وجود

... loading ...

وجود

پاک افغان تعلقات پر سیمینار۔۔۔۔ اعتماد سازی کے لیے اقدامات پر زور

هفته 19 ستمبر 2015 پاک افغان تعلقات پر سیمینار۔۔۔۔ اعتماد سازی کے لیے اقدامات پر زور

pak-afghan-roundtable

یکساں مذہبی، تاریخی، ثقافتی، لسانی ورثہ اور باہم سماجی و اقتصادی حقائق ان مواقع کو پیدا کر سکتے ہیں جن سے فوائد سمیٹ کر پاکستان اور افغانستان کو امن اور بقا ئے باہمی کے اصول اپناتے ہوئے روشن مستقبل کی طرف اپنا سفر شروع کرنا چاہیے۔ چنانچہ کابل اور اسلام آباد میں بیٹھے پالیسی سازوں کو مزید وقت ضائع کیے بغیر فوراً جامع مذاکرات کا آغاز کرتے ہوئے اعتمادسازی کے لیے اقدامات اٹھانے چاہیے تاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مستحکم اور ہمیشہ قائم و دائم رہنے والے تعلقات کے لیے زمین ہموار کی جا سکے۔ سمت کا تعین کرکے ہی بین الاقوامی اور علاقائی کھلاڑیوں کے ناپاک عزائم کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے جو دو برادر ممالک کے درمیان اختلافات کی خلیج پیدا کرنے پر تلے بیٹھے ہیں اور ان کی بھرپور کوشش ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا جائے۔

یہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اُس دو روزہ کانفرنس کا لب لباب تھاجو ’’پاکستان اور افغانستان: مثالی دوطرفہ تعلقات کی جانب‘‘ کے عنوان سے 16 اور 17 ستمبر 2015ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد اور سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ ریجنل اسٹڈیز (CSRS) کابل نے مشترکہ طور پر منعقد کی۔

اس گول میز کانفرنس سے افغانستان کے جن دانشوروں اور پالیسی تجزیہ کاروں نے خطاب کیا ان میں ڈائریکٹر جنرل CSRS ڈاکٹر عبدالباقی امین، ڈاکٹر فضل ہادی وزین، ڈاکٹر وحید اﷲ مصلح، اور انجینئرحامد درانی شامل تھے۔ پاکستان کی جانب سے کانفرنس میں جو دانشور شریک گفتگو ہوئے ان میں سابق سفیر رستم شاہ مہمند، ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس خالد رحمن، ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) خالداقبال، بریگیڈیر (ریٹائرڈ) سید نذیرمہمند، سابق سفیر ایاز وزیر، آئی پی ایس کے لیڈ کوآرڈی نیٹر عرفان شہزاد، ڈاکٹر انور شاہ اور معراج الحمید شامل تھے۔

دو روزہ کانفرنس چار اجلاسوں پر مشتمل تھی جن میں دونوں قوموں کے درمیان تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور نسلی تعلقات کے بہت سے پہلوؤں پر گفتگو ہوئی اور دونوں ریاستوں کے درمیان درآئی پیچیدگیوں پر سیرحاصل تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے واضح نظر آنے والے ٹھوس اقدامات کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یہ مطالبہ کیا گیا کہ تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے قومی مفادات کا احترام کیا جائے اور انہیں میز پر موضوع گفتگو بناتے ہوئے واضح مقاصد کے ساتھ مخلصانہ مذاکرات کے عمل کا فوری آغاز کیا جائے۔ دونوں ملکوں میں موجود پالیسی سازوں، میڈیا اور دانشوروں کے ایک طبقے کو ان کے منفی کردار کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ افغان اور پاکستانی قوموں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کا بڑا سبب ہیں اور اس خطے میں بیرونی قوتوں کے مذموم مقاصد کو فروغ دے رہے ہیں۔

مقررین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر قوموں کے درمیان تعلقات کی تعمیر نو کے لیے مثبت اندازِ فکر اور مشترک خصوصیات و روایات کو سامنے رکھتے ہوئے آگے کی سمت بڑھنا چاہیے۔ مسائل، اختلافات اور بداعتمادیوں کی راہ پر ہی چپک کر رہ جانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

یہاں ایسی مورچہ بند لابیاں موجود ہیں جو امن نہیں چاہتیں، ان میں وہ قوتیں شامل ہیں جن کے اس تنازعے کی طوالت سے مفادات وابستہ ہیں

کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بیرونی قوتیں اپنے مفادات کے لیے خطے میں مسائل پیدا کرتی رہیں گی تاہم دونوں ملکوں کی قیادت اور عوام کو سوچنا ہوگاکہ وہ ان بیرونی قوتوں کی کھینچاتانی سے محفوظ رہتے ہوئے آگے کی سمت قدم بڑھائیں اور صاف ستھرے دوطرفہ تعلقات میں بہتری لائیں۔

افغانستان میں امن کے عمل پہ گفتگو کرتے ہوئے دونوں ممالک کے دانشور اس بات پر متفق تھے کہ یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ افغان اپنے مسائل کے حل میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ افغانستان میں رائے عامہ جنگ کی حمایت نہیں کرتی۔ امریکہ کی قیادت میں لڑی گئی جنگ اس خطے کے لوگوں کے لیے کوئی افادیت نہیں رکھتی اور بیرونی افواج کی موجودگی امن کی راہ میں مستقل رکاوٹ ہے۔ تاہم یہاں ایسی مورچہ بند لابیاں موجود ہیں جو امن نہیں چاہتیں۔ ان میں وہ قوتیں شامل ہیں جن کے اس تنازعے کی طوالت سے مفادات وابستہ ہیں۔ متحارب گروہوں کا سخت موقف بھی اس کا سبب ہے اور اب داعش کا عنصر بھی اس میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔ امن کی طرف کسی بھی عمل میں ان عناصر کو سامنے رکھا جانا ضروری ہو گا۔

کانفرنس میں متفقہ طور پر اس بات کو محسوس کیا گیا کہ مہاجرین اور بے گھر افراد کے معاملے کو دونوں معاشروں کے درمیان ایک طویل مدتی تعلق کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ایک ایسا سازگار ماحول تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو صاف شفاف، باہم رضا مندی کے حامل طویل مدتی حل سامنے لا سکے اور جو سب سے بڑھ کرخود مہاجرین اور بے گھر افراد کے لیے قابل احترام ہو۔

دونوں جانب کے دانشوروں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کے فروغ میں سول سوسائٹی، تحقیقی مراکز اور تھنک ٹینکس اہم کر دار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ پالیسی سازوں اور مسئلہ سے متعلق تمام فریقین پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ ایسے اداروں کو آگے آکر فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور ان کے درمیان اشتراک عمل باہم اعتماد سازی کو مضبوط کرنے کے لیے بڑھایا جانا چاہیے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر