وجود

... loading ...

وجود

بھائی کی سالگرہ اور بھائی گیری کے خلاف آپریشن

جمعرات 17 ستمبر 2015 بھائی کی سالگرہ اور بھائی گیری کے خلاف آپریشن

altaf hussain

ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین کی آج سالگرہ منائی جارہی ہے جبکہ کچھ دیر پہلے پارٹی کے پہلے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عمران فاروق کی پانچویں برسی منائی گئی ۔وابستگان ایم کیوایم کے لیے قائد کی سالگرہ جتنی شدت کی خوشی لاتی ہےکم وبیش ڈاکٹر عمران فاروق کی المناک موت کا غم بھی اتنا ہی شدید ہوتاہے۔

افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے
شدت کی محبت میں شدت ہی کےغم پہنچے

یہ شاید کسی نے سوچابھی نہیں تھا کہ ستمبر ایم کیوایم کےلیے اتنا ستمگر ہوگا ۔بارہ تاریخ کو اس کی ہڑتال کی کال وہ نتائج نہیں دےسکی جو پہلے ملتے تھے، تیرہ تاریخ کو اس کی ریلی میں الطاف حسین کا خطاب ہوسکا نہ ان کی کسی تصویر کو نمایاں کیا گیا۔مبادا انکی تصویر کی وجہ سے کہیں کوریج پر اثر نہ پڑے۔ اور آ ج سترہ ستمبر کوکراچی کی تاریخ میں کئی دہائیوں کے بعد یہ ہونے جارہاہے کہ الطا ف حسین کی باسٹھویں سالگرہ منائی جارہی ہے مگر اس میں الطا ف حسین کہیں دکھائی نہیں دیں گے،یہ مائنس الطاف فارمولے پر عمل درآمد ہے یا مائنس ایم کیوایم فارمولے کا آغاز۔۔

اٹھارہ مارچ انیس سو چوراسی کو قائم ہونے والی اور تیس نومبر ستاسی کو بلدیاتی انتخابات میں پہلی مرتبہ انتخابی سیاست میں ناقابل یقین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ایم کیوایم سیاسی پنڈتوں کےلیے چیلنج بن گئی ۔پیش گوئی کرنے والے جہاں بات ختم کرتے، ایم کیوایم کی پرواز کا آغاز ہی وہاں سے ہوتا۔آسمان سیاست پر کون کون سے ستارے چمکے اورپلوں کےنیچے سے کتنا پانی بہہ گیا۔کس کی قسمت میں چمکنا تھااور ٹوٹ کر گرنا کس کا مقدر ٹھہرا؟ کون دریائے سیاست میں تیرسکا اور کون ڈوب گیا یا کوئی تھا جو ڈوب کر بھی اس کی تہہ سے موتی چن لایا۔

دو پھول ساتھ پھولے قسمت جدا جدا ہے
نوشے نے ایک پہنا ایک قبر پہ پڑا ہے

یہ سب ہو نا تھا ،ہوگیا ، آج کا اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہورہا ہے اور کیا ہونے والاہے ؟کڑے امتحان کےدن آنا، ایم کیوایم کے لیے کوئی نئی بات نہیں ،شاید لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے سوا کوئی ایسی مشکل نہیں جو پہلے نہ گزری ہوبلکہ اس سے بھی سخت حالات رہے ۔الطاف حسین کے خطاب پر غیراعلانیہ پابندی پہلے بھی رہی مگر وہ سب بیرونی عوامل تھے۔اس مرتبہ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ بعض حلقےداخلی مسائل کی بھی نشاندہی کررہے ہیں۔ان کا کہناہے کہ الطاف حسین ہی ایم کیو ایم ہیں اور ایم کیوایم ہی الطاف حسین کا دوسرانام ہے ۔یہ ایم کیوایم کے کسی کارکن یا رہنما کا کوئی جملہ نہیں بلکہ یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ مہاجروں کی سیاسی نفسیات ، پارٹی کی اٹھان، اس کی تنظیم،کارکن کی فکری تربیت میں ہرجگہ الطاف حسین جھلکتے ہیں۔اس کے چاہے کتنے ہی مثبت یا منفی پہلو تلاش کرلیے جائیں ،عملا ً ایسا ہی ہے۔

مہاجروں کی سیاسی نفسیات ہی آنے والے دنوں اور انتخابات میں ایم کیوایم کا اثاثہ ہے جسے بروئے کار لانے کے لیے الطاف حسین کے راستے بھی بندہیں

سیاسی حلقوں کی جانب سےجن داخلی عوامل کا ذکر کیا جارہاہےان میں سب پہلا یہی ہے کہ مائنس الطا ف فارمولے پرغیر اعلانیہ عملدرآمد شروع کردیا گیا۔اس کے مہاجروں کی سیاسی نفسیات پر کیا اثرات ہوں گے؟ اس سے قطع نظرمحض اندازوں کی بنیاد پرکام کیا جارہاہے جن مقتدر اداروں نے یہ سوچاہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کےساتھ سیاسی آپریشن بھی کیاجائے کراچی کسی سے لے کر کسی کو دے دیا جائے ،انہیں این اے دو سو چھیالیس کا ضمنی انتخاب نہیں بھولنا چاہیے جوعدم تحفظ کی مہاجر سیاسی نفسیات کامظہرتھا ، وہ اگر یہ سوچ رہے ہیں ستاسی کے بلدیاتی انتخابات سے بام عروج کو پہنچنے والی ایم کیوایم کواٹھائیس برس اور تین دن بعد(تین دسمبر دوہزار پندرہ کو) اسی راستے سے زوال کو پہنچادیا جائے تو ان کی یہ سوچ اپنی جگہ درست ہوسکتی ہے کہ انتخابی سیاست میں کسی فریق کو ہرانے کے لیے رائج طریقوں میں کافی گنجائش موجود ہے۔خاص طور پر بلدیاتی انتخابات میں ذات، برادری، طبقے اور فرقے کے سارے حربے اپنی جگہ ،اس کے باوجوداتنے کم وقت میں انہیں ان کےمطلوبہ نتائج ملنے کی توقع نظر نہیں آ رہی۔ معاملہ اُلٹ بھی سکتاہے۔ اس پر تو پھر کبھی بات ہوگی کہ مہاجر سیاسی نفسیات کیا ہے؟ این اے دو سو چھیالیس کی پولنگ کے دن یہ بروئے کار آئی تو سارے اندازے غلط اور تدبیریں الٹی ہوگئیں۔ اس لیے بھائی کی سالگرہ پر “بھائی گیری” کے خلاف آپریشن میں ان عوامل کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔

البتہ داخلی عوامل میں جہاں الطاف حسین کی طرف سے نظریاتی وفکر ی رہنمائی نہیں مل پائے گی وہاں اب ایم کیوایم میں ایسے کارکنوں کی تعداد بہت تھوڑی رہ گئی ہے جنہوں نے قائد تحریک سے براہ راست اکتساب فیض کیا اور عالم نوجوانی میں پارٹی کے نظریاتی شاعر راشد عار ف (جوعلیحدہ ہوگئے تھے) کے شعرکی عملی تصویر بنے۔

لفظ مہا جر میں سمودیں گے جوانی اپنی
ہر اک موضوع پہ لکھیں گے کہانی اپنی

کارکن تو کارکن اب تو دوسرے درجے کے رہنماوں میں بھی ایسے لوگ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں یہ سوال بھی اہم ہے کہ وہ گئے کہاں ؟

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے

ایم کیوایم نے مشکل حالات کا مقابلہ جس بوتے پر کیا ،آج اسی کی دہائی کا وہ نظریاتی کارکن یا تو موجود ہی نہیں ، اور اگر ہے تو اس میں ایسی تاب وتوانائی نہیں رہی یا پھر نظریات اور کارکن کے درمیان فاصلہ بڑھ گیاہے ۔ ایسے میں مہاجروں کی سیاسی نفسیات ہی آنے والے دنوں اور انتخابات میں ایم کیوایم کا اثاثہ ہے جسے بروئے کار لانے کے لیے الطاف حسین کے راستے بھی بند ہیں۔ اس لحاظ سے ایم کیوایم کےلیے آنےوالے دن بہت کڑے ہیں۔

مائنس الطاف فارمولے کو مائنس ایم کیوایم میں تبدیل ہونے سے بچانے کےلیے اس کی دوسرے درجے کی قیادت کو جس ریاضت کی ضرورت ہے وہ کرپائے گی یا نہیں ؟ الطاف حسین جس نئی قیادت کی بات کررہے ہیں وہ کب سامنے آئے گی ؟اس کا فیصلہ ہی ایم کیوایم کے مستقبل کا تعین کرے گا۔


متعلقہ خبریں


سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

مضامین
نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر