... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
رات کے پچھلے پہرجب شہرسوجاتا ہے ، توکچھ آوازیں جاگتی ہیں۔ دھیمی، مگرمسلسل، یہ آوازیں ہمیں جگانے کیلئے نہیں ہوتیں، ہمیں بے چین رکھنے کیلئے ہوتی ہیں، کہیں سرحدوں کے سائے لمبے کردیے جاتے ہیں، کہیں خطرے کو اتنا قریب دکھایا جاتا ہے کہ سانس لینا بھی مشکوک لگنے لگے ۔ اور کہیں آگ کو اتنا بھڑکا کرپیش کیا جاتا ہے کہ انسان اپنے ہی اعمال سے زیادہ اپنے انجام سے ڈرنے لگتا ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے اس ملک میں دو طرح کے خوف نے باقاعدہ دکانیں سجا رکھی ہیں، ایک وہ خوف جو ہمیں باہرکی طرف دیکھنے پرمجبور کرتا ہے ، ہرطرف دشمن، ہر طرف سازش، ہرطرف خطرہ۔اوردوسرا وہ خوف جوہمیں اندرکی طرف جھکاتا ہے ،ہرقدم پرگناہ، ہرلمحہ پکڑ، ہرسانس کے ساتھ حساب۔ ان دونوں خوفوں کے درمیان ایک عام آدمی پس رہا ہے ، وہ صبح خبروں سے ڈرتا ہے اور رات وعظ سے ، وہ اپنے حال سے مطمئن نہیں ہوپاتا۔ اوراپنے مستقبل سے مطمئن ہونے نہیں دیا جاتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ خوف جتنا بڑھتا ہے ، کچھ چہروں کی رونق اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے ۔ ان کے لہجوں میں یقین ہوتا ہے ، ان کے انداز میں اختیار۔ اوران کے اردگرد وسائل کا ایک ایسا حصار، جو خوف سے آزاد دکھائی دیتا ہے ۔ اورعام آدمی؟ وہ اپنی جیب سے صرف پیسہ نہیں نکالتا۔ وہ اپنی نیند، اپنا سکون۔اورآہستہ آہستہ اپنی سوچ بھی نکال کران دکانوں پر رکھ آتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوال جنم لیتا ہے ، کیا واقعی خطرہ اتنا بڑا ہے ۔ یا ہمیں بس اسے بڑا دیکھنے کی عادت ڈال دی گئی ہے ؟
خوف کی یہ منڈی صرف آوازوں سے نہیں چلتی، اس کے اپنے اصول ہیں، اپنے ہتھکنڈے ہیں۔ سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ خطرہ کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے ، کیونکہ جس دن خطرہ ختم ہوا، اس دن دکان بھی بند ہو جائے گی، اسی لیے کبھی سرحدیں مکمل پُرسکون نہیں دکھائی جاتیں۔ اورکبھی انسان کو مکمل معاف ہونے کی امید نہیں دی جاتی،کہیں نہ کہیں ایک شگاف ضرورچھوڑدیا جاتا ہے ، تاکہ دل ہروقت کسی نہ کسی اندیشے میں الجھا رہے ۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ سوال کم سے کم ہوں، خوف میں مبتلا انسان سوال نہیں کرتا، وہ صرف بچنے کی کوشش کرتا ہے ۔اسے یہ سوچنے کی فرصت ہی نہیں دی جاتی کہ جس خطرے سے وہ ڈر رہا ہے ، کیا وہ واقعی اتنا ہی قریب اوراتنا ہی بڑا ہے ؟ پھر آہستہ آہستہ یہ خوف عادت بن جاتا ہے ،انسان اسے چیک کرنا چھوڑ دیتا ہے ، پرکھنا چھوڑ دیتا ہے ، وہ ہراونچی آواز کو سچ، اورہ سخت بات کو حقیقت مان لیتا ہے ۔ اوریہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں کمائی شروع ہوتی ہے ، صرف پیسے کی نہیں، اثرو رسوخ کی، اختیارکی۔۔۔ اورذہنوں پرحکمرانی کی۔ کیونکہ جس معاشرے کے لوگ مسلسل ڈرے ہوئے ہوں، وہ مزاحمت نہیں کرتے ۔ وہ رہنمائی ڈھونڈتے ہیں۔ اورجورہنمائی دیتا ہے ، وہی راستہ بھی طے کروا دیتا ہے ۔ سوال یہ نہیں کہ خوف کہاں سے آ رہا ہے ، سوال یہ ہے کہ ہمیں اس کے بغیر جینا کیوں مشکل لگنے لگا ہے ؟
یہ خوف مفت نہیں ملتا،اس کی قیمت ہوتی ہے ۔ کبھی پیسے کی صورت میں، کبھی اطاعت کی شکل میں۔اور کبھی خاموشی کی صورت میں، جب انسان کو مسلسل یہ یقین دلا دیا جائے کہ وہ خطرے میں ہے ، تو وہ اپنی آزادی خود گروی رکھ دیتا ہے ، وہ سوال کرنے کے حق سے پیچھے ہٹ جاتا ہے ، وہ اختلاف کو خطرہ سمجھنے لگتا ہے ۔اورخاموشی کو حفاظت، یہیں سے وہ دائرہ مکمل ہوتا ہے ، خوف پیدا کیا جاتا ہے ، پھر اس کا حل بیچا جاتا ہے ،کہیں تحفظ کے نام پر، کہیں نجات کے نام پر، دلچسپ بات یہ ہے کہ حل ہمیشہ خوف سے چھوٹا رکھا جاتا ہے ، اتنا کہ انسان مکمل مطمئن نہ ہو، مگر اتنا ضرورہوکہ وہ دوبارہ اسی دروازے پر دستک دے ۔ اور یوں ایک عام آدمی کی زندگی دو انتہاؤں کے درمیان جھولتی رہتی ہے ، وہ نہ مکمل طورپرمحفوظ ہوتا ہے ، نہ مکمل طور پر آزاد، وہ بس ایک ایسے سفرمیں پھنسا رہتا ہے جہاں ہرموڑ پراسے کسی سہارے کی ضرورت پڑتی ہے ، لیکن اصل سوال ابھی باقی ہے ، کیا واقعی ہمیں اتنا سہارا چاہیے ، یا ہمیں سہارا لینے کا عادی بنا دیا گیا ہے ؟
دوسرا بازار۔ خاموش، مگر بہت گہرا، یہاں خطرہ سرحدوں سے نہیں آتا، یہاں خطرہ انسان کے اپنے اندر سے اٹھایا جاتا ہے ، یہاں لفظ بدل جاتے ہیں، خطرہ نہیں، عذاب کہا جاتا ہے ، اندیشہ نہیں، انجام کہا جاتا ہے ، انسان کو اس کے ماضی سے باندھ دیا جاتا ہے ۔ اوراس کے مستقبل کو ایک ایسی تصویر میں قید کردیا جاتا ہے ، جہاں ہرغلطی کا انجام صرف خوفناک ہو۔ یقینااحتساب اور جوابدہی زندگی کا حصہ ہیں، مگر جب توازن ختم ہو جائے تو بات بدل جاتی ہے ، جب امید کم اور ڈرزیادہ سنایا جائے ، توعبادت بھی سکون نہیں دیتی۔ بوجھ بن جاتی ہے ۔ یہاں بھی وہی اصول چلتا ہے ، انسان جتنا ڈرے گا، اتنا جھکے گا، جتنا جھکے گا،اتنا ہی کسی سہارے کی تلاش کرے گا۔ اور پھر اسے راستہ دکھایا جاتا ہے ، کبھی وظیفوں کی صورت میں، کبھی نذرانوں کی صورت میں۔ اور کبھی ایسی یقین دہانیوں کی صورت میں، جو اس کے خوف کو وقتی طورپردبا دیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں بھی مکمل اطمینان نہیں دیا جاتا، تاکہ انسان کا دل بار بار اسی دروازے کی طرف لوٹے ۔ یوں ایک شخص جوسکون کی تلاش میں نکلا تھا، وہ خوف کے ایک ایسے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے ، جہاں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے ، اتنا ہی خود کو کمزورمحسوس کرنے لگتا ہے ۔۔ اورسوال پھر وہی کھڑا ہو جاتا ہے ، کیا خوف واقعی انسان کو بہتربناتا ہے ، یا صرف اسے قابو میں رکھتا ہے ؟
دوخوف۔ایک باہر کا، ایک اندر کا۔ اور ایک عام آدمی، جو ان دونوں کے درمیان اپنی زندگی گزار رہا ہے ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ خطرات سرے سے موجود نہیں۔اور نہ ہی یہ کہ انسان کو اپنے اعمال کا احساس نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب خوف حد سے بڑھ جائے ۔ اورامید، عقل اور توازن کو نگل جائے ،کیونکہ خوف اگررہنمائی بن جائے تو انسان کو محتاط بناتا ہے ،مگراگرحکمرانی کرنے لگے تو انسان کو مفلوج کر دیتا ہے ، ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا۔سرحدوں کا شعور ضروری ہے ، مگر ہر وقت کا خوف نہیں، جوابدہی کا احساس ضروری ہے ، مگر ہر لمحے کی گھٹن نہیں، زندگی صرف ڈر کے سہارے نہیں چلتی، یہ امید، سوال، اورآگے بڑھنے کے حوصلے سے چلتی ہے ، جس دن ایک عام آدمی نے اپنے اندر یہ توازن پیدا کرلیا، کہ وہ نہ ہر آواز سے ڈرے ، نہ ہردعوے پرجھکے ۔ اورنہ ہر ڈرکے بدلے اپنی آزادی گروی رکھے ، اسی دن کھیل بدل جائے گا، کیونکہ پھرکمائی کا ذریعہ خوف نہیں رہے گا۔ اورانسان دوبارہ سوچنا شروع کرے گا۔ اورجب ایک معاشرہ سوچنا شروع کر دے ، تو پھراسے زیادہ دیرتک ڈرا کرنہیں رکھا جا سکتا۔جس دن ایک عام آدمی یہ سمجھ گیا کہ ہربلند آواز سچ نہیں ہوتی، ہرڈرحقیقت نہیں ہوتا۔ اورہر”حل” واقعی حل نہیں ہوتا، اسی دن یہ ساری منڈی ہلنے لگے گی، کیونکہ خوف کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے ، یہ صرف تب تک زندہ رہتا ہے ،جب تک اسے ماننے والے زندہ رہیں۔
٭٭٭