وجود

... loading ...

وجود

الطاف حسن قریشی کا انتقال پرملال

بدھ 20 مئی 2026 الطاف حسن قریشی کا انتقال پرملال

ریاض احمدچودھری

ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے بانی مدیر محترم الطاف حسن قریشی سترہ مئی کو علی الصبح 93 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ جامعہ اشرفیہ میں ادا کی گئی جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مرحوم کی مغفرت اور درجات کی بلندی کیلئے بطور خاص دعا کی گئی۔
الطاف حسن قریشی نے 1960 میں ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کاآغاز کیا تھا جو گزشتہ 66 سال سے آج تک جاری ہے۔ یہ اندرون ملک و بیرون ملک بہت مقبول جریدہ ہے۔ الطاف حسن قریشی اس میں اداریے کے علاوہ کئی اہم و تاریخی واقعات پر روشنی ڈالتے تھے۔ مرحوم الطاف حسن قریشی کافی عرصہ سے علیل تھے اور چلنے پھرنے سے بھی معذور تھے۔ راقم الحروف نے ان کے ساتھ مالی اشتراک کے ذریعے ملتان سے روزنامہ جسارت کا اجراء کیا تھا اور راقم الحروف اس کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔
محسن انسانیت کے مصنف جناب نعیم صدیقی صاحب کے ذریعے مولانا مودودی کو علم ہوا کہ راقم الحروف ، قریشی صاحب سے مل کر جسارت کا اجراء کر رہا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ کیوں نہ ہم خود کراچی سے روزنامہ جسارت کا اجراء کریں۔ اس مقصد کیلئے راقم الحروف کراچی گیا ور وہاں چودھری غلام محمد مرحوم سابق امیر جماعت اسلامی ، سندھ سے ملاقات ہوئی اور انہیں اپنے ساتھ لے کر نیشنل پریس ٹرسٹ کے سابق چیئرمین اور فاروق ٹیکسٹائل ملز کے سربراہ کے پاس لے گیا ۔ انہوں نے فرمایاکہ چودھری صاحب آپ میرے پاس تشریف لانے کی زحمت نہ فرمائیں۔ میں انشاء اللہ فنڈز کا بندوبست کر کے آپ کو پہنچا دوں گا۔ اس طرح کراچی سے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام روزنامہ جسارت کا اجرا ہوا۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں جسارت پر بار بار پابندیاں لگائی گئیں لیکن یہ اخبار مسلسل جاری رہا جو اب تک کراچی سے شائع ہو رہا ہے۔
الطاف قریشی صاحب اور اعجاز قریشی مرحوم سے میرا تعلق 60 کی دہائی کے ابتدا سے ہے۔اس وقت ان کے خالو قاضی صاحب محکمہ انہار میں ملازم تھے اور ملتان میں قیام پذیر تھے۔ ان ہی کے ذریعے سے ہی میرا الطاف حسن قریشی سے رابطہ ہوا۔ الطاف صاحب سے زندگی میں سینکڑوں ملاقاتوں کا شرف حاصل ہے۔ وہ بہت عمدہ پائے کے مدیر اور وقائع نگار تھے ۔ ان کی ایک کتاب دوہزار سے زائد صفحات پر مشتمل سانحہ مشرقی پاکستان شائع ہوئی جس میں انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا مفصل جائزہ لیا۔ الطاف حسن قریشی کئی کتابوں کے مصنف تھے اور انہوں نے PINAبھی قائم کیا تھا ۔ راقم الحروف نے ان کو بار ہا بڑی تعداد میں کتب کا عطیہ دیا۔
یہاں میں یہ ذکر بھی کرناچاہتا ہوں کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے افضل الرحمن صاحب لندن سے نبی اکرمۖ کی سیرت پاک پر انگریزی میں کئی جلدوں پر مشتمل ایک جامع ایڈیشن شائع کرنا چاہتے ہیں۔میں نے جسٹس انوار الحق صاحب کو اس بارے میں آگاہ کیا اور انہیں میں نے ایک سیٹ فراہم کیا۔ میں نے افضل الرحمن صاحب سے گزارش کی کہ وہ لاہور میں اپنے منصوبہ کے بارے ایک تقریب کا اہتمام کریں۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی جنرل ضیاء الحق شہید تھے۔ افضل الرحمن صاحب داتا دربار کے قریب ایک ہوٹل میں قیام پزیر تھے۔ الطاف حسن قریشی رات کو ان کے پاس موجود تھے ۔ انہوں نے مجھے فون کیا کہ افضل الرحمن صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں اور اب تک جتنی جلدیںشائع ہوئی ہیں ان کا ایک سیٹ آپ کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے الطاف صاحب سے گزارش کی کہ آپ یہ سیٹ وصول کر لیں۔میں آپ سے لے لوںگا۔ افضل الرحمن صاحب تفصیلی ملاقات بھی چاہتے تھے لیکن میں نے گزارش کی کہ میں اس تقریب کی تفصیلی رپورٹ تیار کررہاہوں اس لئے آج آپ سے ملاقات نہیں ہو سکتی۔
الطاف حسن قریشی3 مارچ، 1932ء کو سرسہ ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔الطاف حسن قریشی کا صحافت کی دنیا میں بے پناہ کام ہے۔ صحافت میں اْن کے ذکر کے بغیر آپ آگے نہیں چل سکتے۔ الطاف حسن قریشی نے صحافت میں انمٹ نقوش قائم کیے ہیں۔ اْن کے صحافت میں ان گنت کارنامے ہیں۔ وہ صحافت کے لیجنڈ ہیں۔ ماضی سے حال تک ان کا کام پھیلا ہوا ہے۔ مستقبل بھی اْنکے عہد اور کارناموں سے معمور رہے گا۔ 2019ء میں اْن پر ایک اہم کتاب ”الطافِ صحافت” شائع ہوئی ہے جسے ڈاکٹر طاہر مسعود نے مرتب کیا ہے۔2020ء میں ان کی شخصیت پر چھپنے والی کتاب ”الطاف قریشی مدیر اعلیٰ اردو ڈائجسٹ کی شخصیت اور صحافی و ادبی خدمات” میں طاہر مسعود نے ان پر چھپنے والے مضامین کو ایک کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے ان کے بارے میں لکھا ہے۔ اردو ڈائجسٹ ہر اعتبار سے دوسرے وسائل سے مختلف ہے۔ اس کے اندر وہ کچھ تھا جو کہیں اور نہیں تھا۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کر ے


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان میں آلودگی کے مسائل اور ہماری ذمہ داری وجود بدھ 20 مئی 2026
پاکستان میں آلودگی کے مسائل اور ہماری ذمہ داری

الطاف حسن قریشی کا انتقال پرملال وجود بدھ 20 مئی 2026
الطاف حسن قریشی کا انتقال پرملال

ہم کام کو عشق سمجھتے تھے! وجود بدھ 20 مئی 2026
ہم کام کو عشق سمجھتے تھے!

آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے! وجود منگل 19 مئی 2026
آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے!

منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل وجود منگل 19 مئی 2026
منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر