... loading ...
ریاض احمدچودھری
گودی میڈیا ایک اصطلاح (گودی میڈیالسانی طور پر،میڈیا گود میں بیٹھا ہے جسے تجربہ کار ہندوستانی صحافی رویش کمار نے متعصب ہندوستانی پرنٹ اور ٹی وی نیوز میڈیا کو بیان کرنے کے لیے تیار کیا اور مقبول کیا، جو بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کو 2014 سے) کھل کر حمایت کرتا ہے۔ یہ اصطلاح بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر ایک جملہ ہے اور یہ ٹیلی ویژن اور دوسرے میڈیا کا حوالہ دینے کا ایک عام طریقہ بن گیا ہے جنھیں “حکمران جماعت (یعنی بھارتی جنتا پارٹی) کے منہ کے نوالے” کے طرز پر سمجھا جاتا ہے۔عرف عام میں گودی میڈیا کسی بھی ملک کے ذرائع ابلاغ کے ایسے طرز عمل کو ظاہر کرتا ہے جو بالعموم حکمران طبقے کی مدح سرائی کرتا ہے، ان کے ہر اقدام کو سراہتا ہے، مگر ان خبروں کو جو حکمران طبقے کے خلاف ہوتی ہیں انھیں یا قابل توجہ نہیں سمجھتا یا پھر ان خبروں کو شاذ و نادر ہی اپنی اہم خبروں کے بیچ جگہ دیتا ہے۔ یہ رویہ یا تو ذرائع ابلاغ کے ان حلقوں کے بیچ پایا جاتا ہے جو فکری ہم آہنگی کی وجہ سے حکمرانوں کا ساتھ دیتا ہے یا پھر کسی لالچ اور طمع کی وجہ سے حکمرانوں کا ساتھ دیتا ہے جس میں حکومت کی جانب سے جاری اشتہارات اور دیگر فوائد میڈیا کی زبان گوئی کی ہیئت بدل دیتے ہیں۔ کبھی کبھی بر سر اقتدار حکومت یا اس کی مشنری کا ڈر جیسے کہ انکم ٹیکس اور انفورس منٹ ڈائریکٹوریٹ کے چھاپے، ہتک عزت کے مقدمے اور دیگر تادیبی اقدامات بھی میڈیا کو حکومت کا طابع، مطیع و فرماں بردار بنا دیتے ہیں۔ ان سبھی صورتوں میں ذرائع ابلاغ اور صحافت کی آزادانہ کار کردگی بے حد متاثر ہوتی ہے۔
تاریخی اعتبار سے میڈیا کا حکومتوں کی جانب سے جھکاؤ اور ان کے شانہ بشانہ موافقت کرنا کوئی عام بات نہیں ہے۔ گرچہ عام طور سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مغربی دنیا میں میڈیا ایک آزاد حیثیت رکھتا ہے لیکن شمالی کوریا اور دنیا کے کچھ خطوں میں میڈیا کو کوئی آزادی حاصل نہیں ہے اور چھاپنے اور برقی میڈیا دونوں پر حکومت کا زبردست کنٹرول رہتا ہے۔ تاہم بھارت اور پاکستان جیسے ممالک میں میڈیا کی آزادی مختلف ادوار میں مختلف نوعیت اور شکل میں رہی ہے۔ گودی میڈیا کی اصطلاح کا آغاز 2016ء میں نوٹ بندی کے بعد ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب لوگ ملک میں 85 فی صد رائج الوقت کرنسی نوٹ یکسر منسوخ اور ناکارہ ہونے کی وجہ سے بینکوں کے آگے قطاروں میں کھڑے دھکے کھا رہے تھے اور بھارت کے تقریباً سارے چینل یہ دکھا رہے تھے کہ لوگ حکومت کے اس اقدام سے خوش ہیں۔ اسی طرح بعد کے کچھ سالوں میں میڈیا کا بڑا حلقہ حکومت کے ہر اقدام کا حامی ہو گیا اور صرف حزب اختلاف میں سقم ڈھونڈنے لگا۔ رویش کمار، ابھیسار شرما، پونیا پرسون واجپائی اور کرن تھاپڑ جیسے چند صحافیوں کے سوا جو متوازن تنقید کی دعوت دیتے رہے، بیش تر میڈیا حکومت کی تعریف میں ہی لگا رہا۔امریکی تنظیم جینو سائیڈ واچ نے بھارتی میڈیا کو عالمی سطح پر بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ میڈیا سنسنی خیزی اور شور شرابے کے ذریعے گمراہ کن دعوؤں اور نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دینے میں پیش پیش ہے۔ بھارتی میڈیا بی جے پی کے زیراثر غیر جانبداری کا لبادہ اتار چکا ہے اور حقائق دکھانے سے گریزاں ہے۔
رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں صحافتی آزادی نچلی ترین سطح پر برقرار ہے اور مسلمانوں کے خلاف جرائم کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی مقدمات، حراست اور تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بی جے پی کی مسلمان دشمنی پر مبنی اصلاحات نفرت انگیز میڈیا پر بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ گودی میڈیا نے عوام کی سوچ اور رائے پر اثر انداز ہو کر لوگوں کی عقل سلب کر دی ہے، اور بھارتی میڈیا کے متاثرین اب مودی کے ہر جھوٹ کو سچ مان کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ سنسنی خیزی اور جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈے کے باعث معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ عالمی سطح پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں گمراہ کن پراپیگنڈا اور ہندوتوا نظریے کی ترویج کرنے والا گودی میڈیا دنیا بھر میں بے نقاب ہو چکا ہے۔ملک میں صحافیوں کو محدود آزادی کا سامنا، اور مسلمان مخالف جرائم کی رپورٹنگ کرنیوالے صحافی مقدمات، حراست یا تحقیقات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بعض میڈیا اداروں کی جانب سے پیش کی جانے والی سنسنی خیزی اور یکطرفہ رپورٹنگ عوامی رائے پر اثر انداز ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے اور سیاسی بیانیے کو بلاچیلنج قبول کیا جا رہا ہے۔کچھ میڈیا ادارے ریاستی سرپرستی میں ہندوتوا نظریہ کی ترویج اور مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے عالمی سطح پر بھارتی میڈیا کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ماہرین اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ صحافتی آزادیاں مضبوط ہونے اور شفاف رپورٹنگ کی حمایت کے بغیر، ملک میں معلوماتی توازن قائم رکھنا مشکل ہوگا۔اس ضمن میں ملکی اور بین الاقوامی تنظیمیں بھارتی میڈیا کی نگرانی اور اصلاحات کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔
٭٭٭