وجود

... loading ...

وجود

4اپریل جب آتا ہے !

هفته 04 اپریل 2026 4اپریل جب آتا ہے !

ب نقاب /ایم آر ملک

ماہ اپریل آتا ہے تو فکر قید لفظ گونگے، سوچیںپابجولاں ہوجاتی ہیں!
وقت کے قافلے شاید کہیں قیام نہیں کرتے ،رکنا ان کی شان نہیں ہر برس کانیا سورج طلوع ہوتا ہے تو پچھلے برس کے سارے کیلنڈر بیکار ہوجاتے ہیں ،کائنات کے ارتقاء سے یہ کھیل جاری ہے !
یہ برس بڑی مچھلیوں کی طرح ایک دوسرے کو نگلتے جارہے ہیں!
اوقات کے یہ ماہ و سال مجرم لگتے ہیں طوفان لگتے ہیں سرخ آندھیاں لگتی ہیں جوہر چیز اپنے ساتھ بہاکر لے جاتے ہیں۔
اور شاید یہ آندھیاں یہ طوفان وطن عزیز کا مقدر ہوکر رہ گئیں ہیں ۔ یہ آندھی یہ طوفان 4اپریل1979ء کو بھی آیا ۔
چی گویرا نے کہا تھا ”مرنا عیب نہیں مگر ہمارے پیچھے ساتھی ماتمی جنازہ نہ اٹھائیں بلکہ آزادی کی جنگ کو مضبوط کریں جیسے سامراج اور اس کے پالتو کتوں کو خبر پڑی کہ انقلاب کیلئے جدو جہد کرنے والے سر کٹاتے ہیں جھکاتے نہیں ”۔
وہ بھی اسی سفر کاراہی تھا۔
موت کو مارنا بہت بڑی فتح ہے۔
بہادر مائیں موت کو مارنے والے ایسے بیٹے صدیوں میں پیدا کرتی ہیں جو موت کو گلے لگا کے اپنے جینے کا حوصلہ دیں۔
تاریخ آج تک اپنے ماتم سے فارغ نہیں ہوسکی!
تاریخ نہ مٹنے والی تاریخ جب منصور کو سولی پر لٹکایا گیا، ایسی تاریخ جب بلاول کو چکی میں پیسا گیا ایسی تاریخ سرمد کی بھی ہے، تو بھگت سنگھ کی بھی ،تاریخ شاہ عنایت کی بھی ہے تو آزادی کے ہیرو مقبول بٹ کی بھی ہے ،یہ تاریخ بے گناہ سزائیں کاٹنے والی سیاسی کارکنوں کی بھی ہے۔
ایسی ہی تاریخ میں اپنے قلم کے آنسو بہاتے ایک نام ذوالفقار علی بھٹو شہید لکھا ہے جس نے ایک ایسی پارٹی کی بنیاد رکھی جو کارکنوں کے لیے جلتے ہوئے انگاروں پر ننگے پائوں چلنے کے برابر تھی نظریات کی پیٹھ پر برسنے والے کوڑوں نے اس کی گواہی دی
اُس نے کہا !
دنیا خوبصورت ہے اور میں اسے اسی طرح خیر باد کہوں گا ۔پھر اُس نے معمول کی طرح شیو بنائی ،ٹھیک ایک گھنٹہ بعد تیسری دنیا کا عظیم لیڈر آئین کی کمزور ترین دفعہ 109کے تحت تختۂ دار پر جھولنے والا تھا۔
اُس نے حلفاً کہا نواب محمد احمد خان کے قتل سے میرا کوئی تعلق نہیں مگر سفید ہاتھی اُس کی جان کے درپے تھا۔
اقبال کے بیٹے جاوید اقبال بھی منصفوں کے اُس پینل میں تھے جنہوں نے فخر ایشیا کی سزائے موت کے خلاف اختلافی نوٹ لکھا جاوید کہتے ہیں میں نے خواب دیکھا بھٹو کہہ رہے ہیں میں بے گناہ ہوں۔
خواب تو الہام ہوتا ہے میں کیسے اس سچائی کی نفی کرتا میرا ایک دوست صحافی راجہ اعجاز مرحوم جو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے خلاف سنائے جانے والے فیصلے کا چشم دید گواہ ہے کہتا
اُس روز لائٹ بلیو لباس میں ملبوس عدالت کے کٹہرے میں کھڑا تیسری دنیا کا عظیم لیڈر فیصلہ سنانے سے قبل کہہ رہا تھا
مجھے قاتل اور مقتول کے گرد گھومنے والی کہانی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے میری ایک جیب میں کشمیر کا حل موجود ہے اور دوسری جیب میں اسلامی دنیا کے اتحاد کا ٹھوس منصوبہ ۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے سچ کہا تھا
”عدالتی ناانصافیوں کی فہرست بڑی طولانی ہے تاریخ آج تک اس کے ماتم سے فارغ نہ ہوسکی ہم اس میں حضرت مسیح جیسے پاک انسان کو دیکھتے ہیں جو اپنے عہد کی اجنبی عدالت کے سامنے چوروں کے ساتھ کھڑے کیے گئے ،ہم کو اس میں سقراط نظر آتا ہے جس کو صرف اس لیے زہر کا پیالہ پینا پڑا کہ وہ اپنے ملک کا سب سے سچا انسان تھا ”۔
ماضی میں سفیدہاتھی کے معتوب بنی گالہ کے قیدی عظیم سائنسدان ڈاکٹر قدیر خان نے آمر وقت ضیاء کو لکھا ”یقینا بھٹو صاحب سے کچھ غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن پاکستان کی سلامتی کیلئے اُن کی بے پناہ خدمات کو سامنے رکھا جائے اور بھٹو کی پھانسی روک دی جائے ۔
یہی اپریل کا مہینہ تھا جو ہر سال آتا ہے، آج سے 47سال قبل بھی آیا۔
لیکن سوگوار چہرے کے ساتھ 1979ء کو بھی وہ بدھ کاروز تھا اُس روز طلوع ہونے والا آفتاب فخر ایشیا کے بے گناہ لہو کی لالی لیکرطلوع ہوا اور ڈوبتے افق پر بھی یہی لالی اس کے چہرے پر تھی۔
موت کا کوئی تاثراُس کے چہرے پر نہیں تھا اس لیے کہ وقت کے آمر سے اُس نے بھیک مانگنے سے انکار کردیا ۔کسی نے کہا بھٹو وہ تمہاری لاش کو گلیوں میں گھسیٹیں گے بھٹو ہنس پڑے ۔
بے شک گھسیٹیں لیکن تاریخ میری لاش کو نہیں گھسیٹے گی
نصرت نے کہا زلفی !
زندگی کی خاطر وطن کو خیر باد کہہ دو! زنداں کے پیچھے موت سے بے خود زلفی مسکرا یا۔ دھرتی توماں ہوتی ہے نصرت اور کون کم بخت نہیں چاہتا کہ وہ ماں کی آغوش میں دم توڑے۔ ٹھیک ایک گھنٹے بعد گھڑی نے چار بجا دیے پھر وہ باوقار چال سے پھانسی گھاٹ پہنچا ۔موت کی تصدیق کرنے قریب کھڑے ڈاکٹر اور جلاد تارا مسیح کی سماعت سے مسلم ورلڈ کے لیڈر کے آخری الفاظ ٹکرائے ”اے اللہ گواہ رہنا میں بے گناہ ہوں”۔
فیض تڑپ اُٹھا
اک گوہر نایاب گنوا بیٹھے ہو لوگو
کس شخص کو سولی پہ چڑھا بیٹھے ہو لوگو
سر شاہ نواز بھٹو کے عظیم سپوت نے قید زنداں میں اپنی بائیو گرافی میں لکھا اگر مجھے قتل کیا گیا تو دنیا کی تاریخ بدل جائے گی وقت نے اس سچائی کو ثابت کیا نائن الیون کا خود ساختہ واقعہ ہوا ۔
اکسٹھ مسلم ریاستیں سمندر کی جھاگ کی طرح بے وزن ہو گئیں، کرہ ٔ ارض پر ہر مسلمان معتوب ہوا ،اُس کی عزت نفس چھن گئی ۔تیسری دنیا میں فرنگیت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو گئی، نواز شریف نے اپنے پہلے دور اقتدار میں مسلم سربراہوں کا ناکام اجلاس طلب کیا تو امریکہ کے معتوب لیبیا کے شہید معمر قذافی کو بھی دعوت نامہ بھیجا ۔بھٹو کے ساتھی نے جواباً لکھا :
”مجھے 1974میں ایسی ہی ایک مسلم سربراہوں کی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا تھا اور میں نے لاہور میں ہونے والی اس کانفرنس میں واقعی اسلامی قوتوں کو اکٹھے ہوتے دیکھا تھا لیکن بعد میں ایک ڈکٹیٹر نے اُس شخص کو جس نے ساری مسلمان قوم کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی تھی پھانسی پر لٹکا دیا۔ میں آج تک اس سانحہ کے غم سے باہر نہیں آسکا ۔اس لیے میرے واسطے اس اجلاس میں شرکت کرنا مشکل ہے ”۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

ایک سوال۔۔۔۔؟ وجود هفته 04 اپریل 2026
ایک سوال۔۔۔۔؟

4اپریل جب آتا ہے ! وجود هفته 04 اپریل 2026
4اپریل جب آتا ہے !

بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام وجود جمعه 03 اپریل 2026
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر