... loading ...
حمیداللہ بھٹی
ایک دوسرے کی ضرورت ہونے کے باوجود پاک افغان تعلقات میں کشیدگی اور تنائو دونوں طرف کے عوام کی بدقسمتی ہے جس کی بڑی ذمہ داری طالبان رجیم پرعائدہوتی ہے جس نے کبھی پاکستان کے تحفظات کوسنجیدہ نہیں لیااور نہ صرف دہشت گرد گروپوں اور علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی جاری رکھی بلکہ اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں دے کر بھارتی پراکسی کے طورپر پاکستان اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں حصہ داربنے۔ سوال یہ ہے کہ پاک افغان تعلقات کا مستقبل کیا ہے ؟تو اِس کا سادہ سا جواب ہے کہ جونہی طالبان رجیم نے اپنی غلطیاں تسلیم کرلیں او درستی کے اقدامات کیے تو تعلقات بہتر اور خوشگوار ہو جائیں گے کیونکہ افغانوں کے بارے میں پاکستان کارویہ ہمیشہ فیاضانہ اور رحمدلانہ رہا ہے۔
پاکستان اور افغانستان دوایسے ہمسائے ہیں جن میں خوشگوار تعلقات کاعرصہ تلاش کرنامشکل ہے، مذہبی ،ثقافتی اور لسانی رشتوں کے باوجود بے اعتباری کی طویل تاریخ ہے جس کا آغاز قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی ہو گیا تھا،جب اقوامِ متحدہ کی رُکنیت کے وقت افغانستان نے مخالفت کی اور پھر نوزائیدہ مملکت کے لیے سرحدی مسائل پیدا کیے۔ علیحدگی کی تحریکوں کی سرپرستی کی۔ اِن تمام سازشوں کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ بڑے ظرف کا مظاہرہ کیا ۔وائے افسوس کہ افغانستان نے قدر نہ کی اورظرف کو کمزوری سمجھ کر بھارت کی خوشنودی کے لیے ہر باردوستی کے لیے بڑھائے پاکستانی ہاتھ کو نظر انداز کیا۔ یہ کوتاہ اندیشی ہے یا دولت کی ہوس؟ یادونوں پہلو ہو سکتے ہیں افغان حکمرانوں نے ملک اور خطے کا مفاد قربان کردیا ۔
روس نے حملہ کیا اور اُس کی فوجیں افغانوں کا بے دریغ قتلِ عام کرنے لگیں تواِس عمل میں بھارت روس کے ساتھ رہالیکن پاکستان نے نہ صرف افغان لُٹے پُٹے شہریوں کو خوش آمدید کہا بلکہ خوراک اور رہائشی کی سہولتیں دیں جوشہری حملہ آور فوج سے دو دوہاتھ کرنے کے آرزو مند تھے اُن کا بھی ساتھ دیا ۔یہ پہلا موقع تھا جب افغان اشرافیہ کی طرف سے پاکستان کے بارے میں کلمہ خیر سُننے کو ملا مگر روسی افواج کے انخلا کے بعدافغانستان اندرونی لڑائی کا شکار ہو گیا جس سے طالبان نے فائدہ اُٹھایا اور ملک پر قابض ہو گئے۔ جلد ہی 9/11کو جواز بنا کر امریکہ نے نیٹو کی ہمرکابی میں افغانستان پر حملہ کر دیا لیکن روسی اور امریکی ونیٹو فوج کے انخلا سے افغان پانچ ہزار سالہ تاریخ کے خناس کا شکار ہو گئے جو خود فریبی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ساری دنیا متفق ہے کہ افغان حکمرانوں نے حماقتوں سے اپنے ملک کو میدان جنگ ہی بنایا ہے اور اگر پاکستان ساتھ نہ دیتا تو آج افغانستان نام کا شاید ہی ملک دنیا کے نقشے پر موجود ہوتا۔
امریکی قیادت میں نیٹو نے حامد کرزئی اور اشرف غنی جیسے نمونے مسلط کیے جو ملکی مفاد میں پاکستان سے تعلقات بڑھانے کے بجائے بھارت کی طرفداری کرتے رہے ۔یہ نمونے آج تاریخ کے اوراق میں گُم ہیں لیکن بھارت کے لیے حالات اِس حدتک سازگار بنا گئے ہیں کہ آج طالبان بظاہر اسلام کا نام لیتے ہیں لیکن اصل میں بھارت کی پراکسی ہیں اور پاکستان جیسے دنیا کے واحد جوہری اسلامی ملک کو عدم ِ استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں میںدہلی کے آلہ کار ہیں۔ طالبان کے حمایتی گروہ خطے میں چینی شہریوں پر حملوں میں ملوث ہیں لیکن سرحد ی خلاف ورزیوں کو روکنے میںطالبان نے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔بار بار کی وعدہ خلافیوں پراحتجاج کے جواب میں پانچ ہزار سالہ تاریخ کی کہانیاں سناتے ہیں ۔جب پاکستان نے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر دہشت گردوں کو اُن کی کمین گاہوں میں نشانہ بنایا تو بھی جوابی رویہ حقارت پر مبنی رہا اور مقابلے کی باتیں کی جانے لگیں لیکن چند گھنٹوں کی لڑائی سے ثابت ہوگیا کہ یہ گوریلا لڑائی کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ۔آج صورتحال یہ ہے کہ دونوں ممالک کی سرحدوں پر آمدورفت اور تجارت بند ہے ۔حالانکہ افغانستان جیسے لینڈ لاکڈ ملک کے لیے پاکستانی بندرگاہیں کسی نعمت سے کم نہیں، جن کے ذریعے اپنا مال دنیا بھر میں بھجوا سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی افغانستان ایک منافع بخش منڈی ہے لیکن دہشت گردوں کے سرپرست طالبان نے دونوں ممالک کو ایسے دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے جس سے پاک افغان عوام کو نقصان تو ہوسکتا ہے فائدہ ہر گز نہیں۔ موجودہ صورتحال صرف بھارت کی آرزو ہے کیونکہ وہ افغانوں کی سرشت سے واقف ہے کہ دولت کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔اسی لیے طالبان کو اسلحہ ،تربیت اور رقوم دیکر خطے کاامن تباہ کرنے کی کوشش میں ہے ۔بھارت جان چکا ہے کہ جنگ کی صورت میں پاکستان مقابلے کی سکت نہیں رکھتا۔ اسی لیے سازشوں پر اُتر آیا ہے طالبان قیادت فہم ودانش کا مظاہرہ کرے تو صورتحال بدل سکتی ہے اور نہ صرف پاک افغان کشیدگی ختم ہو سکتی ہے بلکہ تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔ یہ بات چین ، ایران،روس اور دیگر وسط ایشیائی ممالک بھی اُنھیں سمجھانے کی کوشش میں ہیں ۔
پانچ ہزار سالہ افغان تاریخ میں فتوحات کم اورلوٹ مارکی داستانیں اور بیرونی حملہ آوروں سے مارکھانے کی کہانیاں زیادہ ہیں۔ ممکن ہے طالبان رجیم کو اِس کا کچھ ادراک ہوگیاہو کیونکہ اب کچھ ایسے اِشارے ملنے لگے ہیں کہ پاک افغان تعلقات میں بہتری کاعمل قریب ہے۔ طالبان کی طرف سے دہشت گردوں سے دوری اختیار کرنے اور انھیںملک سے ٹھکانے چھوڑنے یابے دخل کرنے کی تحریری یقین دہانیاں ایک مثبت اور خوش آئندتبدیلی ہے ۔
پاک افغان مسائل اور تعلقات کا معاملہ صرف دوممالک تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے خطے کے امن و استحکام سے براہ راست منسلک ہے اور خرابی کی صورت میں تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنے کا باعث بنتاہے ۔وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے پاکستان نے ایرانی حدوداستعمال کرنا شروع کردی جبکہ اِس کے عوض ایران کو سات تجارتی راہداریاں فراہم کردی ہیں جس سے روابط اور تجارت میں کافی بہتری دیکھی جانے لگی ہے۔ یہ حالات اُسے افغانستان سے بے نیاز کرسکتے ہیں لیکن افغانستان ایسا ملک ہے جس پر کوئی بھی ہمسایہ اعتبار نہیں کرتا۔ لہٰذا طرزِعمل کا جائزہ لیکر امن کے لیے ایسے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ہمسایہ ممالک کو یقین ہو کہ طالبان رجیم امن کے لیے سنجیدہ ہے، اِس طرح بے اعتباری میں کمی آئے گی۔ چینی کہاوت ہے کہ گھر میں لگی آگ دور کے پانی سے نہیں بجھائی جا سکتی ۔بھارت پر انحصار چھوڑ کر طالبان رجیم کے لیے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر بنانازیادہ فائدہ مند ہے ۔وگرنہ افغانستان میں جنم لیتی متشددسرگرمیاں، افراتفری ،بھوک و افلاس اُن کے اقتدارکے لیے خطرہ بننے کے ساتھ ملکی تقسیم کا بھی باعث بن جائیں گی ۔
٭٭٭