وجود

... loading ...

وجود

میرے عزیزہم وطنو!!

منگل 30 جون 2026 میرے عزیزہم وطنو!!

بے لگام / ستارچوہدری

خبریں کبھی تنہا نہیں ہوتیں،ایک خبرمحض ایک واقعہ بتاتی ہے ، لیکن جب کئی خبریں ایک ہی سمت اشارہ کرنے لگیں تو ایک صحافی کا ذہن بے اختیار ان کی کڑیاں ملانا شروع کردیتا ہے ۔گزشتہ چند روز میں ایسی کئی خبریں سامنے آئیں جنہوں نے اسلام آباد کے سیاسی موسم کو غیرمعمولی بنا دیا ہے ۔ پنجاب حکومت کی مبینہ کرپشن سے متعلق فائلوں کے بعض صحافیوں تک پہنچنے کی اطلاعات، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور وزیراعلیٰ کے درمیان کشیدگی کی خبریں، وفاقی وزارتوں میں کھربوں روپے کی بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹس، سابق چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا وائرل انٹرویو جس میں انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کیخلاف نہیں تھے ،سسٹم عمران خان کیخلاف تھا۔ او پھرمنیب فاروق کا یہ انکشاف کہ تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے ہی سال انہیں عمران خان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کی ہدایات ملی تھیں۔پہلی دوخبریں ایک طرف جارہی ہیں،دوسری خبروں کا رخ مخالف سمت ہے ۔ان تمام واقعات کو اگر الگ الگ دیکھا جائے تو شاید یہ معمول کی سیاسی خبریں معلوم ہوں، مگر جب انہیں ایک ساتھ رکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام آباد میں پھرکوئی نئی سیاسی بساط بچھائی جا رہی ہے؟ سہیل وڑائچ کا کالم بھی آپ نے پڑھا ہوگا۔کیا اقتدارکے ایوانوں میں وہی روایتی ہلچل شروع ہو چکی ہے جو اس ملک کی سیاسی تاریخ میں تقریباً ہرحکومت کے تیسرے سال دکھائی دیتی ہے ؟
پاکستان کی سیاست کا ایک عجیب مزاج ہے ، یہاں حکومتیں صرف اپوزیشن سے نہیں لڑتیں، وقت گزرنے کے ساتھ انہیں اپنے ہی نظام، اپنے ہی اتحادیوں، اور بعض اوقات ان طاقتوں سے بھی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے جنہوں نے کبھی ان کے لیے راستہ ہموار کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ جب حکومت اپنی مدت کے درمیانی حصے میں داخل ہوتی ہے تو افواہیں، لیکس، انٹرویوز، انکشافات اورسیاسی سرگرمیاں اچانک بڑھ جاتی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ آخراس بارمقصد کیا ہوسکتا ہے ؟
اب اگران تمام واقعات کو ایک ہی فریم میں رکھ کردیکھا جائے تو چارامکانات سامنے آتے ہیں۔پہلا امکان یہ ہے کہ حکومت پرکچھ اہم آئینی اورسیاسی فیصلوں کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہو، پاکستان کی سیاست میں یہ کوئی نئی بات نہیں، یہاں کئی بارطاقت کا اصل کھیل پارلیمنٹ کے فلورپرنہیں، بلکہ اس کے گرد کھیلا جاتا ہے ، کبھی دباؤ بیانات کی صورت میں آتا ہے ، کبھی اسکینڈلز کی شکل میں، اور کبھی ایسے انکشافات کے ذریعے جو حکمرانوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ” فائلیں ” صرف الماریوں میں نہیں ہوتیں، وقت آنے پر منظرعام پر بھی آ سکتی ہیں۔دوسرا امکان، جو ہماری سیاسی تاریخ میں بارہا دہرایا جا چکا ہے ، یہ ہے کہ شاید موجودہ حکومت اپنی نصف مدت مکمل کرنے کے قریب ہے اور اقتدار کی بساط پر نئی چالیں سوچی جا رہی ہیں، پاکستان میں یہ محض ایک سیاسی روایت نہیں، بلکہ ایک ایسا باب ہے جس کے کئی صفحات ماضی میں لکھے جا چکے ہیں،ہر دورمیں چہرے بدلتے رہے ، کردار بدلتے رہے ، لیکن اسکرپٹ حیرت انگیز حد تک ایک جیسا ہی رہا۔
تیسرا امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں خود مختلف سوچ رکھنے والے حلقے ایک بار پھرمتحرک ہو رہے ہوں، یہ بھی پاکستان کی سیاست کی کوئی انوکھی کہانی نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کے مراکز میں ترجیحات بدلتی ہیں تو اس طرح کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جیسی اب ہے ،عام آدمی کو صرف دھواں دکھائی دیتا ہے ، آگ کہاں لگی ہے ، اس کا علم بہت بعد میں ہوتا ہے ۔اورچوتھا امکان شاید سب سے اہم ہے ،کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سارا شور اصل مسائل پرپردہ ڈالنے کے لیے ہو؟ کیونکہ اس وقت عوام کی گفتگو کا موضوع نہ آئینی ترامیم ہیں، نہ سیاسی جوڑ توڑ،عام آدمی تو آٹے ، بجلی، گیس، روزگار اوربچوں کی فیس کے درمیان پسا ہوا ہے ۔ غربت میں اضافہ، مہنگائی کا دباؤ اورسکڑتی ہوئی قوت خرید وہ حقیقتیں ہیں جن سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، ایسے میں اگر قوم کی نظریں مسلسل سیاسی تماشوں پر جمی رہیں تو سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا؟اسی لیے اس وقت خبروں سے زیادہ، خبروں کے درمیان موجود خاموشیوں کو پڑھنے کی ضرورت ہے ، بعض اوقات اصل خبر وہ نہیں ہوتی جو اسکرین پر چل رہی ہوتی ہے ، بلکہ وہ ہوتی ہے جو ابھی تک اسکرین تک پہنچی ہی نہیں ہوتی۔
ہوسکتا ہے ان چاروں امکانات میں سے کوئی ایک درست ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ حقیقت ان سب سے مختلف ہو، سیاست میں اکثر اصل کہانی وہ نہیں ہوتی جوعوام کو دکھائی جا رہی ہوتی ہے ، بلکہ وہ ہوتی ہے جو پردے کے پیچھے لکھی جا رہی ہوتی ہے ۔لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جس پر نہ کسی تجزیے کی ضرورت ہے ، نہ کسی خفیہ ذریعے کی،اس ملک کا عام آدمی آج بھی مہنگائی، بے روزگاری اورغربت کے ہاتھوں پس رہا ہے ، اسے اس سے غرض نہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں کون کس پر دباؤ ڈال رہا ہے ، کون کس کی فائل کھول رہا ہے ، یا اگلا سیاسی مہرہ کون ہوگا، اس کا ایک ہی سوال ہے ۔ روٹی کب سستی ہوگی؟ روزگارکب ملے گا؟ زندگی کب آسان ہوگی؟اس لیے اسلام آباد میں چاہے بلیک میلنگ ہو رہی ہو، رخصتی کی تیاری ہو رہی ہو، یا پھر یہ سب ہماری سیاست کی ایک پرانی روایت کا نیا باب ہو۔۔۔۔ آنے والے چند ہفتے خود بتا دیں گے کہ ان خبروں کے پیچھے محض دھواں تھا یا واقعی کہیں آگ بھی لگی ہوئی تھی۔فی الحال اتنا ضرورکہا جا سکتا ہے کہ شہر اقتدار میں خاموشی بہت ہے ۔ اور پاکستان کی سیاست میں ضرورت سے زیادہ خاموشی، اکثر کسی بڑے شور کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے ۔آخرمیں یاد آیا،یہ بھی ذہن میں رکھنا۔۔یہ فقرہ سنے بھی کافی عرصہ ہوچکا۔۔ میرے عزیزہم وطنو!!
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

قیامت کا پتھر وجود منگل 30 جون 2026
قیامت کا پتھر

ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ وجود منگل 30 جون 2026
ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ

شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام وجود پیر 29 جون 2026
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر