... loading ...
بے لگام / ستارچوہدری
ایک گاؤں میں چند غریب کسانوں کے مویشی چوری ہو گئے ، پولیس نے حیران کن پھرتی دکھائی، چورپکڑے گئے ، مویشی بھی برآمد ہو گئے ۔ بظاہر کہانی یہیں ختم ہو جانی چاہیے تھی، مگراصل کہانی تواب شروع ہوتی ہے ،چورطاقتور تھے ،علاقے میں ان کا خوف تھا،وہ۔۔ وہ لوگ تھے جن کے سامنے گواہ اپنی زبانیں نگل جاتے ہیں اورسچ اپنی ہی قبرکھود لیتا ہے ،چنانچہ جب اصل مالکان عدالت پہنچے توانہوں نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا،جناب !! نہ ہمارے مویشی چوری ہوئے ہیں، نہ یہ ہمارے مویشی ہیں، یہ وہ لمحہ تھا جہاں قانون مرگیا، کیونکہ عدالت کے سامنے سچ موجود تھا، چورموجود تھے ، چوری شدہ مویشی موجود تھے ، مگرقانون کہتا تھا،گواہ نہیں تو جرم بھی نہیں۔۔ پھرپولیس نے وہ کیا جو اکثر کمزورریاستوں میں ہوتا ہے ،انہوں نے سچ کونہیں بچایا، صرف مقدمہ بچا لیا،نئے جعلی مالک کھڑے کیے گئے ، عدالت مطمئن ہو گئی، چور سزا پا گئے ۔۔ اورمویشیوں کی قیمت پولیس اورجعلی گواہوں میں تقسیم ہو گئی۔۔اصل مالک؟ وہ خاموش کھڑا دیکھتا رہا، اس کے مویشی بھی چلے گئے ۔ اورانصاف بھی!
یہ تھا، قیام پاکستان سے پہلے کا ہندوستان۔ایک ایسا ہندوستان جہاں قانون انگریزکا تھا،عدالت انگریزکی تھی، پولیس انگریزکی تھی، مگرانصاف کہیں نہیں تھا۔۔ کیوں ؟ انگریز نے اس خطے میں ایک ایسا نظام چھوڑا تھا جہاں حقیقت سے زیادہ کاغذ کی عزت تھی،جہاں مظلوم کی چیخ نہیں، بیان کی سطریں دیکھی جاتی تھیں۔ جہاں انصاف اندھا نہیں تھا، بلکہ خوف کے سامنے بے بس تھا۔یہ صرف ایک گاؤں کی کہانی نہیں تھی،یہ اس پورے نظام کا تعارف تھا جو برصغیر پرقانون کے نام پرمسلط کیا گیا،ایک ایسا نظام جہاں انصاف کی تلاش اکثرانسان کو خود مجرم بنا دیتی ہے ۔
چند برس بعد ایک اورواقعہ پیش آیا،ایک کچے گھر کی دیوارتوڑ کرچوررات کے اندھیرے میں سامان لے گئے ،غریب آدمی کی جمع پونجی، چند برتن، تھوڑا زیور، کچھ نقدی۔ وہ سب کچھ جسے امیر لوگ معمولی نقصان کہتے ہیں، مگرغریب کیلئے وہی پوری زندگی ہوتا ہے ۔پولیس نے اس باربھی غیر معمولی محنت کی، چورپکڑے گئے ، تفتیش ہوئی،ملزمان نے نشان دہی کی، چوری شدہ سامان بھی برآمد ہو گیا،لیکن مسئلہ یہ تھا کہ سامان کسی ملزم کے گھر سے نہیں ملا تھا،وہ ایک غیرآباد جگہ زمین میں دفن تھا۔اب ذرا عدالت کا منظر دیکھیے ،سامان موجود، چورموجود، متاثرہ خاندان موجود۔ اور سامنے قانون کی موٹی کتاب کھلی ہوئی، پھر وہی سوال کھڑا ہوگیا۔کیا یہ ثابت ہے کہ سامان ملزمان کے قبضے میں تھا؟ کیونکہ برطانوی قانون کہتا تھا کہ صرف شک کافی نہیں،شہادت ایسی ہونی چاہیے جوکتاب کے ہر صفحے پر پوری اترے ،چنانچہ وہ شخص جس نے چوری کی تھی، صرف اس لیے بے گناہ قرار پا سکتا تھا کہ اس نے مال اپنے گھر میں رکھنے کے بجائے ویرانے میں دفن کیا تھا۔یہاں قانون انصاف نہیں ڈھونڈ رہا تھا، بلکہ اپنی تکنیکی تسکین تلاش کررہا تھا،یوں لگتا تھا جیسے عدالتیں انسانوں کیلئے نہیں، فائلوں کیلئے بنائی گئی ہوں، جیسے جج جرم نہیں، صرف قانونی خلا تلاش کرتے ہوںاور سب سے تلخ حقیقت یہ تھی کہ اس کھیل میں ہار ہمیشہ غریب آدمی کی ہوتی تھی،کیونکہ طاقتورقانون کو پڑھ لیتے ہیں، کمزورصرف سزا بھگتتے ہیں۔
یہ واقعات کسی چائے خانے میں سنائی جانے والی کہانیاں نہیں ،انہیں ایک ایسے شخص نے لکھا تھا جو خود اس نظام کا حصہ رہا،نام تھا ” پینڈرل مون ”۔۔۔۔۔برطانوی افسر، جج بھی رہا، کمشنر بھی، برصغیر کے شہروں، دیہاتوں، عدالتوں اور تھانوں کو قریب سے دیکھا، وہ ہندوستان آیا تھا حکومت کرنے ، مگرواپس جاتے ہوئے اس نے اعتراف لکھا،ایسا اعتراف جو آج بھی ہمارے عدالتی ایوانوں پرہتھوڑے کی طرح گونجتا ہے ۔ اپنی کتاب ” سٹرینجرز ان انڈیا ”۔۔۔ میں وہ لکھتے ہیں کہ برطانیہ نے ہندوستان میں جو قانونی نظام نافذ کیا، وہ اس خطے کیلئے موزوں ہی نہیں تھا،یہ قانون شاید لندن کے مہذب ڈرائنگ رومز کیلئے بنایا گیا تھا، مگر اسے ان بستیوں پر مسلط کر دیا گیا جہاں لوگ خوف، غربت، وڈیروں، تھانوں اورطاقتور خاندانوں کے درمیان سانس لیتے تھے ،پینڈرل مون نے دیکھا کہ یہاں عدالت میں سچ بولنے کیلئے صرف ایمان نہیں، جان بھی چاہیے ہوتی ہے ،یہاں گواہ عدالت نہیں جاتے ، جنازوں میں بدل جاتے ہیں،یہاں مظلوم انصاف لینے سے پہلے اپنے بچوں کی سلامتی کا حساب لگاتا ہے ۔ مگر قانون؟وہ اب بھی کتاب کے صفحوں میں قید تھا،اسے نہ خوف دکھائی دیتا تھا، نہ طاقت کا عدم توازن، نہ سماجی حقیقتیں۔اور پھرایک عجیب تماشا شروع ہوا، عدالتیں انصاف کے مراکز کم اور قانونی موشگافیوں کے اکھاڑے زیادہ بنتی گئیں، وکیل سچ نہیں، سقم تلاش کرنے لگے ، پولیس جرم نہیں، کیس بنانے لگی ۔۔اورطاقتور لوگ قانون کو ڈھال بنا کراسی معاشرے پر حکومت کرنے لگے جسے قانون نے تحفظ دینا تھا۔۔۔
پینڈرل مون نے تقریباً اسی سال پہلے جو لکھا تھا، وہ آج بھی پاکستانی عدالتوں کی دیواروں سے ٹکرا کرواپس آتا ہے ،فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت کرسی پرانگریزبیٹھا تھا، آج ہم خود بیٹھے ہیں،مگرعام آدمی اب بھی وہی کھڑا ہے ۔۔عدالت کے باہر، فائل ہاتھ میں لیے ، انصاف کا انتظار کرتا ہوا۔
٭٭٭