وجود

... loading ...

وجود

مودی سرکار کی کشمیری طلبہ پر پرتشدد کارروائیاں

اتوار 26 اپریل 2026 مودی سرکار کی کشمیری طلبہ پر پرتشدد کارروائیاں

ریاض احمدچودھری

پہلگام ڈرامہ کے بعد بھارت میں کشمیری طلبہ کے خلاف پرتشدد کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف ریاستوں میں کشمیری نوجوان تشدد، ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ہریانہ، اترپردیش، دہرادون، اور اتراکھنڈ میں کشمیری نوجوانوں کو ہدف بنا کر تشدد کیا جا رہا ہے۔ چندی گڑھ میں ایک کشمیری طالبعلم کو بھارتی طلبہ نے اس کے فلیٹ میں گھس کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔متاثرہ طالبعلم کے مطابق رات تقریباً 3 بجے ہندو طلبا زبردستی فلیٹ میں داخل ہوئے اور تشدد کیا۔ کشمیری طلبہ کو نہ صرف زبردستی گھروں سے نکالا جا رہا ہے بلکہ ان کی رہائش اور تعلیم دونوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بھارتی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں اور انتہاپسند ہندو تنظیموں کی جانب سے کھلے عام دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ متاثرہ طلبہ نے بھارتی حکومت اور اداروں سے تحفظ کی اپیل کی ہے، مگر تاحال کوئی مؤثر اقدام سامنے نہیں آ سکا۔
پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے کشمیری طلبہ کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، اور والدین سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ صورتحال کا نوٹس لے کر کشمیری طلبہ کو تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کریں۔
مودی راج میں فرقہ وارانہ فسادات نے بھارت کو اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کیلئے غیر محفوظ ملک ثابت کر دیا۔مودی کے زیر اثر گودی میڈیا مسلمانوں کو ملک دشمن قرار دے کر زہریلا پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف ہے، جبکہ پہلگام فالس فلیگ کے بعد ہندو توا مہم کے تحت اقلیتوں کی عبادت گاہوں بالخصوص مسلمانوں کی مساجد اور دکانوں کو بے دردی سے مسمار کیا گیا۔پہلگام کی آڑ میں مودی کے فاشسٹ نظریہ کے تحت پلوامہ اور کلگام جیسے مقبوضہ کشمیر کے بیشتر علاقوں میں نہتے مسلمانوں کے گھروں کو زمیں بوس کر دیا گیا اور بھارت میں مسلمانوں کیخلاف پْرتشدد حملوں، جھوٹے مقدمات اور گرفتاریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔عالمی ماہرین کے مطابق مذموم سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشنز بی جے پی کا وطیرہ ہیں، جبکہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت میں مسلم مخالف رجحان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، دہائیوں سے امتیازی سلوک کے شکار بھارتی مسلمانوں کی زندگی بی جے پی حکومت میں مزید بدتر ہو گئی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم پہلگام واقعہ کے حقائق پر جائیں گے، الزامات پر نہیں، اگر الزام یہ ہے کہ یہ واقعہ پاکستانی سرزمین سے نام نہاد دہشت گردوں نے کیا تو یہ مدنظر رکھا جائے کہ پہلگام کسی بھی پاکستانی قصبے سے 200 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔ یہ کوئی ایسا ہموار علاقہ نہیں جو سفر کیلئے آسان ہو اور نہ ہی یہاں ایسی سڑکیں ہیں جو ہر موسم میں کھلی رہ سکیں، جائے وقوعہ سے پولیس سٹیشن تک پہنچنے میں کم از کم آدھا گھنٹہ لگتا ہے، ایف آئی آر کے مطابق 10 منٹ میں پولیس کا پہنچنا اور واپس آ کر رپورٹ درج کرنا سوالیہ نشان ہے، جس سے تیاری کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ بھارتی انٹیلی جنس کو واقعہ کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، لیکن واقعہ کے فوراً بعد 10 منٹ میں یہ دعویٰ سامنے آ گیا کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے تھے۔ایک بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی مذہب کی بنیاد پر ہوئی اور مسلمانوں کو چھوڑ کر ہندوؤں کو نشانہ بنایا گیا، پہلگام کا واقعہ بھارتی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی کی وجہ سے پیش آیا، واقعہ کے کچھ ہی دیر بعد یہ بھی کہا جانے لگا کہ دہشت گرد مسلمان تھے جنہوں نے سیاحوں کو قتل کیا۔بھارت میں اندرونی خلفشار، اقلیتوں پرمظالم اور بڑھتی انتہا پسندی سے توجہ ہٹانے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز تاریخ کا ایک سیاہ باب ہیں۔ فالس فلیگ آپریشن کے بعد پرانے اسکرپٹ کے مطابق گودی میڈیا کے ذریعے پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانیے کو فروغ دیا جاتا ہے۔
فالس فلیگ آپریشن کے پس منظر میں ایک فرسودہ اسکرپٹ کے تحت گرفتار افراد کو جعلی مقابلوں میں ہلاک کرکے دہشتگرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ 23 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشتگردی کے تحت جعلی مقابلے میں 2 کو شہید کر کے پاکستان پر الزامات کی مذموم کوشش کی۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہریوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز جبر وظلم کی انتہا کرتے ہیں اور عام شہریوں کو دہشتگرد بنا کر شہید کیا جاتا ہے۔ خوف کی فضا پھیلانے کے لیے جابر بھارتی فوج بزرگ شہریوں کو بھی بہیمانہ تشدد سے قتل کر دیتی ہے۔کشمیری حریت رہنما ضیا مصطفیٰ شہید کی بہن نے کہا کہ قابض بھارت نے میرے بھائی کو بھی عدالت میں فیصلہ ہونے سے قبل ہی جیل سے نکال کر قتل کر دیا۔دوسری جانب عالمی ماہرین کے مطابق مستقبل میں بھی بھارت کی جانب سے قیدیوں کو جعلی انکاونٹرز میں قتل کرکے دہشتگرد ظاہر کرنے کا خدشہ موجود ہے۔ گودی میڈیا داخلی خلفشار سے توجہ ہٹانے کیلئے گھسے پٹے اسکرپٹ کے تحت معصوم مسلمانوں کو دہشتگرد بنا کر پیش کرتا ہے۔واضح رہے کہ ماورائے عدالت قتل کے باوجود یہ حقیقت آشکار ہوچکی ہے کہ مودی کے سیاسی عزائم کے لیے پہلگام واقعہ بھی فالس فلیگ آپریشنزکا تسلسل تھا۔ 23 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر میں ایک مبینہ جعلی مقابلے کے دوران دو کشمیری شہریوں کی ہلاکت پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جبکہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی واقعات میں عام شہریوں کو شدت پسند قرار دے کر کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقیقت واضح ہو سکے، کیونکہ ان کے اثرات نہ صرف مقامی سطح بلکہ خطے کے امن پر بھی پڑتے ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

لبنان: راحت اور بربادی کے درمیان وجود اتوار 26 اپریل 2026
لبنان: راحت اور بربادی کے درمیان

پاکستان اور خوراک کاضیاع وجود اتوار 26 اپریل 2026
پاکستان اور خوراک کاضیاع

مودی سرکار کی کشمیری طلبہ پر پرتشدد کارروائیاں وجود اتوار 26 اپریل 2026
مودی سرکار کی کشمیری طلبہ پر پرتشدد کارروائیاں

پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر