وجود

... loading ...

وجود

انصاف کا قتل کب تک ہوتا رہے گا ؟

بدھ 01 اپریل 2026 انصاف کا قتل کب تک ہوتا رہے گا ؟

چوپال /عظمیٰ نقوی

آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے ،انصاف کا قتل ہوا تھا اور قاتل باعزت بری ہوکر ،فائرنگ کرتے انصاف کا مذاق اُڑا رہے تھے ، مگر اُمِ رباب کے آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
اُمِ رباب۔۔۔ایک بیٹی، ایک پکار، ایک مسلسل جدوجہد۔ وہ برسوں تک عدالتوں کے دروازوں پر دستک دیتی رہی، اپنے دادا، والد اور چچا کے خون کا حساب مانگتی رہی۔ ہر پیشی پر امید باندھتی، ہر تاریخ پر خود کو مضبوط کرتی، اور ہر بار یہی سوچتی کہ شاید اگلی سماعت انصاف لے آئے۔ مگر آج جب عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو بری کر دیا، تو یوں محسوس ہوا جیسے صرف ایک مقدمہ نہیں، بلکہ ایک امید بھی ختم ہو گئی ہو۔
یہ فیصلہ سن کر دل میں ایک عجیب سا سوال جنم لیتا ہے ۔۔۔کیا واقعی انصاف ہو گیا؟ یا پھر انصاف راستے میں کہیں کھو گیا؟
ہم اکثر ایسے مواقع پر سیدھا عدالتوں کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ عدالتیں تو وہی فیصلہ دیتی ہیں جو ان کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ اگر شواہد کمزور ہوں، گواہ اپنے بیانات سے پیچھے ہٹ جائیں، یا تفتیش میں سقم ہو، تو جج کے پاس محدود راستے رہ جاتے ہیں۔ ایسے میں بریت کا فیصلہ انصاف کی جیت نہیں بلکہ نظام کی کمزوری کا اعتراف بن جاتا ہے۔اصل کہانی عدالت کے باہر شروع ہوتی ہے۔یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں ریاستی ادارے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔۔۔پولیس تفتیش کرتی ہے، شواہد اکٹھے کیے جاتے ہیں، گواہوں کے بیانات قلمبند ہوتے ہیں، اور پھر یہی سب کچھ عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اگر اسی مرحلے پر کمزوریاں رہ جائیں، تو بعد میں کوئی بھی کوشش اس خلا کو پورا نہیں کر سکتی۔اُمِ رباب کا کیس بھی اسی تلخ حقیقت کی عکاسی بنا ۔ایک ایسا مقدمہ جس میں تین قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جہاں ملزمان بااثر تھے، جہاں پورا ملک اس کیس کو دیکھ رہا تھا—وہاں تفتیش کا معیار غیر معمولی ہونا چاہیے تھا۔ گواہوں کو مکمل تحفظ ملنا چاہیے تھا، ثبوت اس قدر مضبوط ہونے چاہیے تھے کہ کوئی شک باقی نہ رہتا۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔یہاں مسئلہ صرف ایک ادارے کا نہیں بلکہ پورے نظام کی عدم ہم آہنگی کا ہے۔ ایک طرف عدالت شواہد مانگتی ہے، دوسری طرف تفتیشی ادارے پیسے کی چمک اور سفارش کی دھمک پر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پاتے، اور حکومت اکثر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انصاف کی پوری عمارت کمزور بنیادوں پر کھڑی ہو جاتی ہے۔اور پھر ایک دن وہ عمارت گر جاتی ہے۔
پاکستان میں یہ کوئی نیا واقعہ نہیں۔ ہم بارہا دیکھ چکے ہیں کہ اہم کیسز میں گواہ منحرف ہو جاتے ہیں، شواہد مشکوک ہو جاتے ہیں، اور مقدمات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گواہ کیوں بدل جاتے ہیں؟ کیا انہیں تحفظ حاصل ہوتا ہے؟ کیا ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے؟ یا پھر وہ خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کے باعث خاموشی اختیار کر لیتے ہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہم سب کو تلاش کرنے ہوں گے۔
اُمِ رباب کی جدوجہد صرف اس کے خاندان تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ پورے معاشرے کے لیے ایک امتحان تھی۔ ایک امتحان کہ کیا ہم اپنے نظام کو اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ مظلوم کو انصاف دے سکے؟ یا ہم ہمیشہ کی طرح خاموشی اختیار کر کے اگلے واقعے کا انتظار کریں گے؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کیسز میں سیاسی پہلو شامل ہو جائیں، تو معاملات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ ادارے دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، اور انصاف کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کو اپنی غیرجانبداری ثابت کرنی ہوتی ہے—مگر بدقسمتی سے اکثر ایسا نہیں ہو پاتا۔
حکومت کا کردار بھی یہاں کلیدی ہوتا ہے۔ اگر حکومت چاہے تو ایسے کیسز میں شفاف اور مضبوط تفتیش کو یقینی بنا سکتی ہے، اداروں کے درمیان رابطہ بہتر کر سکتی ہے، اور عدالتوں کو مکمل تعاون فراہم کر سکتی ہے۔ مگر جب ترجیحات بدل جائیں، تو انصاف بھی پیچھے رہ جاتا ہے۔
اُمِ رباب آج ہار گئی ہے—مگر اس کی ہار ایک فرد کی ہار نہیں، بلکہ ہمارے نظام کی ہار ہے۔یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔ کیا ہم واقعی ایک ایسا معاشرہ بن چکے ہیں جہاں انصاف صرف ایک خواب رہ گیا ہے؟ یا ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے نظام کو درست کر سکیں؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محض افسوس کرنے کے بجائے اصلاح کی بات کریں۔ تفتیشی نظام کو مضبوط بنایا جائے، گواہوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انصاف کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔کیونکہ جب انصاف کمزور ہوتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں، پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔
اُمِ رباب کی کہانی ختم نہیں ہوئی—یہ ایک سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔
ایک ایسا سوال جس کا جواب ہم سب کو دینا ہے۔
آخر کب تک انصاف یوں راستے میں کھوتا رہے گا؟
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
تسبیح خواں وجود بدھ 01 اپریل 2026
تسبیح خواں

کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش وجود بدھ 01 اپریل 2026
کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش

انصاف کا قتل کب تک ہوتا رہے گا ؟ وجود بدھ 01 اپریل 2026
انصاف کا قتل کب تک ہوتا رہے گا ؟

ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی وجود منگل 31 مارچ 2026
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی

اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟ وجود منگل 31 مارچ 2026
اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر