... loading ...
سات زخم
بے لگام / ستار چوہدری
یہاں زندہ رہنا بھی ایک لگژری بن چکا ہے ، اگر آپ کے پاس بجلی کا بل بھرنے کے پیسے نہیں، تو آپ اندھیرے کے مستحق ہیں، اگر گیس
مہنگی لگتی ہے ، تو آپ بھوک کے مستحق ہیں، اگر پٹرول نہیں خرید سکتے ، تو سفر آپ کے نصیب میں نہیں، اگر گھر نہیں لے سکتے ، تو سڑکیں آپ
کی پناہ ہیں، اگر علاج نہیں کرا سکتے ، تو موت آپ کا مقدر ہے ، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسی ملک میں ہوتا ہے ، جہاں کچھ لوگ
انہی نعمتوں کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے ، بلکہ انہیں یہ سب فری ملتا ہے ۔توبتائیں، یہ ریاست ہے یا ایک مذاق،؟ ہاں،!! اسے ہی کہتے
ہیں پاکستان ۔
سب سے پہلے بجلی، جو کبھی روشنی تھی، اب خوف بن چکی ہے ، ہر مہینے ایک نیا بل نہیں آتا، ایک نیا دھچکا آتا ہے ، جو امیدوں کا فیوز اڑا دیتا ہے ، پھر گیس، جو چولہے کی آنچ نہیں، سرد خاموشی ہے ، کھانا اب ذائقہ نہیں رہا، ایک جنگ ہے ، جو ہر روز ہارنے کا احساس دیتی ہے ، گاڑی، کبھی سہولت تھی، اب خواب ہے ، اور پٹرول، وہ خواب خریدنے کی قیمت، جو ہر روز بڑھتی ہے ،گھر، چار دیواری نہیں، ایک حسرت ہے ، جو عمر بھر کرائے کی زنجیروں میں جکڑی رہتی ہے ، علاج، شفا نہیں، ایک سودا ہے ، جہاں زندگی بھی قیمت مانگتی ہے اور موت بھی، اور آخر میں سفر، جو کبھی راستہ تھا، اب رکاوٹ ہے ، کیونکہ کرایہ، فاصلے سے زیادہ بھاری ہو چکا ہے ، ” یہ ہیں وہ سات زخم ”،جو ہر روز اس قوم کے جسم پر لگتے ہیں، آہستہ آہستہ، مگر گہرے ۔ ہاں،!! اسے ہی کہتے ہیں پاکستان۔
یہ وہی سات چیزیں ہیں، مگر کہانی یہاں بدل جاتی ہے ، ایک طرف وہ پاکستان ہے ، جہاں بجلی کا بل آتا ہے تو گھر میں خاموشی چھا جاتی
ہے ، اور دوسری طرف وہ پاکستان ہے ، جہاں بجلی صرف سوئچ سے نہیں، اختیار سے چلتی ہے ،بلا حساب، ایک طرف چولہا ٹھنڈا پڑا رہتا ہے ،
دوسری طرف دسترخوان کبھی خالی نہیں ہوتا، ایک طرف پٹرول ناپ ناپ کر ڈالا جاتا ہے ، دوسری طرف گاڑیاں بغیر سوچ کے دوڑتی ہیں،
کیونکہ وہاں قیمت نہیں، مراعات ہوتی ہیں۔ ایک طرف لوگ عمر بھر کرایہ دیتے ہیں، دوسری طرف محل سرکاری خرچ پر آباد ہوتے ہیں،
ایک طرف علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں ہیں، دوسری طرف ایک فون کال پر ہسپتال حاضر، اور سفر،؟ ایک کے لیے بھیڑ، دھکے اور ذلت،
دوسرے کے لیے پروٹوکول، راستے خالی، سائرن، یہ ایک ملک نہیں، یہ دو الگ دنیائیں ہیں، جو زبردستی ایک نقشے میں قید کر دی گئی ہیں، اور
سب جانتے ہیں، کہ اس تقسیم کی لکیر کہاں سے گزرتی ہے ، ہاں،!! اسے ہی کہتے ہیں پاکستان۔
یہ سب حادثہ نہیں ہے ، یہ کسی ایک دن کی غلطی نہیں، یہ برسوں کی خاموشی، سمجھوتوں اور مفادات کا نتیجہ ہے ، یہاں نظام نہیں چلتا، یہاں
نظام چلایا جاتا ہے ، قانون لکھا سب کے لیے جاتا ہے ، مگر لاگو صرف کمزور پر ہوتا ہے ، یہاں فیصلے عوام کے لیے نہیں ہوتے ، عوام پر ہوتے
ہیں، اور جو لوگ یہ فیصلے کرتے ہیں، وہ خود ان کے دائرے سے باہر کھڑے ہوتے ہیں، مسئلہ صرف مہنگائی نہیں، مسئلہ وہ سوچ ہے ، جو عوام کو
بوجھ سمجھتی ہے ، اوراختیار کو حق نہیں، میراث، یہاں طاقت خدمت نہیں کرتی، طاقت حساب مانگنے والوں سے سوال کرتی ہے ، اور جب
ریاست کا توازن بگڑ جائے ، تو پھر بجلی، گیس، پٹرول، علاج، یہ سب صرف علامات رہ جاتی ہیں، اصل بیماری کہیں گہری ہوتی ہے ، یہی وہ
بیماری ہے ، جو ایک ہی ملک میں دو دنیائیں پیدا کرتی ہے ، ہاں،!! اسے ہی کہتے ہیں پاکستان۔
یہ سب کچھ صرف اوپر سے نہیں ہوتا، یہ نیچے کی خاموشی سے بھی جنم لیتا ہے ، ہم سب دیکھتے ہیں، بل بڑھتے ہوئے ، سہولتیں گھٹتی ہوئی،
فرق گہرا ہوتا ہوا، مگر پھر بھی ہم چپ رہتے ہیں، ہم نے آہستہ آہستہ خود کو قائل کر لیا ہے ، کہ یہی نظام ہے ، یہی نصیب ہے ، کہ سوال کرنا خطرہ
ہے اور برداشت کرنا ہی عقل مندی، ہم قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں، دھکے کھاتے ہیں، اپنے حق کو صبر کا نام دے دیتے ہیں، اور پھر اسی
صبر پر فخر بھی کرتے ہیں،مگر سچ یہ ہے ، یہ خاموشی، یہ برداشت، یہی وہ مٹی ہے ، جس میں ناانصافی کی جڑیں اور گہری ہوتی جاتی ہیں، جو قوم
سوال چھوڑ دے ، وہ جوابوں سے بھی محروم ہو جاتی ہے ، اور جب آوازیں مر جائیں۔۔ تو نظام زندہ رہتا ہے ، بغیر خوف کے ، بغیر حساب کے
، ہاں،!! اسے ہی کہتے ہیں پاکستان ۔۔۔
اور پھر ایک دن، یہ سب معمول بن جاتا ہے ، اندھیرے سے ڈر لگنا بند ہو جاتا ہے ، بھوک بھی عادت بن جاتی ہے ، اور ناانصافی، وہ تو جیسے
زندگی کا حصہ ٹھہر جاتی ہے ۔ لوگ جینا نہیں چھوڑتے ، وہ بس جینے کی تعریف بدل دیتے ہیں، کسی ماں کی آنکھوں میں ادھوری دوائی کی نمی رہ
جاتی ہے ، کسی باپ کے ہاتھ میں نامکمل بلوں کی لرزش، کسی نوجوان کے دل میں، ادھورے خوابوں کی قبریں، اور آہستہ آہستہ یہ ملک سانس
لیتا ہوا بھی اندر سے مرنے لگتا ہے ، سب کچھ سامنے ہوتا ہے ، کوئی چیخ نہیں بنتی، کوئی سوال نہیں اٹھتا، بس ایک خاموشی، جو قبرستان سے بھی
زیادہ بھاری ہوتی ہے ، اور پھر تاریخ لکھی جاتی ہے ، الفاظ میں نہیں، آہوں میں ،کہ ایک قوم تھی، جو سب کچھ دیکھتی رہی، سہتی رہی۔۔ اور
آخرکار خود کو ہی کھو بیٹھی، ہاں۔۔!! اسے ہی کہتے ہیں پاکستان۔
٭٭٭