وجود

... loading ...

وجود

ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ

منگل 30 جون 2026 ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ

ب نقاب /ایم آر ملک

تیل کے بحران اور پیٹرولیم کمپنیوں کے مبینہ منافع خوری کے تحفظ پر ایک صنعتکار وزیر اعظم کے خلاف یہ طوفان کیوں ؟
پورے ملک کی عوام شدید غصے اور بے چینی کی اونچائیوں پر کھڑے حکومت کو کوس رہے ہیں ۔عوام نے اس حساس ترین معاملے پر مہر سکوت توڑتے ہوئے ایک ایسا سوال اٹھا دیا ہے جس نے اقتدار کے ایوانوں اور کارپوریٹ سیکٹر میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عوام حق بجانب ہیں کہ جو آئل کمپنیاں آج عوام کے سامنے بیٹھ کر 104 ارب روپے کے مبینہ نقصان کا رونا رو رہی ہیں وہ پہلے ماضی کے اس ہولناک ظلم کا حساب دیں جب انہوں نے غریب عوام کی جیبوں پر سرعام ڈاکہ ڈالا تھا۔پیٹرولیم کی قیمت 137روپے لیٹر بڑھنے پر آئل کمپنیوں نے 72 ارب کمایا اور 74روپے قیمت کم ہونے پر نقصان 104ارب روپے یہ کیا منطق ہے ؟ یہ کونسی سائنس ہے ؟
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے آغاز پر جب عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال تھی تو ان کمپنیوں نے انتہائی سستے داموں تیل خریدا لیکن اس سستے تیل کو عوام تک پہنچانے کے بجائے راتوں رات پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر کا ریکارڈ توڑ اضافہ کر دیا گیا۔ یہ محض ایک اضافہ نہیں تھا بلکہ مہنگائی کی چکی میں پستی ہوئی معصوم عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نوچنے کا ایک منظم اور بے رحم منصوبہ تھا جس نے کروڑوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے۔
پاکستانی عوام کا مقدمہ میرے جیسے صحافی بھی نہایت جذباتی انداز میں لڑتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ جب پیٹرول کی قیمت میں یکمشت 55 روپے کا ظالمانہ اضافہ کر کے عوام کا خون نچوڑا گیا تھا تو اس وقت ان کمپنیوں کی تجوریوں میں کتنے سو ارب روپے کا ریکارڈ فائدہ منتقل ہوا ؟ اس اندھی کمائی اور بے حساب منافع کا حساب کون دے گا؟ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جب پیٹرولیم کمپنیاں اربوں روپے کا منافع کما کر عیاشیاں کر رہی ہوتی ہیں تو اس وقت وہ اپنا منافع عوام میں کیوں نہیں بانٹتیں لیکن جیسے ہی عالمی منڈی میں معمولی سی تبدیلی آتی ہے تو فورا 104 ارب روپے کے خسارے کا واویلا شروع کر کے حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا جاتا ہے تاکہ قیمتیں مزید بڑھا کر عوام کا کچومر نکالا جا سکے۔
عوامی حلقوں میں یہ بحث اب جواب مانگتی ہے ،اس سوال کی تائید کرتے ہوئے ایک عام پاکستانی کا غصہ قابل دید ہے کہ اب کمپنیوں کی
اس دوغلی پالیسی کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ غریب اور مڈل کلاس طبقہ پہلے ہی بجلی کے بلوں اور بنیادی راشن کی قیمتوں کے بوجھ تلے دب کر سسکیاں لے رہا ہے اور ایسے میں تیل کمپنیوں کا یہ رویہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔کیا ان کمپنیوں کے پچھلے تمام ریکارڈز کا ازسرنو آڈٹ کیا جائیگا ؟ کیا سستے تیل پر کمائے گئے اس اربوں روپے کے فائدے کا حساب لے کر عوام کو ریلیف مل پائے گا۔ کیونکہ اب یہ مظلوم عوام مزید کسی نئے ظلم یا پیٹرول بم کو برداشت کرنے کی سکت بالکل نہیں جب عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 28 فروری پر واپس چلی گئی ہیں تو پاکستان میں پیٹرول 252 روپے پر واپس کیوں نہیں آیا؟ چالیس پچاس روپے کا منافع کون کھا رہا ہے؟
حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی ہوچکی ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی سطح پر جنگی خطرات ٹلنے کے بعد منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اسی سطح پر آ چکی ہیں جہاں یہ 28 فروری کو تھیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والے اس تاریخی ریلیف کا مکمل فائدہ اب بھی غریب اور پپسے ہوئے پاکستانی عوام تک منتقل نہیں کیا جا سکا۔
کیا یہ اعداد و شمار کا ہیر پھیر نہیں ؟
بالفرض فروری کے ریکارڈز اور موجودہ معاشی حقائق پر نظر ڈالی جائے تو پیٹرول کی قیمت 250 سے 252 روپے کے آس پاس ہونی چاہیے تھی۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں حالیہ کچھ کمی تو کی گئی لیکن یہ ریلیف ابھی تک ادھورا ہے۔کیا ایک صنعت کار وزیر اعظم آئل کمپنیوں کے منافع کے تحفظ میں لگا ہوا ہے جبکہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ڈیولپمنٹ لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی وصول کر رہی ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ اچانک قیمتیں کم کرنے سے انہیں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے لیکن عوام کا سوال برقرار ہے کہ کیا ان کمپنیوں کے مبینہ نقصانات کا بوجھ ہمیشہ غریب عوام کی جیبوں پر ہی ڈالا جائے گا؟
عوامی جذبات کی سسکیاں کون سنے گا ؟
پیٹرول صرف ایک ایندھن نہیں بلکہ غریب کے چولہے اور اسکول جاتے بچوں کے کرایوں اور روزمرہ کی دال روٹی کا نام ہے۔جب ایک عام موٹر سائیکل چلانے والا یا ایک رکشہ ڈرائیور یا ایک دیہاڑی دار مزدور پمپ پر کھڑا ہو کر اپنی خون پسینے کی کمائی سے مہنگا پیٹرول خریدتا ہے تو وہ حکمرانوں سے صرف ایک ہی سوال کرتا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں گر چکی ہیں تو ہمارے نصیب میں یہ ریلیف کب آئے گا؟ کیا یہ چالیس پچاس روپے کا منافع ملکی خزانے کو بھرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے یا پھر مافیاز کی جیبوں میں جا رہا ہے؟ عوام اب صرف کھوکھلے دعوے نہیں بلکہ مکمل معاشی انصاف اور پٹرول کی قیمت میں ریلیف کے خواہاں ہیں ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

قیامت کا پتھر وجود منگل 30 جون 2026
قیامت کا پتھر

ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ وجود منگل 30 جون 2026
ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ

شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام وجود پیر 29 جون 2026
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر