... loading ...

کراچی میں احتسابی عمل اور گرفتاریوں کے حوالے سے بڑے پیمانے پر شدید بے چینی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی آدمی کو کسی بھی الزام کے تحت کسی بھی وقت گرفتار کر لیتی ہیں ۔ اور ایک ہی شخص کو چھوڑنے پکڑنے کے عجیب وغریب قسم کے کارنامے انجام دیتی رہتی ہیں۔ یہ سارا عمل اس قدر مضحکہ خیز بن چکا ہے کہ خود بدعنوان عناصر کے حق میں ہمدردی کا ماحول پید اہونے لگا ہے۔
زمینوں پر قبضے کے ایک ہی نوعیت کے الزامات پر کے ڈی اے (کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی) کے تین عہدیداروں کو مختلف اوقات میں الگ الگ اداروں سے اُٹھائے جانے کے بعد اب ایک مرتبہ پھر گرفتار کر لیا گیا۔ قومی احتساب بیورو(نیب) نے جن تین عہدیداروں کو حراست میں لیا ہے اُن میں سابق ڈائریکٹر کے ڈی اے عبدالقوی خان، ڈائریکٹر ماسٹر پلان راشد عقیل اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ناصر شیخ شامل ہیں۔ان تینوں عہدیداروں کو زمینوں پر قبضے کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کے ڈی اے حکام پر مبینہ طور پر کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پانی کے پائپس اور کے الیکٹرک کی ہائی ٹینشن لائنز کے لیے مختص زمین کے پلاٹس پر غیر قانونی تعمیرات، خرید اور فروخت میں ملوث تھے۔نیب کی طرف سے جارہ بیان کے مطابق نیب، پاکستان رینجرز اور ایف آئی اے کے افسران پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)نے اسی مقدمے میں قبل ازیں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ان مشتبہ افراد سے دوران تفتیش سامنے آنے والی معلومات پر کے ڈی اے عہدیداران کو حراست میں لیا گیا ہے۔
دلچسپ امر یہ کہ یہ تینوں افرادمختلف اوقات میں مختلف اداروں کے ہاتھوں گرفتار اور زیرتفتیش رہے ہیں۔ ایک ہی نوعیت کے الزامات میں ان افراد میں شامل سابق ڈائریکٹر کے ڈی اے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں تین مرتبہ گرفتار ہو چکے ہیں۔ آخری مرتبہ خود رینجرز نے اُنہیں رواں برس مئی کے مہینے میں گرفتار کیا تھا۔ اور اُنہیں تمام الزامات میں تفتیشی مرحلوں سے گزار کر رہا کر دیا گیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر نیب کی جانب سے عائد عمومی الزامات کےعلاوہ خاص طور پر گلستانِ جوہر کے جن دو پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ ان میں باعزت بری ہو چکے ہیں۔ ان ہی الزامات کے تحت یہ افسران پندرہ برس قبل بھی گرفتار کئے جا چکے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ زمینوں پرغیر قانونی قبضے کراچی کے اہم ترین مسائل میں شامل ہیں ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ موقف بھی قدرے درست ہے کہ یہ پہلو کراچی میں دہشت گردی کے فروغ کا ایک اہم عامل ہے۔ شاید اسی وجہ سے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد اور کراچی آپریشن میں قانون نافذ کرنے والے ادارے زمینوں پر قبضے کے معاملات میں خصوصی طور پر توجہ دے رہے ہیں۔ مگر اس سارے عمل میں قانون ناٖفذ کرنے والے اداروں کا طریقہ کار برعکس نتائج پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ ایک ہی نوعیت کے الزامات میں ایک ہی طرح کے افراد کی باربار گرفتاری اور رہائی شکوک کو گہرا کر رہی ہے ۔ اور اس پورے عمل پر عوامی اعتماد کو کم کرتی جارہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی مقدمے کو قانونی انجام تک پہنچانے میں اکثر ناکام رہتے ہیں ۔ کے ڈی اے کے حکام کی حالیہ گرفتاریاں بھی اسی کا مظہر ہے۔ جس پر اب عوامی حلقوں میں شدید بے چینی کا اظہار کیا جارہا ہے۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...