... loading ...
ریاض احمدچودھری
پانچ اگست 2019 کا دن تاریخ کشمیر کا ایک سیاہ باب ہے، جب بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35A کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ یہ اقدام نہ صرف کشمیریوں کے بنیادی حقوق پر حملہ تھا، بلکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی بھی۔اقوامِ متحدہ نے اپنی قراردادوں میں تسلیم کیا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے، جس کا فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو بین الاقوامی اصولوں کے تحت تسلیم کرتا ہے۔ بھارت کی جانب سے پانچ اگست 2019 کو کیے گئے یکطرفہ اقدامات اقوامِ متحدہ کی ان قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ آج بھی عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ سمیت متعدد تنظیمیں کشمیری عوام کے حقوق کی حمایت کرتی ہیں اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔
1947سے لیکر آج تک کشمیری سات دہائیوں سے ذائد عرصے سے بھارت سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔جس جنگ میں لاکھوں لوگ قربانیوں دے چکے ہیں ہزاروں بے گھر ہوئے ہیں۔ہزاروں لاپتہ ہوئے ہیں ہزاروں گمنان قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ہزاروں جیلوں میں قید ہیں۔ مہاراجہ کا کشمیر کا بھارت کے ساتھ عارضی الحاق تھا۔اقوام متحدہ میں کشمیر پر قرار دادیں موجود ہیں۔2014ئ میں بھارت میں ہندوتوا نظریہ کی بنیاد پر مودی سرکار وجود میں آئی ہے۔اس ہندوتوا سرکار کے سازش اور منصوبہ کے زریعے پانچ اگست 2019کو کشمیر کو مکمل ہرپ کرنے کی کوشش کی۔ اس فیصلے کے بعد، وادیِ کشمیر کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کر کے جیلوں میں بند کیا گیا۔ انٹرنیٹ، موبائل فون اور دیگر ذرائع ابلاغ بند کر دیے گئے۔ عالمی میڈیا کو داخلے کی اجازت نہ دی گئی تاکہ دنیا کشمیر میں ہونے والے مظالم سے بے خبر رہے۔ آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کے اندر ایک نیم خودمختار حیثیت حاصل تھی، جس کے تحت کشمیریوں کو مخصوص حقوق حاصل تھے، بشمول زمین کی ملکیت اور مستقل شہریت۔ آرٹیکل 35A اسی سلسلے کی توسیع تھی جو کشمیری عوام کی شناخت اور ثقافت کے تحفظ کی ضمانت تھی۔ مگر بھارتی حکومت نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے، بغیر کشمیری عوام یا ان کی منتخب قیادت کی رضا مندی کے، ان دفعات کو ختم کردیا۔کشمیری نہ جھکنے والے لوگ ہیں اور نہ ہی کشمیری تحریک مٹنے والی ہے جدوجہد جہد جاری رہے گی۔کشمیری عوام بھارتی قبضے کو قبول نہیں کریں گے، اور اپنی جدوجہدِ آزادی جاری رکھیں گے۔کشمیری عوام نے مہاراجہ ہری سنگھ کے جابرانہ دور سے لے کر نریندر مودی کی فسطائی حکومت تک اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھی ہے، اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ اپنے مقصد مکمل آزادی کو حاصل نہیں کر لیتے۔
آزادی کشمیر کی تحریک کشمیر کی آزادی پر ہی ختم ہوگی۔ ظلم کی داستان 70 سال کی نہیں صدیوں پر مشتمل ہے، تاریخ نے جبر توڑے ہیں، تمہارا جبر بھی ٹوٹے گا اور فتح و کامرانی مجاہدین کے قدم چومے گی۔ ہندوستان نے غلط فیصلہ کیا کشمیر کی آئینی تبدیل حیثیت کی، ہمارے حکمرانوں نے غلطی کی اس پر خاموشی اختیار کی، پاکستان کے عوام پاکستان کے جوان کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، پاکستانی قوم کبھی کشمیریوں کا ساتھ نہیں چھوڑے گی۔ ہندوستان کو یہ گھمنڈ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کریں گے ، میں مودی کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ جو مرضی کر لو وہاں پر تم اپنا قبضہ قائم نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں اپنی تاریخ یاد رکھنی ہو گی، آج امریکہ انسانی حقوق کی بات کرتا ہے کس حقوق کی بات کر رہا ہے؟، نو ماہ کے اندر چالیس ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور دس ہزار ملبے کے نیچے دبے ہیں لیکن امریکہ اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔
کشمیر کے مظلوم عوام کے استحصال کا آغاز دراصل 16 مارچ 1846 کو ہو گیا تھا جب اپنے آپ کو انسانی حقوق کا چیمپئین کہنے والے تاج برطانیہ ( ایسٹ انڈیا کمپنی ) نے کشمیر اور اس میں بسنے والے لاکھوں مسلمانوں کو بھیڑ بکریوں کی مانند مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں750000 روپے میں فروخت کر دیا تھا۔ مہاراجہ نے اپنے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے لیکن بعد ازاں جب کشمیر کے غیر مسلم راجہ نے اپنی ریاست کے عوام کے ساتھ مکرو فریب اور غدار ی کی توغلامی کی زنجیروں میں جکڑے کشمیری مسلمانوں نے پہلی مرتبہ1931 میں متحد ہو کر مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف تحریک آزادی کا آغاز کیا تھا اور اس تحریک کو کچلنے کے لیے مہاراجہ ہری سنگھ نے ہزاروں کشمیری زخمی اور شہید کر دیے تھے۔
یہ سب نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی تھی بلکہ یہ اقدام کر کے بھارت نے اس مبینہ معاہدے کی بھی مکمل خلاف ورزی کی جس کے تحت بھارت یہ دعویٰ کرتا ہے کہ کشمیر کے راجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا۔ یعنی کشمیری عوام کے ساتھ ساتھ کشمیر کے سابقہ سکھ راجہ کے ساتھ بھی بھارت نے مکاری اور فریب سے ہی کام لیا ہے۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر کی وادی میں ہر آٹھ کشمیریوں کے لیے ایک بھارتی فوجی کی تعیناتی ہو، کشمیری بچوں پر برسنے والی پیلٹ گنز ہوں، بھارت کی دہشت گرد حکومت کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر کلسٹر بموں کا استعمال ہو ، تمام ذرائع مواصلات پر مکمل پابندی اور باہر کی دنیا کو مقبوضہ وادی تک کسی قسم کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی نہیں جانتا کہ وہاں عوام کس حال میں ہیں۔
٭٭٭