وجود

... loading ...

وجود

پاکستان اور خوراک کاضیاع

اتوار 26 اپریل 2026 پاکستان اور خوراک کاضیاع

حمیداللہ بھٹی

پاکستانیوں میں کئی ایسی خوبیاں ہیںجو دنیا کے لیے قابلِ رشک ہیں یہ خوبیاں اُنھیں دیگرقوموں سے ممتاز کرتی ہیں اول :پاکستانی انتہا کے ذہین ہیں یہ جس کام کا تہیہ کرلیں اُس کے لیے جنونی کی طرح محنت کرتے ہیں کہ پایہ تکمیل کو پہنچاکردم لیتے ہیں۔اِس کی ایک مثال جوہری پروگرام ہے جس کی دنیا بھر نے مخالفت کی ۔امریکہ اور یورپی ممالک نے پاکستان کو اِس صلاحیت سے محروم رکھنے کے لیے طرح طرح کی پابندیاں لگائیں مگر جب انھوں نے بوقت ِضرورت استعمال کرنے کی کوشش کی تو پاکستان نے کچھ اِس طرح مسائل بتائے کہ امریکی صدور کئی برس تک جوہری صلاحیت نہ حاصل کرنے کاسرٹیفکیٹ جاری کرتے رہے۔
اِس وقت دنیا میں تین بڑی طاقتیں امریکہ ،روس اور چین ہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ تینوں سے پاکستان کے خوشگوار تعلقات ہیں۔ اِس وقت پاکستانی دنیا بھر میں سب سے زیادہ عطیات دینے والے تصور کیے جاتے ہیں۔پاکستان اپنے تین ہمسایہ ممالک بھارت،ایران اور افغانستان سے اپنی طاقت کالوہا منوا چکا ہے ۔خطے میں پاکستان کو عسکری حوالے سے وہ ممتازاور قابلِ رشک مقام ہے جس کی قومیں آرزو کرتی ہیں۔ آج کل پاکستان دنیا کی سفارتی سرگرمیوں کا محورہے۔ عالمی اداروں اور اقوامِ عالم کی نظریں پاکستان پر ہیں جو امریکہ اور ایران جیسے برسوں کے مخالف ممالک کے مذاکرات کی میزبانی کررہا ہے پہلی بار دنیایہ نظارہ کررہی ہے کہ دونوں کے مذاکرات کی میزبانی کے ساتھ پاکستان بطورثالث جنگ بندی میں توسیع جیسا مشکل فیصلہ بھی کرارہا ہے۔ اِس پر دنیاحیران ہے اور پاکستانیوں کی قدرومنزلت میں اضافہ ہواہے آج کا پاکستان ماضی والا نہیں، بلکہ ایسا امن پسندملک ہے جو ثالثی کے لیے سب کو قبول ہے لیکن جارح ہمسایوں کوسبق سکھانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ اِسے مشرقِ وسطیٰ میں ایسا اہم مقام حاصل ہے جس سے ٹکرانے کی اسرائیل بھی جسارت نہیں کرتا۔ یہ خوبیاں معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی ہیں۔موجودہ مقام کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستانیوں کو اپنی کچھ عادات تبدیل کرناہونگیں،تاکہ نہ صرف دنیاکے لیے باعثِ رشک رہیں اور موجودہ حاصل مقام بھی برقرار رہے، بلکہ زرِ مبادلہ بچانے کے ساتھ خوراک کے ذخائرکا ضیاع نہ ہولیکن کیا ملک میںایسی اجتماعی سوچ فروغ پزیر ہے؟بظاہر ایسا کوئی اِشارہ نہیں ملتا۔
پاکستان میںضرورت کے مطابق چائے کی پیداوار نہیں ہے مگر یہ مشروب ملک میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے اِس وقت پاکستان دنیا میں چائے کا تیسراسب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔ حاصل اعدادوشمار کے مطابق تو2021 میں پاکستان دنیا میں سب سے بڑاچائے کا درآمد کنندہ رہ چکاہے۔ 2023 سے 2024 کے دوران 109,000ٹن چائے پی گئی۔ ایک ایسا ملک جوبیرونی قرضوں سے پریشان ہے کیونکہ اقساط اور سودکی ادائیگی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے اِس کے باوجود چائے پینے کی عادت ترک کرنے پر تیار نہ ہونا باعث ِتعجب ہے کیونکہ چائے کی پتی درآمدکرنے پر سالانہ اربوں روپیہ صرف ہوتا ہے جبکہ یہ بھی ثابت ہوچکا کہ زیادہ چائے پینے کی عادت صحت کے لیے مفید نہیں۔
پاکستان کا قومی مشروب گنے کا رس ہے جوخطے کی آب وہوا کی وجہ سے صحت کے لیے مفیدہے لیکن اِس کا ستعمال روزبروز کم ہوتا جارہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں چائے اِس کثرت سے استعمال کی جاتی ہے جو سالانہ ڈیڑھ کلو فی کس بنتی ہے ۔صرف گزشتہ برس اِس کا درآمدی خرچ 179 ارب سے زائد رہا۔ اگر پاکستانی من حیث القوم چائے کی عادت کم کردیں تو درآمدی خرچہ کم ہو سکتا ہے اِس طرح پاکستان کے زرِ مبادلہ پر دبائوبھی کم ہوگا۔چائے کے متبادل میں گنے کے رس اورقہوے سمیت دیگر موسمیاتی مشروبات کا استعمال بھی ممکن ہے ۔پاکستان دنیا کے بہترین کنو ںاور آم پیداکرتاہے جولذت میں اپنامنفرد مقام رکھتے ہیں جن کا استعمال صحت کے لیے بہتر ہے ۔
پاکستانیوں کی کچھ اور ایسی بُری عادات ہیں جنھیں کسی صورت اچھا نہیں کہا جا سکتا ۔اب تواُن کا عالمی سطح پربھی چرچا ہونے لگا ہے جس سے ایک باشعور قوم کی نفی ہوتی ہے ۔اقوامِ متحدہ کی جاری ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستانیوں کا شمار خوراک کا ضیاع کرنے والے اولیں ممالک میں ہوتا ہے۔ اِس رپورٹ کے مطابق خوراک کے مجموعی ضیاع کے حوالے سے پاکستان کا دنیا بھر میں چوتھا نمبر ہے جبکہ اِس کے شہری فی کس سالانہ کی بنیادوں پر دوسرے نمبر پر ہیں۔ یہ شرمناک رپورٹ پاکستانیوں کی غیر ذمہ داری کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔ ایک ایسا ملک جو غریب شمار ہوتا ہو جس کے شہری بہتر روزگارکے لیے دنیا کے ہر خطے میں پائے جاتے ہوں، اُن کا ایسا غیر ذمہ دارانہ اور لاپروائی پر مبنی رویہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔
دستیاب عالمی اعدادوشمار نشاندہی کرتے ہیں کہ اِس وقت 67 کروڑ30لاکھ افراد شدید غربت اوربھوک کے عالم میں زندگی کے دن گزار نے پر مجبور ہیں ۔یہ تعداددنیا کی کل آبادی کا چھ فیصد ہے لیکن اسی دنیا کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہربرس 1.3ارب ٹن خوراک ضائع کردی جاتی ہے ،جسے دنیا کی کُل آبادی کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایک شخص ایک برس میں 170کلو خوراک ضائع کرتا ہے۔ یہ خوراک اگر ضائع نہ کی جائے تو دنیا بھر کے بھوکے افراد کو ایک دن میں کئی بار کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے پاکستانیوں کافرض ہے کہ آگے بڑھیں اور بھوک و افلاس کے خاتمے میں اپناکرداراداکریں تاکہ جس طرح پاکستانیوں کو آج ایک عالمی اِدارہ غیر ذمہ داراور لاپرواہ ظاہر کررہا ہے وہ آئندہ نیک نامی بتانے پر مجبورہو۔
بلاشبہ پاکستان میں بھوکے پیٹ سونے والوں کی تعدادبہت کم ہے جو کُل آبادی کا دو فیصد بھی نہیں بنتی مگر جنوبی پنجاب اور اندرون سند ھ جیسے علاقوں میں غذائی قلت سے بھی انکار نہیں کر سکتا۔سماجیات کے ماہرین برملا کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہوٹلوں اور تقریبات میں بے تحاشاکھانا ضائع کیاجاتا ہے۔ شادیوں میں مدعومہمانوں سے کہیں زیادہ کھانے تیارکیا جاتا ہے۔ اضافی کھانے کاضیاع برسوں سے جاری ہے۔ گزشتہ عشرے کے دوران تو اموات پر بھی کھانے کا ضیاع دیکھاجانے لگا ہے۔ اِس عادت پر من حیث القوم قابو پانے کی ضرورت ہے شہریوں کی اِس بُری عادت پر حکومت قوانین بناکر قابوپا سکتی ہے۔ اگر تقریبات میں نمودونمائش کے لیے انواح و اقسام کے کھانے پیش کرنے پر پابندی لگاکرایک ڈش پر مبنی صرف سادہ کھانے پیش کرنے کا پابند بنادیا جائے جس میںمہمانوں کی تعدادکابھی تعین ہو تو 170 کلوفی کس کے حساب سے ہر برس ضاع ہونے والا کھانا بھوکے افراد کا پیٹ بھرنے کے کام آسکتا ہے ۔عادتوں میں یہ تبدیلی کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ پاکستانی جب تہیہ کرلیں تو سب کچھ ممکن بنالیتے ہیں۔ کاش ایسی کوئی ملک گیر تحریک کا آغاز ہو جس سے بُری عادات کا معاشرے سے خاتمہ ممکن ہو۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

لبنان: راحت اور بربادی کے درمیان وجود اتوار 26 اپریل 2026
لبنان: راحت اور بربادی کے درمیان

پاکستان اور خوراک کاضیاع وجود اتوار 26 اپریل 2026
پاکستان اور خوراک کاضیاع

مودی سرکار کی کشمیری طلبہ پر پرتشدد کارروائیاں وجود اتوار 26 اپریل 2026
مودی سرکار کی کشمیری طلبہ پر پرتشدد کارروائیاں

پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر