... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
پچھلے چند دنوں سے ایک عجیب خواہش ذہن کے دروازے پردستک دے رہی۔دل کہتا ہے ،انسان کو ایک زندگی اورملنی چاہیے ۔ مگراس بارترتیب بدل دینی چاہیے ،اس بارزندگی بچپن سے نہیں،بڑھاپے سے شروع ہونی چاہیے ۔انسان پہلی سانس لے تو بال سفید ہوں،آنکھوں پرباریک شیشوں والی عینک رکھی ہو،ہاتھ میں لرزش ہو،دل میں دنیا بھرکے تجربات دفن ہوں۔اورروح پہلے ہی جانتی ہوکہ کون سا شخص گلے لگانے کے قابل ہے اور کون سا صرف مصافحے کے قابل۔کتنا خوبصورت ہوگا ناں؟ انسان اس باردھوکہ کھانے سے پہلے دھوکے بازکو پہچان لے گا،محبت کرنے سے پہلے محبت کی قیمت جانتا ہوگا،دوستی سے پہلے فاصلے کی اہمیت سمجھتا ہوگا۔ اورسب سے بڑھ کر اس باروہ اپنی جوانی کسی غلط انسان کے قدموں میں ضائع نہیں کرے گا۔ سوچتا ہوں،اگرزندگی الٹی چلتی تو شاید دنیا کے آدھے دکھ ختم ہو جاتے ، انسان ریٹائرمنٹ سے اپنی ملازمت شروع کرتا، پہلے دن ہی اسے معلوم ہوتا کہ چاپلوس کون ہے ،مخلص کون ہے ۔اوردفتر کی مسکراہٹوں کے پیچھے کتنے سانپ پلے ہوئے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ بڑھاپا کم ہوتا جاتا۔ چہرے کی جھریاں ختم ہوتیں،قدم مضبوط ہوتے۔اورانسان تجربات کی روشنی میں جوانی میں داخل ہوتا، وہ محبت بھی کرتا،مگراس بارخود کو کھوئے بغیر۔ وہ دولت بھی کماتا،مگر اپنی نیند بیچے بغیر۔ وہ دوست بھی بناتا،مگرہرہنسنے والے کو اپنا سمجھنے کی غلطی نہ کرتا۔پہلی زندگی میں ہم بڑھاپے سے ڈرتے ہیں،کیونکہ وہ کمزوری لاتا ہے ، مگر اُس الٹی زندگی میں بڑھاپا سب سے طاقتورعمرہوگا، کیونکہ وہاں انسان کے پاس تجربہ بھی ہوگا اور وقت بھی، وہ جانتا ہوگا کہ کن لفظوں نے لوگوں کو توڑا تھا،اس لیے کم بولے گا، وہ جانتا ہوگا کہ انا نے کتنے گھر برباد کیے ،اس لیے جلدی معافی مانگ لے گا، وہ جانتا ہوگا کہ وقت کسی کا انتظارنہیں کرتا،اس لیے ہرملنے والے کو آخری ملاقات سمجھ کرملے گا۔۔۔۔ اورشاید اُس زندگی میں محبتیں بھی زیادہ سچی ہوتیں، کیونکہ وہاں لوگ چہروں سے نہیں،کردار سے محبت کرتے ، وہ جانتے ہوتے کہ خوبصورتی چند سالہ مہمان ہے ،مگرمزاج عمربھر ساتھ رہتا ہے ۔ پہلی زندگی میں ہم سب ایک بڑی غلطی کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس بہت وقت ہے ، اسی غلط فہمی میں ہم ماں کی بات ٹال دیتے ہیں، دوست کا فون بعد میں کرنے کا سوچتے ہیں،کسی سے معافی مانگنے میں سال گزاردیتے ہیں۔اورمحبت کا اظہار کسی مناسب وقت کیلئے چھوڑ دیتے ہیں، پھرایک دن اچانک احساس ہوتا ہے کہ گھڑی تو بہت پہلے تیزچلنا شروع ہوگئی تھی۔اُس الٹی زندگی میں شاید گھڑیاں بھی نرم ہو جاتیں، وہ انسان کو ڈراتیں نہیں،سمجھاتیں، وہ ہرصبح کان میں آہستہ سے کہتیں،دیکھو !! یہ دن دوبارہ نہیں آئے گا،اسے ناراضی میں ضائع مت کرنا۔
انسان جتنا بڑا ہوتا جاتا ہے ،اتنا ہی بکھرتا جاتا ہے ، بچپن میں ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا،پھربھی سکون ہوتا ہے ، جوانی میں سب کچھ حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوتی ہے ۔اورسکون کہیں پیچھے رہ جاتا ہے ، بڑھاپے میں جب انسان سب سمجھ لیتا ہے ،تب جسم ساتھ چھوڑنے لگتا ہے۔ گویا زندگی ایک ایسا مذاق ہے ،جہاں امتحان پہلے لیا جاتا ہے اور سبق بعد میں پڑھایا جاتا ہے ۔ اُس الٹی زندگی میں یہ ظلم نہ ہوتا، وہاں انسان پہلے سمجھدار پیدا ہوتا، وہ جانتا ہوتا کہ ہرجنگ لڑنا ضروری نہیں، ہرجواب دینا عقل نہیں ہوتا۔اورہرتعلق نبھانا فرض نہیں ہوتا، وہ جوانی میں پہنچ کرشہرت کے پیچھے پاگل نہ ہوتا، کیونکہ اُسے معلوم ہوتا کہ دنیا تالیاں صرف زندہ لوگوں کیلئے بجاتی ہے ،مرنے والوں کیلئے صرف خاموشی بچتی ہے ، وہ دولت کماتا،مگر اپنی روح گروی رکھ کر نہیں، وہ کامیاب بھی ہوتا،مگردوسروں کو روند کر نہیں اوراگرکسی دن دل ٹوٹتا بھی،تو وہ جانتا ہوتا کہ بعض لوگ ہماری کہانی میں صرف سبق بن کر آتے ہیں،منزل بن کر نہیں، پہلی زندگی میں ہم سب بہت فضول چیزوں پروقت ضائع کرتے ہیں، ہم لوگوں کو متاثرکرنے میں عمرگزار دیتے ہیں،حالانکہ لوگ چند دن بعد کسی اورتماشے میں مصروف ہوجاتے ہیں، ہم اپنی اصل خواہشیں دبا کر وہ زندگی جیتے ہیں جو معاشرہ ہم سے چاہتا ہے اورپھرایک دن آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر سوچتے ہیں۔”یہ شخص آخر ہے کون؟” مگراُس الٹی زندگی میں شاید انسان کو خود سے بچھڑنے کا خوف نہ ہوتا۔ وہ شروع ہی سے جانتا ہوتا کہ دنیا ایک عارضی اسٹیج ہے ، یہاں ہرکردار نے ایک دن خاموش ہوجانا ہے ، تب شاید لوگ کم نفرت کرتے ، کم حسد کرتے ، کم مقابلہ کرتے ، کیونکہ جب انسان کوفنا کا یقین ہوجائے ،توتکبرخودبخود مرنے لگتا ہے ۔
پہلی زندگی عجیب تھی، ہمیں جب تک یہ سمجھ آئی کہ بحثیں رشتوں سے بڑی نہیں ہوتیں،تب تک کئی لوگ ہم سے ہمیشہ کیلئے دورجاچکے تھے ، جب معلوم ہوا کہ والدین کے ساتھ بیٹھ کرچائے پینا بھی دنیا کی بڑی نعمتوں میں شامل ہے ،تب ان کے ہاتھوں میں لرزش آچکی تھی، جب یہ راز کھلا کہ انسان کو کم بولنا چاہیے ،تب تک ہم اپنی بہت سی خاموشیاں فضول جملوں میں دفن کرچکے تھے ۔ اصل المیہ موت نہیں تھا، اصل المیہ یہ تھا کہ ہم نے زندگی کو بہت دیرسے سمجھا، ہمیں جوانی اُس وقت ملی،جب عقل نہیں تھی اورعقل اس وقت آئی،جب جوانی جاچکی تھی۔
سوچتا ہوں،اگرزندگی واقعی الٹی چلتی توانسان کے جنازے نہیں اُٹھتے ،جھولے خالی ہوتے ، لوگ قبرستانوں میں نہیں،گھروں کے صحن میں خاموش کھڑے ہوتے ،جہاں ایک بوڑھا آہستہ آہستہ بچہ بنتا جا رہا ہوتا۔اس کی آوازباریک ہوجاتی،غصہ ختم ہوجاتا،شکایتیں کم ہوجاتیں، دنیا کی ساری چالاکیاں اس کے وجود سے نکل جاتیں ، نفرتیں کم ہوجاتیں،حساب کتاب ختم ہوجاتا ،وہ بڑے بڑے فلسفے بھول چکا ہوتا، بینک بیلنس،عہدے ،گاڑیاں،بحثیں سب دھندلا چکی ہوتیں۔ صرف چند چیزیں باقی رہ جاتیں، ماں کی آواز، بارش کی خوشبو، کسی پرانی لوری کی دھیمی دھن۔ اورانگلی پکڑ کرچلانے والا ایک نرم سا ہاتھ ۔ اورایک دن وہ ضد کرکے کہتا۔ مجھے باہرگلی میں کھیلنا ہے ۔ کیا عجیب منظرہوگا۔ انسان دنیا سے جاتے وقت اسپتال کے سفید بسترپرنہیں،ماں کی آغوش میں سوئے گا۔ اورآخری جملہ وصیت نہیں ہوگا۔ صرف ایک معصوم سی ادھوری بات ہوگی۔ ” امی !! نیند آرہی ہے” ۔
٭٭٭