وجود

... loading ...

وجود

ایک سوال۔۔۔۔؟

هفته 04 اپریل 2026 ایک سوال۔۔۔۔؟

بے لگام / ستارچوہدری

کبھی کبھی انسان نہیں بدلتا۔ بس لوگوں کی نظر بدل جاتی ہے ۔ یہ بات مجھے اس دن سمجھ آئی، جب وہ کافی دیر تک میرے سامنے بیٹھا
مجھے دیکھتا رہا۔ جیسے کسی پرانی کتاب کو نئے سرے سے پڑھ رہا ہو۔ عجیب بات ہے ۔ اس نے مسکرا کر کہا ” میں نے آپکو ہمیشہ غلط سمجھا ”۔
میں خاموش رہا۔ کیونکہ کچھ جملے جواب نہیں مانگتے ، صرف توجہ چاہتے ہیں۔ وہ بولتا رہا۔ مجھے لگتا تھا آپ سخت مزاج، کچھ مغرور اور تھوڑے
فاصلے والے انسان ہیں۔ مگر آپ تو بڑے مختلف نکلے ۔
میں نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں الفاظ کم تھے ، انداز زیادہ ۔ میں نے نرمی سے پوچھا۔ اوریہ تبدیلی کب آئی؟وہ ذرا سا
رکا۔ جیسے وقت گن رہا ہو۔پھر بولا !! بس ۔ آہستہ آہستہ احساس ہوا۔ میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا لیا۔کیونکہ ، مجھے اندازہ ہو
چکا تھا۔ یہ احساس آہستہ آہستہ نہیں آیا۔ یہ حالات کے بدلنے کی رفتار کے ساتھ آیا ہے ۔ میں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور چند لمحے
اسے دیکھتا رہا، کچھ چہرے وقت کے ساتھ نہیں بدلتے ، صرف ان پر چڑھی ہوئی نیتیں بدلتی رہتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں ؟ میں نے دھیرے
سے کہا،انسان کوسمجھنا اتنا مشکل بھی نہیں ہوتا۔ بس ایک چیز دیکھنی پڑتی ہے ۔ آپ اسے کس وقت دیکھ رہے ہیں۔ وہ غور سے سن رہا تھا۔ میں
نے بات کو آگے بڑھایا،ایک وقت تھا۔ جب میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ کوئی عہدہ، نہ کوئی پہچان، نہ وہ سہولتیں جو آج آپ کو نظر آ رہی
ہیں، تب بھی میں یہی تھا۔ یہی باتیں کرتا تھا۔ یہی لہجہ تھا، میں نے میز پرانگلی سے ایک دائرہ سا بنایا۔ جیسے وقت کو سمیٹ رہا ہوں ۔ فرق
صرف اتنا تھا۔۔ کہ اس وقت میری بات سننے والے کم تھے ۔ اور آج سننے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے ۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔ جیسے بات ابھی
پوری طرح نہیں سمجھی ۔ میں نے اس کی طرف جھک کر کہا، اصل میں۔۔ ہم لوگ انسان کو نہیں سنتے ، ہم اس کے حالات کو سنتے ہیں۔ کمرے
میں خاموشی نے جیسے جگہ بنا لی تھی۔ اگر جیب خالی ہو۔۔ تو سچ بھی بدتمیزی لگتا ہے۔ اوراگر جیب بھری ہو تو فضول بات بھی دانش بن جاتی
ہے ۔ میں نے ایک لمحے کے لیے نظریں ہٹا لیں۔ یہ جو آپ کو آج میرا انداز پسند آ رہا ہے نا۔۔ یہ میرا نہیں۔ یہ اس سب کا اثر ہے جو اب
میرے ساتھ جڑا ہوا ہے ،عہدہ، وسائل، نام۔ وہ اب بالکل خاموش تھا۔ میں نے آہستگی سے کہا،ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے
ہیں۔ جہاں انسان کی پہچان اس کے کردار سے نہیں، اس کے کارڈ سے ہوتی ہے۔ وزٹنگ کارڈ سے ۔ بینک کارڈ سے ۔ شناختی کارڈ سے ۔
میں نے گہرا سانس لیا۔یہاں عزت دی نہیں جاتی، دیکھی جاتی ہے کہ سامنے والے کے پاس کیا ہے ۔ وہ اب بھی خاموش تھا، مگر اس کی
خاموشی میں ایک ہلکی سی بے چینی شامل ہو چکی تھی ۔میں نے بات کو ذرا اور کھولا، آپ نے کبھی غور کیا ہے ۔ ہم کسی انسان سے پہلی بار نہیں
ملتے ۔ ہم اس کی حیثیت سے ملتے ہیں ۔ وہ چونکا نہیں۔ مگر سن ضرور رہا تھا۔ اگر کوئی عام سا آدمی وہی بات کہہ دے جو کسی بڑے عہدے والا
کہتا ہے ، تو ہمیں اس میں گستاخی محسوس ہوتی ہے ۔ اور اگر وہی جملہ کسی طاقتور کے منہ سے نکلے تو ہم اسے اقوال زریں بنا لیتے ہیں۔ میں
نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، الفاظ وہی رہتے ہیں، بس بولنے والے کی قیمت بدل جاتی ہے ۔ کمرے کی فضا جیسے اور بھاری ہو گئی تھی۔
میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ باہر روشنی پھیلی ہوئی تھی، مگر اندر ایک عجیب سا اندھیرا محسوس ہو رہا تھا۔ ہم نے ایک عجیب معیار بنا لیا ہے ،
میں نے دھیرے سے کہا،ہم سچ کو اس وقت تک نہیں مانتے ۔ جب تک وہ کسی کامیاب آدمی کی زبان سے نہ نکلے ۔ وہ اب کرسی پر پہلو بدل
رہا تھا۔ ایک غریب اگر نصیحت کرے ۔ تو ہمیں اس میں تلخی نظر آتی ہے ۔ اور ایک امیر اگر وہی نصیحت کرے ۔ تو ہمیں اس میں دانائی نظر آتی
ہے ۔ میں نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، اصل میں۔ ہم سچ کے نہیں، سچ بولنے والے کے خریدار ہیں۔ خاموشی ایک بار پھر گہری ہو گئی۔
میں نے میز پر رکھا گلاس اٹھایا۔ ایک گھونٹ پانی پیا۔ اورجیسے اپنے ہی الفاظ کو اندراتارا۔آپ نے کہا نا۔آپ پہلے مجھے غلط سمجھتے تھے ۔ میں
نے آہستگی سے کہا،مگر سچ یہ ہے آپ نے مجھے کبھی سمجھا ہی نہیں تھا۔ وہ پہلی بار تھوڑا سا چونکا۔ میں نے بات جاری رکھی۔ کیونکہ سمجھنے کیلئے
وقت نہیں،نظر چاہیے ہوتی ہے ۔ اور ہماری نظر ہمیشہ وہاں جاتی ہے ۔ جہاں فائدہ ہوتا ہے ۔میں نے گلاس واپس رکھا،ہم لوگ رشتے نہیں
بناتے ،ہم مواقع بناتے ہیں،ہم تعریف نہیں کرتے ،ہم سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اس کے چہرے پر اب وہ پہلی والی مسکراہٹ نہیں تھی۔ اور
سب سے خطرناک بات یہ ہے ، میں نے آہستہ ،مگر صاف لہجے میں کہا، ہمیں اب یہ سب غلط بھی نہیں لگتا،ہم نے اسے ” معاشرتی
سمجھداری” کا نام دیا ہوا۔میں نے اس کی طرف دیکھا، اب وہ مجھے نہیں، خود کو سن رہا تھا۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ میں نے نرمی سے کہا،ہم
سب ایسے ہی ہیں۔بس فرق یہ ہے کہ کچھ مان لیتے ہیں۔ اور کچھ ساری زندگی انکار میں گزار دیتے ہیں۔وہ خاموش رہا۔ ہم نے زندگی کو
بہت عجیب پیمانوں پر ناپنا شروع کر دیا ہے ۔ یہاں کسی کی بات سننے سے پہلے ہم اُس کی جیب دیکھتے ہیں۔ اور اس کی سچائی کو پرکھنے سے
پہلے اس کی کامیابی کا حساب لگاتے ہیں۔ میں نے ہلکا سا توقف کیا، ہم نے لفظوں کے معنی بدل دیے ہیں ۔ وفاداری اب مفاد کے ساتھ
جڑی ہے ، خلوص اب فائدے کے ساتھ مشروط ہے ۔اورعزت؟ میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔ عزت اب صرف ایک کامیاب ڈیل کا
دوسرا نام بن چکی ہے ۔
کمرے میں ایک عجیب سا بوجھ پھیل گیا تھا۔ آپ نے کبھی سوچا ہے ۔ میں نے دھیرے سے کہا، کہ ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں، جو
کسی ناکام انسان کے ساتھ صرف اس کے انسان ہونے کی بنیاد پر کھڑے رہتے ہیں؟ وہ نظریں جھکا گیا۔میں نے بات کو اور نرم کیا، ہم
برے نہیں ہیں، ہم بس اس نظام کے عادی ہو چکے ہیں، جہاں ہرچیز کی قیمت ہے ۔۔ سوائے انسان کے ۔ میں نے ایک گہرا سانس لیا۔
اورسب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جب کبھی کوئی سچ میں مخلص ہو کر بات کرتا ہے ، تو ہم اسے یا تو نظر انداز کر دیتے ہیں یا پھر اس کا مذاق بنا
دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ ہمارے ” قواعد ” کے مطابق نہیں کھیل رہا ہوتا۔ میں نے اس کی طرف آخری بار دیکھا۔ اب اس کے چہرے پر نہ وہ
پہلی والی مسکراہٹ تھی، نہ اعتماد۔ بس ایک خاموشی تھی، جو شاید پہلی بار سچی تھی۔ میں نے آہستگی سے کہا۔بات صرف میری یا آپ کی نہیں
ہے ۔ یہ پورے معاشرے کا المیہ ہے ، ہم نے انسان کو نہیں۔ اس کی قیمت کو پہچاننا سیکھ لیا ہے ۔ میں نے کرسی سے اٹھتے ہوئے اپنی بات
مکمل کی۔ یاد رکھیے ۔!! جب معاشرے میں سچ کی پہچان حیثیت سے ہونے لگے ، تو جھوٹ کو کامیاب ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ میں
باہر نکل آیا۔ مگر ایک سوال وہیں چھوڑ آیا۔ ہم انسان کو کب سنیں گے ۔۔؟ اور کب تک اس کی جیب بولتی رہے گی؟
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

ایک سوال۔۔۔۔؟ وجود هفته 04 اپریل 2026
ایک سوال۔۔۔۔؟

4اپریل جب آتا ہے ! وجود هفته 04 اپریل 2026
4اپریل جب آتا ہے !

بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام وجود جمعه 03 اپریل 2026
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر