... loading ...
بے لگام / ستارچوہدری
کبھی کبھی انسان نہیں بدلتا۔ بس لوگوں کی نظر بدل جاتی ہے ۔ یہ بات مجھے اس دن سمجھ آئی، جب وہ کافی دیر تک میرے سامنے بیٹھا
مجھے دیکھتا رہا۔ جیسے کسی پرانی کتاب کو نئے سرے سے پڑھ رہا ہو۔ عجیب بات ہے ۔ اس نے مسکرا کر کہا ” میں نے آپکو ہمیشہ غلط سمجھا ”۔
میں خاموش رہا۔ کیونکہ کچھ جملے جواب نہیں مانگتے ، صرف توجہ چاہتے ہیں۔ وہ بولتا رہا۔ مجھے لگتا تھا آپ سخت مزاج، کچھ مغرور اور تھوڑے
فاصلے والے انسان ہیں۔ مگر آپ تو بڑے مختلف نکلے ۔
میں نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں الفاظ کم تھے ، انداز زیادہ ۔ میں نے نرمی سے پوچھا۔ اوریہ تبدیلی کب آئی؟وہ ذرا سا
رکا۔ جیسے وقت گن رہا ہو۔پھر بولا !! بس ۔ آہستہ آہستہ احساس ہوا۔ میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا لیا۔کیونکہ ، مجھے اندازہ ہو
چکا تھا۔ یہ احساس آہستہ آہستہ نہیں آیا۔ یہ حالات کے بدلنے کی رفتار کے ساتھ آیا ہے ۔ میں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور چند لمحے
اسے دیکھتا رہا، کچھ چہرے وقت کے ساتھ نہیں بدلتے ، صرف ان پر چڑھی ہوئی نیتیں بدلتی رہتی ہیں۔ آپ جانتے ہیں ؟ میں نے دھیرے
سے کہا،انسان کوسمجھنا اتنا مشکل بھی نہیں ہوتا۔ بس ایک چیز دیکھنی پڑتی ہے ۔ آپ اسے کس وقت دیکھ رہے ہیں۔ وہ غور سے سن رہا تھا۔ میں
نے بات کو آگے بڑھایا،ایک وقت تھا۔ جب میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ کوئی عہدہ، نہ کوئی پہچان، نہ وہ سہولتیں جو آج آپ کو نظر آ رہی
ہیں، تب بھی میں یہی تھا۔ یہی باتیں کرتا تھا۔ یہی لہجہ تھا، میں نے میز پرانگلی سے ایک دائرہ سا بنایا۔ جیسے وقت کو سمیٹ رہا ہوں ۔ فرق
صرف اتنا تھا۔۔ کہ اس وقت میری بات سننے والے کم تھے ۔ اور آج سننے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے ۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔ جیسے بات ابھی
پوری طرح نہیں سمجھی ۔ میں نے اس کی طرف جھک کر کہا، اصل میں۔۔ ہم لوگ انسان کو نہیں سنتے ، ہم اس کے حالات کو سنتے ہیں۔ کمرے
میں خاموشی نے جیسے جگہ بنا لی تھی۔ اگر جیب خالی ہو۔۔ تو سچ بھی بدتمیزی لگتا ہے۔ اوراگر جیب بھری ہو تو فضول بات بھی دانش بن جاتی
ہے ۔ میں نے ایک لمحے کے لیے نظریں ہٹا لیں۔ یہ جو آپ کو آج میرا انداز پسند آ رہا ہے نا۔۔ یہ میرا نہیں۔ یہ اس سب کا اثر ہے جو اب
میرے ساتھ جڑا ہوا ہے ،عہدہ، وسائل، نام۔ وہ اب بالکل خاموش تھا۔ میں نے آہستگی سے کہا،ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے
ہیں۔ جہاں انسان کی پہچان اس کے کردار سے نہیں، اس کے کارڈ سے ہوتی ہے۔ وزٹنگ کارڈ سے ۔ بینک کارڈ سے ۔ شناختی کارڈ سے ۔
میں نے گہرا سانس لیا۔یہاں عزت دی نہیں جاتی، دیکھی جاتی ہے کہ سامنے والے کے پاس کیا ہے ۔ وہ اب بھی خاموش تھا، مگر اس کی
خاموشی میں ایک ہلکی سی بے چینی شامل ہو چکی تھی ۔میں نے بات کو ذرا اور کھولا، آپ نے کبھی غور کیا ہے ۔ ہم کسی انسان سے پہلی بار نہیں
ملتے ۔ ہم اس کی حیثیت سے ملتے ہیں ۔ وہ چونکا نہیں۔ مگر سن ضرور رہا تھا۔ اگر کوئی عام سا آدمی وہی بات کہہ دے جو کسی بڑے عہدے والا
کہتا ہے ، تو ہمیں اس میں گستاخی محسوس ہوتی ہے ۔ اور اگر وہی جملہ کسی طاقتور کے منہ سے نکلے تو ہم اسے اقوال زریں بنا لیتے ہیں۔ میں
نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، الفاظ وہی رہتے ہیں، بس بولنے والے کی قیمت بدل جاتی ہے ۔ کمرے کی فضا جیسے اور بھاری ہو گئی تھی۔
میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ باہر روشنی پھیلی ہوئی تھی، مگر اندر ایک عجیب سا اندھیرا محسوس ہو رہا تھا۔ ہم نے ایک عجیب معیار بنا لیا ہے ،
میں نے دھیرے سے کہا،ہم سچ کو اس وقت تک نہیں مانتے ۔ جب تک وہ کسی کامیاب آدمی کی زبان سے نہ نکلے ۔ وہ اب کرسی پر پہلو بدل
رہا تھا۔ ایک غریب اگر نصیحت کرے ۔ تو ہمیں اس میں تلخی نظر آتی ہے ۔ اور ایک امیر اگر وہی نصیحت کرے ۔ تو ہمیں اس میں دانائی نظر آتی
ہے ۔ میں نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، اصل میں۔ ہم سچ کے نہیں، سچ بولنے والے کے خریدار ہیں۔ خاموشی ایک بار پھر گہری ہو گئی۔
میں نے میز پر رکھا گلاس اٹھایا۔ ایک گھونٹ پانی پیا۔ اورجیسے اپنے ہی الفاظ کو اندراتارا۔آپ نے کہا نا۔آپ پہلے مجھے غلط سمجھتے تھے ۔ میں
نے آہستگی سے کہا،مگر سچ یہ ہے آپ نے مجھے کبھی سمجھا ہی نہیں تھا۔ وہ پہلی بار تھوڑا سا چونکا۔ میں نے بات جاری رکھی۔ کیونکہ سمجھنے کیلئے
وقت نہیں،نظر چاہیے ہوتی ہے ۔ اور ہماری نظر ہمیشہ وہاں جاتی ہے ۔ جہاں فائدہ ہوتا ہے ۔میں نے گلاس واپس رکھا،ہم لوگ رشتے نہیں
بناتے ،ہم مواقع بناتے ہیں،ہم تعریف نہیں کرتے ،ہم سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اس کے چہرے پر اب وہ پہلی والی مسکراہٹ نہیں تھی۔ اور
سب سے خطرناک بات یہ ہے ، میں نے آہستہ ،مگر صاف لہجے میں کہا، ہمیں اب یہ سب غلط بھی نہیں لگتا،ہم نے اسے ” معاشرتی
سمجھداری” کا نام دیا ہوا۔میں نے اس کی طرف دیکھا، اب وہ مجھے نہیں، خود کو سن رہا تھا۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ میں نے نرمی سے کہا،ہم
سب ایسے ہی ہیں۔بس فرق یہ ہے کہ کچھ مان لیتے ہیں۔ اور کچھ ساری زندگی انکار میں گزار دیتے ہیں۔وہ خاموش رہا۔ ہم نے زندگی کو
بہت عجیب پیمانوں پر ناپنا شروع کر دیا ہے ۔ یہاں کسی کی بات سننے سے پہلے ہم اُس کی جیب دیکھتے ہیں۔ اور اس کی سچائی کو پرکھنے سے
پہلے اس کی کامیابی کا حساب لگاتے ہیں۔ میں نے ہلکا سا توقف کیا، ہم نے لفظوں کے معنی بدل دیے ہیں ۔ وفاداری اب مفاد کے ساتھ
جڑی ہے ، خلوص اب فائدے کے ساتھ مشروط ہے ۔اورعزت؟ میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔ عزت اب صرف ایک کامیاب ڈیل کا
دوسرا نام بن چکی ہے ۔
کمرے میں ایک عجیب سا بوجھ پھیل گیا تھا۔ آپ نے کبھی سوچا ہے ۔ میں نے دھیرے سے کہا، کہ ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں، جو
کسی ناکام انسان کے ساتھ صرف اس کے انسان ہونے کی بنیاد پر کھڑے رہتے ہیں؟ وہ نظریں جھکا گیا۔میں نے بات کو اور نرم کیا، ہم
برے نہیں ہیں، ہم بس اس نظام کے عادی ہو چکے ہیں، جہاں ہرچیز کی قیمت ہے ۔۔ سوائے انسان کے ۔ میں نے ایک گہرا سانس لیا۔
اورسب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جب کبھی کوئی سچ میں مخلص ہو کر بات کرتا ہے ، تو ہم اسے یا تو نظر انداز کر دیتے ہیں یا پھر اس کا مذاق بنا
دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ ہمارے ” قواعد ” کے مطابق نہیں کھیل رہا ہوتا۔ میں نے اس کی طرف آخری بار دیکھا۔ اب اس کے چہرے پر نہ وہ
پہلی والی مسکراہٹ تھی، نہ اعتماد۔ بس ایک خاموشی تھی، جو شاید پہلی بار سچی تھی۔ میں نے آہستگی سے کہا۔بات صرف میری یا آپ کی نہیں
ہے ۔ یہ پورے معاشرے کا المیہ ہے ، ہم نے انسان کو نہیں۔ اس کی قیمت کو پہچاننا سیکھ لیا ہے ۔ میں نے کرسی سے اٹھتے ہوئے اپنی بات
مکمل کی۔ یاد رکھیے ۔!! جب معاشرے میں سچ کی پہچان حیثیت سے ہونے لگے ، تو جھوٹ کو کامیاب ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ میں
باہر نکل آیا۔ مگر ایک سوال وہیں چھوڑ آیا۔ ہم انسان کو کب سنیں گے ۔۔؟ اور کب تک اس کی جیب بولتی رہے گی؟
٭٭٭