وجود

... loading ...

وجود

دومنڈیاں ۔۔۔۔۔

جمعه 08 مئی 2026 دومنڈیاں ۔۔۔۔۔

بے لگام / ستار چوہدری

رات کے پچھلے پہرجب شہرسوجاتا ہے ، توکچھ آوازیں جاگتی ہیں۔ دھیمی، مگرمسلسل، یہ آوازیں ہمیں جگانے کیلئے نہیں ہوتیں، ہمیں بے چین رکھنے کیلئے ہوتی ہیں، کہیں سرحدوں کے سائے لمبے کردیے جاتے ہیں، کہیں خطرے کو اتنا قریب دکھایا جاتا ہے کہ سانس لینا بھی مشکوک لگنے لگے ۔ اور کہیں آگ کو اتنا بھڑکا کرپیش کیا جاتا ہے کہ انسان اپنے ہی اعمال سے زیادہ اپنے انجام سے ڈرنے لگتا ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے اس ملک میں دو طرح کے خوف نے باقاعدہ دکانیں سجا رکھی ہیں، ایک وہ خوف جو ہمیں باہرکی طرف دیکھنے پرمجبور کرتا ہے ، ہرطرف دشمن، ہر طرف سازش، ہرطرف خطرہ۔اوردوسرا وہ خوف جوہمیں اندرکی طرف جھکاتا ہے ،ہرقدم پرگناہ، ہرلمحہ پکڑ، ہرسانس کے ساتھ حساب۔ ان دونوں خوفوں کے درمیان ایک عام آدمی پس رہا ہے ، وہ صبح خبروں سے ڈرتا ہے اور رات وعظ سے ، وہ اپنے حال سے مطمئن نہیں ہوپاتا۔ اوراپنے مستقبل سے مطمئن ہونے نہیں دیا جاتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ خوف جتنا بڑھتا ہے ، کچھ چہروں کی رونق اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے ۔ ان کے لہجوں میں یقین ہوتا ہے ، ان کے انداز میں اختیار۔ اوران کے اردگرد وسائل کا ایک ایسا حصار، جو خوف سے آزاد دکھائی دیتا ہے ۔ اورعام آدمی؟ وہ اپنی جیب سے صرف پیسہ نہیں نکالتا۔ وہ اپنی نیند، اپنا سکون۔اورآہستہ آہستہ اپنی سوچ بھی نکال کران دکانوں پر رکھ آتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوال جنم لیتا ہے ، کیا واقعی خطرہ اتنا بڑا ہے ۔ یا ہمیں بس اسے بڑا دیکھنے کی عادت ڈال دی گئی ہے ؟
خوف کی یہ منڈی صرف آوازوں سے نہیں چلتی، اس کے اپنے اصول ہیں، اپنے ہتھکنڈے ہیں۔ سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ خطرہ کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے ، کیونکہ جس دن خطرہ ختم ہوا، اس دن دکان بھی بند ہو جائے گی، اسی لیے کبھی سرحدیں مکمل پُرسکون نہیں دکھائی جاتیں۔ اورکبھی انسان کو مکمل معاف ہونے کی امید نہیں دی جاتی،کہیں نہ کہیں ایک شگاف ضرورچھوڑدیا جاتا ہے ، تاکہ دل ہروقت کسی نہ کسی اندیشے میں الجھا رہے ۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ سوال کم سے کم ہوں، خوف میں مبتلا انسان سوال نہیں کرتا، وہ صرف بچنے کی کوشش کرتا ہے ۔اسے یہ سوچنے کی فرصت ہی نہیں دی جاتی کہ جس خطرے سے وہ ڈر رہا ہے ، کیا وہ واقعی اتنا ہی قریب اوراتنا ہی بڑا ہے ؟ پھر آہستہ آہستہ یہ خوف عادت بن جاتا ہے ،انسان اسے چیک کرنا چھوڑ دیتا ہے ، پرکھنا چھوڑ دیتا ہے ، وہ ہراونچی آواز کو سچ، اورہ سخت بات کو حقیقت مان لیتا ہے ۔ اوریہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں کمائی شروع ہوتی ہے ، صرف پیسے کی نہیں، اثرو رسوخ کی، اختیارکی۔۔۔ اورذہنوں پرحکمرانی کی۔ کیونکہ جس معاشرے کے لوگ مسلسل ڈرے ہوئے ہوں، وہ مزاحمت نہیں کرتے ۔ وہ رہنمائی ڈھونڈتے ہیں۔ اورجورہنمائی دیتا ہے ، وہی راستہ بھی طے کروا دیتا ہے ۔ سوال یہ نہیں کہ خوف کہاں سے آ رہا ہے ، سوال یہ ہے کہ ہمیں اس کے بغیر جینا کیوں مشکل لگنے لگا ہے ؟
یہ خوف مفت نہیں ملتا،اس کی قیمت ہوتی ہے ۔ کبھی پیسے کی صورت میں، کبھی اطاعت کی شکل میں۔اور کبھی خاموشی کی صورت میں، جب انسان کو مسلسل یہ یقین دلا دیا جائے کہ وہ خطرے میں ہے ، تو وہ اپنی آزادی خود گروی رکھ دیتا ہے ، وہ سوال کرنے کے حق سے پیچھے ہٹ جاتا ہے ، وہ اختلاف کو خطرہ سمجھنے لگتا ہے ۔اورخاموشی کو حفاظت، یہیں سے وہ دائرہ مکمل ہوتا ہے ، خوف پیدا کیا جاتا ہے ، پھر اس کا حل بیچا جاتا ہے ،کہیں تحفظ کے نام پر، کہیں نجات کے نام پر، دلچسپ بات یہ ہے کہ حل ہمیشہ خوف سے چھوٹا رکھا جاتا ہے ، اتنا کہ انسان مکمل مطمئن نہ ہو، مگر اتنا ضرورہوکہ وہ دوبارہ اسی دروازے پر دستک دے ۔ اور یوں ایک عام آدمی کی زندگی دو انتہاؤں کے درمیان جھولتی رہتی ہے ، وہ نہ مکمل طورپرمحفوظ ہوتا ہے ، نہ مکمل طور پر آزاد، وہ بس ایک ایسے سفرمیں پھنسا رہتا ہے جہاں ہرموڑ پراسے کسی سہارے کی ضرورت پڑتی ہے ، لیکن اصل سوال ابھی باقی ہے ، کیا واقعی ہمیں اتنا سہارا چاہیے ، یا ہمیں سہارا لینے کا عادی بنا دیا گیا ہے ؟
دوسرا بازار۔ خاموش، مگر بہت گہرا، یہاں خطرہ سرحدوں سے نہیں آتا، یہاں خطرہ انسان کے اپنے اندر سے اٹھایا جاتا ہے ، یہاں لفظ بدل جاتے ہیں، خطرہ نہیں، عذاب کہا جاتا ہے ، اندیشہ نہیں، انجام کہا جاتا ہے ، انسان کو اس کے ماضی سے باندھ دیا جاتا ہے ۔ اوراس کے مستقبل کو ایک ایسی تصویر میں قید کردیا جاتا ہے ، جہاں ہرغلطی کا انجام صرف خوفناک ہو۔ یقینااحتساب اور جوابدہی زندگی کا حصہ ہیں، مگر جب توازن ختم ہو جائے تو بات بدل جاتی ہے ، جب امید کم اور ڈرزیادہ سنایا جائے ، توعبادت بھی سکون نہیں دیتی۔ بوجھ بن جاتی ہے ۔ یہاں بھی وہی اصول چلتا ہے ، انسان جتنا ڈرے گا، اتنا جھکے گا، جتنا جھکے گا،اتنا ہی کسی سہارے کی تلاش کرے گا۔ اور پھر اسے راستہ دکھایا جاتا ہے ، کبھی وظیفوں کی صورت میں، کبھی نذرانوں کی صورت میں۔ اور کبھی ایسی یقین دہانیوں کی صورت میں، جو اس کے خوف کو وقتی طورپردبا دیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں بھی مکمل اطمینان نہیں دیا جاتا، تاکہ انسان کا دل بار بار اسی دروازے کی طرف لوٹے ۔ یوں ایک شخص جوسکون کی تلاش میں نکلا تھا، وہ خوف کے ایک ایسے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے ، جہاں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے ، اتنا ہی خود کو کمزورمحسوس کرنے لگتا ہے ۔۔ اورسوال پھر وہی کھڑا ہو جاتا ہے ، کیا خوف واقعی انسان کو بہتربناتا ہے ، یا صرف اسے قابو میں رکھتا ہے ؟
دوخوف۔ایک باہر کا، ایک اندر کا۔ اور ایک عام آدمی، جو ان دونوں کے درمیان اپنی زندگی گزار رہا ہے ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ خطرات سرے سے موجود نہیں۔اور نہ ہی یہ کہ انسان کو اپنے اعمال کا احساس نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب خوف حد سے بڑھ جائے ۔ اورامید، عقل اور توازن کو نگل جائے ،کیونکہ خوف اگررہنمائی بن جائے تو انسان کو محتاط بناتا ہے ،مگراگرحکمرانی کرنے لگے تو انسان کو مفلوج کر دیتا ہے ، ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا۔سرحدوں کا شعور ضروری ہے ، مگر ہر وقت کا خوف نہیں، جوابدہی کا احساس ضروری ہے ، مگر ہر لمحے کی گھٹن نہیں، زندگی صرف ڈر کے سہارے نہیں چلتی، یہ امید، سوال، اورآگے بڑھنے کے حوصلے سے چلتی ہے ، جس دن ایک عام آدمی نے اپنے اندر یہ توازن پیدا کرلیا، کہ وہ نہ ہر آواز سے ڈرے ، نہ ہردعوے پرجھکے ۔ اورنہ ہر ڈرکے بدلے اپنی آزادی گروی رکھے ، اسی دن کھیل بدل جائے گا، کیونکہ پھرکمائی کا ذریعہ خوف نہیں رہے گا۔ اورانسان دوبارہ سوچنا شروع کرے گا۔ اورجب ایک معاشرہ سوچنا شروع کر دے ، تو پھراسے زیادہ دیرتک ڈرا کرنہیں رکھا جا سکتا۔جس دن ایک عام آدمی یہ سمجھ گیا کہ ہربلند آواز سچ نہیں ہوتی، ہرڈرحقیقت نہیں ہوتا۔ اورہر”حل” واقعی حل نہیں ہوتا، اسی دن یہ ساری منڈی ہلنے لگے گی، کیونکہ خوف کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے ، یہ صرف تب تک زندہ رہتا ہے ،جب تک اسے ماننے والے زندہ رہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی وجود جمعه 08 مئی 2026
بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی

دومنڈیاں ۔۔۔۔۔ وجود جمعه 08 مئی 2026
دومنڈیاں ۔۔۔۔۔

اقبال کااضطراب وجود جمعه 08 مئی 2026
اقبال کااضطراب

بھارت کاجنگی جنونبھارت کاجنگی جنون وجود جمعرات 07 مئی 2026
بھارت کاجنگی جنونبھارت کاجنگی جنون

شعور تک درد کے بغیرپہنچنا ممکن نہیں! وجود جمعرات 07 مئی 2026
شعور تک درد کے بغیرپہنچنا ممکن نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر