وجود

... loading ...

وجود

نائن الیون: تب اور اب

جمعه 11 ستمبر 2015 نائن الیون: تب اور اب

معروف فوٹوگرافر گارڈن ڈونووین حال ہی میں 11 ستمبر 2001ء کو کھینچی گئی کئی یادگار تصاویر کے ساتھ واپس آئے ہیں۔ ڈونووین نے اسی علاقے کی تصاویر کھینچی ہیں تاکہ دکھایا جائے کہ 14 سال قبل دہشت گرد حملوں کے بعد سے اب تک کیا کچھ تبدیل ہوچکا ہے۔

نئی رکاوٹیں کھڑی ہوچکی ہیں، جس کی وجہ سے اصل تصاویر سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے کیمرے کے زاویوں میں کچھ تبدیلیاں ہوئیہیں۔ یہ پانچواں سال ہے کہ ڈونووین نیو یارک کے اس مرکز میں آغے ہیں؛ ہر سال انہیں منظرنامے میں تبدیلی کی وجہ سے نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

911-1-1

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں برج ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے عقب میں جل رہے ہیں، 11 ستمبر 2001ء (مارٹی لیڈرہینڈلر/اے پی)

911-1-2

ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے عقب میں ابھرتا ہوا۔ 8 ستمبر 2015ء (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


دریائے ایسٹ کے پار بروکلن کے ساحل پر راہ گیر 11 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو جلتا ہوا دیکھ رہے ہیں (ہینی رے ایبرمز/گیٹی امیجز)

911-2-2

بروکلن میں لب ساحل پر کھڑے افراد دریائے ایسٹ کے اس پار ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور مین ہٹن کی دیگر عمارات کو دیکھ رہے ہیں (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


11 ستمبر 2001ء کو نیو یارک شہر میں دو ہائی جیک ہونے والے ہوائی جہازوں کے ٹکرانے کے بعد ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی ایک عمارت سے دھوئیں کے بادل نکل رہے ہیں (ماریو ٹاما/گیٹی امیجز)

911-3-2

نئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر عمارات اور ٹرینٹی گرجے کا منارہ براڈوے اور ریکٹر اسٹریٹ سے نظر آ رہا ہے، 5 ستمبر 2015ء (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


11 ستمبر 2001ء ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے جہاز ٹکراتے ہی نکلنے والا دھواں، شعلے اور ملبہ۔ عمارت کا پہلے برج چند منٹ پہلے ہونے والے حملے کی وجہ سے پہلے ہی دھوئیں کی زد میں ہے۔ دہشت گردوں کے اغواء کردہ دونوں جہازوں کے ٹکرانے سے یہ عمارات زمین بوس ہوگئی تھیں (چاؤ سوئی چیونگ/اے پی)

911-4-2

پارک ویو سے اس جگہ کا منظر جہاں کبھی ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارات کھڑی ہوتی تھیں، 3 ستمبر 2015ء۔ (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


13 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے کمپلیکس میں نیو یارک پولیس گردش کرتی ہوئی۔ مرکز میں زمین بوس ہونے والی سیون ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت ہے۔ (جیمز ایسٹرن/گیٹی امیجز)

911-5-2

اختتام ہفتہ پر مین ہٹن کا ایک سست دن، 3 ستمبر 2015ء ۔ (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


نیو یارک شہر کے مرکز کی ایک سڑک پر راکھ کا ڈھیر جو 11 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرنے کے بعد پھیلا (برینیڈیٹ ٹوازون)

911-6-2

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارات گرنے کے 14 سال بعد، نیو یارک شہر کی گرینچ اسٹریٹ پر تعمیرات جاری۔ 3 ستمبر 2015ء(گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


ملینیئم ہلٹن کے سامنے کھڑے طبی و ہنگامی کارکنان اس طرف دیکھ رہے ہیں جہاں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت واقع تھی۔ 11 ستمبر 2001ء (مارک لینی ہین/اے پی)

911-7-2

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے قریب چرچ اسٹریٹ پر ملینیئم ہوٹل کے سامنے سے راہ گیر گزرتے ہوئے، 3 ستمبر 2015ء (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


911-8-1

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا سامنے کا حصہ عمارت گرنے کے بعد زمین بوس ہے (درمیان میں)، 27 ستمبر 2001ء (بری روڈریگوئیز/ایف ای ایم اے)

911-8-2

اسی مقام پر ورلڈ فنانشل سینٹر کی تعمیر جاری،10 ستمبر 2015ء۔ (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


نیو یارک شہر کے آگ بجھانے والےاہلکار کورٹ لینڈ اسٹریٹ پر ملبے سے گزر رہے ہیں، جبکہ پس منظر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا بچا کچھا ڈھانچہ نظر آ رہا ہے۔ 11 ستمبر 2001ء (مارک لینی ہین/اے پی)

911-9-2

کورٹ لینڈ اسٹریٹ پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ تعمیرات جاری، 4 ستمبر 2015ء (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


11 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرنے کے بعد چند خواتین بروکلن پل کے ذریعے مین ہٹن سے بروکلن آ رہی ہیں۔ پس منظر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے اور آسمان پر پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ (مارک لینی ہین/اے پی)

911-10-2

نیو یارک کے باسی اور سیاح بروکلن پل پار کرتے ہوئے ایک خوبصورت دن کا لطف اٹھا رہے ہیں، 4 ستمبر 2015ء (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


11 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا جنوبی برج گرتا ہوا (جم کولنز/اے پی)

911-11-2

بروکلن سے دریائے ایسٹ کے اس پار نیو یارک شہر کی بلند عمارات کا ایک نظارہ جس میں ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر آسمانوں کو چھوتا نظر آ رہا ہے (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


911-12-1

آگ بجھانے والا ایک کارکن تباہ شدہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے نیچرےے ملبے میں گھوم رہا ہے، 11 ستمبر 2001ء (پیٹر مورگن/رائٹرز)

911-12-2

ویزی اسٹریٹ پر مین ہٹن کے مشرقی جانب کا منظر، 3 ستمبر 2015ء (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


گراؤنڈ زیرو کے قریب ایک تباہ شدہ بروکس برادرز اسٹور، 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد (مارک لینی ہین/اے پی)

911-13-2

بروکس برادرز اسٹور بمطابق 3 ستمبر 2015ء، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے 14 سال بعد (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


فلٹن اسٹریٹ پر خوفزدہ لوگ بھاگتے ہوئے جبکہ پس منظر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی ایک عمارت گرتی ہوئی نظر آر ہی ہے، 11 ستمبر 2001ء (سوزین پلنکٹ/اے پی)

911-14-2

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں برج گرنے کے 14 سال بعد فلٹن اسٹریٹ کا ایک منظر جہاں ایک جدید سب وے مرکز کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے، 3 ستمبر 2015ء (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


911-15-1

12 ستمبر 2001ء کی شام گراؤنڈ زیرو کے قریب ایک تباہ شدہ سب وے اسٹیشن (مارک لینی ہین/اے پی)

911-15-2

چرچ اسٹریٹ پر کورٹ لینڈ اسٹریٹ سب وے اسٹیشن 4 ستمبر 2015ء کی ایک صبح (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے میں بچ جانے والے لیکن دھوئیں، گرد اور ملبے سے اٹے ہوئے افرادفلٹن اسٹریٹ پر پیدل جا رہے ہیں، 11 ستمبر 2001ء (گلنارا ساموئیلووا/اے پی)

911-16-2

سینٹ پالز گرجے کے ساتھ فلٹن اسٹریٹ سے راہ گیر گزر رہے ہیں، 3 ستمبر 2015ء (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


911-22-1

ٹو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی باقیات، 12 ستمبر 2001ء (اے پی)

911-22-2

راہ گیر نائن الیون یادگار کے جنوبی ٹاور پول کے پاس سے گزرتے ہوئے، 3 ستمبر 2015ء (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


911-17-1

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا جنوبی برج گرتا ہوا، 11 ستمبر 2001ء (ایمی سان کیٹا/اے پی)

911-17-2

سٹی ہال کے قریب پارک رو میں کاروبار زندگی جاری، 3 ستمبر 2015ء۔ پیش منظر اتنا زیادہ تبدیل نہیں ہوا لیکن جہاں کبھی ورلڈ ٹریڈ سینٹر ایستادہ تھا، وہاں آج نئی عمارات کھڑی ہیں (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


911-18-1

11 ستمبر 2001ء کی شام گراؤنڈ زیرو کے قریب کی ایک سڑک (مارک لینی ہین/اے پی)

911-18-2

زیریں براڈوے میں 3 ستمبر 2015ء کو میک ڈونلڈز سمیت دیگر کاروبار کھلے ہیں (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


ٹرینٹی گرجے کے قبرستان میں راکھ کے ڈھیر، 11 ستمبر 2001ء (جون لیبریولا)

911-19-2

نئی تعمیرات نے نیو یارک شہر کے تاریخی ٹرینٹی گرجے کے صحن اور قبرستان کے منظر میں ڈیرے ڈال ہیں، 3 ستمبر 2015ء (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارات گرنے کے بعد لوگ گزر رہے ہیں، 11 ستمبر 2001ء (ماریو ٹاما/گیٹی امیجز)

911-20-2

براڈوے اور پارک رو کے چوراہے کے قریب لوگ پیدل چلتے ہیں جبکہ سینٹ پالز کا گرجا اور ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر پس منظر میں واضح ہیں، 4 ستمبر 2015ء (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)


ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے برج گرنے کے بعد لوگ بذریعہ بروکلن پل مین ہٹن سے بروکلن جاتے ہوئے، 11 ستمبر 2001ء (مارک لینی ہین/اے پی)

911-21-2

سیاح بروکلن پل پر پیدل چلتے اور تصاویر لیتے ہوئے، 4 ستمبر 2015ء (گورڈن ڈونووین/یاہو نیوز)



متعلقہ خبریں


عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

مضامین
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم وجود منگل 16 جون 2026
ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم

عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر