وجود

... loading ...

وجود

عمران ریحام طلاق: خبریں روکنے کی کوشش ناکام

منگل 03 نومبر 2015 عمران ریحام طلاق: خبریں روکنے کی کوشش ناکام

reham khan

عمران خان اور ریحام خان کے درمیان طلاق کا اعلان تو کپتان نے کیاہے مگر خواہش یہ نظرآتی ہے کہ اس پربات نہ ہو کسی کوبھی اس پر تو اعتراض نہیں کہ عمران خان ایسی خواہش رکھیں مگراخلاقی طور پر کوئی پابند نہیں میڈیا پرسنزبھی سیاستدان بھی اورکپتان کی پارٹی کے لوگ تو ذرا بھی نہیں۔

وزیراعظم نوازشریف ،سابق صدر زرداری اوردیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما وں نےاخلاقی بلندی کا مظاہرہ کیاخودبھی تبصرہ نہیں کیااور پارٹی رہنماوں کو بھی روکا۔کوئی تصور کرے کہ کپتان کے کسی سیاسی مخالف کے ساتھ خدانخواستہ ایسا حادثہ ہوتا تو اس کی پارٹی کے لوگ سوشل میڈیا پر کیا حشر کرتے؟ ان کی اخلاقی حالت کاا ندازا اس امر سے لگائیے کہ اب جبکہ عمران خان تین روز سے بنی گالا میں معتکف ہیں اس قدر پابندیوں میں کہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے بھی نہ گئے، ان کے سوشل میڈیا ٹائیگر ایسے عالم میں بھی مردوں کی پگڑیاں اوربہو بیٹیوں پرکیچڑ ا چھالنے میں مصروف تھے۔

یہ سوال اتنااہم نہیں کہ یہ قومی سیاست کا ایساناگزیر معاملہ ہے جو اس پر اتنا وقت صرف کیا جائے؟ پرائم ٹائم میں ٹی وی پر تبصرے ہوں اورقیمتی اخباری کالم سیاہ کیے جائیں؟ اگلے ہی سانس میں کیا جانے و الا سوال اہم ہے کہ کیا اسے نان ایشو کہہ کر چھوڑ دیا جائے؟کیا ایک قومی ہیرو کی زندگی عوامی نباضوں کےلیے اتنی غیر اہم ہوسکتی ہے۔اس کی خوشی میں تو پوری قوم اس کے ساتھ ناچے اور گائے ۔میڈیا سے پیغام نشر ہو کہ گانا آئے یا نہ آئے گانا چاہیے اور جب وہ غمزدہ ہو تو اسے تنہا چھوڑ دیاجائے کیایہ قرین انصاف ہے؟

عمران خان اور ان کے محبین کی یہ خواہش بے جا ہے کہ اس معاملے پر بات نہیں ہونی چاہیے ۔ اس معاملے میں نہ صرف بات ہونی چاہیے بلکہ ہوتی رہنی چاہیےتاکہ حقائق واضح ہوکر سامنے آئیں کہ آخر کہاں چوک ہوئی ہےکہ قومی رہنما کی دو شادیا ں ناکام ہوئیں اور دوسری تو نو ماہ یا شاید اس سے پہلے ہی انجام کو پہنچی جس کا اعلان تاخیر سے ہوا؟

بعض مبصرین کہتے ہیں عمران ریحام کی طلاق کا فیصلہ بھی اسی دن ہوگیاتھاجس دن ان کا نکاح ہوا تھا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے بھی تقریبا ًیہی کہاہے کہ ان کی دعا یہی تھی کہ یہ شادی کامیاب ہو، ساتھ ہی خدشہ تھاکہ نہیں چلے گی ۔خورشید شاہ کی اس بات سے اتفاق نہیں کہ عمران خان مستقل مزاج نہیں ہیں۔ باخبرذرائع کا یہی کہناہے کہ عمران خان نے نہیں مگر ریحام خان نے یہ ضرور طے کیاتھاکہ وہ تاحیات عمران خان کے ساتھ نہیں رہیں گی ۔

ریحام کے بنی گالہ آنےکا سب سے پہلے براہ راست نقصان نعیم الحق کو ہوا تھاوہ عمران خان کی چوبیس گھنٹے کی قربت سے محروم ہوگئے تھے۔

عمران خان کی طلاق کی سب سے بڑی وجہ کیابنی ؟اس پر بات کریں گے مگر اس سے پہلے جائزہ لیا جائے کہ اس طلاق کے عمران خان اور تحریک انصاف پر کیا سیاسی اثرات مرتب ہوں گے؟شمالی ہند میں مستعمل محاورہ ہے کہ رانڈکی نے خصم کیا بُراکیا،کرکے چھوڑدیا اور بُراکیا۔ان قارئین کےلیے جن کےلیے یہ محاورہ مشکل یااجنبی ہومطلب بھی بتادیتے ہیں کہ بیوہ یا نصیبوں کی ماری عورت نےشادی کرلی براکیا،پھر اس شوہر سے بھی طلاق لے لی تو اور بھی براکیا ۔اس محاورے کا اطلاق عمران اور ریحام دونوں پر ہی کیاجاسکتاہےکیونکہ دونوں ہی کی یہ دوسری شادی تھی اوربدقسمتی سے فریقین اسے دس ماہ بھی نہیں چلاسکے۔ریحام کے قریبی حلقے کہتے ہیں کہ عمران خان کےبہت خاص لوگوں نے اس کی بیوی کو تسلیم نہیں کیا ور وہ روز اول سے اس کے خلاف عمران خان کےکان بھرتے تھے ۔ وہ خاص طور پر کپتان کے قریبی ساتھی نعیم الحق کا نام لیتے ہیں جنہیں اس مبینہ سازشی ٹولے کا سرخیل بتایا جاتاہےکیونکہ ریحام کے بنی گالہ آنےکا سب سے پہلے براہ راست نقصان انہیں ہوا تھاوہ عمران خان کی چوبیس گھنٹے کی قربت سے محروم ہوگئے تھے۔اب کئی گھنٹے ریحام کےلیے مختص ہورہے تھے ۔ذرائع کاکہناہےکہ مبینہ سازشی ٹولے کی جانب سےباقی رہ جانے والی کمی ریحام کے مزاج نے پوری کردی کہ وہ قدم جمانے سے پہلے ہی عمران خان سمیت بنی گالہ کی ہرچیز پراپنا حق جتانے لگیں تھیں ۔ عمران خان نے ایک ہوشیاری تو یہ کی کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے سےایک دن پہلے اس خبر کی تصدیق کی کیونکہ وہ اس خبر کی زندگی محض ایک دن ہی چاہتے تھے۔ اس کے پس پردہ ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ وہ اپنےذرائع سے اس خبر کو دے کر

عام کر چکے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ ریحام کے نقطہ نظر سے یہ خبر بریک ہو کیونکہ خدشہ تھاکہ شادی کی خبر کی طرح یہ خبر بھی ڈیلی میل کےذریعے پاکستانی میڈیا تک نہ پہنچے۔

عمران خان کی کوششیں اپنی جگہ مگر ریحام کے مزاج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ خبریں اب رکنے والی نہیں عمران خان بھاری مالی اخراجات کر کے بھی شاید وہ کچھ نہ بچاسکیں جو بچانا چاہتے ہیں۔کیونکہ خصم کرکے چھوڑنا ہمارے معاشرے میں اور برا عمل سمجھا جاتاہے ۔مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب۔۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر