وجود

... loading ...

وجود

کشمیر ایک جیل

اتوار 03 مئی 2026 کشمیر ایک جیل

ریاض احمدچودھری

گلوبل پیس انڈیکس 2025نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی اور ہزاروں کشمیریوں کے ماوروائے عدالت قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کشمیر کے دیرینہ تنازعے کو دنیا کا سب سے خطرناک ایٹمی فلیش پوائنٹ قراردیاہے۔ سڈنی انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی جاری کردہ گلوبل پیس انڈیکس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 1989سے بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں کشمیری شہید ہوچکے ہیں جبکہ مقبوضہ علاقہ دنیا کا واحد علاقہ ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں قابض فوجی تعینات ہیں۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تقریبا 10لاکھ سے زائد قابض فوجیوں کو تعینات کرکھا ہے، جس سے یہ ایک بہت زیادہ ملٹریائزڈ زون ہے، جبکہ پاکستان نے کنٹرول لائن کے ساتھ صرف 60ہزارفوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے۔انڈیکس کے مطابق بھارت کی طرف مقبوضہ کشمیرمیں لاکھوں کی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی اور اسکے برعکس پاکستانی فوجیوں کی انتہائی کم تعداد کی آزاد کشمیرمیں موجودگی کے درمیان واضح فرق موجودہے۔رپورٹ میں گزشتہ سال مئی میںپہلگام فالس فلیگ آپریشن کوجواز بنا کر بھارت ی طرف سے پاکستان اور آزاد کشمیر پر بلا اشتعال جارحیت کو بھی ایک خطرناک اقدام قرار دیا گیا ہے جس سے تباہ کن جوہری جنگ شروع ہونے کا خطرہ تھا۔رپورٹ میں پہلگام آپریشن کیلئے مسلح افراد کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے جس کے زریعے کشمیری آزادی پسند کارکنوں کو عسکریت پسند قراردینے کے بھار ت کے موقف سے انکار کیاگیاہے۔ تاہم ان حملوں کو گلوبل پیس انڈیکس کی حالیہ رپورٹ میں شامل نہیں کیاگیا ہے۔
مقبوضہ کشمیرمیں 1989 کے بعد مزاحمت شروع ہونے کے بعد سے خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو ا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست 2019میں، بھارت نے دفعہ 370اور 35Aکو منسوخ کر کے غیر قانونی طورپر جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اسے دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کر دیاتھا۔ بھارت کی جانب سے دفعہ 370 کی منسوخی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، بلیک آئوٹ اور فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیاگیا، جس سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں اضافہ ہواہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس اہلکاروں کی تعدادمیں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے پولیس اہلکاروں کی نفری کو بڑھا کر ایک لاکھ 30ہزارکردیاگیاہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں فوجیوں تعینات نہیں ہیں۔ بھارت اپنی کشمیر پالیسی کو مسلسل قوم پرستی کے جذبات کو بڑھکانے کیلئے استعمال کررہا ہے۔مودی حکومت نے اگست 2019 میں جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کو قومی یکجہتی کے ایک دیرینہ وعدے کی تکمیل کے طور پر پیش کیا ہے۔مسلسل حل طلب دیرینہ تنازعہ کشمیر سے بھارت اور پاکستان دونوں ہمسایہ جوہری طاقتوں کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ لاحق رہے گا۔غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہاہے کہ تنازعہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک جوہری فلیش پوائنٹ ہے جو علاقائی اور عالمی امن کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ تنازعہ کشمیر جوہری ہتھیاروں سے لیس دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تباہ کن ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے اس لئے عالمی برادری کو فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
مسلسل تاخیر سے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی استحکام کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعے کا منصفانہ اور جامع حل خطے میں دیرپا امن کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ترجمان نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر زوردیا کہ وہ بیان بازی سے آگے بڑھیں اور دہائیوں پرانے تنازعے کو حل کرانے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کریں۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر سے پہلے ہی انسانی مشکلات اور عدم استحکام پیداہواہے اور مزید تاخیر سے کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک تنازعہ ہے اور بھارت اسے نظرانداز یا ایک اندرونی معاملے کے طورپر پیش نہیں کرسکتا۔
جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار تنازعے کی بنیادی وجہ پر توجہ دینے پرہے جو کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے انکار ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور امن پسند مقبوضہ علاقے میں جاری صورتحال پر اپنی آواز بلند کریںاور مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے پرامن حل پر زور دیں۔ بین الاقوامی برادری کی خاموشی سے صرف جارحانہ پالیسیوں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور بحران مزید سنگین ہوگا۔ نظر بند حریت رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے خبردار کیا ہے کہ کشمیر محض ایک سیاسی تنازعہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے خطرناک ترین ایٹمی فلیش پوائنٹس میں سے ایک ہے۔ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کے غیر منصفانہ اقدامات پر خاموشی اختیار نہ کرے۔ یاسین ملک اس وقت ڈیتھ سیل میں قید ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت کشمیری قیادت کو خاموش کرنے اور تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش میں انہیں پھانسی دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ مسئلہ کسی ایک فرد یا ایک خاندان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پوری کشمیری قوم کو اجتماعی طور پر سزا دینے اور خاموش کرنے کی وسیع تر کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ کشمیر صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک جوہری فلیش پوائنٹ ہے جس کے علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین مضمرات ہیں۔ یاسین ملک کو ڈیتھ سیل میں رکھنا جائز حقوق کا مطالبہ کرنے والے لوگوں کو سزا دینے کے مترادف ہے۔کشمیر میں امن اور آزادی کے لیے آواز بلند کرنے کو جرم قرار دیا جاتا ہے۔ کیا امن اور آزادی حاصل کرنا کشمیریوں کے لیے جرم بن گیا ہے؟۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ اپنا حق مانگنا بھی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ عالمی برادری مسلسل خاموش ہے جبکہ کشمیر میں بغیر کسی جوابدہی کے تشدد اور ریاستی جبر کھلے عام کیا جا رہا ہے۔ناانصافی اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے انکار کے سائے میں پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر