... loading ...
حاصل مطالعہ
عبد الرحیم
امریکہ کے قومی مفادات میںچار بڑی رکاوٹیں ٹرمپ کی لا پروائی کا براہ راست نتیجہ ہیں۔ یہ پسپائیاں عالمی جمہوریت کو کمزور کرتی ہیں جبکہ چین، روس اور دوسری جگہوں پر آمریتوں کا حوصلہ بڑھ رہا ہے۔ امریکہ اور دنیا کو سب سے ٹھوس دھچکا وہ بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے جو ایران نے آبنائے ہرمز کو ہتھیار بنا کر عالمی معیشت پر حاصل کیا ہے۔جنگ سے قبل ایرانی رہنمائوں کو خوف تھا کہ جہازوں کی ٹریفک روکنے سے نئی اقتصادی پابندیاں لگ جائیں گی اور فوجی حملہ ہو گا۔ لیکن جب حملہ ہوا تو ایران نے اپنے جہازوں کے سوا تقریباً تمام جہازوں کی ٹریفک کیلئے آبنائے ہرمز بند کردی۔ یہ پالیسی ایران کیلئے سستی ہے کیونکہ یہ زیادہ تر دھمکی ہے کیونکہ ایک ڈرون،میزائل یا چھوٹی کشتی ایک ٹینکر کو دھماکے سے اڑا سکتی ہے۔اس کے برعکس آبنائے ہرمز کو قوت سے دوبارہ کھولنے کیلئے بڑے فوجی آپریشن کے ضرورت ہوگی جس میں زمین پر فوجی دستے اتارنے اور طویل عرصے کیلئے ملک پرقبضے کی ضرورت ہوگی۔
دو ہفتہ کی جنگ بندی سے حالات جوں کے توں نہیں رہے کیونکہ ایران اب بھی جہازوں کی ٹریفک کو محدود کر رہا ہے اوراس نے قطعی امن ڈیل کے طور پر محصول راہداری وصول کرنے کی دھمکی دی ہے۔جنگ نے ایرانی رہنمائوں پر واضح کر دیا ہے کہ آبی راہ کو کنٹرول کرنا واقعی ممکن ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے سفارتی حصول مقصد کا ذریعہ جیت لیا ہے جس کا وہ6 ہفتہ قبل صرف خواب ہی دیکھ سکتا تھا۔ صورتحال میں تبدیلی کا واحد ذریعہ عالمی اتحاد ہوگا جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرے۔اس قسم کے اتحاد کی قیادت کیلئے ٹرمپ موزوں نہیں ہے۔
پرانے انتظامات کا خاتمہ ہو چکا !
ایران جنگ میں جنگ بندی کے دوران خلیجی امارات ایرانی میزائلوں سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگا رہی ہیں۔ اقتصادی دھچکا شدید رہا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے اور اب امریکہ نے بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔خطے کی حکومتیں سمندر پار حتمی وعدوں کی رفتار کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہیں جنہیں وہ جنگ کے دوران برقرار رکھ سکتی ہیں۔ سرمایہ کاری کے وعدووں کی بنیاد علاقائی استحکام پر ہے۔
امریکہ اور خلیجی ریاستوں کے دررمیان شراکت کا انحصار اس امر پر ہے کہ آیا طرفین اسے اسٹریٹیجک اثاثہ کے طور پر چلاتے ہیں یا کاروباری سہولت کے طورجو پہلے کبھی تھا۔ میزائلوں نے ایک اہم بات کی وضاحت کردی ہے کہ یہ تعلق خطرہ میں ہے بلکہ یہ اتنا اہم ہو چکا ہے ا سے آ ٹو پائلٹ(خود کام کر نے والا مشینی جہازران) پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
کیلیفورنیا لیتھئیم دھات کا سعودی عرب
ہر ترقی یافتہ ملک کو اپنی مینوفیکچرنگ مشین کو چالو حالت میں رکھنے کیلئے بڑے پیمانے پر خام مال درکار ہوتا ہے اور ایسی معدنیات کی بھی جو صنعتوں میں بنیادی خام مال کا درجہ رکھتی ہیں۔دنیا بھر میں کمیاب معدنیات کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔چین ،امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک کو زیادہ سے زیادہ ممالک میں کمیاب معدنیات درکار ہیں۔
لیتھئیم ایک کمیاب دھات ہے ۔کیلی فورنیا میں لیتھئیم دھات لوگوں کی زندگی بدل کر رکھ دے گا۔اس کے سالٹن سمندر میں یہ دھات اس قدر موجودہے جو بیٹریوں کو دوبارہ چارج کرنے کیلئے ضروری ہے۔یہ اتنی وسیع جھیل ہے جسے لیتھئیم کا سعودی عرب کہا جاسکتا ہے۔اس میں500 بلین ڈالر کا لیتھئیم موجود ہونے کا تخمینہ ہے جس سے اسمارٹ فونز،الیکٹرک کاروں اور الیکٹرک گرڈز کو برقی توانائی فراہم کی جا سکے گی۔یہ سفید سونے کی دھات امریکہ کے ایک غریب ترین جگہ پر جابز،ٹیکسوں کے صورت میں ڈالرز اور اقتصادی ترقی لائے گی۔
لیتھئیم کو نکالنے کیلئے تازہ پانی کی مستقل فراہمی ضروری ہے جس کے نتیجہ میں پانی کے کمیاب وسائل ختم ہوجائیں گے۔ سائنسدانوں کو طویل عرصے سے معلوم تھا کہ لیتھئیم سالٹن سمندر کے نیچے گرم،معدنیات سے مالامال سمندر کے پانی میں موجود ہے۔ لیکن اس سفید دھات کی اہمیت اس وقت سامنے آئی جب الیکٹرک کاروں، لیپ ٹاپس،ونڈ اور سولر توانائی کا عروج ہوا جنہیں اس کی ان کے الیکٹرک اسٹوریج سسٹمز کیلئے اس کی ضرورت ہے۔امریکہ کے پاس نویڈا میں صرف ایک فعال لیتھئیم کان ہے اوروہ تقریباً اپنی تمام لیتھئیم جنوبی امریکہ ،آسٹریلیا اور چین سے درآمد کرتا ہے۔ سالٹن سی ریجن دنیا کے سب سے بڑے لیتھئیم کے ذخائر میں سے ایک ہے جو عشروں تک پورے امریکہ کی طلب کو پورا کرسکے گا۔ علاقے میں تین کمپنیاں دھات نکالنے کیلئے کام کر رہی ہیں، لیکن کسی نے بھی ابھی تک تجارتی پیمانے پر کام کرنا نہیں شروع کیا ہے۔لیتھئیم کمپنیاںمل کر1000 تعمیراتی جابز اور700 مستقل آپریشن جابز پیدا کر سکتی ہیں۔ توقع ہے 2028 تک تجارتی پیمانے پر لیتھئیم کونکالا جا سکے گا۔
٭٭٭٭