنی کی پیشکش کی، بالکل اسی طرح پاکستان سے بھرتی کے لیے جاری کردہ اشتہار میں بھی ایسی ہی سہولیات نمایاں کی گئی ہیں۔ ابھی گزشتہ ہفتے فیس بک پر جاری ہونے والے ایک اشتہار میں کیا گیا ہے کہ 18 سے 35 سال کے جسمانی طور پر مضبوط افراد کو شام میں لڑنے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ 45 دن کی ابتدائی فوجی تربیت اور اس کے بعد شام میں مزید 6 ماہ کی تربیت کے ساتھ ایک لاکھ 20 ہزار روپے کی ماہانہ تنخواہ اور ہر تین ماہ بعد 15 دن کی چھٹی کا ذکر اس اشتہار میں موجود ہے۔ جنگ کے دوران مارے جانے کی صورت میں بچوں کی تعلیم کے اخراجات اور ہر سال اہل خانہ کی ایران، عراق و شام کی زیارات کو روانگی کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ بھرتی ہونے کے خواہشمند افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ ایرانی شہر قم کا رخ کریں اور وہاں ایک فون نمبر پر بھی فراہم کیا گیا ہے۔ برطانیہ کے خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس نمبر پر رابطہ کیا تو کسی نے فون نہيں اٹھایا۔

افغان اور پاکستانی جنگجوؤں نے عراق کی شیعہ ملیشیا پر موجود دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جسے گزشتہ سال داعش کے خلاف لڑنے کے لیے وطن واپس بلایا گیا تھا۔


متعلقہ خبریں


مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر