وجود

... loading ...

وجود

دوڑتا ہوا سایہ

اتوار 26 اپریل 2026 دوڑتا ہوا سایہ

بے لگام / ستار چوہدری

یہاں تک کہ رشتے بھی، جو خون سے بنتے ہیں، آج نوٹوں سے ناپے جا رہے ہیں ۔وہ ماں ، جس کی محبت کو بے لوث کہا جاتا تھا، وہ بھی کمائی کے ترازو میں تولی جانے لگی ہے ، جو زیادہ لاتا ہے ، وہ لاڈلا، جو خالی ہاتھ ہو، وہ بوجھ ۔ وہ باپ ، جس کا سایہ مضبوطی کی علامت ہوتا تھا، آج اس کی جیب کا وزن اس کی عزت کا فیصلہ کرتا ہے ۔ وہ بھائی ، جو ایک وقت میں ایک روٹی بانٹ کر کھاتے تھے ، آج ایک دوسرے کی پلیٹوں میں جھانک رہے ہیں، یہ دیکھنے کیلئے کس کے حصے میں زیادہ آیا ہے ۔ وہ بہنیں،جو ایک دوسرے کے دکھ پر رو پڑتی تھیں، آج ایک دوسرے کی خوشیوں سے جلنے لگی ہیں،وہ دوست، ان کے درمیان ایک خاموش دیوار کھڑی ہو چکی ہے ۔ اوراس دیوارکا نام ہے پیسہ ۔ کوئی مانے یا نہ مانے ، دنیا ایک تلخ سچ پرچل رہی ہے ، اور وہ سچ ہے” پیسہ ”۔جی ہاں، پیسہ۔
ایٹم بم سے بھی زیادہ طاقتور ،ایٹم بم نہ ہو تو ملک پھر بھی چل جاتا ہے ، لیکن جب خزانے خالی ہو جائیں، تو ایٹم بم بھی صرف لوہے کا ڈھیربن کررہ جاتا ہے ۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، سلطنتیں ہتھیاروں کی کمی سے نہیں، خزانے کی خالی جیب سے گری ہیں، فوجیں کمزور نہیں تھیں، لیکن معیشت مر گئی اور ساتھ ہی ریاست بھی۔یہ وہ طاقت ہے ، جو سچ کو بھی خرید لیتی ہے ، اگر جیب خالی ہو، تو آپ کی دانائی بھی مذاق بن جاتی ہے اوراگرجیب بھری ہو، تو آپ کی بے معنی بات بھی دانش کہلانے لگتی ہے ۔ یہ وہ زوال ہے ، جو شور نہیں مچاتا، بس خاموشی سے انسان کو انسان سے دور کررہا ہے اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ، ہم سمجھتے ہیں ہم ترقی کررہے ہیں حالانکہ ہم اپنے رشتوں کو کھو رہے ہیں۔
رشتے جب بکھرتے ہیں، تو آواز نہیں کرتے ،بس دل کے اندر کہیں ایک خاموش دراڑ پڑ جاتی ہے اور پھر ایک دن وہ دراڑ اتنی گہری ہو جاتی ہے کہ خون کے رشتے بھی اجنبی لگنے لگتے ہیں۔کبھی محبت بے حساب ہوا کرتی تھی، نہ دینے والا گنتا تھا، نہ لینے والا سوچتا تھا۔ مگر اب؟ اب ہر چیز کا حساب ہے ۔ کون کتنا دیتا ہے ، کون کتنا خرچ کرتا ہے ، کون کتنا کماتا ہے ۔ یہاں تک کہ احساس بھی تولے جانے لگے ہیں ،ماں کی دعائیں بھی، کبھی کبھار اس بیٹے کیلئے زیادہ ہو جاتی ہیں، جو مہنگے تحفے لے کر آتا ہے ۔ باپ کی آنکھوں میں فخر بھی اکثر اسی بیٹے کیلئے چمکتا ہے جس کی تنخواہ بڑی ہو اور باقی؟ وہ بس گھر میں موجود ہوتے ہیں، مگر دلوں میں کہیں نہیں ہوتے ، یہ وہ مقام ہے جہاں محبت ختم نہیں ہوتی، اس کی شکل بدل جاتی ہے ۔ وہ خالص جذبہ جو کبھی رشتوں کی بنیاد تھا، اب ایک سودے میں تبدیل ہو چکا ہے ۔” تم نے میرے لئے کیا، کیا”؟ یہ جملہ، آج ہر تعلق کے پیچھے چھپا بیٹھا ہے ۔اور جب رشتے سوال بن جائیں، تو جواب کبھی محبت نہیں ہوتا، صرف حساب ہوتا ہے ۔ آہستہ آہستہ یہ حساب کتاب دلوں کو اتنا تھکا دیتا ہے کہ لوگ رشتے نبھانا نہیں، صرف برداشت کرنا شروع کر دیتے ہیں اورجہاں برداشت شروع ہو جائے ، وہاں محبت زیادہ دیرزندہ نہیں رہتی ۔
ہمارا معاشرہ اتنا زوال پذیر ہو چکا، صرف پیسہ ہی معیار بن چکا۔بڑے قد دیکھے جاتے ہیں، یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ قد کتنی لاشوں پرکھڑا ہو کرحاصل کیا گیا ہے ۔ قیمتی ملبوسات دیکھے جاتے ہیں، یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنے غریبوں کو بے لباس کر کے یہ لباس سلے ہیں۔ پیسہ دیکھا جاتا ہے ، یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنے مسکینوں کا، کتنے حق داروں کا خون چوس کر یہ پیسہ نکالا گیا ہے ۔ لوگ بڑی بڑی گاڑیوں، بنگلوں اور بینک بیلنس کو عزت دیتے ہیں۔ یہ نہیں پوچھتے کہ اس کے پیچھے کتنے گھر اجڑے ، کتنے بچے بھوکے سوئے ، کتنے لوگوں کے حقوق مارے گئے ۔۔
پیسہ انسان کو اندھا بنا دیتا ہے ، وہ دیکھتا ہے تو صرف پیسہ دیکھتا ہے ۔ دوست بھی پیسے والے کے ہوتے ہیں، دشمن بھی پیسے والے کے ہوتے ہیں، شادیاں پیسے پر ہوتی ہیں، طلاقیں بھی پیسے پر ہوتی ہیں ،عدالتیں پیسے سے خریدی جاتی ہیں، قانون پیسے کے سامنے جھک جاتا ہے ، سیاستدان پیسے سے بنتے ہیں، وزیراعظم اور صدر بھی پیسے کی مرضی سے چلتے ہیں ،پیسہ وہ طاقت ہے جو سب سے بڑے سے بڑے انسان کو بھی اپنے سامنے جھکا دیتا ہے ۔ اور سب سے چھوٹے سے چھوٹے انسان کو بھی بڑا بنا دیتا ہے ۔ یہ کیسی دوڑ ہے ؟ جہاں ہر شخص بھاگ رہا ہے، مگر منزل کسی کو نظر نہیں آ رہی، راستے میں لوگ گرتے جا رہے ہیںاور دوڑنے والے انہیں روندتے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ انسان کو انسان بھی نظر نہیں آتا، صرف موقع نظر آتا ہے ۔
آخرمیں ایک ایسا سچ ہے جسے نہ کوئی جھٹلا سکتا ہے ، نہ خرید سکتا ہے ۔ ”موت ”۔یہ وہ لمحہ ہے ، جہاں ساری طاقتیں ختم ہو جاتی ہیں ،کوئی
شخص اپنے ساتھ ایک روپیہ بھی نہیں لے جا سکا، مگر ایک اورتلخ حقیقت بھی ہے ، لوگ مرجاتے ہیں، مگران کا چھوڑا ہوا پیسہ اکثر زندہ لوگوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیتا ہے ،بھائی بھائی کا قاتل بن جاتا ہے ، رشتے ٹوٹ جاتے ہیںاور وہ دولت جو سکون کے لیے کمائی گئی تھی، تباہی کا سبب بن جاتی ہے تو پھر سوال یہ ہے ، اگر پیسہ سب کچھ ہے ، تو آخرمیں کچھ بھی کیوں نہیں رہتا؟ شاید اصل مسئلہ پیسہ نہیں، بلکہ ہمارا اس کے ساتھ تعلق ہے ،جب پیسہ ضرورت سے بڑھ کر مقصد بن جائے ، تو پھر انسان، انسان نہیں رہتا، صرف ایک دوڑتا ہوا سایہ بن جاتا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

لبنان: راحت اور بربادی کے درمیان وجود اتوار 26 اپریل 2026
لبنان: راحت اور بربادی کے درمیان

پاکستان اور خوراک کاضیاع وجود اتوار 26 اپریل 2026
پاکستان اور خوراک کاضیاع

مودی سرکار کی کشمیری طلبہ پر پرتشدد کارروائیاں وجود اتوار 26 اپریل 2026
مودی سرکار کی کشمیری طلبہ پر پرتشدد کارروائیاں

پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر