... loading ...
محمد آصف
آج کے دور میں سرمایہ کاری کے مواقع میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور میوچل فنڈز عام سرمایہ کار کے لیے ایک آسان اور منظم
ذریعہ بن چکے ہیں۔ تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ اسلامی میوچل فنڈ بہتر ہیں یا روایتی؟اسلامی اور روایتی میوچل فنڈز کی کارکردگی کا تقابلی
جائزہ عصرِ حاضر کے مالیاتی مباحث میں ایک اہم موضوع کی حیثیت رکھتا ہے ، خصوصاً ایسے معاشروں میں جہاں سرمایہ کاری کے ساتھ
مذہبی اقدار کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے ۔ میوچل فنڈ دراصل ایک اجتماعی سرمایہ کاری کا ذریعہ ہے جس میں مختلف سرمایہ کاروں کی رقوم کو یکجا کر
کے پیشہ ورانہ منیجرز مختلف اثاثہ جات میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ روایتی میوچل فنڈز سرمایہ کاری کے فیصلوں میں صرف مالی منافع اور
رسک کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہیں، جبکہ اسلامی میوچل فنڈز شریعت کے اصولوں کی پابندی کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہیں، جن میں سود
(ربا)، جوا (قمار)، غیر یقینی معاملات (غرر) اور غیر اخلاقی صنعتوں جیسے شراب، جوا یا حرام اشیاء سے متعلق کاروبار میں سرمایہ کاری کی
ممانعت شامل ہے ۔ اسی بنیادی فرق کی وجہ سے دونوں اقسام کے فنڈز کی کارکردگی کا موازنہ علمی اور عملی دونوں حوالوں سے اہمیت اختیار کر
جاتا ہے ۔
اسلامی میوچل فنڈز عموماً ایک شریعہ سپروائزری بورڈ کی نگرانی میں کام کرتے ہیں جو اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ سرمایہ کاری کے تمام مراحل
اسلامی اصولوں کے مطابق ہوں۔ اس عمل میں دو طرح کی اسکریننگ شامل ہوتی ہے : پہلی، کاروباری سرگرمیوں کی اسکریننگ جس میں یہ
دیکھا جاتا ہے کہ کمپنی کا بنیادی کاروبار شریعت کے مطابق ہے یا نہیں؛ اور دوسری، مالیاتی تناسبات کی اسکریننگ جس میں قرض کے تناسب
اور سودی آمدنی کی حد کو جانچا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس روایتی فنڈز میں ایسی کوئی مذہبی پابندی نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے ان کے لیے
سرمایہ کاری کے مواقع زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ بات روایتی فنڈز کو تنوع(diversification) کے لحاظ سے برتری دیتی ہے ،
تاہم عملی طور پر یہ ضروری نہیں کہ زیادہ تنوع ہمیشہ بہتر کارکردگی کی ضمانت ہو۔
کارکردگی کے تقابلی جائزے میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پیمانے ریٹرن (return)، رسک (risk)، شارپ ریشو (Sharpe ratio)، ٹرینر ریشو (Treynor ratio) اور جینسن الفا (Jensen’s alpha) ہیں۔ مختلف تحقیقی مطالعات سے
یہ بات سامنے آئی ہے کہ طویل مدتی بنیادوں پر اسلامی اور روایتی میوچل فنڈز کی اوسط کارکردگی میں کوئی نمایاں فرق نہیں پایا جاتا۔ بعض
ادوار میں اسلامی فنڈز بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں،جبکہ بعض اوقات روایتی فنڈز سبقت لے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر عالمی مالیاتی بحران
جیسے حالات میں، جب سودی قرضوں اور زیادہ لیوریج رکھنے والی کمپنیوں کو شدید نقصان پہنچا، اسلامی فنڈز نے نسبتاً بہتر استحکام کا مظاہرہ کیا
کیونکہ وہ پہلے ہی کم قرض والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، معاشی استحکام اور تیز رفتار ترقی کے ادوار میں
روایتی فنڈز زیادہ منافع کما سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس سرمایہ کاری کے اختیارات کی وسعت زیادہ ہوتی ہے ۔ رسک کے نقطۂ نظر سے دیکھا
جائے تو اسلامی فنڈز عموماً کم لیوریج والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا مالیاتی خطرہ نسبتاً کم ہو سکتا ہے ۔ تاہم
چونکہ وہ بعض سیکٹرز مثلاً بینکاری اورروایتی مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری نہیں کرتے ، اس لیے ان کے پورٹ فولیو میں سیکٹرل ارتکاز
concentration) (sectorکا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے ، جس سے مخصوص معاشی حالات میں رسک بڑھ سکتا ہے ۔ روایتی فنڈز میں
سیکٹرل تنوع زیادہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات رسک تقسیم ہو جاتا ہے ، مگر زیادہ لیوریج یا پیچیدہ مالیاتی مصنوعات میں سرمایہ کاری کی وجہ
سے غیر متوقع نقصانات کا امکان بھی موجود رہتا ہے ۔
کارکردگی کے تجزیے میں ایک اہم پہلو لاگت (cost) کا بھی ہے ۔ اسلامی فنڈز میں شریعہ بورڈ کی فیس اور اضافی اسکریننگ کے
اخراجات شامل ہوتے ہیں، جس سے ان کے انتظامی اخراجات (expense ratio) بعض اوقات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ زیادہ
اخراجات خالص منافع پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ تاہم جیسے جیسے اسلامی مالیاتی صنعت کا حجم بڑھ رہا ہے اور مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے ،
اخراجات میں کمی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔دوسری طرف روایتی فنڈز میں بھی فعال (actively managed) فنڈز کے اخراجات
زیادہ ہو سکتے ہیں، جبکہ غیر فعال (passive) فنڈز نسبتاً کم لاگت کے ساتھ مارکیٹ انڈیکس کو فالو کرتے ہیں۔ اسلامی انڈیکس فنڈز اور
ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) کی دستیابی نے بھی اسلامی سرمایہ کاروں کو کم لاگت متبادل فراہم کیے ہیں۔
علاقائی سطح پر کارکردگی میں فرق بھی قابلِ غور ہے ۔ مسلم اکثریتی ممالک جیسے پاکستان، ملائیشیا اور خلیجی ریاستوں میں اسلامی میوچل
فنڈز کو مقبولیت حاصل ہے اور مقامی مارکیٹ کے حالات کے مطابق ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں اسلامی
فنڈز ایک مخصوص سرمایہ کار طبقے کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ بعض مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھرتی ہوئی منڈیوں (emerging markets) میں اسلامی فنڈز نے مسابقتی کارکردگی دکھائی ہے ، خاص طور پر جب مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ زیادہ ہو۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسلامی اصولوں کے تحت زیادہ قیاسی (speculative) سرگرمیوں سے اجتناب کیا جاتا ہے ۔ سرمایہ کار کے
نقطۂ نظر سے فیصلہ صرف منافع کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ اقدار اور ترجیحات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ایسے سرمایہ کار جو شریعت کی پابندی کو
اولین ترجیح دیتے ہیں، ان کے لیے اسلامی فنڈز ایک اخلاقی اور مذہبی طور پر مطمئن کرنے والا ذریعہ فراہم کرتے ہیں، حتیٰ کہ اگر منافع
معمولی حد تک کم بھی ہو تو وہ اسے قبول کر لیتے ہیں۔ دوسری جانب ایسے سرمایہ کار جو صرف مالی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہیں، وہ دونوں اقسام
کے فنڈز کا تقابلی تجزیہ کر کے رسک اور ریٹرن کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ جدید مالیاتی نظریات جیسے موثر منڈی کا نظریہ (Efficient Market Hypothesis) یہ تجویز کرتے ہیں کہ طویل مدت میں مارکیٹ کو مسلسل شکست دینا مشکل ہے ، اس لیے اسلامی یا روایتی
ہونے سے زیادہ اہم منیجمنٹ کی مہارت، مارکیٹ کے حالات اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی ہے ۔
حالیہ برسوں میں پائیدار سرمایہ کاری (sustainable investing) اور ماحولیاتی، سماجی اور حکمرانی(ESG)اصولوں کی اہمیت
میں اضافہ ہوا ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسلامی سرمایہ کاری کے کئی اصولESGمعیارات سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں، جیسے غیر اخلاقی
صنعتوں سے اجتناب اور ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی۔ اس ہم آہنگی نے اسلامی فنڈز کو عالمی سطح پر ایک متبادل اخلاقی
سرمایہ کاری ماڈل کے طور پر متعارف کرایا ہے ، جس سے ان کی مسابقتی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے ۔ اسلامی اور روایتی میوچل فنڈز میں
سے کون سا بہتر ہے ، اس کا فیصلہ مکمل طور پر سرمایہ کار کی ترجیحات، مقاصد اور اقدار پر منحصر ہوتا ہے ۔ اگر کسی سرمایہ کار کے لیے شریعت کی
پابندی اور مذہبی اصولوں کے مطابق سرمایہ کاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے تو اسلامی میوچل فنڈ اس کے لیے زیادہ موزوں انتخاب ہے ، کیونکہ
یہ سود، غیر اخلاقی کاروبار اور زیادہ قرض والی کمپنیوں سے اجتناب کرتے ہوئے نسبتاً محتاط سرمایہ کاری کی حکمت عملی اختیار کرتا ہے ، جس سے
بعض معاشی بحرانوں میں استحکام بھی دیکھنے میں آیا ہے اور ساتھ ہی مذہبی و اخلاقی اطمینان بھی حاصل ہوتا ہے ۔ دوسری جانب اگر کسی سرمایہ
کار کی اولین ترجیح زیادہ سے زیادہ مالی منافع اور وسیع تنوع ہو، اور وہ سرمایہ کاری میں مذہبی پابندیوں کو بنیادی شرط نہ سمجھتا ہو، تو روایتی
میوچل فنڈ بعض ادوار میں بہتر مواقع فراہم کر سکتا ہے کیونکہ اسے تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کی آزادی حاصل ہوتی ہے ۔ تاہم تحقیقی شواہد
عموماً یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طویل مدت میں دونوں اقسام کے فنڈز کی اوسط کارکردگی میں نمایاں اور مستقل فرق نہیں پایا جاتا، بلکہ اصل فرق فنڈ
منیجر کی مہارت، مارکیٹ کے حالات اور اخراجات کے ڈھانچے سے پیدا ہوتا ہے ۔ اس لیے ایک مسلمان سرمایہ کار کے لیے ، جب کارکردگی
تقریباً مساوی ہو، تو اسلامی میوچل فنڈ کو ترجیح دینا زیادہ متوازن اور ہم آہنگ فیصلہ سمجھا جا سکتا ہے ، کیونکہ اس میں مالی فائدے کے ساتھ
اخلاقی اطمینان بھی شامل ہوتا ہے ۔
٭٭٭٭