... loading ...
ریاض احمدچودھری
پہلگام ڈرامہ کے بعد بھارت میں کشمیری طلبہ کے خلاف پرتشدد کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف ریاستوں میں کشمیری نوجوان تشدد، ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ہریانہ، اترپردیش، دہرادون، اور اتراکھنڈ میں کشمیری نوجوانوں کو ہدف بنا کر تشدد کیا جا رہا ہے۔ چندی گڑھ میں ایک کشمیری طالبعلم کو بھارتی طلبہ نے اس کے فلیٹ میں گھس کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔متاثرہ طالبعلم کے مطابق رات تقریباً 3 بجے ہندو طلبا زبردستی فلیٹ میں داخل ہوئے اور تشدد کیا۔ کشمیری طلبہ کو نہ صرف زبردستی گھروں سے نکالا جا رہا ہے بلکہ ان کی رہائش اور تعلیم دونوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بھارتی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں اور انتہاپسند ہندو تنظیموں کی جانب سے کھلے عام دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ متاثرہ طلبہ نے بھارتی حکومت اور اداروں سے تحفظ کی اپیل کی ہے، مگر تاحال کوئی مؤثر اقدام سامنے نہیں آ سکا۔
پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے کشمیری طلبہ کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، اور والدین سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ صورتحال کا نوٹس لے کر کشمیری طلبہ کو تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کریں۔
مودی راج میں فرقہ وارانہ فسادات نے بھارت کو اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کیلئے غیر محفوظ ملک ثابت کر دیا۔مودی کے زیر اثر گودی میڈیا مسلمانوں کو ملک دشمن قرار دے کر زہریلا پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف ہے، جبکہ پہلگام فالس فلیگ کے بعد ہندو توا مہم کے تحت اقلیتوں کی عبادت گاہوں بالخصوص مسلمانوں کی مساجد اور دکانوں کو بے دردی سے مسمار کیا گیا۔پہلگام کی آڑ میں مودی کے فاشسٹ نظریہ کے تحت پلوامہ اور کلگام جیسے مقبوضہ کشمیر کے بیشتر علاقوں میں نہتے مسلمانوں کے گھروں کو زمیں بوس کر دیا گیا اور بھارت میں مسلمانوں کیخلاف پْرتشدد حملوں، جھوٹے مقدمات اور گرفتاریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔عالمی ماہرین کے مطابق مذموم سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشنز بی جے پی کا وطیرہ ہیں، جبکہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت میں مسلم مخالف رجحان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، دہائیوں سے امتیازی سلوک کے شکار بھارتی مسلمانوں کی زندگی بی جے پی حکومت میں مزید بدتر ہو گئی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم پہلگام واقعہ کے حقائق پر جائیں گے، الزامات پر نہیں، اگر الزام یہ ہے کہ یہ واقعہ پاکستانی سرزمین سے نام نہاد دہشت گردوں نے کیا تو یہ مدنظر رکھا جائے کہ پہلگام کسی بھی پاکستانی قصبے سے 200 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔ یہ کوئی ایسا ہموار علاقہ نہیں جو سفر کیلئے آسان ہو اور نہ ہی یہاں ایسی سڑکیں ہیں جو ہر موسم میں کھلی رہ سکیں، جائے وقوعہ سے پولیس سٹیشن تک پہنچنے میں کم از کم آدھا گھنٹہ لگتا ہے، ایف آئی آر کے مطابق 10 منٹ میں پولیس کا پہنچنا اور واپس آ کر رپورٹ درج کرنا سوالیہ نشان ہے، جس سے تیاری کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ بھارتی انٹیلی جنس کو واقعہ کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، لیکن واقعہ کے فوراً بعد 10 منٹ میں یہ دعویٰ سامنے آ گیا کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے تھے۔ایک بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی مذہب کی بنیاد پر ہوئی اور مسلمانوں کو چھوڑ کر ہندوؤں کو نشانہ بنایا گیا، پہلگام کا واقعہ بھارتی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی کی وجہ سے پیش آیا، واقعہ کے کچھ ہی دیر بعد یہ بھی کہا جانے لگا کہ دہشت گرد مسلمان تھے جنہوں نے سیاحوں کو قتل کیا۔بھارت میں اندرونی خلفشار، اقلیتوں پرمظالم اور بڑھتی انتہا پسندی سے توجہ ہٹانے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز تاریخ کا ایک سیاہ باب ہیں۔ فالس فلیگ آپریشن کے بعد پرانے اسکرپٹ کے مطابق گودی میڈیا کے ذریعے پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانیے کو فروغ دیا جاتا ہے۔
فالس فلیگ آپریشن کے پس منظر میں ایک فرسودہ اسکرپٹ کے تحت گرفتار افراد کو جعلی مقابلوں میں ہلاک کرکے دہشتگرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ 23 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشتگردی کے تحت جعلی مقابلے میں 2 کو شہید کر کے پاکستان پر الزامات کی مذموم کوشش کی۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہریوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز جبر وظلم کی انتہا کرتے ہیں اور عام شہریوں کو دہشتگرد بنا کر شہید کیا جاتا ہے۔ خوف کی فضا پھیلانے کے لیے جابر بھارتی فوج بزرگ شہریوں کو بھی بہیمانہ تشدد سے قتل کر دیتی ہے۔کشمیری حریت رہنما ضیا مصطفیٰ شہید کی بہن نے کہا کہ قابض بھارت نے میرے بھائی کو بھی عدالت میں فیصلہ ہونے سے قبل ہی جیل سے نکال کر قتل کر دیا۔دوسری جانب عالمی ماہرین کے مطابق مستقبل میں بھی بھارت کی جانب سے قیدیوں کو جعلی انکاونٹرز میں قتل کرکے دہشتگرد ظاہر کرنے کا خدشہ موجود ہے۔ گودی میڈیا داخلی خلفشار سے توجہ ہٹانے کیلئے گھسے پٹے اسکرپٹ کے تحت معصوم مسلمانوں کو دہشتگرد بنا کر پیش کرتا ہے۔واضح رہے کہ ماورائے عدالت قتل کے باوجود یہ حقیقت آشکار ہوچکی ہے کہ مودی کے سیاسی عزائم کے لیے پہلگام واقعہ بھی فالس فلیگ آپریشنزکا تسلسل تھا۔ 23 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر میں ایک مبینہ جعلی مقابلے کے دوران دو کشمیری شہریوں کی ہلاکت پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جبکہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی واقعات میں عام شہریوں کو شدت پسند قرار دے کر کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقیقت واضح ہو سکے، کیونکہ ان کے اثرات نہ صرف مقامی سطح بلکہ خطے کے امن پر بھی پڑتے ہیں۔
٭٭٭