وجود

... loading ...

وجود

بھائی کی سالگرہ اور بھائی گیری کے خلاف آپریشن

جمعرات 17 ستمبر 2015 بھائی کی سالگرہ اور بھائی گیری کے خلاف آپریشن

altaf hussain

ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین کی آج سالگرہ منائی جارہی ہے جبکہ کچھ دیر پہلے پارٹی کے پہلے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عمران فاروق کی پانچویں برسی منائی گئی ۔وابستگان ایم کیوایم کے لیے قائد کی سالگرہ جتنی شدت کی خوشی لاتی ہےکم وبیش ڈاکٹر عمران فاروق کی المناک موت کا غم بھی اتنا ہی شدید ہوتاہے۔

افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے
شدت کی محبت میں شدت ہی کےغم پہنچے

یہ شاید کسی نے سوچابھی نہیں تھا کہ ستمبر ایم کیوایم کےلیے اتنا ستمگر ہوگا ۔بارہ تاریخ کو اس کی ہڑتال کی کال وہ نتائج نہیں دےسکی جو پہلے ملتے تھے، تیرہ تاریخ کو اس کی ریلی میں الطاف حسین کا خطاب ہوسکا نہ ان کی کسی تصویر کو نمایاں کیا گیا۔مبادا انکی تصویر کی وجہ سے کہیں کوریج پر اثر نہ پڑے۔ اور آ ج سترہ ستمبر کوکراچی کی تاریخ میں کئی دہائیوں کے بعد یہ ہونے جارہاہے کہ الطا ف حسین کی باسٹھویں سالگرہ منائی جارہی ہے مگر اس میں الطا ف حسین کہیں دکھائی نہیں دیں گے،یہ مائنس الطاف فارمولے پر عمل درآمد ہے یا مائنس ایم کیوایم فارمولے کا آغاز۔۔

اٹھارہ مارچ انیس سو چوراسی کو قائم ہونے والی اور تیس نومبر ستاسی کو بلدیاتی انتخابات میں پہلی مرتبہ انتخابی سیاست میں ناقابل یقین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ایم کیوایم سیاسی پنڈتوں کےلیے چیلنج بن گئی ۔پیش گوئی کرنے والے جہاں بات ختم کرتے، ایم کیوایم کی پرواز کا آغاز ہی وہاں سے ہوتا۔آسمان سیاست پر کون کون سے ستارے چمکے اورپلوں کےنیچے سے کتنا پانی بہہ گیا۔کس کی قسمت میں چمکنا تھااور ٹوٹ کر گرنا کس کا مقدر ٹھہرا؟ کون دریائے سیاست میں تیرسکا اور کون ڈوب گیا یا کوئی تھا جو ڈوب کر بھی اس کی تہہ سے موتی چن لایا۔

دو پھول ساتھ پھولے قسمت جدا جدا ہے
نوشے نے ایک پہنا ایک قبر پہ پڑا ہے

یہ سب ہو نا تھا ،ہوگیا ، آج کا اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہورہا ہے اور کیا ہونے والاہے ؟کڑے امتحان کےدن آنا، ایم کیوایم کے لیے کوئی نئی بات نہیں ،شاید لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے سوا کوئی ایسی مشکل نہیں جو پہلے نہ گزری ہوبلکہ اس سے بھی سخت حالات رہے ۔الطاف حسین کے خطاب پر غیراعلانیہ پابندی پہلے بھی رہی مگر وہ سب بیرونی عوامل تھے۔اس مرتبہ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ بعض حلقےداخلی مسائل کی بھی نشاندہی کررہے ہیں۔ان کا کہناہے کہ الطاف حسین ہی ایم کیو ایم ہیں اور ایم کیوایم ہی الطاف حسین کا دوسرانام ہے ۔یہ ایم کیوایم کے کسی کارکن یا رہنما کا کوئی جملہ نہیں بلکہ یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ مہاجروں کی سیاسی نفسیات ، پارٹی کی اٹھان، اس کی تنظیم،کارکن کی فکری تربیت میں ہرجگہ الطاف حسین جھلکتے ہیں۔اس کے چاہے کتنے ہی مثبت یا منفی پہلو تلاش کرلیے جائیں ،عملا ً ایسا ہی ہے۔

مہاجروں کی سیاسی نفسیات ہی آنے والے دنوں اور انتخابات میں ایم کیوایم کا اثاثہ ہے جسے بروئے کار لانے کے لیے الطاف حسین کے راستے بھی بندہیں

سیاسی حلقوں کی جانب سےجن داخلی عوامل کا ذکر کیا جارہاہےان میں سب پہلا یہی ہے کہ مائنس الطا ف فارمولے پرغیر اعلانیہ عملدرآمد شروع کردیا گیا۔اس کے مہاجروں کی سیاسی نفسیات پر کیا اثرات ہوں گے؟ اس سے قطع نظرمحض اندازوں کی بنیاد پرکام کیا جارہاہے جن مقتدر اداروں نے یہ سوچاہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کےساتھ سیاسی آپریشن بھی کیاجائے کراچی کسی سے لے کر کسی کو دے دیا جائے ،انہیں این اے دو سو چھیالیس کا ضمنی انتخاب نہیں بھولنا چاہیے جوعدم تحفظ کی مہاجر سیاسی نفسیات کامظہرتھا ، وہ اگر یہ سوچ رہے ہیں ستاسی کے بلدیاتی انتخابات سے بام عروج کو پہنچنے والی ایم کیوایم کواٹھائیس برس اور تین دن بعد(تین دسمبر دوہزار پندرہ کو) اسی راستے سے زوال کو پہنچادیا جائے تو ان کی یہ سوچ اپنی جگہ درست ہوسکتی ہے کہ انتخابی سیاست میں کسی فریق کو ہرانے کے لیے رائج طریقوں میں کافی گنجائش موجود ہے۔خاص طور پر بلدیاتی انتخابات میں ذات، برادری، طبقے اور فرقے کے سارے حربے اپنی جگہ ،اس کے باوجوداتنے کم وقت میں انہیں ان کےمطلوبہ نتائج ملنے کی توقع نظر نہیں آ رہی۔ معاملہ اُلٹ بھی سکتاہے۔ اس پر تو پھر کبھی بات ہوگی کہ مہاجر سیاسی نفسیات کیا ہے؟ این اے دو سو چھیالیس کی پولنگ کے دن یہ بروئے کار آئی تو سارے اندازے غلط اور تدبیریں الٹی ہوگئیں۔ اس لیے بھائی کی سالگرہ پر “بھائی گیری” کے خلاف آپریشن میں ان عوامل کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔

البتہ داخلی عوامل میں جہاں الطاف حسین کی طرف سے نظریاتی وفکر ی رہنمائی نہیں مل پائے گی وہاں اب ایم کیوایم میں ایسے کارکنوں کی تعداد بہت تھوڑی رہ گئی ہے جنہوں نے قائد تحریک سے براہ راست اکتساب فیض کیا اور عالم نوجوانی میں پارٹی کے نظریاتی شاعر راشد عار ف (جوعلیحدہ ہوگئے تھے) کے شعرکی عملی تصویر بنے۔

لفظ مہا جر میں سمودیں گے جوانی اپنی
ہر اک موضوع پہ لکھیں گے کہانی اپنی

کارکن تو کارکن اب تو دوسرے درجے کے رہنماوں میں بھی ایسے لوگ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں یہ سوال بھی اہم ہے کہ وہ گئے کہاں ؟

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے

ایم کیوایم نے مشکل حالات کا مقابلہ جس بوتے پر کیا ،آج اسی کی دہائی کا وہ نظریاتی کارکن یا تو موجود ہی نہیں ، اور اگر ہے تو اس میں ایسی تاب وتوانائی نہیں رہی یا پھر نظریات اور کارکن کے درمیان فاصلہ بڑھ گیاہے ۔ ایسے میں مہاجروں کی سیاسی نفسیات ہی آنے والے دنوں اور انتخابات میں ایم کیوایم کا اثاثہ ہے جسے بروئے کار لانے کے لیے الطاف حسین کے راستے بھی بند ہیں۔ اس لحاظ سے ایم کیوایم کےلیے آنےوالے دن بہت کڑے ہیں۔

مائنس الطاف فارمولے کو مائنس ایم کیوایم میں تبدیل ہونے سے بچانے کےلیے اس کی دوسرے درجے کی قیادت کو جس ریاضت کی ضرورت ہے وہ کرپائے گی یا نہیں ؟ الطاف حسین جس نئی قیادت کی بات کررہے ہیں وہ کب سامنے آئے گی ؟اس کا فیصلہ ہی ایم کیوایم کے مستقبل کا تعین کرے گا۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر