وجود

... loading ...

وجود

ہم کام کو عشق سمجھتے تھے!

بدھ 20 مئی 2026 ہم کام کو عشق سمجھتے تھے!

عطا محمد تبسم

پاکستان میں فلاحی کاموں کا دائرہ نہایت وسیع ہے ، جہاں ہزاروں غیر سرکاری تنظیمیں مختلف سطحوں پر سرگرم عمل ہیں۔ اگرچہ ان میں
سے ایک محدود تعداد ہی باقاعدہ رجسٹرڈ ہے ، مگر غیر رجسٹرڈ اداروں کی بڑی تعداد اس شعبے کی اصل وسعت کو ظاہر کرتی ہے ۔ عطیات،
خیرات اور سماجی خدمات کے ذریعے یہ شعبہ نہ صرف اربوں روپے کے مالی بہاؤ کو سنبھالتا ہے بلکہ قومی معیشت میں بھی اپنا حصہ ڈالتا ہے ۔
پاکستانی معاشرہ اپنی آمدنی کا ایک قابلِ ذکر حصہ فلاحی کاموں پر خرچ کرتا ہے ، جو اس قوم کے اندر موجود ہمدردی، ایثار اور انسان دوستی کے
جذبے کا واضح ثبوت ہے ۔ پاکستان میں اس وقت 18 ہزار سے زائد غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) کام کر رہی ہیں، جن میں سے
صرف 1ہزار کے قریب باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں۔ صوبائی اور مقامی سطح پر فعال چھوٹی بڑی تنظیموں کو شامل کیا جائے تو ان کی کل تعداد 67,000
سے زائد ہے ۔ ان غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کا مجموعی مالیاتی حجم سالانہ 250 ارب روپے سے زیادہ ہے ۔ پاکستان میں لوگ
اپنی آمدنی کا بڑا حصہ (تقریباً 1 فیصد جی ڈی پی) فلاحی کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ شعبہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار(GDP)
میں 0.5 فیصد کے قریب حصہ ڈالتا ہے ۔ ان فلاحی اداروں میں سے چند ہی ہیں، جو کسی منصوبہ بندی ، اور ٹھوس بنیادوں پر کام کررہے
ہیں۔ الخدمت فاونڈیشن، شوکت میموریل اسپتال، ایدھی ٹرسٹ ،آغا خان فاونڈیشن ، سیلانی ویلفر، یہ تنظیمیں تعلیم، صحت اور غربت کے
خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے مقابلے میں کچھ تنظیموں پر وقتاً فوقتاً یہ الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ وہ فنڈز کا درست
استعمال نہیں کرتیں یا ان کی رجسٹریشن اور آڈٹ کا نظام کمزور ہوتا ہے ۔لیکن ان تمام اعداد و شمار اور ادارہ جاتی سرگرمیوں کے پیچھے اصل
طاقت ہمیشہ ایک فرد کی نیت، لگن اور مسلسل محنت ہوتی ہے ۔ ایک آدمی بظاہر محدود کام کر سکتا ہے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہی ایک شخص جب کسی
خیال، کسی مقصد یا کسی منصوبے کو اپنا لے ، تو پھر پوری لگن اور محنت کے ساتھ اسے پایئہ تکمیل تک پہنچاتا ہے ، اور اس کے شاندار نتائج بھی
سامنے آتے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے کام کسی ہجوم نے نہیں بلکہ ایک سوچ رکھنے والے فرد نے شروع کیے ، اور پھر وہی سوچ ایک
تحریک بن گئی۔ ڈاکٹر فیاض عالم کی زندگی اسی حقیقت کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے ۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ضرور ہیں، مگر ان کی اصل
پہچان ایک ایسے سماجی کارکن کی ہے جو خدمتِ خلق کو محض ذمہ داری نہیں بلکہ عشق سمجھتے ہیں۔
کراچی سے لے کر تھر کے ریگستانوں تک، انہوں نے خاموشی سے ایسے منصوبے شروع کیے جنہوں نے لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی
تبدیلی پیدا کی۔ فلاحی ہسپتالوں کا قیام، پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی روشنی پھیلانا، اور بنجر زمینوں کو کارآمد بنانے کی کوششیںیہ سب ان کی
سوچ اور عمل کا حصہ رہے ہیں۔ خاص طور پر تھر کے علاقے میں ان کی کاوشیں ایک مثال بن چکی ہیں، جہاں انہوں نے صرف خواب نہیں دکھائے بلکہ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دیا۔
ڈاکٹر فیاض عالم کی جدوجہد کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے معاشی خود کفالت کے نئے راستے متعارف کروائے ۔ جنگلی زیتون کے درختوں کی افادیت کو اجاگر کرنا ہو یا ڈریگن فروٹ اور ایووکاڈو جیسی مہنگی فصلوں کی کاشت کو فروغ دینا، انہوں نے لوگوں کو یہ سکھایا کہ کس طرح جدید انداز اپناتے ہوئے اپنی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔ منصورہ ہالا سندھ کے مدرسہ اور اس کی زمینوں پر آم اور دیگر پھلوں کے درختوں سے آمدنی میں اضافہ ان کا شاندار کارنامہ ہے ۔ اسی طرح انہوں نے دینی خدمات میں بھی اپنا کردار ادا کیا، قرآن مجید کے تراجم مختلف زبانوں میں ریکارڈ کرائے اور دستاویزی فلموں کے ذریعے شعور اجاگر کیا۔
صحرائے تھر میں انہوں نے بنجر زمین کو گلزار بنانے کا جو سلسلہ شروع کیا، اس نے بہت سے لوگوں کو اس جانب متوجہ کیا، حتیٰ کہ حکومت نے بھی اس طرف توجہ دینا شروع کی۔ انہوں نے سندھ کے مختلف علاقوں میں فلاحی ہسپتال قائم کیے اور نعمت اللہ خان کے ساتھ خدمتِ خلق کے میدان میں سرگرم رہے ۔ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی روشنی پھیلائی، جبکہ پہاڑی علاقوں میں جنگلی زیتون کے درختوں کی افادیت کو اجاگر کر کے لوگوں کو اس سے روزگار کمانا سکھایا۔کورونا کے دنوں میں حکومت کا ایک بڑا منصوبہ، انفیکشن ڈیزیز کارڈ تھری کیئر ہسپتال، بھی ان کی ایک تجویز پر قائم کیا گیا۔
ان کی قائم کردہ دعا فاؤنڈیشن آج ایک سایہ دار درخت کی مانند لوگوں کو سہارا فراہم کر رہی ہے ۔ڈاکٹر فیاض عالم نے کراچی میں متعدد منصوبوں پر پسِ پردہ رہتے ہوئے کام کیا، اور اب انہوں نے برسوں کے تجربات اور واقعات کو یکجا کر کے تحریری شکل میں ہم کام کو عشق سمجھتے تھے ” نام سے شائع کیا ہے ۔ تاکہ یہ سفر دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن سکے ۔ ان کی یہ کاوش واقعی اس ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔یہ ایک نہایت اہم اور فکر انگیز کتاب ہے ، جو ڈاکٹر فیاض عالم کی ذاتی زندگی اور ان کی بے لوث سماجی جدوجہد کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے ، اور ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک فرد بھی اگر چاہے تو پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے ۔ کتاب میں جہاں ڈاکٹر صاحب کے اپنے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے ، وہیں ان کے مخلص ساتھیوں اور میڈیا کی طاقت کا بھی ذکر کیا ہے ۔اس کتاب میں جگہ جگہ الخدمت اور جماعت اسلامی، پیما، حنفیہ پبلک اسکول، بیٹھک اسکول، تھرپارکر میں فلاحی سرگرمیاں اور دیگر متعدد رفاہی اقدامات کی تفصیل بھی اس میں شامل ہے ۔یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک فرد کس طرح اپنی انفرادی کوشش کو اجتماعی جدوجہد میں بدل سکتا ہے ، اور کیسے اپنے خاندان کو اس مشن کا حصہ بنا کر اسے مضبوط سہارا فراہم کرتا ہے ان کی کتاب دراصل ایک ایسی داستان ہے جو صرف ان کی ذاتی زندگی تک محدود نہیں بلکہ ایک پورے نظریے کی نمائندگی کرتی ہے ۔ یوں یہ تحریر صرف ایک سرگزشت نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے ایک پیغام کہ خدمتِ انسانیت کا راستہ ہمیشہ کھلا ہے ، بس کسی ایک شخص کو پہلا قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان میں آلودگی کے مسائل اور ہماری ذمہ داری وجود بدھ 20 مئی 2026
پاکستان میں آلودگی کے مسائل اور ہماری ذمہ داری

الطاف حسن قریشی کا انتقال پرملال وجود بدھ 20 مئی 2026
الطاف حسن قریشی کا انتقال پرملال

ہم کام کو عشق سمجھتے تھے! وجود بدھ 20 مئی 2026
ہم کام کو عشق سمجھتے تھے!

آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے! وجود منگل 19 مئی 2026
آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے!

منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل وجود منگل 19 مئی 2026
منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر