وجود

... loading ...

وجود

پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

هفته 25 اپریل 2026 پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

ریاض احمدچودھری

پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا ایک سال گزر چکا ہے مگر بھارت ابھی تک اپنے موقف کے حق میں شواہد پیش نہیں کر سکا۔ پاکستان نے پہلگام واقعہ کی آزادانہ تحقیقات کرانے کی پیشکش کی تو بھارت اس سے خوفزدہ ہو گیا۔ عالمی سطح پر پہلگام واقعہ سے متعلق سوالات اٹھائے گئے جن کا بھارت کے پاس کوئی تسلی بخش جواب موجود نہیں ہے۔ پہلگام واقعہ فالس فلیگ آپریشن۔ بھارتی مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دیا گیا۔ پاکستان کی فتح کو پوری دنیا نے دیکھا ۔بھارت آج بھی زخم چاٹ رہا ہے ۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا ایک برس مکمل ہونے کے موقع پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں جس سے پہلے سے بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار کشمیریوںکی مشکلات میںمزید اضافہ ہوگیا ہے۔
پہلگام سمیت اہم سیاحتی مقامات اور حساس علاقوں میں حفاظتی اقدامات کے نام پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں،بھارتی فورسز کی اضافی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے، بھارتی اہلکاروں نے اضافی چیک پوسٹیں قائم کی ہیں جہاں گاڑیوں ، مسافروں اور راہگیروںکی سخت تلاشی لی جا رہی ہے۔یادر ہے کہ گزشتہ برس 22 اپریل کو مقبوضہ وادی کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہگام میں بایسران میدان میں اندھا دھند فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں کئی بھارتی سیا ح ہلاک ہو گئے تھے۔بھارت نے کشمیریوں کی حق پر مبنی تحریک آزادی اور پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے اس حملے کا ذمہ دار کشمیری عسکریت پسندوں اور پاکستان کو ٹھہرایا۔ پاکستان نے بھارت کو حملے کی آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی جو اس نے نہ صرف مستر د کی بلکہ اس حملے کی آڑ میں رات کی تاریکی میں مملکت خداداد پر حملہ آور ہوا اور بے گناہ بچوں اور خواتین سمیت کئی افراد شہید کر دیے۔ پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کے تحت بھارتی جارحیت کا ایک انتہائی دندان شکن جواب دیا ، اسکے جدیدترین رافیل طیاروں سمیت کئی جنگی جہاز مار گرائے اور ایک مکار اور جھوٹے دشمن کو ایسی عبرتناک شکت دی جو وہ مدتوں یاد رکھے گا۔بھارتی میڈیا نے پہلگام واقعہ پر محض پروپیگنڈا اور من گھڑت بیانیے کو فروغ دیا جس سے اس کا مکروہ چہرہ پوری دنیا میں بے نقاب ہوا۔ بھارتی عسکری قیادت کے نئے آپریشن سندور کے بارے میں حالیہ بیانات دراصل ان کی ناکامی اور شکست کا اعتراف ہیں۔ بھارت کو یہ بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہئے کہ کسی بھی قسم کے مس ایڈوینچر کا بھرپور، فوری، موثر اور فیصلہ کن جواب آئے گا۔ بھارت اپنی ناکام پالیسیوں کی بدولت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو چکا ہے جبکہ پاکستان امن مشن کو لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ عالمی میڈیا، سول سوسائٹی اور مختلف تجزیہ کاروں کی جانب سے پہلگام واقعہ پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے مگر بھارت ان کا جواب دینے کے بجائے پاکستان کے خلاف نفرت اور اپنے جھوٹے بیانیے کا راگ الاپتا رہا ہے، بین الاقوامی ادارے اور انٹرنیشنل میڈیا بھارت کے مکر و فریب کو جان چکے ہیں۔
پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کو ترجیح دی ہے اور دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے ہیں جنہیں عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اپنی خودمختاری، وقار اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں، اور کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، معرکہ حق کے بعد بھارت کو بخوبی علم ہے کہ پاکستان کا دفاع کس قدر مضبوط اور ناقابل تسخیر ہے۔وزیر اطلاعات آزاد کشمیر نے بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے اور اس کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ بھارت موجودہ حالات سے سبق سیکھے، اشتعال انگیزی ترک کرے اور کشمیری عوام کو ان کا جائز حق خودارادیت دے، یہی خطے میں دیرپا امن کی واحد ضمانت ہے۔
فالس فلیگ درحقیقت ایک عسکری اصطلاح ہے اور یہ آپریشن جنگی حکمت عملی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ اس سے مراد ایک ایسا حملہ ہوتا ہے جس کا الزام اپنے کسی دشمن کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔ اکثر ممالک میں خفیہ ایجنسیاں اپنے ہی عوام یا اپنی سرزمین پر ایسا کوئی حملہ کرتی ہیں جس کا الزام اپنے دشمن ملک یا اس کی فوج اور ایجنسیوں پر لگا دیا جاتا ہے جس کا مقصد انہیں موردِ الزام ٹھہرا کر اقوام عالم میں انہیں بدنام کرنا ہوتا ہے۔ بدلے میں عالمی رائے عامہ میں اپنے لیے نرمی اور ہمدردی کے جذبات ابھار ے جاتے ہیں۔پہلگام واقعہ کی بات کی جائے تو ایک دشوار گزار علاقے میں جہاں گھوڑوں اور خچروں کے سوا کسی سواری کا جانا ممکن نہیں ہے’ وہاں دہشت گرد کیسے پہنچ گئے؟ چار سو سے زائد سیاحوں کی سکیورٹی کے لئے ایک بھی اہلکار موقع پر موجود نہ تھا جبکہ بھارتی آرمی کا بیس کیمپ پاس ہی موجود ہے۔ اس کے علا وہ اپنے ٹارگٹ ملک کے خلاف جارحانہ حکمت عملی کو اس طرح عملی جامہ پہنایا جاتا ہے کہ اس کے حق میں کوئی بھی آواز نہ اٹھا سکے۔ بھارت کی تاریخ فالس فلیگ آپریشن سے بھری پڑی ہے۔ بھارت کو جب کبھی عالمی حمایت کی ضرورت درپیش آتی ہے یا کوئی اور مقصد حاصل کرنا ہوتا ہے تو اپنے علاقوں پر حملہ کرانے حتیٰ کہ اپنے فوجی مروانے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔ وجود هفته 25 اپریل 2026
امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔

علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح وجود هفته 25 اپریل 2026
علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح

پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر