وجود

... loading ...

وجود

آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے!

منگل 19 مئی 2026 آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے!

جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے دورے پہ جانے سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ پر ہمارا کنٹرول ہے، ان کا
کہنا تھا کہ ایران کے موضوع پر چین میں کوئی بات نہیں ہوگی جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر سے آبنائے ہرمزکوکھولنے کے بارے میں
بات کی جس کا انہیں مثبت جواب نہ مل سکا۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ اگر جوہری معاہدہ طے نہ پایا تو وہ
ایران پر محدود فوجی حملے پر غور کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا بھی دعویٰ کیا تھا ۔ امریکہ کی تاریخ میں کسی
صدر نے بھی اس نوعیت کی دھمکیاں کسی ملک کو نہیں دی جو ڈونلڈ ٹرمپ دے رہے ہیں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی حملوں کے بعد سے ایران نے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل میں کلیدی حیثیت رکھنے والی آبی گزرگاہ
آبنائے ہرمزکو موثر طریقے سے بند کر دیا تھا۔ اس بندش کا نتیجہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی صورت میں نکلا ۔خلیج
فارس اور خلیج عمان کے درمیان شمال میں ایران اور جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات سے جڑا آبنائے ہرمز ایک سمندری راستہ ہے
جس میں داخلے اور اخراج کے مقامات تو تقریبا 50 کلومیٹر چوڑے لیکن درمیان میں سب سے تنگ مقام پر اس کی وسعت تقریبا 33
کلومیٹر رہ جاتی ہے۔ اس آبی راستے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں تیل کی مجموعی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ اسی
راستے سے گزرتا ہے یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اندازوں کے مطابق 2025میں تقریبا دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی
مصنوعات روزانہ آبنائے ہرمز سے گزری جس کا تجارتی حجم تقریبا سالانہ چھ سو ارب ڈالر بنتا ہے۔ اس راستے کو صرف ایران ہی تیل کی
تجارت کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ سعودی عرب متحدہ عرب امارات عراق اور کویت جیسے ممالک بھی اپنے گاہکوں خصوصا ایشیائی ممالک کو
اسی راستے سے پہنچاتے ہیں ۔اس کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی
گزرگاہ پر انحصار کرتا ہے۔ کام کے مطابق قطر میں 2024میں نو ارب 30کروڑمکعب فٹ گیس روزانہ کی بنیاد پر برآمد کی ہرمز مشرقی وسطی
سے کھاد کی برآمدات کے لیے بھی ایک اہم راستہ ہے جہاں قدرتی گیس کو پیداواری عمل میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں
کھاد کی تجارت کا تقریبا ایک تہائی حصہ عام طور پرآبنائے ہرمز سے گزرتا ہے ۔اس کے علاوہ یہ آبنائے مشرق وسطی میں خوراک ادویات اور
تکنیکی سامان سمیت دیگر درآمدات کے لیے بھی ایک اہم راستہ ہے ۔اقوام متحدہ کے قوانین ممالک کو اپنی ساحلی پٹی سے 13.8میل تک
علاقائی سمندرکو کنٹرول کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور سب سے تنگ مقام پر آبنائے ہرمز اور اس کا بحری راستہ مکمل طور پر ایران اور عمان
کے علاقائی پانیوں میں واقع ہے۔ ہر ماہ آبنائے ہرمزسے تقریبا تین ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں لیکن حالیہ تنازع کے دوران اس تعداد میں
ڈرامائی طور پر کمی آئی جب ایران نے ٹینکروں اور دیگر بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ ایرانی ڈرونز میزائل تیز رفتار جنگی کشتیاں
اور ممکنہ طور پر آبی بارودی سرنگیں ان بحری جہازوں کے لیے ممکنہ خطرناک تھے ۔ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کسی بھی نوعیت کا
امریکی حملہ جارحیت تصور کیا جائے گا اور اس کا جواب دیا جائے گا۔ جارحیت کی کوئی حد مقرر نہیں کسی بھی نوعیت کا حملہ چاہے محدود ہی کیوں نہ
ہو ،جارحیت کی مثال ہے اور اس کے اپنے نتائج ہوں گے۔
ایران کی فوج کے کمانڈر ان چیف میجر جنرل امیر خاتمی نے کہا ہے کہ موجودہ امریکی کشیدگی کے دوران لاکھوں فوجی ملک کی دفاع کے
لیے جان قربان کرنے کو تیار ہیں۔ فوجی افسران کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دشمن سمجھتا ہے کہ اسے اسلامی
جمہوریہ ایران پر برتری حاصل ہے لیکن عظیم ایران کو نگلا نہیں جا سکتا ۔انہوں نے زور دیا کہ مزاحمت مخالفین کے خلاف سب سے موثر ہتھیار
ہے ۔انہوں نے اس موقع پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی 17 فروری کی تنبیہ کو بھی سراہا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی
طیارہ بردار جہاز سمندر کی تہہ میں بھیجے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام ثابت قدم رہیں گے اور اس خطرناک منصوبے کو ناکام
بنائیں گے، جسے انہوں نے امریکی دھونس قرار دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ امریکہ ناقابل شکست نہیں ہے اور اس کا مظاہرہ پوری دنیا نے
ویتنام افغانستان اور عراق میں دہائیوں پر محیط جنگوں کے دوران دیکھا ہے۔ مذاکرات کے ساتھ ساتھ بظاہر ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے
کی غرض سے واشنگٹن اور تہران کی جانب سے چند اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اس امکان کے لیے
تیاری کر رہی ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی ناکامی پر حملے کا حکم دیں تو ایران کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی
کارروائیاں کی جا سکیں ۔یاد رہے کہ جنوری میں امریکہ نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہیم لنکن اور اس کے ساتھ دیگر بحری جہاز
خلیج میں تعینات کیے تھے اور اس کی بعد جیرالڈ فورڈ بھی مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیا گیا ۔پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر محمد اکبر زادہ
نے کہا کہ خطے میں موجود تمام غیر ملکی بحری جہاز مکمل انٹیلی جنس نگرانی میں ہیں اور ہماری دفاعی صلاحیتوں کی پہنچ میں بھی مسلح افواج پوری
طرح تیار ہیں اور دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔کسی بھی قسم کے خطرے کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق طاقتورپاسداران انقلاب کے زیر انتظام تیز رفتار کشتیوں کا بیڑا روایتی بحری جنگ کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ اس کا
مقصد تنگ کرنا جتھوں کی صورت میں حملہ کرنا دشمن کو الجھانا اور جہاز رانی میں خلل ڈالنا ہے۔ آئی آر جی جانتا ہے کہ وہ روایتی بحری جنگ میں
امریکہ کو شکست نہیں دے سکتا۔ اسی لیے ایران کی حکمت عملی یہ ہے کہ خلیج سے گزرنے والے مال بردار جہازوں کی ملک کمپنیوں کے لیے
خطرات اور اخراجات بڑھائے جائیں ۔کمرشل آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے اور آبنائے ہرمز کو زیادہ خطرناک بنایا جائے ۔اس بیڑے کی
حکمت عملی میں تجارتی جہازوں کے قریب فائرنگ سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانا اور مختلف سمتوں سے تیز رفتار کشتیوں کے جھنڈ کی صورت
میں حملے شامل ہیں۔ یہ چھوٹی تیز رفتار کشتیاں عام طور پر مشین گن راکٹ یا اینٹی شپ میزائلوں سے لیس ہوتی ہیں ۔ان میں سے بہت سی
کشتیاں ایران میں تیار کی گئی ہے جبکہ کچھ کو عام ماہی گیر کے لیے استعمال ہونے والی کشتیوں سے تبدیل کر کے جنگی مقاصد کے لیے استعمال
کیا گیا ہے یہ کشتیاں سستی ہوتی ہیں اور آسانی سے دوبارہ تیار یا تبدیل کی جا سکتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ایران کم لاگت میں تجارتی اور فوجی
جہازوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور عالمی سمندری معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ غور طلب بات یہ کہ ایران بڑی حکمت عملی کے
ساتھ ہر محاذ پر مقابلہ کر رہا ہے۔ اس کی ایک مثال ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا گزشتہ ماہ دورہ روس ہے۔ ایران نے ایک سازگار
سفارتی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب حاصل کی ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے خود کو دوسری بڑی طاقتوں سے بہت کم معنی خیز حمایت
حاصل کی ہے ۔ یورپین نیٹو اتحادیوں نے آبنائے ہرمز میں سرنگوں کے خاتمے اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لینے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے
وہ تنازع میں شامل ہونے کا بہت کم فائدہ دیکھتے ہیں خاص طور پر چونکہ ایران پر حملہ ان کے ساتھ مربوط نہیں تھا۔ خطے میں امریکی اتحادیوں
کو بھی تنازعات کے نتیجے میں خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے کیونکہ فوجی کارروائی سے ان کی سلامتی مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوئی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ تہران ماسکو کے موقف کو اپنے مفادات کے مطابق دیکھتا ہے۔ ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے ایک طاقتور فوجی حملے کا مقابلہ
کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے، جسے اکثر ایک بڑی حکمت عملی کی فتح کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ گزشتہ دو ماہ
کے پیشرفت سے واضح ہوتا ہے کہ ابنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے لیے ایک اسٹریٹیجک ہتھیار کے برابر ہو سکتا ہے جو اسے دفاعی اور ڈیٹرنس
والی حیثیت فراہم کرتا ہے اورآبنائے ہرمز کو ایران نے اپنی ریڈ لائن قرار دیا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے! وجود منگل 19 مئی 2026
آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے!

منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل وجود منگل 19 مئی 2026
منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل

80سال پہلے ۔۔۔۔ وجود منگل 19 مئی 2026
80سال پہلے ۔۔۔۔

شہید گنج سے کمال مولا، بھوج شالہ تک۔ایک میں قانون دوسرے میں عقیدہ غالب وجود منگل 19 مئی 2026
شہید گنج سے کمال مولا، بھوج شالہ تک۔ایک میں قانون دوسرے میں عقیدہ غالب

مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !! وجود پیر 18 مئی 2026
مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر