وجود

... loading ...

وجود

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ

منگل 19 مئی 2026 مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ

عالمی حالات کو جواز بناکر مہنگائی، عام آدمی 2 وقت کی روٹی سے محروم ہوگیا، سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،22 مئی کو ملکگیرمہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک شروعہوگی
حکمران امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے،مسلح گروہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں، حکومت اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں چل رہی ہے،میٹ دی پریس

(رپورٹ:افتخارچوہدری) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک میں دوبارہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں،پاکستان اس وقت شدید سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، جبکہ حکمران عوامی مسائل، امن و امان اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے اور مسلح گروہ فوجی تنصیبات تک کو نشانہ بنا رہے ہیں،موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں چل رہی ہے جبکہ سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،۔یہ بات انہوں نے پیرکوکراچی پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر انہوں نے ملکی سیاسی صورتحال، جمہوریت، آئین، سویلین بالادستی، امن و امان اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں بدامنی عروج پر ہے اور خصوصا بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں صورتحال تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں علیحدگی کی باتیں ہو رہی ہیں تو کہیں بزورِ شمشیر شریعت نافذ کرنے کے نعرے لگ رہے ہیں، جبکہ دیہی سندھ میں ڈاکوں کا راج قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمران طبقات نہ امن و امان کے قیام میں سنجیدہ ہیں اور نہ ہی عوامی معاشی مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے بقول عام آدمی اپنی محنت کی کمائی سے بچوں کی تعلیم اور دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے سے بھی قاصر ہو چکا ہے، جبکہ مہنگائی کے بوجھ تلے عوام کو مسلسل دبایا جا رہا ہے۔جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ بین الاقوامی حالات کو جواز بنا کر عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خدارا اس روش سے باز آجائیں اور ریاستی اداروں کو اتنا مضبوط نہ بنایا جائے کہ پارلیمنٹ بے معنی ہو کر رہ جائے۔مولانا فضل الرحمان نے 2018 اور 2024 کے عام انتخابات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوامی رائے کو تبدیل کیا گیا اور مرضی کی حکومتیں قائم کرنے کے لیے نتائج کو عوامی خواہشات کے برعکس بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ آئین ایک قومی میثاق ہے اور اس کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق اگر آئین کمزور ہو جائے تو ملک میں سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ پارلیمنٹ حقیقی معنوں میں قوم کی نمائندہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے اور مسلح گروہ فوجی تنصیبات تک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ جمعیت علما اسلام نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور عالمی رہنمائوں کی آمد کے باعث احتجاج موخر کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ضد کی سیاست نہیں کرنا چاہتی بلکہ ریاستی وقار اور قومی استحکام کو مقدم سمجھتی ہے۔ ان کے بقول پارٹی ملک میں سیاسی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا بھر میں جمہوریت کمزور دکھائی دے رہی ہے اور طاقتور ممالک کمزور ریاستوں میں مداخلت کرتے ہیں، خصوصا ان ممالک میں جہاں معدنی وسائل موجود ہوں۔28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا، تاہم تمام معاملات آئین اور جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے مذاکرات سے حل ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین آمروں کی مداخلت کے باعث متاثر ہوا، تاہم 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین کو اصل شکل میں بحال کرنے کی کوشش کی گئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ (ن)اور ایم کیو ایم نے بھی کردار ادا کیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اتفاق رائے کو کمزور سمجھنا ملک کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے سویلین بالادستی کے لیے جدوجہد کی، لیکن آج وہی عناصر اس کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔انہوں نے سابق فوجی ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایوب خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں ملک کو نقصان پہنچا اور آئین میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔جے یو آئی سربراہ نے شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دوبارہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں چل رہی ہے، جبکہ سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر