وجود

... loading ...

وجود

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

پیر 30 مارچ 2026 انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

دی رے ون( The Raven)محض ایک خوفناک داستان یا غم کی شاعری نہیں بلکہ انسانی شعور کے تاریک ترین گوشوں کی وہ علامتی اور فلسفیانہ داستان ہے جس میں انسان کی یاد، امید، اور بے بسی ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح الجھ جاتی ہیں کہ زندگی خود ایک ذہنی اذیت گاہ بن جاتی ہے۔ اس نظم کے خالق Edgar Allan Poe نے بظاہر ایک بہت سادہ منظر تخلیق کیا ہے: ایک تنہا شخص آدھی رات کے سناٹے میں اپنی محبوبہ لینور کی موت کے بعد یادوں کے ملبے میں بیٹھا ہے اور قدیم کتابوں میں تسلی تلاش کر رہا ہے۔ لیکن ادب میں عظیم تخلیق وہی ہوتی ہے جو سادہ واقعے کو انسانی وجود کے کرب میں بدل دے، اور Poeیہی کرتے ہیں۔ نظم میں کمرہ دراصل انسانی ذہن ہے، رات انسانی شعور کا اندھیرا ہے، اور کوا اس اندھیرے میں ابھرنے والی وہ حتمی آواز ہے جو انسان کے ہر سوال کو ایک ہی جواب دیتی ہے: ”Nevermore”۔ یہی ایک لفظ پوری نظم کا فلسفیانہ مرکز ہے۔ بظاہر یہ صرف ایک لفظ ہے مگر دراصل یہ انسان کی امید کے خلاف کائنات کا فیصلہ ہے۔ جب راوی کوے سے سوال کرتا ہے کہ کیا وہ اپنی محبوبہ کو دوبارہ دیکھ سکے گا تو کوے کا جواب صرف ”Nevermore” ہوتا ہے۔ اس لمحے نظم ایک ذاتی غم سے نکل کر وجودی فلسفے کی سرحد میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کی سب سے بڑی اذیت یہ نہیں کہ وہ کسی کو کھو دیتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ کھوئی ہوئی چیز کبھی واپس نہیں آئے گی۔ اسی لیے اس نظم کا المیہ دراصل یاد کا المیہ ہے۔ یاد انسان کو زندہ بھی رکھتی ہے اور اسے اذیت بھی دیتی ہے۔ اگر انسان بھول جائے تو وہ سکون پا سکتا ہے لیکن اگر یاد باقی رہے تو وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتا۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے بعد میں وجودی فلسفیوں نے انسانی زندگی کا بنیادی مسئلہ قرار دیا۔ JeanـPaul Sartre کے نزدیک انسان ایک ایسی آزادی میں قید ہے جہاں ہر انتخاب کی ذمہ داری اسی پر ہے اور ہر یاد اس کی تقدیر کا حصہ بن جاتی ہے۔ اسی طرح Albert Camus نے زندگی کو ایک عبث جدوجہد قرار دیا جس میں انسان معنی تلاش کرتا رہتا ہے مگر کائنات خاموش رہتی ہے۔
The Raven میں یہی خاموشی”Nevermore”کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس نظم میں کوا دراصل تقدیر کی علامت بھی ہے اور انسانی شعور کا سیاہ عکس بھی۔ جب وہ راوی کے کمرے میں داخل ہوتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کے ذہن میں ناامیدی کا ایک خیال داخل ہو گیا ہو۔ ابتدا میں راوی اسے محض ایک اتفاق سمجھتا ہے، پھر اس سے سوال کرتا ہے، پھر اس سے بحث کرتا ہے، اور آخر میں اس کے سامنے شکست تسلیم کر لیتا ہے۔ یہی انسانی نفسیات کی سب سے بڑی سچائی ہے کہ انسان ابتدا میں غم کو ایک عارضی حادثہ سمجھتا ہے مگر وقت کے ساتھ وہی غم اس کی شناخت بن جاتا ہے۔ نظم کا اختتام اسی فلسفیانہ المیے کا اعلان ہے جب راوی کہتا ہے کہ اس کی روح اس سائے سے کبھی آزاد نہیں ہو سکے گی۔ اس منظر کو اگر علامتی طور پر دیکھا جائے تو کوا دراصل انسانی شعور پر چھا جانے والی وہ دائمی تاریکی ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ ادبی اعتبار سے بھی یہ نظم غیر معمولی ہے کیونکہ Poe نے صوتی آہنگ، تکرار، اور علامتوں کے ذریعے ایک ایسا ماحول تخلیق کیا ہے جو قاری کو بھی اسی نفسیاتی قید میں داخل کر دیتا ہے۔”Nevermore”کی مسلسل تکرار دراصل اس حقیقت کی علامت ہے کہ انسان جتنا امید کے خلاف لڑتا ہے اتنا ہی اس کی شکست واضح ہوتی جاتی ہے۔ اگر اس نظم کو وسیع انسانی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ The Ravenصرف ایک عاشق کی کہانی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا استعارہ ہے۔ انسان ہمیشہ کھوئی ہوئی جنت کی تلاش میں رہا ہے، ہمیشہ کسی لینور کو یاد کرتا رہا ہے، اور ہمیشہ امید رکھتا رہا ہے کہ کسی دن سب کچھ واپس مل جائے گا۔ مگر تاریخ بار بار یہی بتاتی ہے کہ زندگی اکثر اسی کوے کی طرح بے رحم ہے جو ہر سوال کے جواب میں صرف ایک لفظ کہتی ہے:”Nevermore”۔ اسی لیے The Raven ادب کی تاریخ میں صرف ایک خوبصورت نظم نہیں بلکہ انسانی تنہائی، یاد، اور بے معنویت کا ایک گہرا فلسفیانہ مرثیہ ہے جو ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ بعض اوقات انسان کا سب سے بڑا دشمن کائنات نہیں بلکہ اس کا اپنا شعور ہوتا ہے۔ادب کی تاریخ میں بعض تخلیقات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک کہانی یا نظم نہیں رہتیں بلکہ انسانی روح کی ایک گہری تمثیل بن جاتی ہیں۔ امریکی شاعر Edgar Allan Poe کی شہرہ آفاق نظم The Raven بھی ایسی ہی ایک تخلیق ہے۔ بظاہر یہ ایک تنہا انسان، ایک سیاہ کوے اور ایک تاریک رات کی داستان ہے، مگر درحقیقت یہ نظم انسانی ذہن کے ان اندھیروں کا نقشہ ہے جہاں یادیں، شکستیں اور ناامیدیاں آ کر بسیرا کرتی ہیں۔
جب اس نظم کو محض ایک ادبی تخلیق کے طور پر پڑھا جائے تو یہ ایک پراسرار اور المناک منظرنامہ پیش کرتی ہے، لیکن جب اسے سماج اور تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے معنی کہیں زیادہ گہرے اور تکلیف دہ ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس نظم کو آج کے پاکستانی انسان کے آئینے میں بھی دیکھ سکتے ہیں، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس آئینے میں ہمیں اپنا ہی چہرہ دکھائی دیتا ہے۔The Ravenکی کہانی ایک ایسے انسان سے شروع ہوتی ہے جو رات کے سناٹے میں تنہا بیٹھا ماضی کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔ اس کی محبوبہ لینور اس دنیا سے جا چکی ہے اور وہ یادوں کے ایک ایسے جنگل میں بھٹک رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ یہ منظر صرف ایک فرد کی تنہائی نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کی تنہائی کی علامت ہے۔ جب ہم پاکستانی معاشرے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں بھی ایک ایسی ہی اجتماعی تنہائی محسوس ہوتی ہے۔ ایک ایسا سماج جو بظاہر زندہ ہے مگر اندر سے تھکا ہوا، الجھا ہوا اور یادوں کے بوجھ سے دب چکا ہے۔پاکستان کا انسان بھی کسی نہ کسی لینور کی تلاش میں ہے۔ کسی کے لیے وہ انصاف ہے، کسی کے لیے معاشی سکون، کسی کے لیے آزادی اور کسی کے لیے وہ خواب جو قیامِ پاکستان کے وقت دیکھے گئے تھے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ خواب بھی ماضی کی یادوں میں بدل گئے۔ آج کا پاکستانی انسان جب اپنے گرد نظر ڈالتا ہے تو اسے ترقی کے وعدوں کے بجائے بحرانوں کے سائے زیادہ نظر آتے ہیں۔اسی لمحے پو کی نظم میں ایک دستک سنائی دیتی ہے۔ پہلے ایک ہلکی سی آواز، پھر کھڑکی پر پرندے کے پروں کی سرسراہٹ، اور پھر ایک سیاہ کوا کمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ ادب میں کوا اکثر نحوست اور تاریکی کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر یہاں یہ اس سے بھی زیادہ گہری علامت بن جاتا ہے۔ یہ دراصل اس حقیقت کا استعارہ ہے جس سے انسان بھاگنا چاہتا ہے مگر بھاگ نہیں پاتا۔اگر ہم اس منظر کو پاکستانی سماج کے ساتھ جوڑیں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ ہمارے اجتماعی کمرے میں بھی ایک ایسا ہی کوا داخل ہو چکا ہے۔ یہ کوا غربت کا ہے، ناانصافی کا ہے، سیاسی بے یقینی کا ہے، ٹوٹے ہوئے خوابوں کا ہے۔ یہ کوا ہمارے تعلیمی اداروں کی شکستگی میں، ہمارے اسپتالوں کی بے بسی میں، اور ہمارے سیاسی نعروں کی کھوکھلی گونج میں بیٹھا ہوا ہے۔نظم میں کوا آ کر علم و دانش کی دیوی کے مجسمے پر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ منظر بظاہر سادہ ہے مگر اس کے اندر ایک خوفناک علامت چھپی ہوئی ہے: عقل اور علم کے اوپر ایک سایہ۔ جب ہم پاکستانی معاشرے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں بھی یہی منظر نظر آتا ہے۔ علم موجود ہے، ادارے موجود ہیں، آئین موجود ہے، مگر ان سب کے اوپر ایک ایسا سایہ بھی ہے جو ان کی روشنی کو مدھم کر دیتا ہے۔کوا نظم میں صرف ایک لفظ بولتا ہے:”Nevermore”— یعنی اب کبھی نہیں۔ یہی لفظ پورے منظر کو ایک المیے میں بدل دیتا ہے۔ راوی ہر سوال کے جواب میں یہی لفظ سنتا ہے۔ کیا وہ اپنی محبوبہ کو دوبارہ دیکھ سکے گا؟ کیا اس کا دکھ کبھی ختم ہوگا؟ جواب ایک ہی ہے: Nevermore۔
اگر ہم اس لفظ کو پاکستانی سماج کی گونج میں سنیں تو ہمیں ایک عجیب سی مماثلت محسوس ہوتی ہے۔ جب ایک نوجوان روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتا ہے تو اکثر جواب یہی ہوتا ہے: نہیں۔ جب ایک کسان اپنے حقوق مانگتا ہے تو جواب یہی ہوتا ہے: نہیں۔ جب ایک عام شہری انصاف کی امید کرتا ہے تو جواب اکثر خاموشی یا مایوسی کی شکل میں آتا ہے۔ گویا ایک اجتماعی”Nevermore”ہماری فضا میں معلق ہے۔یہاں Edgar Allan Poeکی نظم ایک خوفناک سچائی آشکار کرتی ہے۔ اصل کوا باہر سے نہیں آتا، وہ انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ وہ مایوسی جو بار بار کے تجربات سے پیدا ہوتی ہے، وہ شکست جو امید کے ٹوٹنے سے جنم لیتی ہے ۔۔۔یہ سب مل کر ایک ایسا سایہ بناتے ہیں جو انسان کے شعور پر بیٹھ جاتا ہے۔ پاکستانی انسان بھی اسی ذہنی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ وہ ہر الیکشن کے بعد امید کرتا ہے کہ شاید اب کچھ بدلے گا، ہر نئی پالیسی کے بعد امید کرتا ہے کہ شاید اب حالات بہتر ہوں گے، مگر جب تبدیلی نہیں آتی تو مایوسی کا وہی کوا پھر سے اس کے ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ The Ravenمحض ایک امریکی نظم نہیں رہتی بلکہ انسانی سماج کی ایک آفاقی تمثیل بن جاتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ معاشرے صرف معاشی یا سیاسی بحرانوں سے نہیں ٹوٹتے، بلکہ وہ اس وقت ٹوٹتے ہیں جب امید مرنے لگتی ہے۔مگر اس نظم کو صرف مایوسی کی داستان سمجھنا بھی شاید غلط ہوگا۔ کیونکہ ادب کا کام صرف اندھیرا دکھانا نہیں بلکہ انسان کو اس اندھیرے کا شعور دینا بھی ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے اندھیرے کو پہچان لیتا ہے تو شاید وہ اس کے خلاف لڑنے کی ہمت بھی پیدا کر لیتا ہے۔پاکستانی سماج بھی آج ایک ایسے ہی کمرے میں کھڑا ہے جہاں ایک سیاہ کوا بیٹھا ہوا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کوا موجود ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کے سائے کو پہچاننے کے بعد اس کمرے کی کھڑکی کھولنے کی ہمت پیدا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ اگر کھڑکی بند رہی تو وہ کوا ہمیشہ وہی لفظ دہراتا رہے گاNevermoreاور اگر کھڑکی کھل گئی تو شاید پہلی بار اس تاریک کمرے میں صبح کی روشنی داخل ہو سکے گی۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو وجود پیر 30 مارچ 2026
میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو

تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر