... loading ...
عطا محمد تبسم
پاکستان میں فلاحی کاموں کا دائرہ نہایت وسیع ہے ، جہاں ہزاروں غیر سرکاری تنظیمیں مختلف سطحوں پر سرگرم عمل ہیں۔ اگرچہ ان میں
سے ایک محدود تعداد ہی باقاعدہ رجسٹرڈ ہے ، مگر غیر رجسٹرڈ اداروں کی بڑی تعداد اس شعبے کی اصل وسعت کو ظاہر کرتی ہے ۔ عطیات،
خیرات اور سماجی خدمات کے ذریعے یہ شعبہ نہ صرف اربوں روپے کے مالی بہاؤ کو سنبھالتا ہے بلکہ قومی معیشت میں بھی اپنا حصہ ڈالتا ہے ۔
پاکستانی معاشرہ اپنی آمدنی کا ایک قابلِ ذکر حصہ فلاحی کاموں پر خرچ کرتا ہے ، جو اس قوم کے اندر موجود ہمدردی، ایثار اور انسان دوستی کے
جذبے کا واضح ثبوت ہے ۔ پاکستان میں اس وقت 18 ہزار سے زائد غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) کام کر رہی ہیں، جن میں سے
صرف 1ہزار کے قریب باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں۔ صوبائی اور مقامی سطح پر فعال چھوٹی بڑی تنظیموں کو شامل کیا جائے تو ان کی کل تعداد 67,000
سے زائد ہے ۔ ان غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کا مجموعی مالیاتی حجم سالانہ 250 ارب روپے سے زیادہ ہے ۔ پاکستان میں لوگ
اپنی آمدنی کا بڑا حصہ (تقریباً 1 فیصد جی ڈی پی) فلاحی کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ شعبہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار(GDP)
میں 0.5 فیصد کے قریب حصہ ڈالتا ہے ۔ ان فلاحی اداروں میں سے چند ہی ہیں، جو کسی منصوبہ بندی ، اور ٹھوس بنیادوں پر کام کررہے
ہیں۔ الخدمت فاونڈیشن، شوکت میموریل اسپتال، ایدھی ٹرسٹ ،آغا خان فاونڈیشن ، سیلانی ویلفر، یہ تنظیمیں تعلیم، صحت اور غربت کے
خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے مقابلے میں کچھ تنظیموں پر وقتاً فوقتاً یہ الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ وہ فنڈز کا درست
استعمال نہیں کرتیں یا ان کی رجسٹریشن اور آڈٹ کا نظام کمزور ہوتا ہے ۔لیکن ان تمام اعداد و شمار اور ادارہ جاتی سرگرمیوں کے پیچھے اصل
طاقت ہمیشہ ایک فرد کی نیت، لگن اور مسلسل محنت ہوتی ہے ۔ ایک آدمی بظاہر محدود کام کر سکتا ہے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہی ایک شخص جب کسی
خیال، کسی مقصد یا کسی منصوبے کو اپنا لے ، تو پھر پوری لگن اور محنت کے ساتھ اسے پایئہ تکمیل تک پہنچاتا ہے ، اور اس کے شاندار نتائج بھی
سامنے آتے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے کام کسی ہجوم نے نہیں بلکہ ایک سوچ رکھنے والے فرد نے شروع کیے ، اور پھر وہی سوچ ایک
تحریک بن گئی۔ ڈاکٹر فیاض عالم کی زندگی اسی حقیقت کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے ۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ضرور ہیں، مگر ان کی اصل
پہچان ایک ایسے سماجی کارکن کی ہے جو خدمتِ خلق کو محض ذمہ داری نہیں بلکہ عشق سمجھتے ہیں۔
کراچی سے لے کر تھر کے ریگستانوں تک، انہوں نے خاموشی سے ایسے منصوبے شروع کیے جنہوں نے لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی
تبدیلی پیدا کی۔ فلاحی ہسپتالوں کا قیام، پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی روشنی پھیلانا، اور بنجر زمینوں کو کارآمد بنانے کی کوششیںیہ سب ان کی
سوچ اور عمل کا حصہ رہے ہیں۔ خاص طور پر تھر کے علاقے میں ان کی کاوشیں ایک مثال بن چکی ہیں، جہاں انہوں نے صرف خواب نہیں دکھائے بلکہ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دیا۔
ڈاکٹر فیاض عالم کی جدوجہد کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے معاشی خود کفالت کے نئے راستے متعارف کروائے ۔ جنگلی زیتون کے درختوں کی افادیت کو اجاگر کرنا ہو یا ڈریگن فروٹ اور ایووکاڈو جیسی مہنگی فصلوں کی کاشت کو فروغ دینا، انہوں نے لوگوں کو یہ سکھایا کہ کس طرح جدید انداز اپناتے ہوئے اپنی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔ منصورہ ہالا سندھ کے مدرسہ اور اس کی زمینوں پر آم اور دیگر پھلوں کے درختوں سے آمدنی میں اضافہ ان کا شاندار کارنامہ ہے ۔ اسی طرح انہوں نے دینی خدمات میں بھی اپنا کردار ادا کیا، قرآن مجید کے تراجم مختلف زبانوں میں ریکارڈ کرائے اور دستاویزی فلموں کے ذریعے شعور اجاگر کیا۔
صحرائے تھر میں انہوں نے بنجر زمین کو گلزار بنانے کا جو سلسلہ شروع کیا، اس نے بہت سے لوگوں کو اس جانب متوجہ کیا، حتیٰ کہ حکومت نے بھی اس طرف توجہ دینا شروع کی۔ انہوں نے سندھ کے مختلف علاقوں میں فلاحی ہسپتال قائم کیے اور نعمت اللہ خان کے ساتھ خدمتِ خلق کے میدان میں سرگرم رہے ۔ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی روشنی پھیلائی، جبکہ پہاڑی علاقوں میں جنگلی زیتون کے درختوں کی افادیت کو اجاگر کر کے لوگوں کو اس سے روزگار کمانا سکھایا۔کورونا کے دنوں میں حکومت کا ایک بڑا منصوبہ، انفیکشن ڈیزیز کارڈ تھری کیئر ہسپتال، بھی ان کی ایک تجویز پر قائم کیا گیا۔
ان کی قائم کردہ دعا فاؤنڈیشن آج ایک سایہ دار درخت کی مانند لوگوں کو سہارا فراہم کر رہی ہے ۔ڈاکٹر فیاض عالم نے کراچی میں متعدد منصوبوں پر پسِ پردہ رہتے ہوئے کام کیا، اور اب انہوں نے برسوں کے تجربات اور واقعات کو یکجا کر کے تحریری شکل میں ہم کام کو عشق سمجھتے تھے ” نام سے شائع کیا ہے ۔ تاکہ یہ سفر دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن سکے ۔ ان کی یہ کاوش واقعی اس ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔یہ ایک نہایت اہم اور فکر انگیز کتاب ہے ، جو ڈاکٹر فیاض عالم کی ذاتی زندگی اور ان کی بے لوث سماجی جدوجہد کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے ، اور ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک فرد بھی اگر چاہے تو پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے ۔ کتاب میں جہاں ڈاکٹر صاحب کے اپنے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے ، وہیں ان کے مخلص ساتھیوں اور میڈیا کی طاقت کا بھی ذکر کیا ہے ۔اس کتاب میں جگہ جگہ الخدمت اور جماعت اسلامی، پیما، حنفیہ پبلک اسکول، بیٹھک اسکول، تھرپارکر میں فلاحی سرگرمیاں اور دیگر متعدد رفاہی اقدامات کی تفصیل بھی اس میں شامل ہے ۔یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک فرد کس طرح اپنی انفرادی کوشش کو اجتماعی جدوجہد میں بدل سکتا ہے ، اور کیسے اپنے خاندان کو اس مشن کا حصہ بنا کر اسے مضبوط سہارا فراہم کرتا ہے ان کی کتاب دراصل ایک ایسی داستان ہے جو صرف ان کی ذاتی زندگی تک محدود نہیں بلکہ ایک پورے نظریے کی نمائندگی کرتی ہے ۔ یوں یہ تحریر صرف ایک سرگزشت نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے ایک پیغام کہ خدمتِ انسانیت کا راستہ ہمیشہ کھلا ہے ، بس کسی ایک شخص کو پہلا قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
٭٭٭