... loading ...
محمد آصف
پاکستان اس وقت ماحولیاتی آلودگی کے سنگین مسائل سے دوچار ہے ۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، صنعتی ترقی
میں ماحولیاتی اصولوں کو نظر انداز کرنا، جنگلات کی کٹائی اور وسائل کا غیر محتاط استعمال ہمارے ماحول کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ آلودگی
صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ صحت، معیشت، زرعی پیداوار، آبی وسائل اور آئندہ نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے ۔ اگر ہم
نے بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں اور ہماری آنے والی نسلیں ایک غیر صحت مند ماحول میں
زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گی۔
پاکستان کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے ۔ خصوصاً لاہور، کراچی اور فیصل آباد جیسے صنعتی اور گنجان آباد شہر
اس مسئلے سے شدید متاثر ہیں۔ گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں، اینٹوں کے بھٹوں کا دھواں، کوڑا کرکٹ
جلانا اور تعمیراتی سرگرمیاں فضا میں مضر ذرات کی مقدار میں اضافہ کر رہی ہیں۔ سردیوں میں اسموگ کی صورتِ حال عوام کی صحت کے لیے
بڑا خطرہ بن جاتی ہے ، جس سے سانس، آنکھوں اور دل کے امراض میں اضافہ ہوتا ہے ۔ فضائی آلودگی بچوں، بزرگوں اور مریضوں کے
لیے خاص طور پر نقصان دہ ہے اور یہ مسئلہ روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کرتا ہے ۔
آبی آلودگی بھی پاکستان میں ایک اہم مسئلہ ہے ۔ صنعتوں کا کیمیائی فضلہ اکثر بغیر صفائی کے دریاؤں اور نہروں میں چھوڑ دیا جاتا ہے ،
جبکہ گھریلو گندا پانی بھی بغیر ٹریٹمنٹ کے آبی ذخائر میں شامل ہو جاتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں پینے کا پانی آلودہ ہو جاتا ہے اور ہیضہ، ٹائیفائیڈ
اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ دریائے سندھ جیسے اہم آبی ذخیرے مختلف مقامات پر آلودگی کا شکار ہیں، جس سے نہ صرف انسانی
صحت بلکہ زراعت اور آبی حیات بھی متاثر ہوتی ہے ۔ زیرِ زمین پانی میں کیمیائی مادوں کی آمیزش مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ
ہے جس پر فوری توجہ دینا ضروری ہے ۔
زمینی آلودگی بھی ہمارے ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔ شہروں میں کچرے کے ڈھیر، پلاسٹک بیگز کا بے جا استعمال، زرعی ادویات اور
صنعتی فضلہ زمین کی زرخیزی کو متاثر کر رہے ہیں۔ گلیوں اور سڑکوں پر کوڑا پھینک دینا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے ، جس سے بدبو، جراثیم اور
مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ زرعی شعبے میں کیمیائی کھادوں اور جراثیم کش ادویات کا بے دریغ استعمال زمین کی قدرتی ساخت کو خراب کر رہا
ہے اور اس کے نتیجے میں خوراک کا معیار بھی متاثر ہو رہا ہے ، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔ شہری علاقوں میں صوتی آلودگی بھی
ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے ۔ ٹریفک کا شور، لاؤڈ اسپیکر کا بے جا استعمال، صنعتی مشینری کی آوازیں اور مختلف تقریبات میں اونچی آواز میں
موسیقی ذہنی سکون کو متاثر کرتی ہیں۔ اس سے ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور سماعت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے لوگ اس مسئلے کو زیادہ
اہمیت نہیں دیتے ، حالانکہ اس کے طویل المدت اثرات انسانی صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی بھی
ماحولیاتی آلودگی سے جڑے اہم مسائل ہیں۔ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ پہلے ہی محدود ہے ، لیکن غیر قانونی کٹائی اور ایندھن کے لیے
لکڑی کے استعمال نے اس کمی کو مزید بڑھا دیا ہے ۔ درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے ماحول کو متوازن رکھتے ہیں، مگر
درختوں کی کمی سے درجہ حرارت میں اضافہ اور موسمی بے ترتیبی پیدا ہو رہی ہے ۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہریں، غیر معمولی بارشیں اور
تباہ کن سیلاب اس بات کی علامت ہیں کہ ماحولیاتی توازن بگڑ رہا ہے ۔
حکومت کی جانب سے مختلف شجرکاری مہمات اور ماحولیاتی قوانین متعارف کروائے گئے ہیں، لیکن ان پر مکمل عمل درآمد ایک چیلنج ہے ۔
وسائل کی کمی، نگرانی کا فقدان اور عوامی عدم تعاون اس سلسلے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صنعتی اداروں کی سخت نگرانی کی
جائے ، صاف توانائی کے منصوبوں کو فروغ دیا جائے اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے ۔ آلودگی کے مسئلے کا
حل صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی لانی ہوگی،
جیسے پلاسٹک کے بجائے کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا، پانی اور بجلی کا ضیاع روکنا، کچرا مقررہ جگہ پر پھینکنا اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانا۔
غیر ضروری گاڑی کے استعمال سے گریز اور پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دینا بھی فضائی آلودگی میں کمی لا سکتا ہے ۔ تعلیمی اداروں میں ماحولیاتی
شعور بیدار کرنا اور نئی نسل کو ماحول کی اہمیت سے آگاہ کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔
ہمارے معاشرے میں آلودگی کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ عوام کی غفلت، لاپرواہی اور تربیت کا فقدان ہے ۔ ہم بچپن سے سنتے اور
پڑھتے آ رہے ہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے ، لیکن افسوس کہ اس تعلیم پر عمل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے ۔ گھروں کے اندر صفائی کا
خاص خیال رکھا جاتا ہے مگر جیسے ہی گھر سے باہر نکلتے ہیں تو سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں کچرا پھینکنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ پلاسٹک
کی بوتلیں، چپس کے خالی پیکٹ اور دیگر فضلہ راستے میں پھینک دینا ایک معمولی بات سمجھ لی گئی ہے ، حالانکہ یہی رویہ معاشرتی گندگی اور
بیماریوں کا سبب بنتا ہے ۔ اصل مسئلہ شعور کی کمی نہیں بلکہ عمل کی کمی ہے ؛ ہم جانتے سب کچھ ہیں مگر ذمہ داری قبول نہیں کرتے ۔ اگر ہم اپنی
انفرادی اصلاح سے آغاز کریں، بچوں کی بہتر تربیت کریں اور اجتماعی طور پر صفائی کو اپنا شعار بنا لیں تو ماحول کو صاف اور صحت مند بنانا
مشکل نہیں۔
گندگی اور ماحولیاتی آلودگی کے نتیجے میں نہایت خطرناک اور جان لیوا بیماریاں جنم لیتی ہیں جو معاشرے کے لیے سنگین خطرہ بن جاتی
ہیں۔ سڑکوں اور گلیوں میں پڑا ہوا کچرا جراثیم، بیکٹیریا اور وائرس کی افزائش کا سبب بنتا ہے ، جس سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اور ڈائریا
جیسی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ کھڑا ہوا گندا پانی مچھروں کی افزائش گاہ بن جاتا ہے ، جس سے ڈینگی اور ملیریا جیسے امراض تیزی سے پھیلتے ہیں۔
فضائی آلودگی دمہ، پھیپھڑوں کے انفیکشن اور دل کے امراض کا باعث بنتی ہے ، جبکہ آلودہ پانی گردوں اور جگر کے مسائل کو جنم دیتا ہے ۔
بچے ، بزرگ اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد ان بیماریوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یوں ہماری معمولی سی لاپرواہی نہ
صرف ہماری اپنی صحت بلکہ پورے معاشرے کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتی ہے ، اس لیے صفائی اور ماحول کے تحفظ کو سنجیدگی سے اختیار
کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔
آخرکار یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ صاف اور صحت مند ماحول ہماری بقا کے لیے ناگزیر ہے ۔ اگر ہم آج اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں
گے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی بڑا فرق ڈال سکتے ہیں۔ اگر ہر فرد یہ عہد کر لے کہ وہ
ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے گا تو پاکستان ایک صاف، سرسبز اور خوشحال ملک بن سکتا ہے جہاں صحت مند زندگی ہر شہری کا حق ہو۔
٭٭٭