وجود

... loading ...

وجود

بھارت میں توانائی کابحران

جمعه 27 مارچ 2026 بھارت میں توانائی کابحران

ریاض احمدچودھری

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ناقص اور ناکام حکومتی پالیسیوں کے باعث بھارت سنگین توانائی بحران کا شکار ہو چکا ہے جس نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔بین الاقوامی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔بھارت میں گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد صورتحال قابو سے باہر ہو گئی ہے جس کی وجہ سے ریستورانوں کے کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو چکے ہیں۔ گیس کی عدم دستیابی کے سبب کئی بڑے ہوٹل اور کھانے پینے کے مراکز مجبورا بند کر دیے گئے ہیں۔صرف ریستوران ہی نہیں بلکہ کھاد کی فیکٹریاں اور گیس پر منحصر دیگر صنعتی ادارے بھی اپنی پیداواری سرگرمیاں روکنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ صنعتی پہیہ رک جانے سے بھارت میں بیروزگاری اور معاشی بدحالی کا نیا طوفان جنم لے رہا ہے جس سے عام آدمی شدید متاثر ہوا ہے۔مختلف بھارتی شہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد گیس سلنڈرز کے حصول کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ کئی گھنٹوں کی انتظار کے باوجود شہریوں کو ایندھن دستیاب نہیں ہو رہا، جس سے عوام میں حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے بھارتی عوام اب مودی سرکار کی ناقص منصوبہ بندی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ حکومتی توجہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے بجائے صرف سیاسی گٹھ جوڑ پر مرکوز رہی جس کے بھیانک نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ مودی حکومت نے ایران کے ساتھ تعلقات کو نظر انداز کر کے اپنی تمام تر توجہ اسرائیل کے ساتھ اتحاد پر مرکوز رکھی۔ اس غیر متوازن خارجہ پالیسی کے نتیجے میں ملک کو توانائی کی فراہمی کے لیے متبادل راستے نہیں مل سکے اور بحران مزید گہرا ہو گیا۔مجموعی طور پر مودی سرکار کی دوغلی پالیسیوں نے بھارت کو ایک بڑے ہولناک توانائی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اگر بروقت درست فیصلے نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں بھارت کی معاشی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
بھارت میں گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے ملک کے صنعتی اور سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔جریدے نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ مودی حکومت کی توانائی کی پالیسیاں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ حکومت کی جانب سے بروقت عالمی منڈی سے معاہدے نہ کرنے اور مقامی پیداوار میں ناکامی نے عوام کو اس دلدل میں دھکیلا ہے۔ بھارت میں گیس کا بحران صرف قیمتوں کا اضافہ نہیں بلکہ مودی سرکار کی انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس نے عام آدمی کا چولہا ٹھنڈا کر دیا ہے۔خلیج میں کشیدگی کے باعث پوری دنیا توانائی کے بحران کا شکار ہے، لیکن مودی سرکار کی دوغلی پالیسیوں نے بھارتی عوام کو دوبارہ پتھر کے دور میں واپس پہنچا دیا ہے۔ایران جنگ کے اثرات سے بھارت میں مہنگائی، توانائی بحران، روپے کی کمی، مارکیٹ نقصان اور سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔
ایران میں جاری کشیدگی نے دنیا بھر کو متاثر کیا ہے اور اس کے اثرات بھارت تک بھی پہنچے ہیں۔ اس تنازعے کے باعث عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور سپلائی چین پر گہرا اثر پڑا ہے۔بھارت، جو اپنی تیل اور گیس کی بڑی ضروریات کا زیادہ تر حصہ مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔ ہرمز کی اہم آبی گزرگاہ میں رکاوٹ کے باعث تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی، جس سے عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔جنگ سے پہلے تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی، جو اب بڑھ کر 100 ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے، جس سے بھارت کا درآمدی بل بڑھ گیا ہے۔ بھارت میں پریمیم پٹرول اور صنعتی ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔رسد میں کمی اور ترسیل کے مسائل کی وجہ سے ایل پی جی اور ایل این جی کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔جس کا کافی اثر بھارت پر پڑا ہے۔گھریلو اور کمرشل گیس سلنڈرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔گیس اور ایندھن کی مہنگائی کے باعث روزمرہ اشیا جیسے ہوٹل کے کھانے، چائے، سموسے وغیرہ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔مختلف فوڈ ایپ کمپنیوں نے اپنے چارجز میں اضافہ کیا ہے۔عالمی سطح پر یوریا اور دیگر کھادوں کی سپلائی متاثر ہونے سے بھارت میں بھی قلت کا خطرہ ہے۔امریکی ڈالر کے مقابلے میں بھارتی کرنسی کی قدر میں کمی آئی ہے۔سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان ہوا ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال ہے۔بیرونی سرمایہ کاروں نے بڑی مقدار میں پیسہ نکال لیا ہے۔قیمتی دھاتوں کی قیمتیں غیر مستحکم ہو گئی ہیں۔پروازوں کے راستے تبدیل ہونے سے ایندھن اور انشورنس کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔کئی بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
پیٹروکیمیکل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے صنعتوں پر دباؤ ہے۔اگر صورتحال برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔گیس کی مہنگائی کے باعث الیکٹرک ککر اور انڈکشن چولہے کی طلب بڑھ گئی ہے۔کشیدگی کے باعث ہزاروں بھارتی شہریوں کی واپسی مشکل ہو گئی ہے۔خلیجی ممالک میں رہنے والے بھارتیوں کی آمدنی متاثر ہونے سے ترسیلات کم ہو سکتی ہیں۔خلیجی ممالک تک بھارت کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ایران میں جاری کشیدگی کے باعث بھارت کا اہم منصوبہ بھی متاثر ہوا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت میں توانائی کابحران وجود جمعه 27 مارچ 2026
بھارت میں توانائی کابحران

سماجی ارتقاء اخلاقی ارتقاء کے بغیر ممکن نہیں! وجود جمعه 27 مارچ 2026
سماجی ارتقاء اخلاقی ارتقاء کے بغیر ممکن نہیں!

آخری گواہی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
آخری گواہی

جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن وجود جمعرات 26 مارچ 2026
جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن

مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر