وجود

... loading ...

وجود

اسے کہتے ہیں پاکستان !!

پیر 20 اپریل 2026 اسے کہتے ہیں پاکستان !!

سات زخم
بے لگام / ستار چوہدری

یہاں زندہ رہنا بھی ایک لگژری بن چکا ہے ، اگر آپ کے پاس بجلی کا بل بھرنے کے پیسے نہیں، تو آپ اندھیرے کے مستحق ہیں، اگر گیس
مہنگی لگتی ہے ، تو آپ بھوک کے مستحق ہیں، اگر پٹرول نہیں خرید سکتے ، تو سفر آپ کے نصیب میں نہیں، اگر گھر نہیں لے سکتے ، تو سڑکیں آپ
کی پناہ ہیں، اگر علاج نہیں کرا سکتے ، تو موت آپ کا مقدر ہے ، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسی ملک میں ہوتا ہے ، جہاں کچھ لوگ
انہی نعمتوں کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے ، بلکہ انہیں یہ سب فری ملتا ہے ۔توبتائیں، یہ ریاست ہے یا ایک مذاق،؟ ہاں،!! اسے ہی کہتے
ہیں پاکستان ۔
سب سے پہلے بجلی، جو کبھی روشنی تھی، اب خوف بن چکی ہے ، ہر مہینے ایک نیا بل نہیں آتا، ایک نیا دھچکا آتا ہے ، جو امیدوں کا فیوز اڑا دیتا ہے ، پھر گیس، جو چولہے کی آنچ نہیں، سرد خاموشی ہے ، کھانا اب ذائقہ نہیں رہا، ایک جنگ ہے ، جو ہر روز ہارنے کا احساس دیتی ہے ، گاڑی، کبھی سہولت تھی، اب خواب ہے ، اور پٹرول، وہ خواب خریدنے کی قیمت، جو ہر روز بڑھتی ہے ،گھر، چار دیواری نہیں، ایک حسرت ہے ، جو عمر بھر کرائے کی زنجیروں میں جکڑی رہتی ہے ، علاج، شفا نہیں، ایک سودا ہے ، جہاں زندگی بھی قیمت مانگتی ہے اور موت بھی، اور آخر میں سفر، جو کبھی راستہ تھا، اب رکاوٹ ہے ، کیونکہ کرایہ، فاصلے سے زیادہ بھاری ہو چکا ہے ، ” یہ ہیں وہ سات زخم ”،جو ہر روز اس قوم کے جسم پر لگتے ہیں، آہستہ آہستہ، مگر گہرے ۔ ہاں،!! اسے ہی کہتے ہیں پاکستان۔
یہ وہی سات چیزیں ہیں، مگر کہانی یہاں بدل جاتی ہے ، ایک طرف وہ پاکستان ہے ، جہاں بجلی کا بل آتا ہے تو گھر میں خاموشی چھا جاتی
ہے ، اور دوسری طرف وہ پاکستان ہے ، جہاں بجلی صرف سوئچ سے نہیں، اختیار سے چلتی ہے ،بلا حساب، ایک طرف چولہا ٹھنڈا پڑا رہتا ہے ،
دوسری طرف دسترخوان کبھی خالی نہیں ہوتا، ایک طرف پٹرول ناپ ناپ کر ڈالا جاتا ہے ، دوسری طرف گاڑیاں بغیر سوچ کے دوڑتی ہیں،
کیونکہ وہاں قیمت نہیں، مراعات ہوتی ہیں۔ ایک طرف لوگ عمر بھر کرایہ دیتے ہیں، دوسری طرف محل سرکاری خرچ پر آباد ہوتے ہیں،
ایک طرف علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں ہیں، دوسری طرف ایک فون کال پر ہسپتال حاضر، اور سفر،؟ ایک کے لیے بھیڑ، دھکے اور ذلت،
دوسرے کے لیے پروٹوکول، راستے خالی، سائرن، یہ ایک ملک نہیں، یہ دو الگ دنیائیں ہیں، جو زبردستی ایک نقشے میں قید کر دی گئی ہیں، اور
سب جانتے ہیں، کہ اس تقسیم کی لکیر کہاں سے گزرتی ہے ، ہاں،!! اسے ہی کہتے ہیں پاکستان۔
یہ سب حادثہ نہیں ہے ، یہ کسی ایک دن کی غلطی نہیں، یہ برسوں کی خاموشی، سمجھوتوں اور مفادات کا نتیجہ ہے ، یہاں نظام نہیں چلتا، یہاں
نظام چلایا جاتا ہے ، قانون لکھا سب کے لیے جاتا ہے ، مگر لاگو صرف کمزور پر ہوتا ہے ، یہاں فیصلے عوام کے لیے نہیں ہوتے ، عوام پر ہوتے
ہیں، اور جو لوگ یہ فیصلے کرتے ہیں، وہ خود ان کے دائرے سے باہر کھڑے ہوتے ہیں، مسئلہ صرف مہنگائی نہیں، مسئلہ وہ سوچ ہے ، جو عوام کو
بوجھ سمجھتی ہے ، اوراختیار کو حق نہیں، میراث، یہاں طاقت خدمت نہیں کرتی، طاقت حساب مانگنے والوں سے سوال کرتی ہے ، اور جب
ریاست کا توازن بگڑ جائے ، تو پھر بجلی، گیس، پٹرول، علاج، یہ سب صرف علامات رہ جاتی ہیں، اصل بیماری کہیں گہری ہوتی ہے ، یہی وہ
بیماری ہے ، جو ایک ہی ملک میں دو دنیائیں پیدا کرتی ہے ، ہاں،!! اسے ہی کہتے ہیں پاکستان۔
یہ سب کچھ صرف اوپر سے نہیں ہوتا، یہ نیچے کی خاموشی سے بھی جنم لیتا ہے ، ہم سب دیکھتے ہیں، بل بڑھتے ہوئے ، سہولتیں گھٹتی ہوئی،
فرق گہرا ہوتا ہوا، مگر پھر بھی ہم چپ رہتے ہیں، ہم نے آہستہ آہستہ خود کو قائل کر لیا ہے ، کہ یہی نظام ہے ، یہی نصیب ہے ، کہ سوال کرنا خطرہ
ہے اور برداشت کرنا ہی عقل مندی، ہم قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں، دھکے کھاتے ہیں، اپنے حق کو صبر کا نام دے دیتے ہیں، اور پھر اسی
صبر پر فخر بھی کرتے ہیں،مگر سچ یہ ہے ، یہ خاموشی، یہ برداشت، یہی وہ مٹی ہے ، جس میں ناانصافی کی جڑیں اور گہری ہوتی جاتی ہیں، جو قوم
سوال چھوڑ دے ، وہ جوابوں سے بھی محروم ہو جاتی ہے ، اور جب آوازیں مر جائیں۔۔ تو نظام زندہ رہتا ہے ، بغیر خوف کے ، بغیر حساب کے
، ہاں،!! اسے ہی کہتے ہیں پاکستان ۔۔۔
اور پھر ایک دن، یہ سب معمول بن جاتا ہے ، اندھیرے سے ڈر لگنا بند ہو جاتا ہے ، بھوک بھی عادت بن جاتی ہے ، اور ناانصافی، وہ تو جیسے
زندگی کا حصہ ٹھہر جاتی ہے ۔ لوگ جینا نہیں چھوڑتے ، وہ بس جینے کی تعریف بدل دیتے ہیں، کسی ماں کی آنکھوں میں ادھوری دوائی کی نمی رہ
جاتی ہے ، کسی باپ کے ہاتھ میں نامکمل بلوں کی لرزش، کسی نوجوان کے دل میں، ادھورے خوابوں کی قبریں، اور آہستہ آہستہ یہ ملک سانس
لیتا ہوا بھی اندر سے مرنے لگتا ہے ، سب کچھ سامنے ہوتا ہے ، کوئی چیخ نہیں بنتی، کوئی سوال نہیں اٹھتا، بس ایک خاموشی، جو قبرستان سے بھی
زیادہ بھاری ہوتی ہے ، اور پھر تاریخ لکھی جاتی ہے ، الفاظ میں نہیں، آہوں میں ،کہ ایک قوم تھی، جو سب کچھ دیکھتی رہی، سہتی رہی۔۔ اور
آخرکار خود کو ہی کھو بیٹھی، ہاں۔۔!! اسے ہی کہتے ہیں پاکستان۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اسے کہتے ہیں پاکستان !! وجود پیر 20 اپریل 2026
اسے کہتے ہیں پاکستان !!

پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر