... loading ...
سینئر سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں کی نظر میں عالمی امن اور سلامتی وہ عظیم مقاصد تھے جن کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ قائم ہوا تاہم آج ستر (70) برس کے بعد بھی یہ احساسات حاوی ہیں کہ یہ ادارہ اپنا مقصدِ وجود پوری طرح حاصل نہ کر سکا۔
اقوام متحدہ کے قیام کے ستر برس مکمل ہونے پر ایک سیمینار میں اس ادارہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام ’’اقوام متحدہ کے 70 سال: کامیابیاں، ناکامیاں اور مستقبل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کی صدارت سینئر سفارت کار ایم اکرم ذکی نے کی۔ سیمینار سے جن اہل دانش نے خصوصی خطاب کیا ان میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل اور سابق سفیر مسعود خان، ماہرِ قانون اور سابق وفاقی وزیر بیرسٹر احمربلال صوفی اور پاکستان کے سابق سفیر آصف ایزدی شامل ہیں۔ اسلام آباد میں موجود غیر ملکی سفارت کاروں، سول سروس کے متعدد سابق افسروں اور سفارت کاروں نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔
جن دیگر حضرات نے اظہارِ خیال کیا ان میں آئی پی ایس کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمن، سابق سفیر خالد محمود، سابق سیکرٹری مرزا حامد حسن، ایرکموڈور ریٹائرڈ خالد اقبال، بریگیڈیر ریٹائرڈ سید نذیر، سکواڈرن لیڈر ریٹائرڈ طارق عبدالمجید بھی شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں نے جہاں سماجی و معاشی ترقی کے شعبوں میں اقوام متحدہ کے کردار کی تعریف کی وہاں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ یہ ادارہ امن کے قیام کے نام پر بڑی طاقتوں کے مفادات سے ہٹ کر کوئی مؤثر کردار ادا نہ کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کی تعمیر میں خرابی کی صورت آغاز ہی سے مضمر رہی ہے جب تمام اقوام کو برابری کا درجہ دینے کا اصول چند بڑی طاقتوں کو ویٹو کا اختیار دے کر ختم کر دیا گیا اور ’’حق خود ارادیت‘‘ کا سنہری اصول فلسطینیوں کی مرضی کے برعکس ان کی سرزمین پر اسرائیل کی مملکت زبردستی قائم کر کے ملیا میٹ کر دیا گیا۔
اسی طرح یہ ادارہ کمزور ملکوں کے خلاف تو بہت فعال ہو جاتا ہے، مگر جب کسی بڑے ملک کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہو تو یہ ادارہ بین الاقوامی قانون کی وہ تعبیر قبول کر لیتا ہے جو طاقت ور ملک اپنے مفاد کے پیش نظر کرتا ہے جیسے ’’ممکنہ جارحیت سے تحفظ کے حق‘‘ کے نام پر کسی چھوٹے ملک کے خلاف جارحیت کی اجازت دینا۔
ماہرین نے کہا کہ ’’قانون کی بالادستی‘‘ قائم رکھنے کا اصول سوویت یونین کے انہدام کے بعد بہت بری طرح متاثر ہوا ہے اور طاقت ور ریاستوں اور غیرریاستی عناصر کا اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طاقت کے استعمال کا سلسلہ چل نکلا ہے، جسے روکنے میں اقوام متحدہ ناکام ہے۔
اقوام متحدہ کے اندر اصلاحات کے پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار اس بات پر متفق تھے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کسی نئے مستقل ممبر ملک کا اضافہ مستقبل قریب میں ناممکن ہے۔ اگر ایسا ہوا تو بہت سے ملک اقوام متحدہ میں دوسرے یا تیسرے درجے کے ممبر کی حیثیت قبول کرنے کے بجائے اس ادارے ہی سے الگ ہونے کا فیصلہ کریں گے اور یہ ادارہ ختم ہو کر رہ جائے گا۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو تخلیقی سفارت کاری کا مظاہر کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ میں اپنی حیثیت کو مزید مؤثر بنانا چاہیے۔ یہ تخلیقی سفارت کاری قانونی دلائل اور اصولی معاملات طے کروانے میں دکھائی جا سکتی ہے۔ ماہرین نے تجویز کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اضافے کی بنیاد ہمیشہ غیر امتیازی رویے اور مختلف خطوں اور مذاہب کی متناسب اور عدل پر مبنی نمائندگی کا اصول رہنا چاہیے۔
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...