وجود

... loading ...

وجود

پتھرکا انسان

هفته 18 اپریل 2026 پتھرکا انسان

بے لگام / ستار چوہدری

میں ایک مرد ہوں۔!!
مجھے بچپن سے سکھایا گیا کہ مضبوط رہو، ٹوٹو نہیں، گرجاؤ تو اٹھو، مگرروؤ نہیں۔ وقت گزرتا گیا۔ اور میں مضبوط کم اور پتھر زیادہ بنتا گیا۔ میں نے سیکھ لیا کہ آنسو چھپانے کا نام مردانگی ہے ۔ اور درد کو اندردفن کر دینا ہی اصل ہنر ہے ۔ میں اپنی ماں کے سامنے نہیں رو سکتا،کیونکہ مجھے ڈر ہے ، وہ کہے گی،میرا بیٹا کمزور ہو گیا ہے ۔ اورمیں اپنی ماں کے دل میں اپنے لیے کمزوری کا خیال بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ میں اپنے باپ کے سامنے نہیں رو سکتا، کیونکہ مجھے لگتا ہے وہ کہیں گے ،رونا مردوں کا کام نہیں۔۔ اورمیں اپنے باپ کی نظروں میں ناکام مرد بن کرنہیں جینا
چاہتا۔ میں اپنی بہن کے سامنے بھی نہیں رو سکتا، وہ میرے کندھے پرسررکھ کر شاید رو دے گی، مگر میرے درد کا بوجھ پھر بھی کم نہیں ہوگا۔
اورمیں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے ٹوٹا ہوا دیکھے ۔۔۔
دوستوں کے سامنے ۔۔؟ نہیں۔ وہ ہنسیں گے ، مذاق بنائیں گے ۔ اور پھر یہ درد میری کمزوری کی کہانی بن جائے گا۔ تو پھر میں کہاں
روؤں؟میں، وہ مرد ہوں جو ہنستا بھی ہے اور اندر ہی اندر ٹوٹتا بھی ہے ،جو سب کے دکھ سنتا ہے ، مگر اپنا دکھ کسی کو نہیں سناتا،جو دوسروں کے
لیے مضبوط ستون ہے ، مگر خود اپنے اندر سے کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے ۔ ہمیں سکھایا گیا کہ مرد لوہا ہوتا ہے ، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ لوہا بھی زنگ کھا
جاتا ہے ، اگر اسے وقت پر مرمت نہ ملے ۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ بس کسی کے سامنے بیٹھ جاؤں۔ اور بغیر وجہ، بغیر وضاحت، بس رو دوں۔
مگر لفظ ”مرد” مجھے اجازت نہیں دیتا۔ اور شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نے مردانگی کو جذبات کا انکار بنا دیا ہے ، حالانکہ انسان ہونا ہی
جذبات کو قبول کرنا ہے ۔ میں ایک مرد ہوں!!
اورمیں رونا چاہتا ہوں، مگر مجھے سکھایا گیا ہے کہ مجھے نہیں رونا چاہیے ۔ میں اکثرسوچتا ہوں کہ اگر آنسوؤں کو چھپانے کی یہ تربیت نہ ملی ہوتی
تو میں کیسا ہوتا؟ شاید میں زیادہ ہلکا ہوتا۔ شاید کم تھکا ہوا ہوتا۔ شاید راتوں کو جاگ کر خاموشی سے خود سے لڑ نہ رہا ہوتا۔ مگر اب تو حالت یہ
ہے کہ میں اپنے ہی اندر ایک عدالت لگا بیٹھا ہوں۔ جہاں میں ہی جج ہوں، میں ہی ملزم، اور میں ہی وکیل بھی۔ اورہربار فیصلہ یہی آتا ہے ”خاموش رہو”۔ خاموشی۔ جو پہلے مجبوری تھی، اب عادت بن چکی ہے اورعادتیں انسان کو آہستہ آہستہ اندر سے خالی کر دیتی ہیں۔ کبھی کبھی لگتا
ہے میں لوگوں کے درمیان نہیں، دیواروں کے درمیان چل رہا ہوں ۔ اور ہر دیوارمجھے یہی کہتی ہے ،مضبوط رہو اور میں سوچتا ہوں، کیا واقعی
مضبوطی یہی ہے کہ انسان ٹوٹ کر بھی آواز نہ نکالے ؟ میرے اندر بھی ایک بچہ ہے ، وہ بچہ، جو ابھی بھی کسی کے گلے لگ کر رونا چاہتا ہے ، جو
چاہتا ہے کوئی اس کے سر پر ہاتھ رکھے اور کہے ، بس، اب ٹھیک ہے ۔ مگر میں نے اسے بھی سمجھا دیا ہے کہ یہ دنیا ایسے نہیں چلتی، یہاں رونے
کی اجازت کمزوروں کو نہیں دی جاتی۔ اور پھر سب سے عجیب بات، جب رات گہری ہوتی ہے اور سب سو جاتے ہیں، تو وہی مضبوط مرد
ٹوٹ کر بستر پر خاموش پڑا ہوتا ہے ، نہ کوئی دیکھنے والا، نہ کوئی سننے والا، بس ایک دل ہوتا ہے جو خود سے سوال کرتا رہتا ہے۔۔ ” آخر تم کب
تک ایسے ہی رہو گے ؟ ”اور جواب ہمیشہ خاموشی ہوتی ہے ۔
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہ جو ”مردانگی” کا لفظ ہے نا، یہ ایک خوبصورت سا خول ہے ، مگر اندر سے یہ خول آہستہ آہستہ انسان کو کھا جاتا
ہے۔ میں نے زندگی میں بہت سے مرد دیکھے ہیں۔ کچھ ہنستے ہوئے ، کچھ خاموش، کچھ غصے میںاور کچھ بالکل بے حس ،مگر اب سمجھ آتا ہے کہ
بے حسی اکثر درد کی آخری شکل ہوتی ہے ۔ میں بھی اسی راستے پر چل پڑا ہوں شاید جہاں احساسات شور نہیں کرتے ، بس دم توڑ دیتے ہیں۔
سب کہتے ہیں ،زندگی آگے بڑھتی ہے ۔ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ کچھ لوگ آگے بڑھتے ہوئے اندر ہی اندر پیچھے رہ جاتے ہیں۔ جسم چلتا رہتا
ہے ، مگر دل کہیں ایک جگہ رکا رہتا ہے ۔ میں نے بھی خود کو مصروفیوں میں دفن کرنا سیکھ لیا ہے ، تاکہ سوال کم ہوں۔ اور جواب دینے کی نوبت
ہی نہ آئے ،مگر رات کو جب سب آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں، تو وہ سوال پھر زندہ ہو جاتے ہیں جو دن میں مرے ہوئے لگتے ہیں۔ کبھی
دل کرتا ہے کسی اجنبی کے سامنے بیٹھ جاؤں، ایسے اجنبی کے سامنے جس سے کوئی رشتہ نہ ہو، کوئی توقع نہ ہو، کوئی فیصلہ نہ ہو،بس ایک انسان
ہو اور دوسرا انسان۔ اور درمیان میں صرف خاموشی ٹوٹے ، نہ کہ دل، مگر میں نے یہ بھی سیکھ لیا ہے کہ لوگ کمزوری دیکھ کر قریب نہیں آتے ، وہ دوری اختیار کر لیتے ہیں۔ اور شاید اسی خوف نے مجھے اور بھی بند کر دیا ہے ، اب حالت یہ ہے کہ میں ہنستا بھی ہوں تو احتیاط کے ساتھ، بولتا
بھی ہوں تو حساب کے ساتھ ۔۔۔ اور محسوس بھی کرتا ہوں تو اجازت لے کر۔ اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ میں خود کو ہی نہیں بتا پاتا کہ
مجھے تکلیف ہے ۔ کیونکہ اگر میں نے خود مان لیا، تو شاید یہ دیواریں گر جائیں جن کے پیچھے میں نے خود کو چھپا رکھا ہے ۔
میں ایک مرد ہوں۔۔۔!!
اورمیں اب یہ بھی نہیں جانتا کہ میں واقعی مضبوط ہوں، یا صرف عادتاً خاموش ہوں۔ آج بھی میں ویسا ہی ہوں۔ وہی مرد۔ جو ہنستا بھی
ہے ، بولتا بھی ہے ، اور چلتا بھی ہے ۔ مگر اندر کہیں ایک جگہ میں رک گیا ہوں۔ اب فرق صرف یہ ہے کہ میں نے شکایت کرنا بھی چھوڑ دی
ہے ۔ نہ کسی سے ، نہ خود سے ۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ دنیا کو مضبوط لوگ پسند ہیں۔ اور مضبوط لوگ وہ ہوتے ہیں جن کے اندر چاہے طوفان
چل رہا ہو، مگر چہرہ پرسکون رہے ۔ مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس پرسکون چہرے کے پیچھے کتنی چیخیں دفن ہیں۔ کتنے لفظ ہیں جو کبھی بولے نہیں
گئے ۔ کتنے آنسو ہیں جو آنکھوں تک آئے مگر باہر نکلنے کی ہمت نہ کر سکے ۔ کبھی کبھی آئینے میں خود کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے ، یہ میں نہیں ہوں۔
یہ کوئی اور ہے جو میری جگہ زندگی گزار رہا ہے ۔ میں تو شاید کہیں بہت پہلے مر گیا تھا۔بس دفن ہونا باقی رہ گیا تھا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ
بات یہ نہیں کہ میں ٹوٹ گیا ہوں، تکلیف یہ ہے کہ میں نے ٹوٹنے کی آواز بھی کسی کو نہیں دی۔ نہ ماں کو پتہ چلا، نہ باپ کو، نہ بہن کو، نہ
دوستوں کو۔۔ سب سمجھتے رہے کہ میں مضبوط ہوں۔ اور میں نے بھی کسی کو یہ غلط فہمی دور نہیں کرنے دی۔ کیونکہ میں جانتا تھا، اگر میں نے سچ
بتا دیا ،تو سب کہیں گے ،ہمیں اندازہ نہیں تھا تم اتنے کمزورہو۔۔ اور شاید میں یہ جملہ سننے کی ہمت کبھی نہیں رکھتا تھا۔ آج اگر کوئی پوچھے کہ
سب سے بڑا دکھ کیا ہے ؟ تو میں شاید کچھ نہ کہوں، بس ایک لمبی خاموشی ہو۔ اوراس خاموشی کے اندرایک آوازہو جو باربار یہی کہے ۔ کاش
کسی نے صرف ایک بار پوچھا ہوتا۔۔۔ ” کہ تم واقعی ٹھیک ہو”۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں وجود هفته 18 اپریل 2026
معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں

بھارت میں مزدوروں کا احتجاج وجود هفته 18 اپریل 2026
بھارت میں مزدوروں کا احتجاج

پتھرکا انسان وجود هفته 18 اپریل 2026
پتھرکا انسان

ہم صرف مردہ روحیں بن چکے ! وجود جمعه 17 اپریل 2026
ہم صرف مردہ روحیں بن چکے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر